কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
وصیتوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬১ টি
হাদীস নং: ৩৬৬১
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری بیماری میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا : تم نے وصیت کردی ؟ میں نے کہا : جی ہاں کردی، آپ نے فرمایا : کتنی ؟ میں نے کہا : اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا : اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا ؟ میں نے کہا : وہ سب مالدار و بےنیاز ہیں، آپ نے فرمایا : دسویں حصے کی وصیت کرو ، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ١ ؎ آپ نے فرمایا : اچھا تہائی کی وصیت کرلو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٦ (٩٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٩٨) ، مسند احمد (١/١٧٤) (ضعیف) (مولف کی یہ سند عطاء بن سائب کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر پچھلی سند صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی میں نے کل مال میں سے دو تہائی کہا، آپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے آدھا کہا، آپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے کہا : تہائی ؟ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3631
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِي، فَقَالَ: أَوْصَيْتَ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكَمْ قُلْتُ ؟بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ ؟قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ، قَالَ: أَوْصِ بِالْعُشْرِ، فَمَا زَالَ يَقُولُ: وَأَقُولُ: حَتَّى قَالَ: أَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬২
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، کہا : آدھے کی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، کہا : تہائی کی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ایک تہائی کی کر دو ، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٠٦) ، مسند احمد (١/١٧٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3632
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالشَّطْرَ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالثُّلُثَ ؟ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سعد بن ابی وقاص (رض) کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد (رض) نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم (یعنی اجازت) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا : نہیں ، انہوں نے کہا : تو پھر ایک تہائی کی وصیت کردیتا ہوں، آپ نے فرمایا : ہاں، ایک تہائی ہوسکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، (آپ نے مزید فرمایا) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر (اس دنیا سے) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ (دوسروں کے سامنے) ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3633
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سَعْدًا يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُوصِي بِالنِّصْفِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُوصِي بِالثُّلُثِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ فُقَرَاءَ يَتَكَفَّفُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ اگر وصیت کو ایک چوتھائی تک کم کریں (تو مناسب ہے) کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٣ (٢٧٤٣) ، صحیح مسلم/الوصایا ١ (١٦٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٥ (٢٧١١) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٧٦) ، مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3634
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ إِلَى الرُّبُعِ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا : (اللہ کے رسول ! ) میری کوئی اولاد (نرینہ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کردیتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں ، انہوں نے کہا : آدھے کی وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں ، انہوں نے کہا : تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٢٧) ، مسند احمد (١/١٧٢، ١٧٣) ، سنن الدارمی/الوصیة ٧ (٣٢٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سعد بن مالک ہی سعد بن ابی وقاص ہیں، والد کا نام مالک اور کنیت ابوسعد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ، فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ: فَأُوصِي بِنِصْفِهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ: فَأُوصِي بِثُلُثِهِ ؟ قَالَ: الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک تہائی مال کی وصیت
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ ان کے والد ١ ؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہوگئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کردیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو (وہاں موجود) دیکھیں (تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں) آپ نے فرمایا : جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو ، تو میں نے (ایسا ہی) کیا، پھر آپ ﷺ کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہوگئے ٢ ؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا : اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ جب وہ لوگ آگئے تو آپ انہیں برابر (ان کے مطالبے کے بقدر) ناپ ناپ کردیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کردی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٧) ، الاستقراض ٨ (٢٣٩٥) ، ١٨ (٢٤٠٥) ، الہبة ٢١ (٢٦٠١) ، الوصایا ٣٦ (٢٧٨١) ، المناقب ٢٥ (٣٥٨٠) ، المغازي ١٨ (٤٠٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٤) ، ویأتی فیما یلي : ٣٦٦٧، ٣٦٦٨ و ٣٦٧٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی الله عنہ۔ ٢ ؎: یعنی اپنا اپنا مطالبہ لے کر شور برپا کرنے لگے کہ ہمیں دو ، ہمارا حساب پہلے چکتا کرو وغیرہ وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3636
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمَّا حَضَرَ جِدَادُ النَّخْلِ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ، قَالَ: اذْهَبْ، فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّمَا أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ أَصْحَابَكَ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَأَنَا رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وراثت سے قبل قرض ادا کرنا اور اس سے متعلق اختلاف کا بیان
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا، میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا اور کھجوروں کے باغ کی آمدنی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور کئی سالوں کی باغ کی آمدنی کے بغیر یہ قرض ادا نہ ہو سکے گا، اللہ کے رسول ! میرے ساتھ چلئے تاکہ قرض خواہ لوگ مجھے برا بھلا نہ کہیں، چناچہ آپ کھجور کی ایک ایک ڈھیر کے اردگرد گھومے اور اس کے آس پاس سلام کیا اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر اسی پر بیٹھ گئے اور قرض خواہوں کو بلایا اور انہیں (ان کا حق) پورا پورا دیا اور جتنا وہ لے گئے اتنا ہی بچ رہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3637
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق وَهُوَ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْجَابِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ، وَلَا يَبْلُغُ مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ دُونَ سِنِينَ، فَانْطَلِقْ مَعِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِكَيْ لَا يُفْحِشَ عَلَيَّ الْغُرَّامُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ بَيْدَرًا بَيْدَرًا، فَسَلَّمَ حَوْلَهُ، وَدَعَا لَهُ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، وَدَعَا الْغُرَّامَ، فَأَوْفَاهُمْ، وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَخَذُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وراثت سے قبل قرض ادا کرنا اور اس سے متعلق اختلاف کا بیان
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام (رض) انتقال فرما کر گئے اور (اپنے ذمہ لوگوں کا) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کردینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو ، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا : لوگوں کو ناپ ناپ کر دو ، جابر (رض) کہتے ہیں : تو میں انہیں ناپ ناپ کردینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٦٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3638
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دَيْنًا، فَاسْتَشْفَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا، فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ فِي أَعْلَاهُ، أَوْ فِي أَوْسَطِهِ، ثُمَّ قَالَ: كِلْ لِلْقَوْمِ، قَالَ: فَكِلْتُ لَهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ، ثُمَّ بَقِيَ تَمْرِي كَأَنْ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وراثت سے قبل قرض ادا کرنا اور اس سے متعلق اختلاف کا بیان
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کردیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم ﷺ نے (یہودی سے) فرمایا : کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے (اگلے سال) لے لو ؟ ، یہودی نے (ایسا کرنے سے) انکار کردیا، نبی اکرم ﷺ نے (مجھ سے فرمایا :) کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کرسکتے ہو ؟ ، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کردی تو آپ اور ابوبکر (رض) تشریف لائے اور (کھجور کے) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کردینے لگے اور رسول اللہ ﷺ برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کردی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس (بطور تواضع) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٥٠١) ، مسند احمد ٣/٣٣٨، ٣٥١، ٣٩١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3639
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَى أَبِي تَمْرٌ، فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ، وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ نِصْفَهُ، وَتُؤَخِّرَ نِصْفَهُ ؟ فَأَبَى الْيَهُودِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْجِدَادَ فَآذِنِّي ؟ فَآذَنْتُهُ، فَجَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ يُجَدُّ وَيُكَالُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى وَفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ، فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ قَالَ: هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وراثت سے قبل قرض ادا کرنا اور اس سے متعلق اختلاف کا بیان
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد (غزوہ احد میں) انتقال کر گئے اور ان کے ذمہ قرض تھا تو میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ والد کے ذمہ ان کا جو حق ہے اس کے بدلے (ہمارے باغ کی) کھجوریں لے لیں تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کردیا، وہ سمجھتے تھے کہ اتنی کھجوریں ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہیں تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم کھجوریں توڑ کر کھلیان میں رکھ دو تو مجھے خبر کرو ، چناچہ جب میں نے کھجوریں توڑ کر انہیں کھلیان میں رکھ دیں تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اور آپ کو بتایا) آپ آئے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا : اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا حق پورا پورا دیتے جاؤ تو میں نے کسی کو بھی جس کا میرے باپ پر قرض تھا نہیں چھوڑا، سب کو اس کا پورا پورا حق دے دیا اور میرے لیے تیرہ وسق کھجوریں بھی بچ رہیں، جب میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے اور فرمایا : ابوبکر و عمر (رض) کے پاس جاؤ اور انہیں بھی یہ بات بتاؤ، تو میں نے ان دونوں کو بھی اس بات کی خبر دی، تو ان دونوں نے کہا : جب ہم نے آپ کو وہ کرتے دیکھا جو آپ ﷺ نے کیا تو ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإستقراض ٩ (٢٣٩٦) ، الصلح ١٣ (٢٧٠٩) ، سنن ابی داود/الوصایا ١٧ (٢٨٨٤) ، مختصراً سنن ابن ماجہ/الصدقات ٢٠ (٢٤٣٤) ، تحفة الأشراف : ٣١٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا الثَّمَرَةَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ فَآذِنِّي، فَلَمَّا جَدَدْتُهُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ وَقَالَ: ائْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالَا: قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭১
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وارث کی حق میں وصیت باطل ہے
عمرو بن خارجہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے (تو تم سمجھ لو) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الوصایا ٥ (٢١٢١) مطولا، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٢) مطولا، (تحفة الأشراف : ١٠٧٣١) ، مسند احمد (٤/١٨٦، ١٨٧، ٢٣٨، ٢٣٩) ، سنن الدارمی/الوصیة ٢٨ (٣٣٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کا حق دے دیا ہے، اور اس کے حصے متعین کردیے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3641
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭২
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وارث کی حق میں وصیت باطل ہے
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١٠٧٣١) ، انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3642
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّابْنَ غُنْمٍ ذَكَرَ، أَنَّ ابْنَ خَارِجَةَ ذَكَرَ لَهُ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ قِسْمَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৩
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ وارث کی حق میں وصیت باطل ہے
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : (تحفة الأشراف : ١٠٧٣١) ، انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3643
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ اسْمُهُ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৪
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت : وأنذر عشيرتک الأقربين نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا چناچہ قریش سبھی لوگ اکٹھا ہوگئے، تو آپ نے عام و خاص سبھوں کو مخاطب کر کے فرمایا : اے بنی کعب بن لوئی ! اے بنی مرہ بن کعب ! اے بنی عبد شمس ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی ہاشم اور اے بنی عبدالمطلب ! تم سب اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ (فاطمہ بنت محمد) تم اپنے آپ کو آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کے عذاب کے سامنے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا سوائے اس کے کہ ہمارا تم سے رشتہ داری ہے جو میں (دنیا میں) اس کی تری سے تر رکھوں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٤) ، سنن الترمذی/تفسیرسورة الشعراء ٢ (٣١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٢٣) ، مسند احمد (٢/٣٣٣، ٣٦٠، ٥١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دنیا میں تمہارے ساتھ برابر صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3644
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَيَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَيَا بَنِي هَاشِمٍ، وَيَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَيَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا، سَأَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق
موسیٰ بن طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے اعمال حسنہ کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، اے عبدالمطلب کی اولاد ! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے نیک اعمال کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، البتہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرابت داری ہے، تو میں اس کی تری اسے تروتازہ اور زندہ رکھنے کی کوشش کروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١١ (٢٧٥٣ تعلیقًا) ، تفسیر سورة الشعراء ٢ (٤٧٧١ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٤٨، ١٥٢٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دنیا میں تمہارے ساتھ برابر صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3645
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَلَكِنْ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَحِمٌ، أَنَا بَالُّهَا بِبِلَالِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جب آیت : وأنذر عشيرتک الأقربين آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے قریش کی جماعت ! تم ! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی نجات نہیں دلا سکتا، اے صفیہ ! (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے فاطمہ بنت محمد ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہو مانگ لو، لیکن (یہ جان لو کہ) میں اللہ کے پاس تمہارے کچھ بھی کام نہ آؤں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٧٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3646
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৭
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : وأنذر عشيرتک الأقربين اے محمد ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف ! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب ! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آسکوں گا، اے صفیہ ! (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١١ (٢٧٥٣) ، تفسیر سورة الشعر ٢ (٤٧٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٥٦) ، سنن الدارمی/الرقاق ٣٧ (٢٧٩٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3647
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ، سَلِينِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৮
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ : وأنذر عشيرتک الأقربين نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبدالمطلب ! اور اے بنی عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے آخرت کے عذاب سے بچنے کی تدبیر خود تمہیں ہی کرنی ہے، میرے سہارے رہو گے تو نقصان اٹھاؤ گے کیونکہ میری قرابت داری کچھ کام نہ آئے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3648
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اچانک مر جائے تو کیا اس کے وارثوں کے واسطے اس کی جانب سے صدقہ کرنا مستحب ہے یا نہیں؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہ : میری ماں اچانک مرگئی، وہ اگر بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٦١) ، موطا امام مالک/الاقضیة ٤١ (٥٣) ، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعا و استغفار اور مالی عبادات مثلاً صدقہ و خیرات، حج و عمرہ وغیرہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس سلسلہ میں کتاب و سنت میں دلائل موجود ہیں، امام ابن القیم (رح) نے کتاب الروح میں بہت تفصیلی بحث کی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کا کہنا ہے کہ تمام ائمہ اسلام اس امر پر متفق ہیں کہ میت کے حق میں جو بھی دعا کی جائے اور اس کی جانب سے جو بھی مالی عبادت کی جائے اس کا پورا پورا فائدہ اس کو پہنچتا ہے، کتاب وسنت میں اس کی دلیل موجود ہے اور اجماع سے بھی ثابت ہے، اس کی مخالفت کرنے والے کا شمار اہل بدعت میں سے ہوگا۔ البتہ بدنی عبادات کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَإِنَّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَتَصَدَّقَ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০
وصیتوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اچانک مر جائے تو کیا اس کے وارثوں کے واسطے اس کی جانب سے صدقہ کرنا مستحب ہے یا نہیں؟
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ مدینہ میں ان کی ماں کے انتقال کا وقت آپہنچا، ان سے کہا گیا کہ وصیت کردیں، تو انہوں نے کہا : میں کس چیز میں وصیت کروں ؟ جو کچھ مال ہے وہ سعد کا ہے، سعد کے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، جب سعد (رض) آگئے تو ان سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، سعد (رض) نے کہا : فلاں باغ ایسے اور ایسے ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور باغ کا نام لیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٨٣٨، ٤٤٧١) ، موطا امام مالک/الأقضیة ٤١ (٥٢) ، مسند احمد (٦/٧) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3650
أَنْبَأَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي ؟ الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.
তাহকীক: