কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
میقاتوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৫ টি
হাদীস নং: ৩০১৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات میں نماز ظہر اور نماز عصر ساتھ پڑھنا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز اس کے وقت پر پڑھتے تھے، سوائے مزدلفہ اور عرفات کے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٠٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عرفات میں ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت پڑھتے یعنی جمع تقدیم کرے، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں عشاء کے وقت پڑھتے یعنی جمع تاخیر کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3010
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍرَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گرگئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١١) ، مسند احمد (٥/٢٠٩) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3011
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ، فَسَقَطَ خِطَامُهَا، فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں، پھر وہاں سے لوٹیں، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو نازل فرمائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩١ (١٦٦٥) ، تفسیرالبقرة ٣٥ (٤٥٢٠) ، صحیح مسلم/الحج ٢١ (١٢١٩) ، سنن ابی داود/الحج ٥٨ (١٩١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٩٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3012
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَسَائِرُ الْعَرَبِ تَقِفُ بِعَرَفَةَ فَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ مِنْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم ﷺ کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا : ارے ان کا کیا معاملہ ہے ؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے ؟ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩١ (١٦٦٤) ، صحیح مسلم/الحج ٢١ (١٢٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٣١٩٣) ، مسند احمد ٤/٨٠، سنن الدارمی/المناسک ٤٩ (١٩٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3013
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں موقف (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں : تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث کے وارث ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٦٣ (١٩١٩) ، سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٥ (٣٠١١) ، مسند احمد ٤/١٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3014
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقام عرفات میں دعا مانگتے وقت ہاتھ اٹھانا
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عرفات سارا کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٢٠ (١٢١٨) ، سنن ابی داود/الحج ٥٧ (١٩٠٧، ١٩٠٨) ، ٦٥ (١٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحج ٧٣ (٣٠٤٨) ، مسند احمد ٣/٣٢١، ٣٢٦، سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٠٤٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3015
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہوگیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٦٩ (١٩٤٩) ، سنن الترمذی/٥٧ (٨٨٩، ٩٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٧ (٣٠١٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٣٥) ، مسند احمد (٤/٣٠٩، ٣١٠، ٣٣٥) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٧ (١٩٢٩) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٣٠٤٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے، اور حج کے فوت ہونے سے مامون ہوگیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا، اب اسے کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3016
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْحَجِّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید (رض) سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٠٥٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦) ، مسند احمد (١/٢١٢، ٢٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ، فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات میں ٹھہر نے کی فضیلت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے چلے، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل (اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی) اور آپ فرما رہے تھے : لوگو ! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں (بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٥) ، مسند احمد (٥/٢٠١، ٢٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3018
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَاسٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَيَكَادُ يُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم
ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا : جب رسول اللہ ﷺ عرفات سے (مزدلفہ کے لیے چلے، تو آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کی لکڑی سے چھونے لگا، آپ عرفہ کی شام میں (مزدلفہ کے لیے چلتے وقت لوگوں سے) فرما رہے تھے : اطمینان و سکون کو لازم پکڑو، اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٥٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ٩٤ (١٦٧١) ، صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨٢) ، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٠) ، مسند احمد (١/٢٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3019
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَنَقَ نَاقَتَهُ حَتَّى أَنَّ رَأْسَهَا لَيَمَسُّ وَاسِطَةَ رَحْلِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ: السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৩
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا : اطمینان و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا : چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جاسکے تو رسول اللہ ﷺ برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٥ (١٢٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٥٧) ، مسند احمد (١/٢١٠، ٢١١، ٣١٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٦ (١٩٣٣) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٠٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3020
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ، وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৪
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، آپ پر سکینت طاری تھی، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٤) ، (٨٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٦١ (٣٠٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٤٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٥٥ مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٣٢، ٣٦٧، ٣٩١) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٦ (١٩٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3021
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون کے ساتھ چلنے کا حکم
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عرفات سے لوٹے اور کہنے لگے : اللہ کے بندو ! اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ، آپ اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور ایوب نے اپنی ہتھیلی کے باطن سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٧٢) ، مسند احمد ٣/٣٥٥، ٣٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3022
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَجَعَلَ يَقُولُ: السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ، يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ أَيُّوبُ بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৬
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے روانگی کا راستہ
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کی چال کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ کیسے چل رہے تھے) تو انہوں نے کہا : آپ عنق (تیز چال) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کی رفتار چلتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦) ، الجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩) ، المغازي ٧٧ (٤٤١٣) ، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٤٦) ، سنن ابی داود/الحج ٦٤ (١٩٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٨ (٣٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤) ، موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦) ، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٠٥٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نص عنق سے بھی تیز چال کو کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3023
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৭
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے واپسی پر گھاٹی میں قیام سے متعلق
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عرفہ سے لوٹے تو پہاڑ کی گھاٹی کی طرف مڑے، وہ کہتے ہیں : تو میں نے عرض کیا : کیا (یہاں) آپ مغرب کی نماز پڑھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نماز پڑھنے کی جگہ آگے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٨١) ، الحج ٩٥ (١٦٧٢) ، الحج ٤٧ (١٢٨٠) ، سنن ابی داود/المناسک ٦٤ (١٩٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥) ، موطا امام مالک/الحج ٥٧ (١٧٦) ، مسند احمد (٥/١٩٩، ٢٠٨، ٢١٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (١٩٢٣، ١٩٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3024
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى الشِّعْبِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ أَتُصَلِّي الْمَغْرِبَ ؟ قَالَ: الْمُصَلَّى أَمَامَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৮
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے واپسی پر گھاٹی میں قیام سے متعلق
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کا ارادہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز آگے ہوگی (یعنی آگے چل کر پڑھیں گے) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی (قافلے کے) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کردی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٠٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3025
أَخْبَرَنَا مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ، فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، لَمْ يَحُلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى صَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৯
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3026
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩০
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب اور عشاء دونوں مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3027
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٦١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3028
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، لَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২
میقاتوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ملا کر پڑھنا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3029
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَجْمَعُ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক: