কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسامت کے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ৪৮১০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کافر کی دیت سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧١٤) مسند احمد (٢/١٨٣، ٢٢٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اسی پر جمہور کا عمل ہے، حنفیہ کا قول ہے کہ مسلم کافر ذمی سب کی دیت ( خون بہا ) برابر ہے، ان کا استدلال دی ۃ المعاہد دی ۃ الحر المسلم سے ہے جو مرسل اور ضعیف ہے، جب کہ باب کی یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ مسلم کو کافر پر برتری حاصل ہے جس کے اظہار کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4806
أَخْبَرَنَا عُمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْلُ أَهْلِ الذِّمَّةِ، نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ، وَهُمْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کافر کی دیت سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کافر کی دیت مومن کی دیت کی آدھی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ١٧ (١٤١٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٨) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4807
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَقْلُ الْكَافِرِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب کے بارے میں حکم کیا کہ مکاتب غلام اگر قتل ہوجائے تو اس کی دیت اتنے حصے میں جو وہ بدل کتابت کے طور پر ادا کرچکا ہے آزاد کی دیت کے مثل ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٢ (٤٥٨١) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٤٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٥٩) ، مسند احمد (١/٢٢٢، ٢٢٦، ٢٦٠، ٢٩٢، ٣٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ بِدِيَةِ الْحُرِّ عَلَى قَدْرِ مَا أَدَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ فرمایا : اس کی اتنے حصے کی دیت جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو آزاد کی دیت کے مثل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4809
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يُودَى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ کیا کہ جس قدر اس نے مکاتبت کا بدل ادا کردیا ہو، اتنے کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس کی ادائیگی باقی ہو اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُودَى بِقَدْرِ مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مکاتب اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے بدل مکاتبت ادا کردیا ہو اور اس پر حد بھی اسی قدر نافذ ہوگی جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو، اور وہ وارث بھی اسی قدر ہوگا جس قدر آزاد ہوچکا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٠٨٦) ، وحدیث أیوب عن عکرمة، قد أخرجہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٢ (٤٥٨٢) ، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٩٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4811
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ النَّقَّاشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُكَاتَبُ يَعْتِقُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى، وَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ، وَيَرِثُ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کی دیت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہوگیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کرچکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4812
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ مُكَاتَبًا قُتِلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ أَنْ يُودَى مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ، وَمَالًا دِيَةَ الْمَمْلُوكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بچے کی (دیت) پچاس بکریاں ١ ؎ طے کیں اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرما دیا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے ابونعیم نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے ) تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٠٦، ١٨٨٨٤) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: سنن ابوداؤد میں اسی سند سے اس حدیث کے الفاظ ہیں پانچ سو بکریاں جیسا کہ اگلی روایت میں ہے پانچ سو کی طرح یہ لفظ بھی کسی راوی کا وہم معلوم ہوتا ہے، واضح رہے کہ مؤلف کی اگلی روایت کی طرح ابوداؤد کی روایت مرسل نہیں بلکہ مرفوع متصل ہے، (واللہ اعلم بالصواب ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4813
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً، فَأَسْقَطَتْ،فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِهَا خَمْسِينَ شَاةً، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِأَرْسَلَهُ أَبُو نَعِيمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گرگیا، چناچہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ١ ؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے : عبداللہ بن مغفل (رض) سے مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ روایت سے یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: اگلی روایات ( رقم ٤٨٢٠ و ٤٨٢١ ) میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا باندی کا ذکر ہے، ہوسکتا ہے اس وقت ایک غلام یا باندی کی قیمت سو بکریوں کے مساوی ہوتی ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4814
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً، فَأَسْقَطَتِ الْمَخْذُوفَةُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ عَقْلَ وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةٍ مِنَ الْغُرِّ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا وَهْمٌ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَرَادَ مِائَةً مِنَ الْغُرِّ، وَقَدْ رُوِيَ النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل (رض) نے ایک شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا : مت پھینکو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ پتھر پھینکنے سے منع فرماتے تھے، یا پتھر پھینکنا آپ کو پسند نہ تھا، یہ کہمس کا شک ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیرسورة الفتح ٥ (٤٨٤١) ، الذبائح ٥ (٥٤٧٩) ، الأدب ١٢٢(٦٢٢٠) ، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٦) ، مسند احمد ٤/٨٦ و ٥/ ٥٦، ٥٧، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4815
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍأَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ، أَوْ يَكْرَهُ الْخَذْفَ. شَكَّ كَهْمَسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
طاؤس سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے لوگوں سے جنین (پیٹ میں موجود بچہ کی دیت) کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا، تو حمل بن مالک (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) میں ایک غرہ (ایک لونڈی یا ایک غلام) کا فیصلہ کیا۔ طاؤس کہتے ہیں : گھوڑا بھی غرہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4816
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً، قَالَ طَاوُسٌ: إِنَّ الْفَرَسَ غُرَّةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہوگیا تھا ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا حکم ہوا، مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے اور دیت اس کے عصبہ پر ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨) ، الفرائض ١١ (٦٧٤٠) ، الدیات ٢٥ (٦٩٠٩) ، صحیح مسلم/القسامة (الحدود ١١) (١٦٨١) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٦، ٤٥٧٧) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١٠) ، الفرائض ١٩ (٢١١١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) ، مسند احمد (٢/ ٥٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4817
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں جھگڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک مارا، اور کوئی ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ عورت مرگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی، چناچہ وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا : اس کے جنین (پیٹ کے بچہ) کی دیت ایک غرہ ہے یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی۔ اور (قاتل) عورت کی دیت اس کے کنبے کو لوگوں (عصبہ) سے دلائی اور اس عورت کا وارث اس کے بیٹوں اور دوسرے ورثاء کو قرار دیا، تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا تاوان کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، جو نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ کاہنوں کا بھائی ہے (یہ بات آپ نے اس کی اس قافیہ دار بات چیت کی وجہ سے جو اس نے کی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٦ (٦٩١٠) ، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٠، ١٥٣٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4818
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَقَتَلَتْهَا، وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ: حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا۔ جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٩) ، الدیات (٦٩٠٤) ، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٤٥، ١٨٧٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4819
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کی دیت غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا جو ماں کے پیٹ میں ہی قتل کردیا جائے، تو وہ شخص جس کے خلاف آپ نے فیصلہ کیا تھا بولا : میں اس کی دیت کیوں کر ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، جو نہ چیخا اور نہ بولا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو کاہنوں میں سے (لگتا) ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٣ (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس کے بارے میں آپ نے ایسا اس لیے فرمایا کہ اس نے کاہنوں کی طرح مقفع مسجع جملے استعمال کیے، نہ کہ آپ نے خود اس کو کاہن قرار دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4820
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ: كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا اسْتَهَلَّ، وَلَا نَطَقَ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی (کھونٹی) سے مارا، جس سے وہ مرگئی، وہ حمل سے تھی، چناچہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے مارنے والی عورت کے عصبہ پر دیت کا اور جنین (پیٹ کے بچہ) کے بدلے ایک غرہ (غلام یا ایک لونڈی) دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خاندان والے بولے : کیا اس کی بھی دیت ادا کی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا اور نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اعراب (دیہاتیوں) کی طرح مسجع کلام کرتے ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ١١ (١٦٨٢) ، سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٦٨) ، سنن الترمذی/الدیات ١٥ (١٤١١) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠، ١٨٤١٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩١٠) ، الاعتصام ١٣ (٧٣١٧) ، مسند احمد (٤/٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٢٦-٤٨٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4821
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ وَهُوَ ابْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَأُتِيَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، بِالدِّيَةِ وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةً، فَقَالَ عَصَبَتُهَا: أَدِي مَنْ لَا طَعِمَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ هَذَا يُطَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی کھونٹی سے مارا وہ حمل سے تھی، اور مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول عورت کی دیت اور پیٹ کے بچے کے بدلے ایک غرہ (ایک غلام یا لونڈی) قاتل عورت کے خاندان والوں پر مقرر فرمایا۔ تو قاتل عورت کے خاندان کا ایک شخص بولا : کیا ہم اس کی بھی دیت ادا کریں گے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ چیخا، ایسا خون تو معاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا یہ اعراب (دیہاتیوں) کی طرح سجع کرتا ہے، پھر ان پر دیت لازم ٹھہرائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ خیمے کی لکڑی سے عموماً آدمی کا قتل عمل نہیں آتا اس لیے جب اس کی مار سے وہ عورت مرگئی تو اس قتل کو آپ ﷺ نے قتل خطا یا قتل شبہ عمد ( غلطی سے قتل ) قرار دے کر اس کی دیت مقرر کی، نیز اس میں باب کے دوسرے جزء سے مناسبت اس طرح ہے کہ مقتول عورت اور جنین ( ساقط حمل ) کی دیت دونوں قاتلہ عورت کے خاندان کے ذمہ لگائی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ، وَهِيَ حُبْلَى، فَقَتَلَتْهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ: أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟فَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، تو وہ مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے قاتلہ کے خاندان والوں کی جانب سے دیت ادا کیے جانے کا فیصلہ کیا اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا : آپ مجھ سے ایسی جان کی دیت ادا کروا رہے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ تو جاہلیت کی سجع کی طرح ہے ، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4823
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: تُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلْ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ: سَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ بنی لحیان کی ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے وہ مرگئی، مقتولہ حمل سے تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے قاتل عورت کے خاندان والوں پر دیت اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4824
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَقَتَلَتْهَا، وَكَانَ بِالْمَقْتُولَةِ حَمْلٌ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ دو عورتیں ہذیل کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ڈنڈا پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، فریقین جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، لوگوں نے کہا : ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ پیا، نہ کھایا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا دیہاتیوں کی طرح سجع کرتا ہے ؟ اور آپ نے عورت کے کنبے والوں پر غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4825
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى: بِالْغُرَّةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ.
তাহকীক: