কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৪ টি
হাদীস নং: ৪৮৯৪
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)
نافع کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زیورات مانگ لیتی تھی، چناچہ اس نے زیور مانگا اور اسے اکٹھا کر کے رکھ لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو توبہ کرنی چاہیئے اور جو کچھ اس کے پاس ہے، اسے ادا کرنا چاہیئے، کئی بار (کہا) لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4890
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْحُلِيَّ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَعَارَتْ مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا، فَجَمَعَتْهُ ثُمَّ أَمْسَكَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِتَتُبْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ، وَتُؤَدِّي مَا عِنْدَهَا، مِرَارًا فَلَمْ تَفْعَلْ، فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৫
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)
جابر (رض) کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ، چناچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4891
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا، فَقُطِعَتْ يَدُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৬
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے کچھ لوگوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ زیورات مانگے پھر ان سے مکر گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٠٥) (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن سابقہ سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ اسْتَعَارَتْ حُلِيًّا عَلَى لِسَانِ أُنَاسٍ فَجَحَدَتْهَا، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৭
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے اسی طرح سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ سن دوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ: سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَهُ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৮
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی پھر مکر جاتی۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، اس سلسلے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا : اگر فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا ۔ سفیان سے کہا گیا : اسے کس نے بیان کیا ؟ تو انہوں نے کہا : ایوب بن موسیٰ نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ تخریج دارالدعوہ : فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤١٥) ، مسند احمد (٦/٤١) ، ویأتي عند المؤلف بالأرقام : ٤٨٩٩، ٤٩٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4894
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ مَتَاعًا، وَتَجْحَدُهُ، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلِّمَ فِيهَا، فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا، قِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَهُ ؟، قَالَ: أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৯
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ سے اسامہ کے سوا کون (اس کی سفارش سے متعلق گفتگو کرنے کی) ہمت کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) سے لوگوں نے کہا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسامہ ! بنی اسرائیل صرف اس وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اس پر حد نافذ نہیں کرتے اور جب کوئی نچلے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے نافذ کرتے، اگر (اس جگہ) فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أُسَامَةَ، فَكَلَّمُوا أُسَامَةَ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُسَامَةُ، إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ الشَّرِيفُ فِيهِمُ الْحَدَّ تَرَكُوهُ وَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا أَصَابَ الْوَضِيعُ أَقَامُوا عَلَيْهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০০
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا ١ ؎ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، انہوں نے کہا : ہمیں آپ سے ایسی امید نہ تھی، آپ نے فرمایا : اگر فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٩٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مراد وہی مخزومیہ عورت ہے جس کا تذکرہ پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4896
أَخْبَرَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ، فَقَطَعَهُ، قَالُوا: مَا كُنَّا نُرِيدُ أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا، قَالَ: لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০১
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چوری کی، ان لوگوں نے کہا : اس سلسلے میں ہم آپ سے بات نہیں کرسکتے، آپ سے صرف آپ کے محبوب اسامہ ہی بات کرسکتے۔ چناچہ انہوں نے آپ سے اس سلسلے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا : اسامہ ! ٹھہرو، بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر اس جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4897
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا نُكَلِّمُهُ فِيهَا مَا مِنْ أَحَدٍ يُكَلِّمُهُ إِلَّا حِبُّهُ أُسَامَةُ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: يَا أُسَامَةُ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ هَلَكُوا بِمِثْلِ هَذَا، كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِنْ سَرَقَ فِيهِمُ الدُّونُ قَطَعُوهُ، وَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০২
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک غیر معروف عورت نے کچھ معروف لوگوں (کی گواہی) کے ذریعہ زیورات عاریۃً مانگے، پھر اس نے زیورات بیچ کر اس کی قیمت لے لی، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس کے گھر والوں نے اسامہ بن زید (رض) کے پاس دوڑ بھاگ کی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ اسامہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میری بخشش کے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، پھر رسول اللہ ﷺ اس شام کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر اس کے بعد فرمایا : تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ، پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4898
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَهِيَ لَا تُعْرَفُ حُلِيًّا فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ ثَمَنَهُ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَعَى أَهْلُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْفَعُ إِلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟، فَقَالَ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّتَئِذٍ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ فِيهِمْ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا، ثُمَّ قَطَعَ تِلْكَ الْمَرْأَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৩
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات چیت کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : آپ سے بات چیت کی جرات آپ کے محبوب اسامہ کے سوا کون کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ ان کا معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان کا کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٥) ، فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٢) ، الحدود ١١ (٦٧٨٧) ، ١٢ (٦٧٨٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، سنن ابی داود/الحدود ٤ (٤٣٧٣) ، سنن الترمذی/الحدود ٦ (١٤٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٦ (٢٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٧٨) ، سنن الدارمی/الحدود ٥ (٢٣٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4899
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৪
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش یعنی بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، کچھ لوگوں نے کہا : آپ سے اس کے بارے میں کون بات چیت کرے گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : اسامہ بن زید، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا تو آپ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا : بنی اسرائیل کا جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4900
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَرَقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُهُ فِيهَا ؟، قَالُوا: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَأَتَاهُ فَكَلَّمَهُ فَزَبَرَهُ، وَقَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الْوَضِيعُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৫
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : اس کی جرات رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید کے سوا اور کون کرسکتا ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور باوقار آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٤١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4901
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا ؟، قَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مَنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ سَرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৬
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے وقت چوری کی، چناچہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو اسامہ بن زید (رض) نے اس کے بارے میں آپ سے بات کی۔ جب انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ اسامہ (رض) نے آپ سے کہا : میرے لیے اللہ کے رسول ! اللہ سے مغفرت طلب کیجئیے۔ جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا معزز اور باحیثیت آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ، پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٨ (٢٦٤٨) ، المغازي (٥٣ (٤٣٠٤) ، الحدود ١٤ (٦٨٠٠) ، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، سنن ابی داود/الحدود ٤ (٤٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4902
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا كَلَّمَهُ تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، إِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ قَطَعْتُ يَدَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৭
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی ( فتح مکہ کے وقت کا لفظ مرسل ہے) تو اس کے خاندان کے لوگ گھبرا کر سفارش کا مطالبہ کرنے کے لیے اسامہ بن زید (رض) کے پاس گئے۔ جب اسامہ نے آپ سے اس کے بارے میں بات چیت کی تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا : تم مجھ سے اللہ کی حدوں میں سے کسی ایک حد کے بارے میں بات کر رہے ہو ؟ اسامہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے، پھر فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اسے کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اس نے اچھی طرح سے توبہ کرلی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ اس کے بعد میرے پاس آتی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4903
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ مُرْسَلٌ، فَفَزِعَ قَوْمُهَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَسْتَشْفِعُونَهُ، قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمَّا كَلَّمَهُ أُسَامَةُ فِيهَا تَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، قَالَ أُسَامَةُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّمَا هَلَكَ النَّاسُ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ تِلْكَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৮
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حدود قائم کرنے کی ترغیب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٣ (٢٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٨٨) حم ٢/٣٦٢، ٣٠٢، ٣٠٢ (حسن) لفظ ” أربعین “ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ” أربعین صباحا “ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن بلفظ أربعين صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4904
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৯
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حدود قائم کرنے کی ترغیب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن) (یہ موقوف حدیث حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث ہے ) قال الشيخ الألباني : حسن موقوف في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4905
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১০
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا، جس کی قیمت پانچ درہم تھی، راوی نے اسی طرح کہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٥٣) (صحیح) (لفظ ” ثلاثة “ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی یہ راوی کا وہم ہے کہ ڈھال کی قیمت پانچ درہم تھی، صحیح یہ ہے کہ اس کی قیمت تین درہم تھی، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بلفظ ثلاثة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4906
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، كَذَا قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১১
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4907
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১২
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٣٣) ، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١) ، مسند احمد (٢/٦٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4908
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৩
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن ابی داود/الحدود ١١(٤٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩٦) ، مسند احمد (٢/١٤٥) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4909
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
তাহকীক: