কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৭৫৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ یوں تھا : لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لك۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٣٩٨) ، مسند احمد (١/٤١٠) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2751
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ میں لبيك إله الحق بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحج ١٥ (٢٩٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٤١) ، مسند احمد (٢/٣٤١، ٣٥٢، ٤٧٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2752
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، إِلَّا عَبْدَ الْعَزِيزِ، رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ عَنْهُ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کے وقت آواز بلند کرنا
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا : محمد ! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٤) ، سنن الترمذی/الحج ١٥ (٨٢٩) ، سنن ابن ماجہ/ الحج ١٦ (٢٩٢٢) ، موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٨٨) ، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦) ، سنن الدارمی/المناسک ١٤ (١٨٥٠، ١٨٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2753
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ٩ (٨١٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٠٢) ، مسند احمد (١/٢٨٥، سنن الدارمی/المناسک ١٢ (١٨٤٧) (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2754
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2755
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ، ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ، وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
نبی اکرم ﷺ کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے (ظہر کی) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2756
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى وَهُوَ صَامِتٌ، حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) کو کہتے سنا : تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے (بیداء سے نہیں) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٢٠ (١٥٤١) ، صحیح مسلم/الحج ٤ (١١٨٦) ، سنن ابی داود/الحج ٢١ (١٧٧١) ، سنن الترمذی/الحج ٨ (٨١٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٢٠) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٠) ، مسند احمد (٢/١٠، ٢٨، ٦٦، ٨٥، ١١١، ١٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ٢ ؎: اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کردی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2757
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی (آپ کو لے کر) پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٤) ، ٢٨ (١٥٥٢) ، ٢٩ (١٥٥٣) ، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ١٤ (٢٩١٦) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٢) (موقوفاً ) ، مسند احمد (٢/١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2758
أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٢٨ (١٥٥٢) ، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٨٠) ، ٨٢ (١٩٧٠) ، مسند احمد ٢/٣٦، سنن الدارمی/المناسک ٨٢ (١٩٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2759
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ. ح وَأَخْبَرَنِيمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وقت تلبیہ
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٠ (١٦٦) ، اللباس ٣٧ (٥٨٥١) ، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧) ، دالحج ٢١ (١٧٧٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٣١٦) ، سنن الترمذی/الشمائل ١٠ (٧٤) ، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣١) ، مسند احمد (٢/، ١٧) ، وراجع رقم ١١٧، وما یأتي برقم : ٢٩٥٣، ٥٢٤٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2760
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِكَ نَاقَتُكَ ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَانْبَعَثَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس خاتون کو نفاس جاری ہو وہ کس طریقہ سے لبیک پڑھے؟
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کرسکے، پھر (دسویں سال) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آسکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس (رض) نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا : تم غسل کرلو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلًا إِلَّا قَدِمَ، فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ثُمَّ أَهِلِّي، فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس خاتون کو نفاس جاری ہو وہ کس طریقہ سے لبیک پڑھے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں ؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2762
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ ؟فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی خاتون نے عمرہ ادا کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھا اور اس کو حیض کا سلسلہ شروع ہوجائے جس کی وجہ سے حج فوت ہونے کا اندیشہ ہوجائے؟
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ١ ؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہوگئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم (مکہ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلی، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ تو ہم نے پوچھا : کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ساری چیزیں حلال ہوگئی (یہ سن کر) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے (سلے) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا : بات یہ ہے کہ مجھے حیض آگیا ہے، اور لوگ حلال ہوگئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور (ابھی تک) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ٢ ؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کرلو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور وقوف کی جگ ہوں (یعنی منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہوگئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئیں ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے ؟ (پھر عمرہ کیسے ہوا) تو آپ ﷺ نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) سے فرمایا : عبدالرحمٰن ! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٣) ، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٨) ، مسند احمد (٣/٣٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی حیض کی وجہ سے میں ابھی عمرے سے فارغ نہیں ہوسکی ہوں۔ ٣ ؎: یعنی منیٰ سے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو روانگی کے بعد محصب میں ٹھہرنے والی رات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2763
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا ؟ قَالَ: الْحِلُّ كُلُّهُ، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ ؟فَقَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ، وَلَمْ أُحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ، فَفَعَلَتْ، وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی خاتون نے عمرہ ادا کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھا اور اس کو حیض کا سلسلہ شروع ہوجائے جس کی وجہ سے حج فوت ہونے کا اندیشہ ہوجائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے ، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کرسکی اور نہ ہی صفا ومروہ کی سعی کرسکی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا : اپنا سر کھول دو ، کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو ، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کرچکی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے ، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہوگئے (پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ١ ؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا (یعنی قران کیا تھا) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں طواف سے مراد صفا ومروہ کی سعی ہے مطلب یہ ہے کہ قارن پر ایک ہی سعی ہے عمرہ اور حج دونوں میں سے کسی ایک کی سعی کرلے کافی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2764
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، قَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج میں مشروط نیت کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ (رض) نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کرلیں ١ ؎ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تلبیہ پکارے وقت اس بات کی شرط کرلیں کہ اگر میں کسی وجہ سے مکہ تک نہیں پہنچ سکی تو جہاں تک پہنچ سکوں گی وہیں احرام کھول ڈالوں گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2765
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شرط لگاتے وقت کس طرح کہا جائے؟
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا : یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ٢ ؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہو : لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني حاضر ہوں، اے اللہ ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہوجاؤں گی ، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٢٢ (١٧٧٦) ، سنن الترمذی/الحج ٩٧ (٩٤١) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٣٢) ، مسند احمد (١/٣٥٢) ، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جس طرح اور شرطیں جائز ہیں اسی طرح یہ شرط بھی جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2766
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب:، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ الرَّجُلِ يَحُجُّ يَشْتَرِطُ ؟ قَالَ: الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ يَعْنِيعِكْرِمَةَ، فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شرط لگاتے وقت کس طرح کہا جائے؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں ؟ آپ نے فرمایا : تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٤ (٢٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٤) ، مسند احمد (١/٣٣٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2767
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا،وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ ؟ قَالَ: أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ شرط لگاتے وقت کس طرح کہا جائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں ؟ ، آپ نے فرمایا : حج کرو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔ اسحاق کہتے ہیں : میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق سے کہا : ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں : انہوں نے کہا : ہاں (ایسا ہی ہے) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٤٤، ١٧٢٤٥) ، صحیح البخاری/النکاح ١٥ (٥٠٨٩) ، مسند احمد (٦/١٦٤، ٢٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2768
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُجِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي، قَالَ إِسْحَاق: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كِلَاهُمَا عَنْ عَائِشَةَ، هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ مَعْمَرٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نے بوقت احرام کوئی دوسرے رکن کی شرط نہ رکھی ہو اور اتفاقا حج کرنے سے روک جائے؟
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے : کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت کافی نہیں ؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو (اگر ممکن ہو تو) کعبے کا طواف، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلے، پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ٢ (١٨١٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2769
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِييُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِي وَيَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نے بوقت احرام کوئی دوسرے رکن کی شرط نہ رکھی ہو اور اتفاقا حج کرنے سے روک جائے؟
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے : کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے (کبھی) شرط نہیں لگائی۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ٢ (١٨١٠ م) ، سنن الترمذی/الحج ٩٨ (٩٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٣٧) ، مسند احمد (٢/٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2770
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: مَا حَسْبُكُمْ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ، فَإِنْ حَبَسَ أَحَدَكُمْ حَابِسٌ، فَلْيَأْتِ الْبَيْتَ، فَلْيَطُفْ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لِيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ، ثُمَّ لِيُحْلِلْ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ.
তাহকীক: