কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২৪১২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے (گویا) پورے مہینے کے روزہ رکھے ، یا یہ (فرمایا) : اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے ، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، مگر ابو عثمان نہدی کا براہ راست سماع ابو ذر رضی الله عنہ سے ثابت ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2410
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَدْ تَمَّ صَوْمُ الشَّهْرِ، أَوْ فَلَهُ صَوْمُ الشَّهْرِ، شَكَّ عَاصِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٢) ، مسند احمد ٤/٢١٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2411
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
اس سند سے سعید بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص (رض) نے اسی طرح کہا ہے، اور یہ مرسل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (ضعیف) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے مگر پچھلی روایت مرفوع متصل ہے ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2412
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ: نَحْوَهُ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٥) ، مسند احمد ٢/٩٠ (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور شریک قاضی ضعیف ہیں، لیکن آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2413
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے، مہینے کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَالْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ، ثُمَّ الْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ (پیر) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٨١٤) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2415
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ الْخَمِيسَ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ نہیں چھوڑتے تھے : ١ - عاشوراء کے روزے کو ٢ - ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ١ ؎ ٣ - ہر مہینہ کے تین روزے ٤ - اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٨١٣) ، مسند احمد ٦/٢٨٧ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو اسحاق اشجعی “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2416
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
نبی اکرم ﷺ کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن (یعنی دسویں محرم کو) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ١ ؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٤ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے ) وضاحت : ١ ؎: پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2417
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِامْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (ذی الحجہ کے پہلے) عشرہ میں روزے رکھتے تھے، اور ہر مہینہ میں تین دن : دوشنبہ (پیر) اور (دو ) جمعرات کو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٤ (صحیح) (” الخمیسین “ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ) قال الشيخ الألباني : صحيح بلفظ الخميسين صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ (پیر) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ (پیر) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٤ (شاذ) (” حکم دیتے تھے “ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2419
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ میں تین روزے کس طریقہ سے رکھے جائیں؟
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے (یعنی ایام بیض کے روزے) اور ایام بیض (چاند کی) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: انہیں ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں چاندنی کی وجہ سے سفید اور روشن ہوتی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2420
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی (دیہاتی) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم ﷺ نے اعرابی (دیہاتی) سے پوچھا : تم کیوں نہیں کھا رہے ہو ؟ اس نے کہا : میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٦٢٤) ، مسند احمد ٢/٣٣٦، ٣٤٦، ویأتی عند المؤلف برقم ٢٤٣٠، ٢٤٣١، مرسلاً ، ٤٣١٥ (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ١٥٦٧، وتراجع الالبانی ٤٢٣ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2421
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں : تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦١) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٨٨) ، مسند احمد ٥/١٥٠، ١٥٢، ١٦٢، ١٧٧ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2423
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر (رض) کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤٢٤ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2424
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہاں (راوی سے) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا حدثنا اثنان کہا ہو تو اثنان کا الف گرگیا پھر ثنان سے بیان ہوگیا (جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠٦) ، مسند احمد ٥/١٥٠، ویأتي عند المؤلف ٤٣١٦ (حسن) (سند میں ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی حسن ہے ) قال الشيخ الألباني : حسن لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2425
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَلَعَلَّ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ، فَصَارَ بَيَانٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن) (دیکھئے پچھلی سند پر کلام ) قال الشيخ الألباني : حسن لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلَانِ مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم ﷺ کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ ، اور آپ نے اعرابی (دیہاتی) سے فرمایا : تم بھی کھاؤ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا : کیسا روزے ؟ اس نے کہا : ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا : اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : صحیح عن ابی ذر ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ ذر کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ ابی بن کعب ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٨ (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2427
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: لَا يَضُرُّ، كُلُوا، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: كُلْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: صَوْمُ مَاذَا، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا : میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا : کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو ؟ اس نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا : پھر تم ایام بیض : تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم : ٢٤٢٣ (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2428
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں موسیٰ بن طلحہ پر اختلاف
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا : میں نے دیکھا اسے خون (حیض) آ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا : تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا ، اور وہ شخص (جو اسے لایا تھا) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا : تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے ؟ اس نے پوچھا : وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ: كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَاوَرَجُلٌ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ، قَالَ: وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
তাহকীক: