কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ২৬৭৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر تہ بند موجود نہ ہو تو اس کو پائجامہ پہن لینا درست ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے : پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٥ (١٨٤١) ، ١٦ (١٨٤٣) ، اللباس ١٤ (٥٨٠٤) ، ٣٧ (٥٨٥٣) ، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٨) ، سنن الترمذی/الحج ١٩ (٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٠ (٢٩٣١) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٧٥) ، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٧٩، ٣٣٧) ، سنن الدارمی/الحج ٩ (١٨٤٠) ، ویأتی عند المؤلف فی ٣٧ (برقم ٢٦٨٠) وفی الزینة ١٠٠ (برقم ٥٣٢٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2671
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّيْنِ لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ لِلْمُحْرِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر تہ بند موجود نہ ہو تو اس کو پائجامہ پہن لینا درست ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (احرام کے موقع پر) تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٧٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2672
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے واسطے بحالت احرام (چہرہ پر) نقاب ڈالنا ممنوع ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ١٣ (١٨٣٨) ، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٥) ، سنن الترمذی/الحج ١٨ (٨٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٧٥) ، مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2673
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام ٹوپی پہننے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : محرم کون سے کپڑے پہنے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٦٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2674
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام ٹوپی پہننے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں ؟ آپ نے فرمایا : نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٢٤٥) ، مسند احمد (٢/٧٧) ، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2675
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ وَرْسٌ، وَلَا زَعْفَرَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام پگڑی باندھنا ممنوع ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور پوچھا : ہم جب محرم ہوں تو کیا پہنیں ؟ آپ نے فرمایا نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ (پگڑی) ، نہ پائجامہ، نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ جس کو جوتے میسر نہ ہو تو وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہنے اور اسے نیچے کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٨ (٥٧٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٣٥) ، مسند احمد (٢/٤، ٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2676
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام پگڑی باندھنا ممنوع ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو آواز دی اور اس نے پوچھا : جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں ؟ تو آپ نے فرمایا : نہ قمیص پہنو، نہ عمامے (پگڑیاں) ، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٧٤٩) ، مسند احمد (٢/٣، ٢٩) ، ویأتي برقم : ٢٦٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2677
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ: لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ نِعَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ نِعَالٌ، فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ، أَوْ مَسَّهُ وَرْسٌ، أَوْ زَعْفَرَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام موزے پہن لینے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے : احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے (پگڑیاں) نہ ٹوپیاں، نہ موزے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨١٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2678
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَلْبَسُوا فِي الْإِحْرَامِ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ (محرم کے پاس) اگر جوتے موجود نہ ہوں تو موزے پہننا درست ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے سنا : جب کسی کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے، اور جب جوتیاں نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٧٢ (صحیح) (حدیث میں ” ولیقطعہما “ ” ان چمڑے کے موزوں کو کاٹ دے “ کا لفظ شاذ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح دون وليقطعهما فإنه شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2679
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٧٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2680
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے واسطے بحالت احرام دستانے پہن لینا ممنوع ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ١٣ (١٨٣٨ م) ، تعلیقًا، (تحفة الأشراف : ٧٤٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2681
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ نَعْلَانِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام بالوں کو جمانے سے متعلق
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے سر کی تلبید ١ ؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ٢ ؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٦) ، ١٠٧ (١٦٩٧) ، ١٢٦ (١٧٢٥) ، والمغازی ٧٧ (٤٣٩٨) ، صحیح مسلم/الحج ٢٥ (١٢٢٩) ، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٢ (٣٠٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٠٠) ، موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٨٠) ، مسند احمد (٦/٢٨٣، ٢٨٤، ٢٨٥) ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٧٨٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تلبید : بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ٢ ؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2682
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت احرام بالوں کو جمانے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٩ (١٥٤٠) ، اللباس ٦٩ (٥٩١٥) ، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤) ، سنن ابی داود/الحج ١٢ (١٧٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٢ (٣٠٤٧) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ٦٩٧٦) ، مسند احمد (٢/١٢١، ١٣١) ویأتي عند المؤلف ٢٧٤٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2683
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِييُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٠٩١) ، مسند احمد (٦/١٠٦، ١٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2684
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩) ، صحیح مسلم/الحج ١١٨٩) ، سنن ابی داود/المناسک ١١ (١٧٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥١٨) ، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2685
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٧٣ (٥٩٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٢٩) ، مسند احمد (٦/٢٣٨) ، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2686
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2687
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٥٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2688
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْلَالِهِ، وَطَيَّبْتُهُ لِإِحْرَامِهِ طِيبًا لَا يُشْبِهُ طِيبَكُمْ هَذَاتَعْنِي: لَيْسَ لَهُ بَقَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کون سی خوشبو لگائی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٧٩ (٥٩٢٨) ، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٦٥) ، مسند احمد (٦/٣٨، ١٣٠، ١٦١، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: بِأَطْيَبِ الطِّيبِ عِنْدَ حُرْمِهِ وَحِلِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت احرام خوشبو لگانے کی اجازت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ٢٦٨٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2690
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ.
তাহকীক: