কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২১৩২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت منصور پر ربعی کی روایت میں راویوں کے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور (چاند) دیکھ کر (روزہ) بند کرو، (پس) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہوجائے تو تیس (دن) پورے کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٣١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: رمضان سے پہلے سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ٢٩ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہوجائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2130
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ، وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے اور حدیث حضرت عائشہ صدیقہ میں حضرت زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک ماہ (تک) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چناچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا : کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی ؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن (ہوئے) ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٤ (١٠٨٣) ، والطلاق ٥ (١٤٧٩) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (٣٣١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٤ (٢٠٥٩) ، مسند احمد ٦/١٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2131
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے اور حدیث حضرت عائشہ صدیقہ میں حضرت زہری پر راویوں کے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبکما اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں (التحریم : ٤ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کردی تھی کنارہ کشی اختیار کرلی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے (ابھی) انتیسویں رات کی (ہی) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٧ (٨٩) ، والمظالم ٢٥ (٢٤٦٨) ، و تفسیر سورة التحریم ٢-٤ (٤٩١٤، ٤٩١٥) ، وانکاح ٨٣ (٥١٩١) ، واللباس ٣١ (٥٨٤٣) ، صحیح مسلم/الطلاق ٥ (١٤٧٩) ، سنن الترمذی/تفسیر التحریم (٣٣١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٠٧) ، مسند احمد ١/٣٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2132
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ حَدَّثَهُ. ح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ، قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ، حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس کی حدیث سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے کہا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٣٢٢) ، مسند احمد ١/٢١٨، ٢٣٥، ٢٤٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2133
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ، عَنْ بَهْزٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس کی حدیث سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2134
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک کی روایت میں حضرت اسمعیل سے اختلاف
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا (ایک) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٤ (١٠٨٦) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨ (١٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٢٠) ، مسند احمد ١/١٨٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں سے دو بار اشارہ کیا، اور تیسری بار میں ایک انگلی گرا لی، تو یہ کل انتیس دن ہوئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2135
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى وَقَالَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک کی روایت میں حضرت اسمعیل سے اختلاف
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2136
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک کی روایت میں حضرت اسمعیل سے اختلاف
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کرلیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے عن أبیہ کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٣٧ (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2137
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٤١٠) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2138
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٧) ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٨٣) ، مسند احمد ٢/٤٠، ٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2139
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٣ (١٩١٣) ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣١٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٧٥) ، مسند احمد ٢/٤٣، ٥٢، ١٢٢، ١٢٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2140
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ آپ نے فرمایا : ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، اور تیسری بار انگوٹھا بند کرلیا، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مہینہ کبھی ٢٩ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2141
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مہینہ اس طرح ہے ۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر (رض) سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٨) ، والطلاق ٢٥ (٥٣٠٢) ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٦٨) ، مسند احمد ٢/٤٤، ١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشَّهْرُ هَكَذَا، وَوَصَفَ شُعْبَةُ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٤٠) ، مسند احمد ٢/٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٢١٨) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2144
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے ؟ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، انظر ما قبلہ (حسن صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2145
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَسَحَّرُوا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: لَا أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣) ، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥) ، سنن الترمذی/الصوم ١٧ (٧٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٢ (١٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٨) ، مسند احمد ٣/٢٢٩، سنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2146
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤١٨٧) ، مسند احمد ٢/٣٧٧، ٤٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2147
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2148
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٢٠٢) ، مسند احمد ٢/٣٧٧، ٤٧٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2149
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.
তাহকীক: