কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسامت کے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪ টি
হাদীস নং: ৪৭৭০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
یعلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ٥ (٢٢٦٥) ، الجہاد ٢٠ (٢٩٧٣) ، المغازي ٧٨ (٤٤١٧) ، الدیات ١٨ (٦٨٩٣) ، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٤) ، سنن ابی داود/الدیات ٢٤ (٤٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٣٧) ، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٧١- ٤٧٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔ قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4766
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَهْدَرَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
یعلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4767
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى. وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
یعلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہوگئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لغو قرار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4768
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا، فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جیش العسرۃ ١ ؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گرپڑا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا : کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یہ اس آیت کریمہ : الذين اتبعوه في ساعة العسرة سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بےانتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4769
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
یعلیٰ (رض) سے اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے دیت نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٩ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4770
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهبِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا دِيَةَ لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
صفوان بن یعلیٰ بن منیہ (امیہ) سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن منیہ (امیہ) (رض) کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، اس (نوکر) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا، یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گرگیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے لغو قرار دیا، اور فرمایا : کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٧٠ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4771
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف
صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے ؟ چناچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4772
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى: أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ، فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُفَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کچو کا لگانے میں قصاص
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ کے اوپر گرپڑا تو آپ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے ساتھ تھی چبھا دی، وہ شخص نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آؤ اور بدلہ لے لو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو معاف کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٤١٤٧) ، مسند احمد (٣/٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیدہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4773
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَالَ، فَاسْتَقِدْ، قَالَ: بَلْ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کچو کا لگانے میں قصاص
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ پر گرپڑا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی چبھا دی، وہ شخص چیخ پڑا تو آپ نے اس سے فرمایا : آؤ، بدلہ لے لو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو معاف کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4774
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى يُحَدِّثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا إِذْ أَكَبَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَصَاحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَالَ، فَاسْتَقِدْ، قَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ طمانچہ مارنے کا انتقام
عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس (رض) نے اسے تھپڑ مار دیا، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا : وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا : لوگو ! تم جانتے ہو کہ زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ، آپ نے فرمایا : تو عباس میرے ہیں اور میں عباس کا ہوں، تم لوگ ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہو ، ان لوگوں نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥٤٥) ، مسند احمد (١/٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالاعلی ثعلبی “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کا جملہ ” لاتسبوا ۔۔۔ “ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4775
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالُوا: أَنْتَ، فَقَالَ: إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا، فَجَاءَ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮০
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ پکڑ کر کھینچنے کا قصاص
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے، ہم کھڑے ہوجاتے، ایک دن آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے بیچوں بیچ پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پکڑا اور پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچے لگا، وہ چادر بہت کھردری تھی، آپ کی گردن سرخ ہوگئی، وہ بولا : اے محمد ! میرے لیے میرے ان دو اونٹوں کو لاد دیجئیے، آپ کوئی اپنے مال سے تو کسی کو دیتے نہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تجھے نہیں دوں گا جب تک تو میری اس گردن کھینچنے کا بدلہ نہیں دے گا ، اعرابی نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم، میں بدلہ نہیں دوں گا، رسول اللہ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، ہر مرتبہ اس نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم میں بدلہ نہیں دوں گا، جب ہم نے اعرابی کی بات سنی تو ہم دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں قسم دیتا ہوں، تم میں سے جو میری بات سنے اپنی جگہ سے نہ ہٹے، یہاں تک کہ میں اسے اجازت دے دوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے قوم کے ایک آدمی سے کہا : اے فلاں ! اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجور ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جاسکتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأدب ١(٤٧٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٠١) ، مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (اس کے راوی ہلال بن ابی ہلال لین الحدیث ہیں، لیکن اعرابی کے آپ کو پکڑ کر کھینچنے کا قصہ صحیح بخاری (لباس ١٨) میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف لکن قصة الأعرابي وجبذه وأمره صلى الله عليه وسلم له بعطاء في ق صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4776
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا، فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَهُ حَتَّى لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ، أَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَكَانَ رِدَاؤُهُ خَشِنًا، فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَيَّ هَذَيْنِ، فَإِنَّكَ لَا تَحْمِلُ مِنْ مَالِكَ، وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا، وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الْأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى مَنْ سَمِعَ كَلَامِي أَنْ لَا يَبْرَحَ مَقَامَهُ حَتَّى آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ، احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا، وَعَلَى بَعِيرٍ تَمْرًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْصَرِفُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮১
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ بادشاہوں سے قصاص لینا
عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ اپنی ذات سے بدلا دلاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٤) ، مسند احمد ١/٤١ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو فراس “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4777
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮২
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ بادشاہوں سے قصاص لینا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ (رض) کو زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تو ایک شخص اپنے صدقے کے سلسلے میں ان سے لڑ گیا، تو ابوجہم نے اسے مار دیا، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا : اتنا اتنا مال لے لو ، وہ اس پر راضی نہ ہوئے، تو آپ نے فرمایا : (اچھا) اتنا اتنا مال لے لو ، تو وہ اس پر راضی ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا : میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی اطلاع دوں گا ، ان لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے خطاب کیا اور فرمایا : یہ لوگ میرے پاس قصاص مانگنے آئے تھے تو میں نے ان پر اتنے اتنے مال کی پیش کش کی ہے اور وہ اس پر راضی ہیں ، لیکن وہ لوگ بولے : نہیں، تو مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ٹھہر جانے کا حکم دیا، چناچہ وہ لوگ باز رہے، پھر آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا : کیا تم رضامند ہو ؟ وہ بولے : جی ہاں، آپ نے فرمایا : میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور تمہاری رضا مندی کی انہیں اطلاع دوں گا ، انہوں نے کہا : ٹھیک ہے، چناچہ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا پھر (ان سے) فرمایا : کیا تم اس پر راضی ہو ؟ وہ بولے : جی ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ١٣ (٤٥٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٠ (٢٦٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣٦) ، مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث پر باب باندھا ہے العامل یصاب علی یدہ خطأ یعنی عامل کے ذریعہ کسی کو غلطی سے زخم لگ جائے اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری عامل ہونے کی وجہ سے قصاص معاف نہیں ہوگا، ہاں دیت پر راضی ہوجانے کی صورت میں سرکاری بیت المال سے دیت دلوائی جائے گی جیسا کہ آپ ﷺ نے دلوائی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4778
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَلَمْ يَرْضَوْا بِهِ، فَقَالَ: لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا، قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا، فَكَفُّوا، ثُمَّ دَعَاهُمْ، قَالَ: أَرَضِيتُمْ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: أَرَضِيتُمْ ؟، قَالُوا: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৩
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا : نہیں، پھر آپ نے فرمایا : کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے ؟ (پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ) اس نے کہا : ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٢٤ (٥٢٩٥ تعلیقًا) ، الدیات ٤ (٦٨٧٧) ، ٥ (٦٨٧٩) ، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢) ، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣١) ، مسند احمد (٣/١٧١، ٢٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے ( جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے ) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ( سورة النحل : 126) فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم ( سورة البقرة : 194) حنفیہ حدیث لا قود إلا بالسیف یعنی : قصاص صرف تلوار ہی سے ہے سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم منکر ہے ( کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ٢٢٢٩ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4779
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، فَقَالَ: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، قَالَ: أَقْتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ نَعَمْ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৪
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف (فوج کی) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آدھی دیت ادا کی ١ ؎ اور فرمایا : میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے ٢ ؎، پھر آپ نے فرمایا : سنو ! (مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ١٠٥ (٢٦٤٥) ، سنن الترمذی/السیر ٤٣ (١٦٠٤، ١٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٧، ١٩٢٣٣) (صحیح مرسلاً وموصولاً ) (یہ حدیث ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کی ہے، لیکن قیس کے شاگردوں کی ایک جماعت نے قیس کے بعد جریر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ مرسلا ہی روایت کی ہے، امام بخاری نے بھی مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے، مگر موصول کی بھی صحیح متابعات موجود ہیں جیسا کہ علامہ البانی نے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو : الإروائ : ١٢٠٧ ) وضاحت : ١ ؎: آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎: اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آگئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، لايكلف الله نفسا إلا وسعها ( سورة البقرة : ٢٨٦) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4780
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقُتِلُوا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৫
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت دینے کا حکم نہ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والأنثى بالأنثى تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت سے فمن عفي له من أخيه شىء ف اتباع بالمعروف وأداء إليه بإحسان جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے۔ (تمہارے رب کی طرف سے) یہ تخفیف اور رحمت ہے، اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے گا، اسے درد ناک عذاب ہوگا (البقرہ : ١٧٨) تک نازل فرمایا، تو عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے، اور وأداء إليه بإحسان یہ ہے کہ وہ اسے اچھی طرح ادا کرے، ذلک تخفيف من ربکم ورحمة یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر صرف قصاص فرض تھا، دیت کا حکم نہیں تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة ٢٣ (٤٤٩٨) ، والدیات ٨ (٦٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ٦٤١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4781
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ: قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 178، فَالْعَفْوُ: أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، وَاتِّبَاعٌ بِمَعْرُوفٍ: يَقُولُ: يَتَّبِعُ هَذَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ: وَيُؤَدِّي هَذَا بِإِحْسَانٍ، ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْقِصَاصُ لَيْسَ الدِّيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৬
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ کی تفسیر
مجاہد اس آیت کریمہ كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد کے سلسلہ میں کہتے ہیں : بنی اسرائیل پر صرف قصاص فرض تھا، ان پر دیت نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے دیت کا حکم نازل فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بالمقابل اس امت محمدیہ پر تخفیف کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ سورة البقرة آية 178 قَالَ: كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَيْهِمُ الْقِصَاصُ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ فَجَعَلَهَا عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ تَخْفِيفًا عَلَى مَا كَانَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৭
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٤٩٧) ، سنن ابن ماجہ/البیوع ٣٥ (٢٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥) ، مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہوجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4783
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৮
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی کوئی ایسا معاملہ آیا جس میں قصاص ہو تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : سفارش کی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৯
قسامت کے متعلق
পরিচ্ছেদঃ کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟
ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے، چاہے تو دیت لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢) ، اللقطة ٧ (٢٤٣٤) ، الدیات ٨ (٦٨٨٠) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥) ، سنن ابی داود/الدیات ٤ (٤٥٠٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٣، ١٩٥٨٨) ، مسند احمد (٢/٢٣٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٧٩٠، ٤٧٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قتل عمد میں مقتول کے وارثین کے لیے قصاص یا دیت دونوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق ہے ( اس میں قاتل کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ) اگر قصاص معاف کردیتے ہیں تو دیت واجب ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4785
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُقَادَ، وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى.
তাহকীক: