কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২৩৯২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کردی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا : تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ اس نے کہا : کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ١ ؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے : میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور (نیکیوں میں) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : تو پھر تم صیام داودی رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو ، پھر آپ (کم کرتے کرتے) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٩٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی رات میں قیام کرتے ہیں اور دن میں روزے سے رہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2390
أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً، فَجَاءَ يَزُورُهَا، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَيْنَ بَعْلَكِ ؟ فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَا يَنَامُ اللَّيْلَ، وَلَا يُفْطِرُ النَّهَارَ، فَوَقَعَ بِي وَقَالَ: زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ إِلَى قَوْلِهِ مِمَّا أَرَى عِنْدِي مِنَ الْقُوَّةِ وَالِاجْتِهَادِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَكِنِّي أَنَا أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، قَالَ: صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقُلْتُ: أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًاقُلْتُ: أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ، وَأَنَا أَقُولُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا : کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا : تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہوگا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا : میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا : ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا : تم اللہ کے نبی داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو ، میں نے کہا : داود (علیہ السلام) کا روزہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک دن روزہ ایک دن افطار ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥٤ (١٩٧٤) مختصراً ، ٥٥ (١٩٧٥) ، الأدب ٨٤ (٦١٣٤) ، النکاح ٨٩ (٥١٩٩) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٥ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٦٠) ، مسند احمد ٢/١٨٨، ١٩٨، ٢٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2391
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَتِي، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَا تَفْعَلَنَّ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِصَدِيقِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّهُ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ، وَإِنَّهُ حَسْبُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثًا، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ: صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، قُلْتُ: وَمَا كَانَ صَوْمُ دَاوُدَ ؟ قَالَ: نِصْفُ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : تم ایسا کہتے ہو ؟ میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا : تم ایسا نہیں کرسکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر (پورے سال کے روزوں) کے مثل ہے ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو ، پھر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے ، میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : اس سے بہتر کچھ نہیں ۔ عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں : اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ ﷺ کی بات قبول کرلی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥٦ (١٩٧٦) ، الأنبیاء ٣٨ (٣٤١٨) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٥ (١١٥٩) ، سنن ابی داود/الصوم ٥٣ (٢٤٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٤٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2392
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ، وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا کیسا ہے؟
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا : چچا جان ! رسول اللہ ﷺ نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں نے پختہ عزم کرلیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا ؟ میں نے عرض کیا : ہاں اللہ کے رسول ! میں نے ایسا کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا مت کرو (بلکہ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کرلیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٩٣ (منکر) (جمعرات اور سوموار کا تذکرہ منکر ہے، باقی حصے صحیح ہیں ) قال الشيخ الألباني : منکر بزيادة الموعد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2393
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قُلْتُ: أَيْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا، قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا، حَتَّى قُلْتُ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي، حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ فِي دَارِي، فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ، فَقُلْتُ: قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا، وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ، وَإِذَا لَاقَى لَمْ يَفِرَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ روزوں میں کمی بیشی سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا ، انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو پھر داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٣٥ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٩٦) ، مسند احمد ٢/٢٠٥، ٢٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2394
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ يُحَدِّثُ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ روزوں میں کمی بیشی سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٩٧١) ، مسند احمد ٢ ٢٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2395
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ، فَقَالَ: صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى، قَالَ: صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ روزوں میں کمی بیشی سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا : تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا ۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا : میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٥، مسند احمد ٢/١٦٥، ٢٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2396
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشَرَةِ، فَقُلْتُ: زِدْنِي، فَقَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ، قَالَ: ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ، فَقَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ، وَيَنْقُصُ مِنَ الْأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں دس روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا : جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے ؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : پانچ دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : تو دس دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : تم داود (علیہ السلام) کے روزے رکھا کرو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ عَشْرًا، فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا،
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں دس روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٩ و ٢٣٩٠ (صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2398
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں دس روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہوگا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ! إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں دس روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٩٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2400
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ، وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں دس روزے رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا : کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم (ہمیشہ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو ، پوچھا : اللہ کے نبی ! داود (علیہ السلام) کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ، انہوں نے کہا : کون ایسا کرسکتا ہے ؟ اللہ کے نبی !۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٢٣٩٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن لي صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2401
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ قَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ، قَالَ: إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ، إِذًا قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، قَالَ: وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ پانچ روزے رکھنے سے متعلق احادیث
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا : پانچ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا : سات دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ! آپ نے فرمایا : نو دن ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : گیارہ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا : داود (علیہ السلام) کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٥٩ (١٩٨٠) ، الاستئذان ٣٨ (٦٢٧٧) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٥ (١١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2402
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْأَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: خَمْسًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: سَبْعًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: تِسْعًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ: إِحْدَى عَشْرَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ چار روزے رکھنا
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا ، میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے افضل روزہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٩٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2403
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ تین روزے رکھنے کے متعلق احادیث شریفہ
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاء اللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا : آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٩٧٠) ، مسند احمد ٥/١٧٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ق دون قوله لا أدعهن أبدا وعند خ معناه صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2404
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا: أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ تین روزے رکھنے کے متعلق احادیث شریفہ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے : وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ١ ؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧١ (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ” چاشت کی صلاة “ ہے ) وضاحت : ١ ؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ چاشت کی نماز ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : منکر بذکر الغسل والمحفوظ صلاة الضحى صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ تین روزے رکھنے کے متعلق احادیث شریفہ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2406
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ہر ماہ تین روزے رکھنے کے متعلق احادیث شریفہ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٣٧١ (منکر ) قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2407
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا : صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٣٦٢١) ، مسند احمد ٢/٢٦٣، ٣٨٤، ٥١٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صبر کے مہینہ سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2408
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: شَهْرُ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضرت عثمان پر اختلاف
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے : من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا (الانعام : ١٦٠ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٩ (١٧٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٦٧) ، مسند احمد ٥/١٤٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2409
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
তাহকীক: