কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ১৮৭৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع (کسی آدمی کے ذریعہ) ان کی (موت) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٦) ، والجھاد ٧ (٢٧٩٨) ، ١٨٣ (٣٠٦٣) ، والمناقب ٢٥ (٣٦٣٠) ، و فضائل الصحابة ٢٥ (٣٧٥٧) ، والمغازي ٤٤ (٤٢٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٠) ، مسند احمد ٣/١١٣، ١١٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1878
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْأَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا : اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٦٠ (١٣٢٨) ، ومناقب الأنصار ٣٨ (٣٨٨٠) ، صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٧٦) ، مسند احمد ٢/٥٢٩، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٠٤٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1879
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ وہ (عورت) آپ کے پاس آگئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ نے ان سے پوچھا : فاطمہ ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا : شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ١ ؎ تک گئی تھیں ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا : اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا (عبدالمطلب) اسے دیکھ لیں ٢ ؎۔ نسائی کہتے ہیں : ربیعہ ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجنائز ٢٦ (٣١٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٥٣) ، مسند احمد ٢/١٦٨، ٢٢٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” ربیعہ معافری “ منکر روایت کیا کرتے تھے ) وضاحت : ١ ؎: کُدَی کُدْیَ ۃ کی جمع ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں یہاں مراد قبرستان ہے۔ ٢ ؎: یہ جملہ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط کے قبیل سے ہے، مراد یہ ہے کہ تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاتی۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1880
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَعِيدٌ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ، قَالَ: لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، فَقَالَ لَهَا: لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردے کو پانی اور بیری کے پتے سے غسل سے متعلق
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ١ ؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو ، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو (اور) جب تم (غسل سے) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا : اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧) ، والجنائز ٨-١٧ (١٢٥٣-١٢٦٣) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩) ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٩٤) ، موطا امام مالک/الجنائز ١ (٢) ، مسند احمد ٦/٨٤، ٨٥، ٤٠٧، ٤٠٨، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام : ١٨٨٧، ١٨٨٨، ١٨٩١، ١٨٩٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ٢ ؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1881
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گرم پانی سے غسل سے متعلق
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مرگیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا : میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس (مرے کو مزید) مارو، عکاشہ بن محصن (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا : کیا کہا اس نے ؟ اس کی عمردراز ہو ، (راوی کہتے ہیں) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨٣٤٦) ، مسند احمد ٦/٣٥٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو الحسن “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کی دعا طال عمرہا کی برکت تھی۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1882
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کا سر دھونا
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا : اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کردیں، تو انہوں نے کہا : جی ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : الجنائز ٩ (١٢٥٤) مطولاً ، ١٣ (١٢٥٨) ، ١٤ (١٢٦٠) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨١١٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1883
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُلْتُ: نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردے کے دائیں جانب سے غسل شروع کرنا اور مقامات وضو کو پہلے دھونا
ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا : ان کے داہنے اعضاء، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧) ، الجنائز ١٠ (١٢٥٥) ، ١١ (١٢٥٦) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩) ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٥) ، سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1884
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردے کو طاق مرتبہ غسل سے متعلق
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا : اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا (اور) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا ، تو جب ہم (نہلا کر) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا : اسے (ان کے جسم پہ) لپیٹ دو ، (پھر) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ١٧ (١٢٦٣) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٣٥) ، مسند احمد ٦/٤٠٧، ٤٠٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1885
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُوَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردہ کو پانچ مرتبہ سے زیادہ غسل دینے سے متعلق
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا : انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ چناچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا : اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1886
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوگئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا (اور) فرمایا : اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1887
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر (اس میں یہ الفاظ ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٩ (١٢٥٤) ، ١٣ (١٢٥٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨١١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1888
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوگئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا : تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، تو میں نے کہا : طاق بار ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے باخبر کرنا ، چناچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا : اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨١٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1889
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ: نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے غسل میں کافور کی شرکت
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا : انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو ، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو (اور) جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے آگاہ کرو ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں : اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو ، راوی کہتے ہیں : ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1890
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے غسل میں کافور کی شرکت
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٣٩) ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٣٣) ، مسند احمد ٦/٤٠٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1891
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے غسل میں کافور کی شرکت
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1892
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَوَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اندر ایک کپڑا لپیٹنا کیسا ہے؟
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ (بصرہ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پاسکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں پانی اور بیر (کی پتیوں) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا (اور) جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے بتاؤ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ (ایوب نے) کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھیں، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے ؟ کیا ازار (تہبند) پہنانا مقصود ہے ؟ ایوب نے کہا : میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1893
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: الْفُفْنَهَا فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اندر ایک کپڑا لپیٹنا کیسا ہے؟
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہوگئی تو آپ نے فرمایا : انہیں تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر (کے پتوں) اور پانی سے غسل دو ، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ، وہ کہتی ہیں : میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا : اسے (ان کے جسم سے) لپیٹ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ١٢ (١٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1894
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ، وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عمدہ کفن دینے کی تاکید
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مرگیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی (کے کفن دفن کا) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٤٣) ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٥) ، مسند احمد ٣/٢٩٥، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٠١٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1895
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفْنَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ کفن کونسی قسم کا بہتر ہے؟
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو (بھی) اسی میں کفنایا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٤٦ (٢٨١٠) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٥ (٣٥٦٧) ، مسند احمد ٥/١٠، ١٢، ١٣، ١٧، ١٨، ١٩، ٢١، ویأتی عند المؤلف برقم : ٥٣٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1896
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن کتنے کپڑے میں دیا گیا؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٦٧٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤) ، ٢٣ (١٢٧١) ، ٢٤ (١٢٧٢) ، ٩٤ (١٣٨٧) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤١) ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥١) ، سنن الترمذی/الجنائز ٢٠ (٩٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١١ (١٤٦٩) ، موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥) ، مسند احمد ٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥، ٢٣١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1897
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ.
তাহকীক: