কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ১৮৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مردہ پر نوحہ کرنا
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مرگئیں تو میں (بھی) لوگوں کے ساتھ (تعزیت میں) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر (رض) نے کہا : کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ابن عباس (رض) نے کہا : عمر (رض) بھی ایسا ہی کہتے تھے، (ایک بار) میں عمر (رض) کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو (مجھ سے) کہا : دیکھو (یہ) سوار کون ہیں ؟ چناچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب (رض) اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا : امیر المؤمنین ! وہ صہیب (رض) اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا : صہیب (رض) کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر (رض) زخمی کر دئیے گئے، صہیب (رض) ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے (اور) وہ کہہ رہے تھے : ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے بھائی ! تو عمر (رض) نے کہا : صہیب ! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے (ابن عباس) کہتے ہیں : میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا : سنو ! اللہ کی قسم ! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے (میں) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں (ایسی بات موجود ہے) جس سے تمہیں تسکین ہو : ألا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا البتہ رسول اللہ ﷺ نے (یوں) فرمایا تھا : اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1858
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ، يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ، لَا تَبْكِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ، وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة النجم آية 38، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت پر رونے کی اجازت کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے خاندان میں کسی کا انتقال ہوگیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر (رض) کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمر ! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٣ (١٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٧٥) ، مسند احمد ٢/١١٠، ٢٧٣، ٤٠٨ (ضعیف) (اس کے راوی ” سلمہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1859
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْقَلْبَ مُصَابٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زما نہ جاہلیت کی طرح زور سے رونا اور پکارنا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ١ ؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے) ۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت بدعا الجاہلی ۃ کی جگہ بدعویٰ الجاہلی ۃ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٥ (١٢٩٤) ، ٣٨ (١٢٩٧) ، ٣٩ (١٢٩٨) ، والمناقب ٨ (٣٥١٩) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز ٢٢ (٩٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٦٩) ، مسند احمد ١/٤٣٢، ٤٤٢، ٤٥٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِوَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ چیخ کر رونے کی ممانعت
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بےہوشی طاری ہوگئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا : میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٠٤) ، سنن ابی داود/الجنائز ٢٩ (٣١٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٦) ، مسند احمد ٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥، ٤١٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مصیبت کے موقع پر سر منڈائے جیسے ہندو منڈواتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1861
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ، وَلَا خَرَقَ، وَلَا سَلَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رخسار پر مارنے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٥ (١٢٩٤) ، المناقب ٨ (٣٥١٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٢٢ (٩٩٩) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٥٩) ، مسند احمد ١/٣٨٦، ٤٤٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مصیبت میں سر منڈانا ممنوع ہے
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری (کی بیماری) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ (ان کی بیماری میں کچھ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا : کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ ﷺ بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1863
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ، قَالَا: فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَخَرَقَ، وَسَلَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گریبان چاک کرنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1864
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گریبان چاک کرنے کا بیان
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب (کچھ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا : کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے ؟ تو ہم نے اس سے پوچھا (آپ نے کیا فرمایا تھا ؟ ) تو اس نے کہا : آپ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجنائز ٢٩ (٣١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٣٤) ، مسند احمد ٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1865
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْأَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ لَهَا: أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ، وَحَلَقَ، وَخَرَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گریبان چاک کرنے کا بیان
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩١٥٣) ، مسند احمد ٤/٣٩٦، ٤٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1866
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ گریبان چاک کرنے کا بیان
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری (رض) کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں ؟ اس نے کہا : کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہوگئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے (ہر اس شخص پر) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٦٦ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1867
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثُمَّ سَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنے کا حکم
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیٹی نے آپ کو ﷺ کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ١ ؎ مرنے کو ہے آپ آجائیں، تو آپ ﷺ نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو (کچھ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو (کچھ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے (دوبارہ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ ﷺ ضرور آجائیں، چناچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، (بچہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں (سے) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٤) ، والمرضی ٩ (٥٦٥٥) ، و القدر ٤ (٦٦٠٢) ، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٥) ، والتوحید ٢ (٧٣٧٧) ، ٢٥ (٧٤٤٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ٦ (٩٢٣) ، سنن ابی داود/الجنائز ٢٨ (٣١٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٣ (١٥٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٨) ، مسند احمد ٥/٢٠٤، ٢٠٥، ٢٠٦، ٢٠٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد علی بن ابی العاص بن ربیع ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ بنت سے مراد فاطمہ رضی الله عنہا اور ابن سے مراد ان کے بیٹے محسن ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1868
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، أَنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ، فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا ؟ قَالَ: هَذَا رَحْمَةٌ يَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنے کا حکم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صبر وہی ہے جو صدمہ (غم) پہنچتے ہی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣١ (١٢٨٣) ، ٤٢ (١٣٠٢) ، والأحکام ١١ (٧١٥٤) ، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦) ، سنن ابی داود/الجنائز ٢٧ (٣١٢٤) ، سنن الترمذی/الجنائز ١٣ (٩٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٩) ، مسند احمد ٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ رو پیٹ کر تو صبر سبھی کو آجاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1869
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنے کا حکم
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا (بھی) تھا، آپ نے اس سے پوچھا : کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ تو اس نے جواب دیا : اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ (لڑکا) مرگیا، تو آپ نے (کچھ دنوں سے) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں (اس کے باپ سے) پوچھا (تو انہوں نے بتایا کہ وہ مرگیا ہے) آپ نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوگی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے (اپنے بچے) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٠٨٣) ، مسند احمد ٥/٣٥، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٠٩٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1870
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَتُحِبُّهُ ؟، فَقَالَ: أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مصیبت پر جو شخص صبر کرے اور خداوند قدوس سے اجر مانگے اس کا ثواب
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨٧٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1871
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ، وَقَالَ: مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کے تین بچے فوت ہوجائیں اس کا ثواب
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کی تین صلبی اولاد مرجائیں (اور) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا (اتنے میں) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی : اور دو اولاد مرنے پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دو اولاد کے مرنے پر بھی ، اس عورت نے کہا : کاش ! میں ایک ہی کہتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٥٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر میں ایک بچہ مرنے کی بات آپ سے پوچھتی تو قوی امید ہے کہ آپ ایک بچہ مرنے پر بھی یہی ثواب بتاتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1872
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ احْتَسَبَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَوِ اثْنَانِ، قَالَ: أَوِ اثْنَانِ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا لَيْتَنِي قُلْتُ وَاحِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کسی کی تین اولاد کی اس کی زندگی میں وفات ہوجائے اس کا ثواب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مرجائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٤٨) ، ٩١ (١٣٨١) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٧ (١٦٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦) ، مسند احمد ٣/١٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1873
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کسی کی تین اولاد کی اس کی زندگی میں وفات ہوجائے اس کا ثواب
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابوذر (رض) سے ملا تو میں نے کہا : مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا : اچھا سنو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مرجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٣) ، مسند احمد ٥/١٥١، ١٥٣، ١٥٩، ١٦٤، سنن الدارمی/الجہاد ١٣ (٢٤٤٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1874
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کسی کی تین اولاد کی اس کی زندگی میں وفات ہوجائے اس کا ثواب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مرجائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ١ ؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٥١) ، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٦) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٤٧ (٢٦٣٢) ، سنن الترمذی/الجنائز ٦٤ (١٠٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٧ (١٦٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٣٤) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٣ (٣٨) ، مسند احمد ٢/٤٧٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وہ قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وإن منکم إلا واردها (مريم : 71) یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے جہنم پر سے نہ آنا پڑے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1875
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کسی کی تین اولاد کی اس کی زندگی میں وفات ہوجائے اس کا ثواب
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مرجائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ، آپ ﷺ فرماتے ہیں : ان سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہوجاؤ، تو وہ کہیں گے (ہم نہیں داخل ہوسکتے) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہوجائیں، (پھر) کہا جائے گا : (جاؤ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٤٨٩) ، مسند احمد ٢/٥١٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ، عَنْعَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ: يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا، فَيُقَالُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی زندگی میں اس کی تین اولاد کی وفات ہوجائے؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور (اس سے پہلے) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ٤٧ (٢٦٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٩١) ، مسند احمد ٢/٤١٩، ٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1877
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ.
তাহকীক: