কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسامت کے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ৪৭৩০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، اور کہا : اللہ کے نبی ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا : جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ١ ؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں ؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا : اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ، اس نے کہا : ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چناچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہوجائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4726
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا، فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْفُ عَنْهُ، فَأَبَى وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: اعْفُ عَنْهُ، فَأَبَى، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ أُرَاهُ، قَالَ: فَضَرَبَ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: اعْفُ عَنْهُ، فَأَبَى، قَالَ: اذْهَبْ، إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ، فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَيْنَاهُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَرَجَعَ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتُهُ كُنْتُ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُ، فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَةٌ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
وائل (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا : کیا تم نے اسے قتل کیا ہے ؟ ، اس نے (لانے والے نے) کہا : اللہ کے رسول ! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا : ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا : اسے تم نے کیسے قتل کیا ؟ اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو ، اس نے کہا : میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا : میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا : تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے ، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا : تمہارا برا ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، یہ سن کر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹ آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے ؟ ، اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا : تو یہی ہوگا ، اس نے کہا : تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4727
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَتَلَ هَذَا أَخِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ: كَيْفَ قَتَلْتَهُ ؟، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ ؟، قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: دُونَكَ صَاحِبَكَ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ، فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ: إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ، وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ، وَإِثْمِ صَاحِبِكَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنْ ذَاكَ، قَالَ: ذَلِكَ كَذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4728
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
وائل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، چناچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کردیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا : قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ١ ؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بات آپ نے خاص ان دونوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، کیونکہ اس میں نہ تو مذکورہ مقتول کا کوئی قصور تھا، نہ ہی اس کے ولی کا جو اس کو بدلے میں قتل کرتا بلکہ آپ نے ولی کو معافی پر ابھارنے کے لیے یہ جملہ فرمایا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4729
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ يَقْتُلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجُلَسَائِهِ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ تَرَكَهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حِينَ تَرَكَهُ يَذْهَبُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ، قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ بِالْعَفْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا : دیت لے لو ، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ، اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی جیسے ہوجاؤ گے (گناہ میں) ، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی طرح ہوجاؤ گے ، چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ تخریج دارالدعوہ : قش/الدیات ٣٤ (٢٦٩١) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4730
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْفُ عَنْهُ، فَأَبَى، فَقَالَ: خُذْ الدِّيَةَ، فَأَبَى، قَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، فَإِنَّكَ مِثْلُهُ، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف
بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا : جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے ، اس شخص نے اس سے کہا : اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو ، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہوگا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا : سنو ! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب ! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” بشیر “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4731
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي، قَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلِأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ: قَالَ: فَأَعْنَفَهُ، أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اس آیت کریمہ|"وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط|" کی تفسیر اور اس حدیث میں عکرمہ پر اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کردیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کردیتا، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تو ان لوگوں نے کہا : اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا : ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم ﷺ ہوں گے، چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت : وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (المائدہ : ٤٠) نازل ہوئی، قسط یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت أفحکم الجاهلية يبغون کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں (المائدہ : ٥٠) نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١ (٤٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٩) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ” داود بن حسین “ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4732
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنْ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ، فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42، وَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اس آیت کریمہ|"وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط|" کی تفسیر اور اس حدیث میں عکرمہ پر اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاحکم بينهم أو أعرض عنهم سے المقسطين، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان ایک دیت کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں، وجہ یہ تھی کہ بنو نضیر کے مقتولین کو برتری حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی پوری دیت دے دی جاتی تھی اور بنو قریظہ کو آدھی دیت دی جاتی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان کے سلسلے میں نازل فرمایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سلسلہ میں حق کی ترغیب دلائی اور دیت برابر کردی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ١٠ (٣٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٧٤) ، مسند احمد (١/٣٦٣) (حسن، صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4733
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ الَّتِي قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ إِلَى الْمُقْسِطِينَ سورة المائدة آية 42 إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الدِّيَةِ بَيْنَ النَّضِيرِ، وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ قَتْلَى النَّضِيرِ كَانَ لَهُمْ شَرَفٌ يُودَوْنَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَأَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ كَانُوا يُودَوْنَ نِصْفَ الدِّيَةِ، فَتَحَاكَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ فِيهِمْ، فَحَمَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَقِّ فِي ذَلِكَ، فَجَعَلَ الدِّيَةَ سَوَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور غلام میں قصاص سے متعلق
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں اور اشتر علی (رض) کے پاس گئے تو ہم نے کہا : کیا نبی اکرم ﷺ نے آپ کو کوئی ایسی خاص بات بتائی جو عام لوگوں کو نہیں بتائی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ جو میری اس کتاب میں موجود ہے ١ ؎ پھر انہوں نے اپنی تلوار کی نیام سے ایک تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا : سب مسلمانوں کا خون برابر ہے ٢ ؎، اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی ان سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے ٣ ؎ آگاہ رہو ! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمہ داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١١ (٤٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٧) ، مسند احمد (١/١٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر میرے لیے کوئی خاص بات ہوتی تو میری اس کتاب میں ضرور ہوتی، جب کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ میرے لیے خاص نہیں ہے بلکہ عام ہے، یہ اور بات ہے کہ اوروں کو چھوڑ کر مجھے اسے لکھنے کا حکم دیا گیا۔ ٢ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد آدمی اور غلام کے درمیان بھی قصاص کا حکم جاری ہوگا۔ ٣ ؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دیدے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4734
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا مَا كَانَ فِي كِتَابِي هَذَا، فَأَخْرَجَ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ، فَإِذَا فِيهِ: الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ بِعَهْدِهِ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور غلام میں قصاص سے متعلق
علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سارے مسلمانوں کا خون برابر ہے وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو جب تک وہ ذمہ میں رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٢٧٩) ، مسند احمد (١/٨١، ١١٩) ، ویأتي برقم : ٤٧٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4735
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا تو ہم اس کا عضو کاٹیں گے اور جو کوئی اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم اسے خصی کریں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٧ (٤٥١٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٨(١٤١٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) ، مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨، ١٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٧ (٢٤٠٣) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٥١٦، ٤٥١٧، ٤٧٤١، ٤٧٤٢، ٤٧٥٧، ٤٧٥٨) (ضعیف) (اس کے رواة ” قتادہ “ اور ” حسن بصری “ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4736
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ هُوَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ، وَمَنْ أَخْصَاهُ أَخْصَيْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے
سمرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو قتل کر دے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کا عضو کاٹے گا ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4737
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے عوض قتل کیا جائے
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٤٠ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4738
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ عورت کو عورت کے عوض قتل کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی تلاش تھی، تو حمل بن مالک (رض) نے کھڑے ہو کر کہا : میں دو عورتوں کے کمروں کے درمیان میں رہتا تھا، ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا، تو نبی اکرم ﷺ نے بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دینے اور اس (عورت) کے بدلے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٢، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٤٤) مسند احمد (١/٣٦٤) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٨٢٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4739
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَطَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ نَشَدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ حُجْرَتَيِ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے زیور کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس (لڑکی) کے قصاص میں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٣ (٦٨٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨) ، مسند احمد (٣/١٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4740
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا زیور لے لیا، اور پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، وہ اسے لے کر لوگوں کے پاس پہنچے، یہ پوچھتے ہوئے : کیا اس نے مارا ہے، کیا اس نے مارا ہے، وہ بولی : ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، پھر اس کا بھی سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٤٠) ، مسند احمد (٣/٢٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا مِنْ جَارِيَةٍ، ثُمَّ رَضَخَ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَأَدْرَكُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ، فَجَعَلُوا يَتَّبِعُونَ بِهَا النَّاسَ، هُوَ هَذَا، هُوَ هَذَا، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ مرد کو عورت کے عوض قتل کرنے سے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی وہ زیور ہار پہنے ہوئے تھی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور اس کا سر کچل دیا اور جو زیور وہ پہنے ہوئے تھی اسے لے لیا، پھر وہ پائی گئی، اس کی سانس چل رہی تھی، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے پوچھا : تمہیں کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام آیا، اس نے سر کے اشارے سے کہا : ہاں، تو اسے گرفتار کیا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور دو پتھروں کے درمیان اس کا سر کچل دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٥ (٢٧٤٦) ، الدیات ٤ (٦٨٧٦) ، ١٢ (٦٨٨٤) ، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) ، مسند احمد (٣/١٨٣، ٢٠٣، ٢٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4742
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ، فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ، فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ ؟، قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا، قَالَ: فُلَانٌ ؟، قَالَ: حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ، فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ١ ؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٥٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور ان تین صورتوں میں کافر کے بدلے مسلم کو قتل کرنے کی بات نہیں ہے اسی سے مؤلف کا باب پر استدلال ہے، جو بہرحال مبہم ہے، لیکن اگلی حدیث اس باب میں بالکل واضح ہے۔ کافر چاہے حربی ہو یا ذمی، یہی جمہور علماء امت کا قول ہے۔ البتہ ذمی کے قتل کا گناہ بہت ہی زیادہ ہے، دیکھئیے اگلی حدیث۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4743
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ قَتْلُ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ فَيُرْجَمُ، وَرَجُلٌ يَقْتُلُ مُسْلِمًا مُتَعَمِّدًا، وَرَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصَلَّبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ مسلمان نہ قتل کیا جائے
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی (رض) سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا : کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ ﷺ کی کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا : اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١١) ، الجہاد ١٧١ (٣٠٤٧) ، الدیات ٢٤ (٦٩٠٣) ، ٣١ (٦٩١٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٦ (١٤١٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣١١) ، مسند احمد (١/٧٩) ، سنن الدارمی/الدیات ٥ ٢٤٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4744
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَعَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ، فَإِذَا فِيهَا: الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ.
তাহকীক: