কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭ টি
হাদীস নং: ৪০৭১
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے متعلق احادیث
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن بھیجا، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے معاذ بن جبل (رض) کو بھیجا، جب وہ (معاذ) یمن آئے تو کہا : لوگو ! میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، ابوموسیٰ اشعری (رض) نے ان کے لیے گاؤ تکیہ رکھ دیا تاکہ وہ اس پر (ٹیک لگا کر) بیٹھیں، پھر ایک شخص ان کے پاس لایا گیا جو یہودی تھا، وہ اسلام قبول کرلینے کے بعد کافر ہوگیا تھا، تو معاذ (رض) نے کہا : میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اسے قتل نہ کردیا جائے۔ (ایسا) تین بار (کہا) ، پھر جب اسے قتل کردیا گیا تو وہ بیٹھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٠٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ. فَأَلْقَى لَهُ أَبُو مُوسَى وِسَادَةً لِيَجْلِسَ عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭২
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے متعلق احادیث
سعد (رض) کہتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو امان دے دی، سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے، اور فرمایا : انہیں قتل کر دو چاہے تم انہیں کعبہ کے پردے سے چمٹا ہوا پاؤ، یعنی عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ١ ؎۔ عبداللہ بن خطل اس وقت پکڑا گیا جب وہ کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہما) اس کی طرف بڑھے، سعید عمار پر سبقت لے گئے، یہ زیادہ جوان تھے، چناچہ انہوں نے اسے قتل کردیا، مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا تو اسے قتل کردیا۔ عکرمہ (بھاگ کر) سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوگئے، تو اسے آندھی نے گھیر لیا، کشتی کے لوگوں نے کہا : سب لوگ خالص اللہ کو پکارو اس لیے کہ تمہارے یہ معبود تمہیں یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ عکرمہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر سمندر سے مجھے سوائے توحید خالص کے کوئی چیز نہیں بچا سکتی تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ اے اللہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے میری اس مصیبت سے بچا لے گا جس میں میں پھنسا ہوا ہوں تو میں محمد ﷺ کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں ان کو مہربان اور بخشنے والا پاؤں گا، چناچہ وہ آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ رہا عبداللہ بن ابی سرح، تو وہ عثمان بن عفان (رض) کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا۔ تو عثمان ان کو لے کر آئے اور اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لا کھڑا کردیا اور بولے : اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر مرتبہ آپ انکار کر رہے تھے، لیکن تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں کوئی ایک شخص بھی سمجھ دار نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا جب مجھے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچتے دیکھا کہ اسے قتل کر دے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کردیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور لائق نہیں کہ وہ کنکھیوں سے خفیہ اشارہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ١٢٧ (٢٦٨٣ مختصراً ) ، الحدود ١(٤٣٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عکرمہ بن ابی جہل اپنے ایام شرک میں نبی کریم ﷺ کو پنے باپ کے ساتھ مل کر بہت تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے، ابوجہل بدر کے دن مارا گیا، اور عکرمہ کو فتح مکہ کے دن قتل کردینے کا حکم ہوا، اور عبداللہ بن خطل اسلام لا کر مرتد ہوگیا تھا، نیز دو لونڈیاں رکھتا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو (مذمت) میں گایا کرتی تھیں، اور مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن ابی سرح دونوں مرتد ہوگئے تھے۔ ٢ ؎: خائن ۃ الأعین دل میں جو بات ہو زبان سے نہ کہہ کر کے آنکھوں سے اشارہ کیا جائے، یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4067
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْمُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ، فَقَتَلَهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: أَخْلِصُوا، فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي مِنَ الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا. فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ. قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ. فَقَالُوا: وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا، أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৩
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرتد کی توبہ اور اس کے دوبارہ اسلام قبول کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہوگیا اور مشرکین سے جا ملا۔ اس کے بعد شرمندہ ہوا تو اپنے قبیلہ کو کہلا بھیجا کہ میرے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھو : کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ اس کے قبیلہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور بولے : فلاں شخص (اپنے کئے پر) شرمندہ ہے اور اس نے ہم سے کہا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں : کیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے ؟ اس وقت یہ آیت اتری : كيف يهدي اللہ قوما کفروا بعد إيمانهم سے غفور رحيم تک اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے اور نبی اکرم ﷺ کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد کافر ہوئی، اللہ تعالیٰ ایسے بےانصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا، ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی، مگر وہ لوگ جن ہوں نے اس سے توبہ کرلی اور نیک ہوگئے، پس بیشک اللہ غفور رحیم ہے (آل عمران : ٨٦-٨٩) تو آپ نے اسے بلا بھیجا اور وہ اسلام لے آیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4068
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ثُمَّ تَنَدَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ، وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ: كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة آل عمران آية 86 - 89، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৪
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرتد کی توبہ اور اس کے دوبارہ اسلام قبول کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے سورة النحل کی اس آیت : من کفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (النحل : ١٠٦) کے بارے میں کہا : یہ منسوخ ہوگئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی : ثم إن ربک للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربک من بعدها لغفور رحيم پھر جو لوگ فتنے میں پڑجانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے (النحل : ١١٠) اور کہا : وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو (عثمان (رض) کے زمانے میں) مصر کے والی ہوئے، یہ رسول اللہ ﷺ کے منشی تھے، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے، آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کردیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان (رض) نے پناہ طلب کی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پناہ دے دی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١(٤٣٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٢) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: باب کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوگی، ان شاء اللہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4069
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْيَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِي سُورَةِ النَّحْلِ: مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ إِلَى قَوْلِهِ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 106، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النحل آية 110، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ، كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ، أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৫
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (نعوذ باللہ) برا کہنے والے کی سزا
عثمان شحام کہتے ہیں کہ میں ایک اندھے آدمی کو لے کر عکرمہ کے پاس گیا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ مجھ سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک نابینا آدمی تھا، اس کی ایک ام ولد (لونڈی) تھی، اس سے اس کے دو بیٹے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کو بہت برا بھلا کہتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ مانتی نہیں تھی، وہ اسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی (نابینا کا بیان ہے) ایک رات کی بات ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اسے زور سے دبایا اور اسے مار ڈالا، وہ مرگئی، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : میں قسم دیتا ہوں اس کو جس پر میرا حق ہے ! جس نے یہ کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو ، تو وہ نابینا گرتا پڑتا آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ میرا کام ہے، وہ میری ام ولد (لونڈی) تھی، وہ مجھ پر مہربان اور رفیق تھی، میرے اس سے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں، لیکن وہ آپ کو اکثر برا بھلا کہتی تھی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے روکتا تھا تو وہ باز نہیں آتی تھی، میں اسے ڈانٹتا تھا تو وہ اثر نہ لیتی تھی، کل رات کی بات ہے میں نے آپ کا تذکرہ کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، میں نے خنجر لیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سنو ! تم لوگ گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢ (٤٣٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٥٥) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : اس کے خون کا قصاص یا خون بہا (دیت) نہیں ہے، معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینا، آپ پر طعن و تشنیع کرنا اور اس سے باز نہ آنے کی واجبی سزا قتل ہے اور آپ کو گالیاں دینے اور سب و شتم کرنے والا خواہ ذمی ہی کیوں نہ ہو قتل کیا جائے گا، اور یہ واضح رہے کہ یہ عمل صرف اسلامی حکومت اپنی حکومت ہی میں نافذ کرسکتی ہے کیونکہ اس کا تعلق حدود سے ہے جس کے لیے اسلامی حکومت اور حکمرانی کا ہونا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4070
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ رَجُلًا أَعْمَى، فَانْتَهَيْتُ إِلَى عِكْرِمَةَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَسُبُّهُ فَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَعَتْ فِيهِ فَلَمْ أَصْبِرْ، أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا، فَأَصْبَحَتْ قَتِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ النَّاسَ، وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ، فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ، فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، كَانَتْ أُمَّ وَلَدِي، وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً، وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرْتُكَ، فَوَقَعَتْ فِيكَ، فَقُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا اشْهَدُوا، أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৬
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (نعوذ باللہ) برا کہنے والے کی سزا
ابوبرزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق (رض) سے سخت کلامی کی تو میں نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ تو آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا : یہ مقام رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کا نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢ (٤٣٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٢١) ، مسند احمد (١/٩، ١٠) ، ویأتي فیما یلي : ٤٠٧٧- ٤٠٨٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صرف نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے اور سب و شتم پر کسی کو قتل کیا جائے گا، آپ کے سوا کسی کا یہ مرتبہ و مقام نہیں کہ اس کو سب و شتم کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے، ہاں تعزیر کی جاسکتی ہے، جو معاملہ کی نوعیت اور قاضی (جج) کی رائے پر منحصر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4071
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنبَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقُلْتُ: أَقْتُلُهُ. فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৭
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) ایک آدمی پر غصہ ہوئے، تو میں نے کہا : اے خلیفہ رسول ! یہ کون ہے ؟ کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : تاکہ اگر آپ کا حکم ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ انہوں نے کہا : کیا تم ایسا کر گزرو گے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، ابوبرزہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میری اس بات کی سنگینی نے جو میں نے کہی ان کا غصہ ٹھنڈا کردیا، پھر وہ بولے : یہ مقام محمد ﷺ کے بعد کسی کا نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4072
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْأَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هُوَ، يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ؟، قَالَ: لِم ؟. قُلْتُ: لِأَضْرِبَ عُنْقَهُ، إِنْ أَمَرْتَنِي بِذَلِكَ، قَالَ: أَفَكُنْتَ فَاعِلًا. قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِيَ الَّتِي قُلْتُ غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا كَانَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৮
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں ؟ کہا : آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کردیا، پھر بولے : محمد ﷺ کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٧٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4073
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৯
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) ایک شخص پر غصہ ہوئے، میں نے کہا : اگر آپ حکم دیں تو میں کچھ کروں، انہوں نے کہا : سنو، اللہ کی قسم ! محمد ﷺ کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٧٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4074
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ،مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮০
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) ایک آدمی پر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان کا رنگ بدل گیا، میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! اللہ کی قسم ! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں، اچانک دیکھا گویا آپ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو، چناچہ اس شخص پر آپ کا غصہ ختم ہوگیا اور کہا : ابوبرزہ ! تمہاری ماں تم پر روئے، یہ مقام تو رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کا ہے ہی نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ (ابونضرۃ) غلط ہے صحیح ابونصر ہے، ان کا نام حمید بن ہلال ہے۔ شعبہ نے مخالفت کرتے ہوئے اس (ابونضرۃ) کے برعکس (ابونصر) کہا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٧٦ (صحیح) (نمبر ٤٠٨٢ میں آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس میں انقطاع ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4075
أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: غَضِبَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرْتَنِي لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. فَكَأَنَّمَا صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ بَارِدٌ، فَذَهَبَ غَضَبُهُ عَنِ الرَّجُلِ، قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا بَرْزَةَ، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَبُو نَصْرٍ وَاسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ. خَالَفَهُ شُعْبَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮১
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس آیا، انہوں نے ایک شخص کو کچھ سخت سست کہا تو اس نے جواب میں ویسا ہی کہا، میں نے کہا : کیا اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا : رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ابونصر کا نام حمید بن ہلال ہے اور اسے ان سے یونس بن عبید نے مسنداً روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٤٠٧٦ (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن اگلی سند متصل ہے ) وضاحت : ١ ؎: عمرو بن مرہ کی پچھلی دونوں سن دوں میں حمید بن ہلال اور ابوبرزہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، اور یونس بن عبید کی یہ روایت متصل ہے کیونکہ اس میں حمید اور ابوبرزہ کے درمیان عبداللہ بن مطرف کا واسطہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4076
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَقَدْ أَغْلَظَ لِرَجُلٍ فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَانْتَهَرَنِي، فَقَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نَصْرٍ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، وَرَوَاهُ عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، فَأَسْنَدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮২
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ان حادیث میں حضرت اعمش پر اختلاف
ابوبرزہ اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر صدیق (رض) کے پاس تھے، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہوگیا، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول ! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کردی، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا : ابوبرزہ ! تم نے کیا کہا ؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا، میں نے کہا : مجھے یاد دلائیے، تو آپ نے کہا : کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! تو آپ نے کہا : جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا : اے خلیفہ رسول ! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے ؟ کیا تم ایسا کر گزرتے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، اللہ کی قسم ! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں، تو آپ نے کہا : اللہ کی قسم ! محمد ﷺ کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٠٧٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سند کے لحاظ سے بہتر اور عمدہ ہونا ہے، کیونکہ پچھلی دونوں سن دوں میں انقطاع ہے جیسا کہ گزرا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4077
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ أَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ، فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، مَا قُلْتَ: وَنَسِيتُ الَّذِي، قُلْتُ: قُلْتُ: ذَكِّرْنِيهِ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ ؟ !، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى رَجُلٍ ؟، فَقُلْتَ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا تَذْكُرُ ذَلِكَ أَوَ كُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ، قُلْتُ: نَعَمْ، وَاللَّهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ. قَالَ: وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ الْأَحَادِيثِ وَأَجْوَدُهَا، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৩
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جادو سے متعلق
صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے دوست سے کہا : ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو، دوست نے اس سے کہا : تم یہ نہ کہو کہ وہ نبی ہے، اگر اس نے تمہاری بات سن لی تو اس کی چار چار آنکھیں ہوں گی (یعنی اسے بہت خوشی ہوگی) ، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے نو واضح احکام کے بارے میں پوچھا (جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے) ١ ؎ آپ نے ان سے فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری اور زنا نہ کرو اور اللہ نے جس نفس کو حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، کسی بےقصور کو (سزا دلانے کی غرض سے) حاکم کے پاس نہ لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر الزام تراشی نہ کرو، جنگ کے دن پیٹھ دکھا کر نہ بھاگو، اور اے یہود ! ایک حکم تمہارے لیے خاص ہے کہ تم ہفتے (سنیچر) کے دن میں غلو نہ کرو، یہ سن کر ان لوگوں نے آپ کے ہاتھ پاؤں چوم لیے ٢ ؎ اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں، آپ نے فرمایا : پھر کون سی چیز تمہیں میری پیروی کرنے سے روک رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : داود (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ہمیشہ نبی ان کی اولاد میں سے ہو، ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الاستئذان ٣٣ (٢٧٣٣) ، تفسیر سورة الإسراء (٣١٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٦(٣٧٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٥١) ، مسند احمد (٤/٢٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبداللہ بن سلمہ “ حافظہ کے ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: آیات بینات سے مراد یا تو معجزات ہوتے ہیں یا واضح احکام، یہاں احکام مراد ہیں، اور جو نو معجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے وہ یہ تھے : عصاء، ید بیضاء، بحر طوفان، قحط، ٹڈیاں، کھٹمل، مینڈک، اور خون، اور جو نو واضح احکامات دیئے گئے تھے وہ اس حدیث میں مذکور ہیں اور یہ ساری شریعتوں میں دیئے گئے تھے۔ ٢ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ہاتھ چومنے سے متعلق ساری روایات ضعیف ہیں، ان سے استدلال صحیح نہیں، اور تعظیم و تکریم کا یہ عمل اگر صحیح ہوتا تو آپ کی صحبت میں رہنے والے جلیل القدر صحابہ اس کو ضرور اپناتے، لیکن کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی وغیرہم (رض) نے تعظیم کا یہ طریقہ اپنایا ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4078
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ. قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: لَا تَقُلْ نَبِيٌّ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَوَلَّوْا يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ. فَقَبَّلُوا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، وَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي ؟، قَالُوا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا بِأَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৪
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جادو گر سے متعلق حکم
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونک ماری تو اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا ١ ؎ اور جس نے گلے میں کچھ لٹکایا، وہ اسی کے حوالے کردیا گیا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٢٥٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” عباد بن میسرہ “ ضعیف ہیں، لیکن اس کا جملہ ” من تعلق ۔۔۔ الخ دیگر روایات سے صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مشرکین کا عمل اپنایا، یہ شرک اس صورت میں ہے جب وہ اس میں حقیقی تأثیر کا اعتقاد رکھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ترک کردینے کے سبب وہ شرک خفی کا مرتکب ہوگا۔ اور مؤلف کا استدلال اسی جملہ سے ہے، یعنی جادو کرنے والا شرک کا مرتکب ہوا تو مرتد ہوگیا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید اسے حاصل نہیں ہوگی۔ تعویذ کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ اس کا ترک کرنا ہر حال میں افضل ہے، بالخصوص جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں یا اس کے مفید یا مضر ہونے کا اعتقاد رکھے۔ تو اس سے دور رہنا واجب و فرض ہے، ایسے تعویذ جو قرآنی آیات پر مشتمل ہوں اس کی بابت علماء کا اختلاف ہے، کچھ لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں اور ممانعت کی حدیث کو اس صورت پر محمول کرتے ہیں جب اس میں شرکیہ کلمات ہوں، جب کہ دوسرے لوگ جیسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نیز دیگر صحابہ ارشاد نبوی من تعلق شیأ وکل إلیہ کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے، نیز آیات و احادیث کی بیحرمتی کے سبب حرام قرار دیتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4079
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمَنْقَرِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ثُمَّ نَفَثَ فِيهَا فَقَدْ سَحَرَ، وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৫
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کے جادو گروں سے متعلق حدیث رسول ﷺ
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو جادو کیا۔ اس کی وجہ سے آپ کچھ دنوں تک بیمار رہے، آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر کہا : ایک یہودی نے آپ کو جادو کیا ہے، اس نے آپ کے لیے فلاں کنوئیں میں گرہ باندھ کر ڈال رکھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے اسے نکالا، وہ گرہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ کھڑے ہوگئے، گویا آپ کسی رسی کے بندھن سے کھلے ہوں۔ پھر آپ نے اس کا ذکر اس یہودی سے نہیں کیا اور نہ ہی اس نے آپ کے چہرے پر کبھی اس کا اثر پایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : مسند احمد ٤/٣٦٧ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے اس یہودی سے اس کے اس عمل کے سبب تعرض اس لیے نہیں کیا کہ جادو کے سبب شرک و ارتداد کا حکم اس پر لاگو نہیں ہوا، کیونکہ اس کا دین دوسرا تھا، نبی اکرم ﷺ پر جادو کئے جانے کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیحین میں بھی حدیثیں مروی ہیں، اس لیے ان کا انکار حدیث کا انکار ہے، سلف صالحین انبیاء (علیہم السلام) پر جادو کے اثر کے قائل ہیں اور یہ کہ یہ چیز ان کے مرتبہ و مقام میں کسی نقص اور کمی کا باعث نہیں ہے، یہ ایک قسم کا مرض ہی ہے، اور مرض انبیاء پر طاری ہوا کرتا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4080
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَخْرَجُوهَا فَجِيءَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَكَرَ ذَلِكَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৬
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مال لوٹنے لگ جائے تو کیا کیا جائے؟
مخارق (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا : میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور میرا مال چھینتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تو تم اسے اللہ کی یاد دلاؤ ، اس نے کہا : اگر وہ اللہ کو یاد نہ کرے، آپ نے فرمایا : تو تم اس کے خلاف اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے مدد طلب کرو ۔ اس نے کہا : اگر میرے اردگرد کوئی مسلمان نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا : حاکم سے مدد طلب کرو۔ اس نے کہا : اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو ؟ آپ نے فرمایا : اپنے مال کے لیے لڑو، یہاں تک کہ اگر تم مارے گئے تو آخرت کے شہداء میں سے ہو گے ١ ؎ یا اپنے مال کو بچا لو گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٢٤٢) ، مسند احمد (٥/٢٩٤-٢٩٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : اجر و ثواب کے لحاظ سے ایسا آدمی شہداء میں سے ہوگا لیکن عام مردوں کی طرح اس کو غسل دیا جائے گا اور تجہیز و تدفین کی جائے گی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4081
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح، وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَأْتِينِي فَيُرِيدُ مَالِي. قَالَ: ذَكِّرْهُ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَذَّكَّرْ. قَالَ: فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَوْلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ. قَالَ: فَإِنْ نَأَى السُّلْطَانُ عَنِّي. قَالَ: قَاتِلْ دُونَ مَالِكَ حَتَّى تَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৭
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مال لوٹنے لگ جائے تو کیا کیا جائے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے ؟ آپ نے فرمایا : انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : انہیں اللہ کی قسم دو , اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا : پھر بھی وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : پھر ان سے لڑو، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ١ ؎ اور اگر تم نے انہیں مار دیا تو وہ جہنم میں ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٢٧٦) ، مسند احمد (٢/٣٣٩، ٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جنت میں جانے کے اسباب میں سے ایک سبب اپنے مال کی حفاظت میں مارا جانا بھی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی کے پاس نہ عقیدہ صحیح ہو نہ ہی صوم و صلاۃ اور دوسرے احکام شریعت کی پاکی پابندی اور ایسا آدمی اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے تو سیدھے جنت میں چلا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4082
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৮
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مال لوٹنے لگ جائے تو کیا کیا جائے؟
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : تم انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں تو ؟ آپ نے فرمایا : تم انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا : اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو ؟ آپ نے فرمایا : تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4083
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَانْشُدْ بِاللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ: فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৯
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال کے دفاع میں مارا جائے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو اپنا مال بچانے کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ شہید ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٩٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4084
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৯০
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال کے دفاع میں مارا جائے
তাহকীক: