কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২১১২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان المبارک کو صرف رمضان کہنے کی اجازت سے متعلق
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت سے کہا : جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کرلو، کیونکہ (ماہ رمضان میں) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العمرة ٤ (١٧٨٢) ، وجزء الصید ٢٦ (١٨٦٣) ، صحیح مسلم/الحج ٣٦ (١٢٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٥ (٢٩٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٩١٣) ، مسند احمد ١/٢٢٩، ٣٠٨، سنن الدارمی/المناسک ٤٠ (١٩٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2110
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُنَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِذَا كَانَ رَمَضَانُ، فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر چاند کے دیکھنے میں ملکوں میں اختلاف ہو
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں : ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ (رض) کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آگیا، عبداللہ بن عباس (رض) نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا : تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ؟ تو میں نے جواب دیا : ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے (تاکیداً ) پوچھا : تم نے (بھی) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں (میں نے بھی دیکھا تھا) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے (بھی) روزے رکھے، اور معاویہ (رض) نے بھی، (تو) انہوں نے کہا : لیکن ہم لوگوں نے ہفتے (سنیچر) کی رات کو دیکھا تھا، (لہٰذا) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم (گنتی کے) تیس دن پورے کرلیں، یا ہم (اپنا چاند) دیکھ لیں، تو میں نے کہا : کیا معاویہ (رض) اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے ؟ کہا : نہیں ! (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٥ (١٠٨٧) ، سنن ابی داود/الصیام ٩ (٢٣٣٢) ، سنن الترمذی/الصیام ٩ (٦٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٥٧) ، مسند احمد ١/٣٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2111
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمْ ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ؟ قَالَ: لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ ؟ قَالَ: لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چاند کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا (اور) کہنے لگا : میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا : کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصیام ١٤ (٢٣٤٠، ٢٣٤١) مرسلاً ، سنن الترمذی/الصیام ٧ (٦٩١) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٤) ، سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم ٢١١٦: میں آ رہا ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2112
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: نَعَمْ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چاند کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا : کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، تو آپ نے فرمایا : بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2113
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُومُوا غَدًا،
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چاند کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١١٤ (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2114
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چاند کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے
اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١١٤ (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چاند کے لئے ایک آدمی کی گواہی کافی ہے
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا (کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا : سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (کی گنتی) پوری کرو، (اور) اگر دو گواہ (چاند دیکھنے کی) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار (یعنی عید) کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٦٢١) ، مسند احمد ٤/٣٢١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2116
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاءَلْتُهُمْ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر فضا ابر الود ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرنا اور حضرت ابوہریرہ سے نقل کرنے والوں کا اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٩) ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصوم ٢ (٦٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٨٢) ، مسند احمد ٢/ ٤٠٩، ٤٣٠، ٤٧١، ٤٩٨، سنن الدارمی/الصیام ٢ (١٧٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٢٩ شعبان کو آسمان میں بادل ہوں اور اس کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزوں کی شروعات کرو، اسی طرح ٢٩ رمضان کو اگر عید الفطر کا چاند نظر نہ آسکے تو تیس روزے پورے کر کے عید الفطر مناؤ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2117
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر فضا ابر الود ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرنا اور حضرت ابوہریرہ سے نقل کرنے والوں کا اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، (اور) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث شریف میں راوی زہری کے اختلاف سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو ، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (پورے) تیس دن روزہ رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الصوم ٢ (١٠٨١) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٠٢) ، مسند احمد ٢/٢٦٣، ٢٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2119
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث شریف میں راوی زہری کے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو ، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٩٠٠) تعلیقاً ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨٣) ، مسند احمد ٢/١٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2120
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث شریف میں راوی زہری کے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو، (اور) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٦) ، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٦٢) ، موطا امام مالک/الصوم ١ (١) ، مسند احمد ٢/٦٣، سنن الدارمی/الصوم ٢ (١٧٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث شریف میں عبیداللہ کے روایوں سے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم (رمضان کے) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس (مہینے) کا حساب لگا لو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٢١٤) ، مسند احمد ٢/١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2122
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس حدیث شریف میں عبیداللہ کے روایوں سے اختلاف سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا : جب تم اسے (یعنی رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (یعنی عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو ، (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٧٩٧) ، مسند احمد ٢/٢٨٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2123
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ صَاحِبَ حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس کی حدیث میں حضرت عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا بیان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے (رمضان کا چاند) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٣٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2124
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ أَخُو أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابن عباس کی حدیث میں حضرت عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا بیان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٤٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت منصور پر ربعی کی روایت میں راویوں کے اختلاف سے متعلق
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ١ ؎ یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کرلو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصوم ٦ (٢٣٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٣١٦) ، مسند احمد ٤/٣١٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2126
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت منصور پر ربعی کی روایت میں راویوں کے اختلاف سے متعلق
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کرلو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کرلو ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت منصور پر ربعی کی روایت میں راویوں کے اختلاف سے متعلق
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو ، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٢٨ (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2128
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت منصور پر ربعی کی روایت میں راویوں کے اختلاف سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہوجائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصوم ٧ (٢٣٢٧) ، سنن الترمذی/الصوم ٥ (٦٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٥) ، مسند احمد ١/٢٢٦، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٢١٣٢، ٢١٩١ (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم : ٢١٢٦ سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2129
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا.
তাহকীক: