কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسامت کے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ৪৮৫০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٧٢٦) ، وانظرأرقام : ٤٨٥٧-٤٨٦١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4846
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ لَمَّا وُجِدَ الْكِتَابُ الَّذِي عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الَّذِي ذَكَرُوا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ، وَجَدُوا فِيهِ: وَفِيمَا هُنَالِكَ مِنْ الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا. Q
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں ، یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٠ (٦٨٩٥) ، سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٥٨) ، سنن الترمذی/الدیات ٤ (١٣٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٨٧) ، مسند احمد (١/٣٣٩، ٣٤٥) ، سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : انگوٹھا اور چھنگلی دونوں کی دیت برابر ( دس اونٹ ) ہے ان میں بڑائی چھوٹائی کا لحاظ نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4847
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، يَعْنِي الْخِنْصَرَ، وَالْإِبْهَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4848
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَهَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ: الْإِبْهَامُ، وَالْخِنْصَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : انگلیاں یعنی ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٢٠٢) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4849
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْأَصَابِعُ عَشْرٌ عَشْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا : انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣) ، مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن، صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4850
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّأَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا اور آپ اپنی پیٹھ کعبے سے ٹیکے ہوئے تھے : انگلیاں دیت میں برابر برابر ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٩٣) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4851
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ہڈی تک پہنچ جانے والا زخم
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا : ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٦) ، سنن الترمذی/الدیات ٣ (١٣٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١٩ (٢٦٥٥) ، مسند احمد (٢/١٧٩، ١٨٩، ٢٠٧، ٢١٢) ، سنن الدارمی/الدیات ١٦ (٢٤١٧) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بشرطیکہ یہ زخم چہرہ اور سر پر ہو، اگر ان کے علاوہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اور وہ یہ ہے کہ قاضی یا پنچ اپنی صوابدید سے جو فیصلہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4852
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّأَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا : نبی محمد ﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا : جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کردیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (اس کے راوی ” سلیمان “ (جو حقیقت میں ” ابن داود “ نہیں بلکہ ” ابن ارقم “ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں ) وضاحت : ١ ؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4853
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهَا: مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، قَيْلِ ذِيِ رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ، وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ: أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ. خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
عمرو بن حزم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا : ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٥٠ (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4854
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَنْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْعَيْنِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم (رض) کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا : یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے : يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود اے ایمان والو ! عہد و پیماں پورے کرو (المائدہ : ١) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ إن اللہ سريع الحساب اللہ جلد حساب لینے والا ہے (المائدہ : ٤) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا : یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4855
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ، وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ وَكَتَبَ الْآيَاتِ مِنْهَا حَتَّى بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ سورة المائدة آية 1 - 4، ثُمَّ كَتَبَ: هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ، فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے لکھی ہوئی تھی : یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے : اے ایمان والو ! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا : جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4856
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ سورة المائدة آية 1، فَتَلَا مِنْهَا آيَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ وہ تحریر جس میں رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم (رض) کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی : جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے اونٹوں کے تہائی ہیں۔ اسی قدر اس زخم میں ہیں جو پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے، ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں، پیر میں پچاس اونٹ ہیں، اور ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ دانت میں پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے پانچ اونٹ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٥٠ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4857
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ: إِنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم ﷺ نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٢٢) ، مسند احمد (٣/١٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اس طرح جھانکنے والے کی آنکھ اگر گھر والا پھوڑ دے تو اس پر آنکھ پھوڑنے کی دیت واجب نہیں ہوگی۔ نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4858
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى بَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَمَ عَيْنَهُ خُصَاصَةَ الْبَابِ، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَخَّاهُ بِحَدِيدَةٍ أَوْ عُودٍ لِيَفْقَأَ عَيْنَهُ، فَلَمَّا أَنْ بَصُرَ انْقَمَعَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ ثَبَتَّ لَفَقَأْتُ عَيْنَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف
سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک سوراخ سے رسول اللہ ﷺ کے دروازے میں جھانکا، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے اپنا سر کھجا رہے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں یہ لکڑی گھونپ دیتا، نگاہ ہی کے سبب اجازت کا حکم دیا گیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٧٥ (٥٩٢٤) ، الاستئذان ١١ (٦٢٤١) ، الدیات ٢٣ (٦٩٠١) ، صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢١٥٦) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١٧ (٢٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٠٦) ، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣٤، ٣٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4859
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٢١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢٥٦٣) ، سنن ابی داود/الأدب ١٣٦ (٥١٧٢) ، مسند احمد (٢/٢٦٦، ٤١٤، ٥٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4860
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا ۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا : کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٥ (٦٩٠٢) ، صحیح مسلم/الأدب ٩ (٢١٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٧٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4861
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ حَرَجٌ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: جُنَاحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی اپنا انتقام لے لے اور وہ بادشاہ (یا شرعی حاکم) سے نہ کہے
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک مروان کا بیٹا ان کے آگے سے گزر رہا تھا، آپ نے اسے روکا، وہ نہیں لوٹا تو آپ نے اسے مارا، بچہ روتا ہوا نکلا اور مروان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی، مروان نے ابو سعید خدری سے کہا : آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں مارا ؟ انہوں نے کہا : میں نے اسے نہیں، بلکہ شیطان کو مارا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو اور کوئی انسان سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے طاقت بھر روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤١٨٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٧٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨(٥٠٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨(٧٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٩(٩٥٤) ، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٣) ، مسند احمد (٣/٣٤) ، ٤٣-٤٤، ٤٩، ٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَإِذَا بِابْنٍ لِمَرْوَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَرَأَهُ فَلَمْ يَرْجِعْ، فَضَرَبَهُ فَخَرَجَ الْغُلَامُ يَبْكِي حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ: لِمَ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ ؟. قَالَ: مَا ضَرَبْتُهُ إِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، فَأَرَادَ إِنْسَانٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَدْرَؤُهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس (رض) سے ان دو آیتوں ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے (النساء : ٩٣) والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو ناحق قتل نہیں کرتے (الفرقان : ٦٧) کے متعلق سوال کروں، میں نے اس کے بارے میں ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا، اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ١ ؎ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابن عباس (رض) کی اس رائے سے متعلق دیکھیں حاشیہ حدیث رقم ( ٤٠٠٤ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4863
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَفْظًا، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ، وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ میں اس آیت : ومن يقتل مؤمنا متعمدا کے بارے میں اختلاف ہوگیا، میں ابن عباس (رض) کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ آیت تو آخر میں اتری ہے، اور یہ کسی (بھی آیت) سے منسوخ نہیں ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4864
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ، وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ ان احادیث کا تذکرہ جو کہ سنن کبری میں موجود نہیں ہیں لیکن مجتبی میں اضافہ کی گئی ہیں اس آیت|"ومن یقتل مومنا متعمدا : کریمہ کی تفسیر سے متعلق
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : کیا مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، میں انہیں سورة الفرقان کی یہ آیت والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا : یہ آیت مکی ہے۔ اسے مدینے کی آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم نے منسوخ کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4865
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: لَا، وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، قَال: هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93.
তাহকীক: