কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩ টি
হাদীস নং: ৪২১৪
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہے اس کی فضیلت
طارق بن شہاب (رض) ١ ؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٩٨٣) ، مسند احمد (٤/٣١٤، ٣١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: طارق بن شہاب (رض) کو نبی اکرم ﷺ کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4209
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৫
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو کوئی اپنی بیعت کو مکمل کرے اس کا اجر
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، پھر آپ نے لوگوں کو (سورۃ الممتحنہ کی) آیت پڑھ کر سنائی ١ ؎، پھر فرمایا : تم میں سے جس نے بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، اور جس نے اس میں سے کسی غلط کام کو انجام دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپائے رکھا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو اسے معاف کر دے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٦٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس آیت سے مراد سورة الممتحنہ کی یہ آیت ہے : يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنک على أن لايشرکن بالله شيئا … (سورة الممتحنة : 12 ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4210
أخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৬
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حکومت کی بری خواہش سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأحکام ٧ (٧١٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠١٧) ، مسند احمد (٢/٤٤٨، ٤٧٦) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم ٥٣٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4211
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ، وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً، فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ، وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ.
তাহকীক: