কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৮ টি
হাদীস নং: ৪৩৮৬
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، تو مجھے ایک جذعہ ملا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو ایک جذعہ ملا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اسی کی قربانی کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4381
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَضَاحِيَّ، فَأَصَابَنِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَذَعَةٌ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৭
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جذعہ یعنی ایک سال کی بھیڑ کی قربانی کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٩٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اولاً تو اس کے راوی معاذ بن عبداللہ بذات خود صدوق ہونے کے باوجود روایت میں وہم کا شکار ہوجایا کرتے تھے، تو ممکن ہے کہ جذع ۃ من المعز یا صرف جذع ۃ ہو اور انہوں نے وہم سے جذع ۃ من الضان کردیا ہو، ثانیاً : ہوسکتا ہے کہ یہ مجبوری کی صورت میں ہو، بہرحال بعض علماء اس حدیث اور اگلی دونوں حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے بغیر مجبوری کے بھی ایک سالہ دنبہ کی قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں اور مسنہ والی حدیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4382
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৮
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق
کلیب کہتے ہیں کہ ہم سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا وقت آگیا، تو ہم میں سے کوئی دو دو یا تین تین جذعوں (ایک سالہ بھیڑوں) کے بدلے ایک مسنہ خریدنے لگا، تو مزینہ کے ایک شخص نے ہم سے کہا : ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ یہی دن آگیا (یعنی عید الاضحی) تو ہم میں سے کوئی دو یا تین جذعے دے کر مسنہ خریدنے لگا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جذعہ سے بھی وہی حق ادا ہوسکتا ہے جو ثنی یعنی مسنہ سے ہوتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٦٦٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأضاحی ٥ (٢٧٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٧ (٣١٤٠) ، مسند احمد (٥/٣٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک تو بقول ابن المدینی عاصم بن کلیب جب روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت سے استدلال جائز نہیں، دوسرے : ممکن ہے کہ الجذع سے مراد الجذع من الضان بھیڑ کا ایک سالہ بچہ ہو، بکری کا نہیں، تاکہ حدیث نمبر ٤٣٨٣ سے مطابقت ہو سکے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4383
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَشْتَرِي الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ لَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ هَذَا الْيَوْمُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৯
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق
کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، ہم دو جذعے دے کر ثنیہ یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے ثنیہ یعنی مسنہ کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4384
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯০
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بطور استحباب ہے (ورنہ ایک جانور ایک گھر کی طرف سے کافی ہے) آپ ﷺ تو کبھی سو سو اونٹ ذبح کردیا کرتے تھے، تو اس سے وجوب پر کسی نے استدلال نہیں کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4385
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯১
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چتکبرے یعنی سفید اور کالا یا کالا اور لال رنگ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯২
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ واللہ اکبر کہا اور اپنا (دایاں) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأضاحي ١٤ (٥٥٦٥) ، صحیح مسلم/الأضاحی ٣ (١٩٦٦) ، سنن الترمذی/الأضاحي ٢ (١٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٧) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١١٥، ١٧٠، ١٧٨، ١٨٩، ٢١١، ٢١٤، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٥٨، ٢٦٧، ٢٧٢، ٢٧٩، ٢٨١) ، سنن الدارمی/الأضاحی ١ (١٩٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کی گردن کے دائیں پہلو پر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں رکھے گا اس سے جانور پر مکمل قابو حاصل ہوجاتا ہے، اور جانور زیادہ حرکت نہیں کر پاتا جو اسی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4387
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৩
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور دو چتکبرے مینڈھوں کے پاس آئے پھر انہیں ذبح کیا (مختصر) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٥٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4388
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، مُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৪
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ (گویا کہ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) قربانی کے دن (نماز عید کے بعد) دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف مڑے، انہیں ذبح کیا، اور بکری کے ایک ریوڑ کی طرف گئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٩ (١٦٧٩) ، سنن الترمذی/الأضاحی ٢١(١٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4389
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৫
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مینڈھے سے متعلق احادیث
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأضاحی ٤(٢٧٩٦) ، سنن الترمذی/الضحایا ٤(١٤٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٤(٣١٢٨) (تحفة الأشراف : ٤٢٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4390
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৬
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں : مجھے غالب یقین یہی ہے کہ میں نے اسے سعید بن مسروق (سفیان ثوری کے والد) سے سنا ہے اور اسے مجھ سے سفیان نے ان سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، واللہ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣٠٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4391
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৭
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ قربانی کا دن آگیا، ہم ایک اونٹ میں دس دس لوگ اور ایک گائے میں سات سات لوگ شریک ہوئے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٦٦(٩٠٥) ، والأضاحی ٨(١٥٠١) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحی ٥(٣١٣١) ، مسند احمد ١/٢٧٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء قربانی میں اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور علماء صحیح مسلم میں مروی جابر (رض) کی حدیث (حج ٦١ ، ٦٢ ) کی بنیاد پر اونٹ میں بھی صرف سات آدمیوں کی شرکت کے قائل ہیں، حالانکہ دونوں (جابر و ابن عباس رضی اللہ عنہم کی) حدیثوں کا محمل اور مصداق الگ الگ ہے، ابن عباس (رض) کی حدیث قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ہے جب کہ جابر (رض) کی حدیث ہدی (حج کی قربانی) سے متعلق ہے، دونوں (قربانی و ہدی) کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کی وجہ سے علماء میں مذکورہ اختلاف واقع ہوا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے، (یعنی قربانی میں اونٹ دس کی طرف سے کافی ہے اور ہدی میں صرف سات کی طرف سے) علامہ شوکانی نے یہی بات لکھی ہے (کمافی نیل الا ٔوطار) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৮
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ گائے کی قربانی کس قدر افراد کی جانب سے کافی ہے؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٢(١٣١٨) ، سنن ابی داود/الأضاحی ٧(٢٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٣٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٦٦ (٩٠٤) ، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩) ، مسند احمد (٣/٣١٨) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٥ ١٩٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4393
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَنَشْتَرِكُ فِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৯
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ امام سے قبل قربانی کرنا
براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا : جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے قربانی میں جلدی کردی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوبارہ قربانی کرو ، انہوں نے عرض کیا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ٢ ؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے، آپ نے فرمایا : تم اسی کو ذبح کرو، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٥٦٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے ؟ ٢ ؎: عناق لبن سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ٤٣٨٤ میں اسی تناظر میں عتود کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہوچکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4394
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَادَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ: مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০০
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ امام سے قبل قربانی کرنا
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ١ ؎ یہ سن کر ابوبردہ (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کرچکا ہوں، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو گوشت کی بکری ہے ۔ وہ بولے : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میرے لیے کافی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٥٦٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4395
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০১
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ امام سے قبل قربانی کرنا
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا : جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہے، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا، گویا رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد آپ ﷺ دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٥٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4396
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০২
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ امام سے قبل قربانی کرنا
ابوبردہ بن نیار (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا : اسی کو ذبح کر دو ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٧٢٢) ، موطا امام مالک/الضحایا ٣ (٤) ، مسند احمد (٣/٤٦٦ و ٤/٤٥) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٧ (٢٠٠٦) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں ١٥٦٤ اور ٤٤٠٠ پر گزری ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4397
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ، هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ: اذْبَحْهَا. فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৩
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ امام سے قبل قربانی کرنا
جندب بن سفیان (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کرچکے ہیں، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرچکے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣٧٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4398
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৪
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دھار دار پتھر سے ذبح کرنا
محمد بن صفوان (رض) سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کردیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کردیا، کیا میں انہیں کھاؤں ؟ آپ نے فرمایا : کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ، فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ، أَفَآكُلُ ؟، قَالَ: كُلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৫
قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دھار دار پتھر سے ذبح کرنا
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٧١٨) ، مسند احمد (٥/١٨٣) ویأتی عند المؤلف برقم ٤٤١٢(صحیح) (اس کے راوی ” حاضر “ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4400
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاضِرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِالْمَرْوَةِ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا.
তাহকীক: