কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৩ টি
হাদীস নং: ৪১৭৪
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث
صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا، آپ نے فرمایا : فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ١ ؎، البتہ جہاد ٢ ؎ اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٩٤٩) ، مسند احمد (٣/٤٠١ و ٦/٤٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں یہ حکم اہل مکہ کے لیے خاص تھا کہ اب مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی، ورنہ اس کے علاوہ جہاں بھی ایسی ہی صورت پیش آئے گی ہجرت واجب ہوگی (دیکھئیے حدیث نمبر ٤١٧٧ ) إلا یہ کہ وہاں کے ملکی حالات و قوانین اجازت نہ دیتے ہوں، جیسے اس زمانہ میں اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ ایک ملک کے شہری کو کوئی دوسرا ملک قبول کرلے تو ہجرت واجب ہوتے ہوئے بھی آدمی اپنے وطن میں رہنے پر مجبور ہے، یہ مجبوری کی حالت ہے۔ ٢ ؎: یعنی جہاد کی خاطر گھر بار چھوڑنا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے، اسی طرح خلوص نیت سے محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیسے دینی تعلیم وغیرہ کے لیے گھر سے دور جانا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4169
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ، قَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ، وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৫
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا : ہجرت تو (باقی) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ١٠ (١٨٣٤) ، الجہاد ١ (٢٧٨٣) ، ٢٧ (٢٨٢٥) ، ١٩٤(٣٠٧٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٠ (١٣٥٣) ، سنن ابی داود/الجہاد ٢ (٢٤٨٠) ، سنن الترمذی/السیر ٣٣ (١٥٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٣) (الجزء الأخیرفحسب) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٨) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٦٦، ٣١٦، ٣٥٥) ، سنن الدارمی/السیر ٦٩ (٢٥٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4170
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৬
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی موت کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4171
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৭
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث
عبداللہ بن وقدان سعدی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کچھ غرض تھی، میں سب سے آخر میں آپ کے پاس داخل ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میں اپنے پیچھے کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی تو آپ نے فرمایا : ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کفار و مشرکین سے جنگ ہوتی رہے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٩٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: پچھلی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی، اور اس حدیث میں ہے کہ جب تک دنیا میں اسلام اور کفر کی لڑائی جاری رہے گی تب تک ہجرت جاری رہے گی، دونوں میں کوئی تضاد و اختلاف اور تعارض نہیں ہے، وہاں مراد ہے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی کیونکہ مکہ فتح ہو کر، اسلامی حکومت میں شامل ہوچکا ہے، رہی دارالحرب سے ہجرت کی بات تو جس طرح فتح مکہ سے پہلے مکہ کے دارالحرب ہونے کی وجہ سے وہاں سے ہجرت ضروری تھی، یہاں بھی ضروری رہے گی، اس بابت اور بھی واضح احادیث مروی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4172
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَقْدَانَ السَّعْدِيِّ، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ كُلُّنَا يَطْلُبُ حَاجَةً، وَكُنْتُ آخِرَهُمْ دُخُولًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَرَكْتُ مَنْ خَلْفِي وَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتِ، قَالَ: لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৮
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت منقطع ہونے کے سلسلہ میں اختلاف سے متعلق حدیث
عبداللہ بن سعدی (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ میرے ساتھی آپ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے ان کی ضرورت پوری کی، میں سب سے آخر میں داخل ہوا تو آپ نے فرمایا : تمہاری کیا ضرورت ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہجرت کب ختم ہوگی ؟ فرمایا : جب تک کفار سے جنگ ہوتی رہے گی ہجرت ختم نہ ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4173
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الضَّمْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ أَصْحَابِي، فَقَضَى حَاجَتَهُمْ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ دُخُولًا، فَقَالَ: حَاجَتُكَ ؟، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک حکم پر بیعت کرنا چاہے وہ حکم پسند ہوں یا ناپسند۔
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : میں آپ سے ہر اس چیز میں جو مجھے پسند ہو اور اس میں جو ناپسند ہو سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : جریر ! کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو، یا طاقت رکھتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : کہو ان چیزوں میں جن کو میں کرسکتا ہوں، چناچہ آپ نے مجھ سے بیعت لی، نیز ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت لی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢١٢، ٣٢١٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤١٨٠-٤١٨٢، ٤١٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4174
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَا: قَالَ جَرِيرٌ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا أَحْبَبْتُ وَفِيمَا كَرِهْتُ ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَا جَرِيرُ أَوَ تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْ فِيمَا اسْتَطَعْتُ، فَبَايَعَنِي، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی کافر و مشرک سے علیحدہ ہونے پر بیعت سے متعلق۔
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے پر بیعت کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٧٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مسلمانوں کے کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے کی بابت اور بھی احادیث مروی ہیں مگر ان کا مصداق اسی طرح کے حالات ہیں جو اس وقت تھے، شریعت نے آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ پابند نہیں کیا ہے، آج کل بہت سے ممالک میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مسلمان مشرکین و کفار سے الگ رہیں، حد تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک بھی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں آنے نہیں دیتے، صرف چند دنوں کے ویزہ کے مطابق رہنے دیتے ہیں، پھر وقت پر نکل جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4175
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، وَعَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮১
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی کافر و مشرک سے علیحدہ ہونے پر بیعت سے متعلق۔
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا …، پھر اسی جیسی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٧٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4176
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮২
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی کافر و مشرک سے علیحدہ ہونے پر بیعت سے متعلق۔
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ بیعت لے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں، اور آپ شرط بتائیے کیونکہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، نماز قائم کرو گے، زکاۃ ادا کرو گے، مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کرو گے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہو گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٧٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4177
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُبَايِعُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ. قَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৩
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی کافر و مشرک سے علیحدہ ہونے پر بیعت سے متعلق۔
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، آپ نے فرمایا : میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، اور نہ اپنے بال بچوں کو قتل کرو گے، نہ ہی من گھڑت کسی طرح کا بہتان لگاؤ گے، کسی بھی نیک کام میں میری خلاف ورزی نہیں کرو گے، تم میں سے جس نے یہ باتیں پوری کیں تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس میں سے کسی چیز میں غلطی کی ١ ؎ پھر اسے اس کی سزا دی گئی تو وہی اس کے لیے کفارہ (پاکیزگی) ہے اور جسے اللہ نے چھپالیا تو اب اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہوگا۔ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٦١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شرک کے سوا، اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4178
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ: أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِيهِ فَهُوَ طَهُورُهُ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৪
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ خواتین کو بیعت کرنا۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنی چاہی تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک عورت نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ (سوگ منانے) میں میری مدد کی تھی تو مجھے اس کے یہاں جا کر نوحہ میں اس کی مدد کرنی چاہیئے، پھر میں آ کر آپ سے بیعت کرلوں گی۔ آپ نے فرمایا : جاؤ اس کی مدد کرو ، چناچہ میں نے جا کر اس کی مدد کی، پھر آ کر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٩) ، مسند احمد (٦/٤٠٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ بیعت کے بعد وہ نوحہ میں مدد نہیں کرسکتی تھیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آرہی ہے، یہ اجازت صرف ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھی اب نبی اکرم ﷺ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں کہ شریعت کے کسی حکم کو کسی کے لیے خاص کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4179
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَدْتُ، أَنْ أُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَذْهَبُ فَأُسْعِدُهَا ثُمَّ أَجِيئُكَ فَأُبَايِعُكَ ؟، قَالَ: اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ فَسَاعَدْتُهَا ثُمَّ جِئْتُ فَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ خواتین کو بیعت کرنا۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٤٥ (١٣٠٦ مطولا) ، الأحکام ٤٩ (٧٢١٥) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4180
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْعَةَ عَلَى أَنْ لَا نَنُوحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ خواتین کو بیعت کرنا
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تاکہ ہم بیعت کریں، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، نہ چوری کریں گے، نہ زنا کریں گے، اور نہ ایسی کوئی الزام تراشی کریں گے جسے ہم خود اپنے سے گھڑیں، نہ کسی معروف (بھلے کام) میں ہم آپ کی نافرمانی کریں گے، آپ نے فرمایا : اس میں جس کی تمہیں استطاعت ہو یا قدرت ہو ، ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ہم پر زیادہ مہربان ہیں، آئیے ہم آپ سے بیعت کریں، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو عورتوں سے کہنا ایک عورت سے کہنے کی طرح ہے یا ایک ایک عورت سے کہنے کے مانند ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/السیر ٣٧ (١٥٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٨٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨١) ، موطا امام مالک/البیعة ١(٢) ، مسند احمد (٦/٣٥٧) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤١٩٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4181
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نُبَايِعُهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيكَ فِي مَعْرُوفٍ. قَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ، وَأَطَقْتُنَّ، قَالَتْ: قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي: لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ مِثْلُ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৭
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی میں کوئی بیماری ہو تو اس کو بیعت کس طریقہ سے کرے؟
شرید (رض) کہتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہلا بھیجا کہ لوٹ جاؤ، میں نے تمہاری بیعت لے لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٣٦ (٢٢٣١) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٤ (٣٥٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٧) ، مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چونکہ نبی اکرم ﷺ اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ اس کے آنے سے لوگ گھن محسوس کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض کمزور ایمان والے وہم میں بھی مبتلا ہوجائیں، اس لیے آپ ﷺ نے اسے کہلا بھیجا کہ تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ خود آپ کو گھن نہیں آئی، نہ آپ کو کسی وہم میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا، آپ سے بڑھ کر صاحب ایمان کون ہوسکتا ہے ؟۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4182
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ، يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৮
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نالغ لڑکے کو کس طریقہ سے بیعت کرے؟
ہرماس بن زیاد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھایا تاکہ آپ مجھ سے بیعت لے لیں، میں ایک نابالغ لڑکا تھا تو آپ نے مجھ سے بیعت نہیں لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٧٢٧) (حسن الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ بیعت میں کسی بات کا عہد و پیمان لیا جاتا ہے، جب کہ نابالغ پر کسی عہد و پیمان کی پابندی واجب نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4183
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: مَدَدْتُ يَدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ لِيُبَايِعَنِي، فَلَمْ يُبَايِعْنِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৯
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ غلاموں کو بیعت کرنا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، چناچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کرلیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٢٣ (١٦٠٢) ، سنن ابی داود/البیوع ١٧ (٣٣٥٨ مختصرا) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٢ (١٢٣٩) ، السیر ٣٦ (١٥٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٤) ، یأتي عند المؤلف في البیوع ٦٦ (برقم ٤٦٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غلام اپنے مالک کا تابع ہے، تو وہ کیسے ہجرت کرسکتا ہے اس لیے آپ غلاموں سے بیعت نہیں لیتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4184
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا، حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯০
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بیعت فسخ کرنے سے متعلق
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اس کو مدینے میں بخار آگیا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میری بیعت توڑ دیجئیے ١ ؎، آپ نے انکار کیا، اس نے پھر آپ کے پاس آ کر کہا : میری بیعت توڑ دیجئیے، آپ نے انکار کیا، تو اعرابی چلا گیا ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی گندگی کو نکال پھینکتا ہے اور پاکیزہ کو اور خالص بنا دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٣) ، الأحکام ٤٥ (٧٢٠٩) ، ٤٧ (٧٢١١) ، ٥ (٧٢١٦) ، الاعتصام ١٦ (٧٣٢٢) ، صحیح مسلم/الحج ٨٨ (١٣٨١) ، سنن الترمذی/المناقب ٦٨ (٣٩٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٧١) ، موطا امام مالک/الجامع ٢ (٤) ، مسند احمد (٣/٣٠٦، ٣٦٥، ٣٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ وہ اس بیماری کو بیعت کی نحوست سمجھ بیٹھا تھا۔ ٢ ؎: یعنی مدینہ سے چلا گیا، تاکہ اپنے خیال میں اس نحوست سے نجات پا جائے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خلیفہ (حکمراں) سے خلافت کی بیعت، یا کسی خاص بات کو توڑنا جائز نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4185
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي ؟ فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي ؟ فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طِيبَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯১
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کے بعد پھر دوبارہ اپنے دیہات میں آکر رہنا
سلمہ بن الاکوع (رض) سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا : ابن الاکوع ! کیا آپ (ہجرت کی جگہ سے) ایڑیوں کے بل لوٹ گئے، اور ایک ایسا کلمہ کہا جس کے معنی ہیں کہ آپ بادیہ (دیہات) چلے گئے۔ انہوں نے کہا : نہیں، مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے بادیہ (دیہات) میں رہنے کی اجازت دی تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ١٤ (٧٠٨٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ١٩ (١٨٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٩) ، مسند احمد (٤/٤٧، ٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: گناہ کبیرہ میں سے ایک گناہ ہجرت کے بعد ہجرت والی جگہ کو چھوڑ دینا بھی ہے (اس سلسلے میں احادیث مروی ہیں) اسی کی طرف حجاج نے اشارہ کر کے سلمہ بن الاکوع (رض) سے یہ بات کہی، جب کہ بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمہ کے قبیلہ والوں کو فتنہ سے بچنے کے لیے اس کی اجازت پہلے ہی دے دی تھی، اسی لیے امام بخاری نے اس حدیث پر التعرب فی الفتن ۃ فتنہ کے زمانہ میں دیہات میں چلا جانا کا باب باندھا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4186
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، وَبَدَوْتَ. قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَذِنَ لِي فِي الْبُدُوِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯২
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اپنی قوت کے مطابق بیعت کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے : جتنی تمہاری طاقت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٢ (١٨٦٧) ، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٧١٢٧، ٧١٧٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٢) ، موطا امام مالک/البیعة ١(١) ، مسند احمد (٢/٦٢، ٨١، ١٠١، ١٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے : لا يكلف الله نفسا إلا وسعها اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے (البقرة : 286) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4187
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: فِيمَا اسْتَطَعْتَ. وَقَالَ عَلِيٌّ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩
بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اپنی قوت کے مطابق بیعت کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے تو آپ ہم سے فرماتے تھے : جتنی تمہاری طاقت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٢٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4188
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا حِينَ نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ.
তাহকীক: