কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭ টি
হাদীস নং: ৩৯৯১
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٠٥) (صحیح) (اگلی متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابراہیم بن مہاجر “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ایسا مومن کامل جو اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا علم رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام کا پورے طور پر پابند بھی ہے ایسے مومن کا ناحق قتل ہونا اللہ رب العالمین کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے دنیا والوں کی نگاہ میں دنیا کی عظمت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3986
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَتْلُ مُؤْمِنٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯২
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا زوال اور اس کی بربادی کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنے سے زیادہ حقیر اور آسان ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدیات ٧ (١٣٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٨٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3987
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৩
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ مومن کا (ناحق) قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کے ہلاک و برباد ہونے سے زیادہ بڑی بات ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٩٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3988
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৪
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ مومن کا قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے ہلاک و برباد ہونے سے زیادہ بڑی بات ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٩٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3989
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৫
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کا (ناحق) قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کے ہلاک ہونے سے کہیں زیادہ بڑی بات ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥٢) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3990
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৬
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہوگا نماز ہے، اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ١ (٢٦١٧ مختصرا) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خالق کے حقوق سے متعلق پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہوگا نماز ہے، اور بندوں کے آپسی حقوق میں سے سب سے پہلے خون کی بابت فیصلہ کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3991
أَخْبَرَنَا سَرِيعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ الْخَصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْأَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৭
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٤٨ (٦٥٣٣) ، الدیات ١(٦٨٦٤) ، صحیح مسلم/القسامة ٨ (١٦٧٨) ، سنن الترمذی/الدیات ٨ (١٣٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١(٢٦١٧) ، مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١، ٤٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3992
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৮
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان قیامت کے روز سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) (عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا یہ کلام موقوف ہے، لیکن حکم میں یہ مرفوع یعنی حدیث نبوی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3993
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৯
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ قیامت کے روز سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3994
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০০
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩١٦٤) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3995
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَا يُقْضَى فِيهِ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০১
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3996
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০২
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (قیامت کے دن) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : تاکہ عزت و غلبہ فلاں کا ہو، اللہ فرمائے گا : وہ تو اس کے لیے نہیں ہے۔ پھر وہ (قاتل) اس کا (جس کے لیے قتل کیا اس کا) گناہ سمیٹ لے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٤٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث آیت کریمہ ولا تزر وازرة وزر أخرء کے منافی اور خلاف نہیں ہے، اس لیے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی دوسرے کا گناہ ایسے شخص پر نہیں لادا جاسکتا جس کا اس گناہ سے نہ تو ذاتی تعلق ہے اور نہ ہی اس کے کسی ذاتی فعل کا اثر ہے، اور یہاں جس قتل ناحق کا تذکرہ ہے اس میں اس شخص کا تعلق اور اثر موجود ہے جس کی عزت و تکریم یا حکومت کی خاطر قاتل نے اس قتل کو انجام دیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3997
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْشَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ. فَيَقُولُ: فَإِنَّهَا لِي، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: إِنَّ هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ: لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ. فَيَقُولُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِفُلَانٍ. فَيَبُوءُ بِإِثْمِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৩
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
جندب (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں (صحابی) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور کہے گا : (اے اللہ ! ) اس سے پوچھ، اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا ؟ تو وہ کہے گا : میں نے اس کو فلاں کی سلطنت میں قتل کیا ۔ جندب کہتے (رض) ہیں : تو اس سے بچو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٥٤١۔ ألف) ، مسند احمد (٥/٣٦٧، ٣٧٣) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس طرح کے عذر لنگ والے جواب کی نوبت آنے سے بچو، یعنی تم کو اللہ کے پاس اس طرح کے جواب دینے کی نوبت نہ آئے، یہ خیال رکھو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3998
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: قَالَجُنْدَبٌ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ. قَالَ جُنْدَبٌ: فَاتَّقِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৪
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، اور نیک عمل کئے پھر راہ راست پر آگیا ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : اس کی توبہ کہاں ہے ؟ میں نے تمہارے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے : وہ قاتل کو پکڑے آئے گا اور اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! اس سے پوچھ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ پھر (ابن عباس (رض) نے) کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت (ومن يقتل مؤمنا متعمدا ... ) کو نازل کیا اور اسے منسوخ نہیں کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢ (٢٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٣٢) ، مسند احمد (١/٢٤٠، ٢٩٤، ٣٦٤) ، ویأتي عند المؤلف في القسامة (برقم : ٤٨٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ آیت : ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها جو کوئی مؤمن کو عمداً قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا (النساء : ٩٣ ) مدنی ہے اور بقول ابن عباس مدنی زندگی کے آخری دور میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔ اس لیے یہ اس مکی آیت کی بظاہر ناسخ ہے جو سورة الفرقان میں ہے : والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق سے لے کر إلا من تاب و عمل صالحا تک اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے۔۔۔۔ مگر جس نے توبہ کرلی اور نیک عمل کیے۔۔۔ (الفرقان : ٦٨-٧٠ ) علماء نے تطبیق کی صورت یوں نکالی ہے کہ پہلی آیت کو اس صورت پر محمول کریں گے جب قتل کرنے والا مؤمن کے قتل کو مباح بھی سمجھتا ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ جہنمی ہوگا۔ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مدنی آیت میں خلود سے مراد زیادہ عرصہ تک ٹھہرنا ہے، ایک نہ ایک دن توحید کی بدولت اسے ضرور جہنم سے خلاصی ہوگی۔ یہ بھی جواب دیا جاسکتا ہے کہ آیت میں زجر و توبیخ مراد ہے۔ یا جو بغیر توبہ مرجائے، یہ ساری تاویلات اس لیے کی گئی ہیں کہ جب کفر و شرک کے مرتکب کی توبہ مقبول ہے تو مومن کو عمداً قتل کرنے والے کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی، یہی وجہ ہے کہ ابن عباس (رض) نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا۔ دیکھئیے (صحیح حدیث نمبر : ٢٧٩٩ ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3999
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ ! سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৫
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا کے سلسلے میں اہل کوفہ میں اختلاف ہوا تو میں ابن عباس (رض) کے پاس گیا اور ان سے پوچھا : تو انہوں نے کہا : وہ سب سے اخیر میں نازل ہونے والی آیتوں میں اتری اور اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء ١٦(٤٥٩٠) ، تفسیر سورة الفرقان ٢ (٤٧٦٣) ، صحیح مسلم/التفسیر ١٦ (٣٠٢٣) ، سنن ابی داود/الفتن ٦ (٤٢٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٢١) ، ویأتی برقم : ٤٨٦٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4000
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ، ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৬
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی ؟ ، میں نے ان کے سامنے سورة الفرقان کی یہ آیت : والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق پڑھی تو انہوں نے کہا : یہ آیت مکی ہے اسے ایک مدنی آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم نے منسوخ کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر الفرقان ٢ (٤٧٦٤) ، صحیح مسلم/التفسیرح ٢٠ (٣٠٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٢١) ، ویأتي برقم : ٤٨٦٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4001
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: لَا. وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68. قَالَ: هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ، نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৭
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس سے ان دو آیتوں ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم،والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق کے متعلق پوچھوں، اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا : یہ اہل مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر الفرقان ٤ (٤٧٦٢) ، صحیح مسلم/التفسیرح ١٨ (٣٠٢٣) ، سنن ابی داود/الفتن ٦ (٢٤٧٣) ، وراجع أیضا : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٩ (٣٨٥٥) ، تفسیر الفرقان ٣ (٤٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٢٤) ، ویأتي برقم (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4002
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ. وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৮
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک (مشرک) قوم کے لوگوں نے بہت زیادہ قتل کئے، کثرت سے زنا کیا اور خوب حرام اور ناجائز کام کئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : محمد ! جو آپ کہتے ہیں اور جس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں یقیناً وہ ایک بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے کیا اس کا کفارہ بھی ہے ؟ ، تو اللہ تعالیٰ نے والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر سے لے کر فأولئك يبدل اللہ سيئاتهم حسنات تک آیت نازل فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا : یعنی اللہ ان کے شرک کو ایمان سے، ان کے زنا کو عفت و پاک دامنی سے بدل دے گا اور یہ آیت قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم نازل ہوئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥٤٧) (صحیح) (سعید بن جبیر سے پہلے کے تمام رواة حافظے کے کمزور ہیں لیکن اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: میرے ان بندوں سے کہہ دیجئیے جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، الآیۃ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4003
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلِبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قَوْمًا كَانُوا قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا، وَانْتَهَكُوا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ، لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ سورة الفرقان آية 68 - 70. قَالَ: يُبَدِّلُ اللَّهُ شِرْكَهُمْ إِيمَانًا وَزِنَاهُمْ إِحْصَانًا، وَنَزَلَتْ: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53 الْآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৯
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کے کچھ لوگوں نے محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا : آپ جو کہتے اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کیا اس کا بھی کفارہ ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور یہ نازل ہوئی قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم اے میرے بندو جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (الزمر : ٥٣) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیرسورة الزمر ١(٤٨١٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٥٤(١٢٢) ، سنن ابی داود/الفتن ٦(٤٢٧٤ مختصرا) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٥٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4004
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ أَتَوْا مُحَمَّدًا، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ، لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَتْ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০১০
جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قتل گناہ شدید
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس (مقتول) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا ۔ راوی (عمرو) کہتے ہیں : لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت : ومن يقتل مؤمنا متعمدا جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تلاوت کی اور کہا : جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (٣٠٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٠٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4005
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ، قَتَلَنِي. حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 قَالَ: مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ، وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ.
তাহকীক: