কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৮ টি
হাদীস নং: ৪৪২৬
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جس جانور کو ذبح کرنا چاہے تو اس کو نحر کرے تو درست ہے
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤١١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نحرنا کی جگہ ذبحنا ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت نحرنا ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں ذبحنا ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4421
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ذبح کرے علاوہ خداوند قدوس کے کسی دوسرے کے واسطے
عامر بن واثلہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی (رض) سے سوال کیا : کیا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے ؟ اس پر علی (رض) غصہ ہوگئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہوگیا اور کہا : آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں، میں اور آپ ایک گھر میں تھے، آپ نے فرمایا : اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد (ماں یا باپ) پر لعنت کی، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ١ ؎، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحي ٨ (١٩٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٢) مسند احمد (١/١٠٨، ١١٨، ١٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ٢ ؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4422
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ ؟، فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأضاحی ١٦ (٥٥٧٤) ، سنن الترمذی/الأضاحی ١٣ (١٥٠٩) ، مسند احمد (٢/٩، ١٦، ٣٤، ٨١، ١٣٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ٤٤٣٤ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4423
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৯
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٣٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأضاحی ١٦ (٥٥٧٣) ، صحیح مسلم/الضحایا ٥ (١٩٦٩) ، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٧٨، ٣٨٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4424
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩০
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4425
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩১
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا : کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ١٢٤ (١٧١٩) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٦) ، مسند احمد (٣/٣٢٥، ٣٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩২
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا
عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری (رض) ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا، انہوں نے کہا : میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کرلوں، چناچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے (وہ بدری صحابی تھے) اور ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازی ١٢ (٣٩٩٧) ، الأضاحی ١٦(٥٥٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٧٢) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اخیافی بھائی وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4427
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৩
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر قتادہ (رض) ابو سعید خدری (رض) کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری (رض) کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، ابوسعید نے قتادہ کو (گوشت) پیش کیا، تو وہ بولے : کیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے روکا نہیں ہے ؟ ابوسعید (رض) نے کہا : اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4428
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৪
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں امسکوا روک کر رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٠٣٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4429
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا. وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٧٦) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٦٥٤) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4430
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِالزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو ، اس کے بعد لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا : تو اب کیا ہوا ؟ وہ بولا : جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا : میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧١) ، سنن ابی داود/الضحایا ١٠ (٢٨١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠١) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) ، مسند احمد (٦/٥١) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٦ (٢٠٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4431
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا : کیا رسول اللہ ﷺ تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے ؟ بولیں : ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں : میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا : یہ کس وجہ سے ؟ وہ ہنسیں اور بولیں : محمد ﷺ کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣) ، ٣٧ (٥٤٣٨) ، الأضاحی ١٦ (٥٥٧٠) ، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٧٠) ، سنن الترمذی/الأضاحی ١٤ (١٥١١) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (١٥١١) ، الأطعمة ٣٠ (٣١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٦٥) ، مسند احمد (٦/١٠٢، ١٢٧، ١٣٦، ١٨٧، ٢٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4432
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىعَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ قَالَت: لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مِمَّ ذَاكَ ؟ فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4433
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟، قَالَتْ: كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ثُمَّ يَأْكُلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৯
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا : کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٢٩٥) ، مسند احمد (٣/٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4434
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪০
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ یہود کے ذبح کئے ہوئے جانور
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا : اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ٢٠ (٣١٥٣) ، المغازي ٣٨ (٤٢١٤) ، الصید ٢٢ (٥٥٠٨) ، صحیح مسلم/الجہاد ٢٥ (١٧٧٢) ، سنن ابی داود/الجھاد ١٣٧ (٢٧٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٦) ، مسند احمد (٤/٨٦ و ٥/٥٥، ٥٦) ، سنن الدارمی/السیر ٥٧(٢٥٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت : ٥ ، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4435
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪১
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ وہ جانور جس کا علم نہ ہو کہ بوقت ذبح اللہ کا نام لیا گیا یا نہیں؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہوجائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4436
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، وَلَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَمْ لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪২
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ آیت|"ولا تاکلوا مما لم یذکراسم اللہ|" کی تفسیر و تشریح
عبداللہ بن عباس (رض) آیت کریمہ : ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ (الأنعام : ١٢١) کے بارے میں کہتے ہیں : (یہ اس وقت اتری جب) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا : جسے اللہ ذبح کرتا ہے (یعنی مرجائے) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو ؟۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٣٢٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4437
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121، قَالَ: خَاصَمَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৩
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا
ابوثعلبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجثمة حلال نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣٣١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مجثمة یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4438
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৪
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس (رض) کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٣) ، صحیح مسلم/الصید ١٢ (١٩٥٦) ، سنن ابی داود/الأضاحی ١٢ (٢٨١٦) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٠) ، مسند احمد (٣/١١٧، ١٧١، ١٨٠، ١٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4439
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪৫
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا : جانوروں کا مثلہ نہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ: لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ.
তাহকীক: