কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ১৬৭৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سونے سے قبل وتر پڑھنے کی ترغب کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی : شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ١ ؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صحاح کی اکثر روایات میں چاشت کی رکعتیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1678
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے کی ممانعت کا بیان
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی (رض) نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا : انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ایک رات میں دو وتر نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٤ (١٤٣٩) ، سنن الترمذی/فیہ ٢٢٧ (الوتر ١٣) (٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٤) ، مسند احمد ٤/٢٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1679
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قال: زَارَنَا أَبِيطَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمْسَى بِنَا وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ: أَوْتِرْ بِهِمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کے وقت کا بیان
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر (صبح) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوجاتے، اگر جنبی ہوتے تو (اپنے اوپر پانی ڈالتے) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ١٥ (١١٤٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٩) ، سنن الترمذی/الشمائل ٣٩ (رقم : ٢٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٢٩) ، مسند احمد ٦/١٠٢، ١٧٦، ٢١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1680
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قال: سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کے وقت کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر (صبح) تک پہنچ گیا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : خ /الوتر ٢ (٩٩٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٨ (الوتر ٤) (٤٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢١ (١١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٥٣) ، مسند احمد ٦/٤٦، ١٠٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٤، ٢٠٥، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1681
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کے وقت کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اسی کا حکم دیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥١) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٩٧) ، مسند احمد ٢/٣٩، ١٥٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1682
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قال: مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صبح سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا : وتر صبح ہونے (فجر نکلنے) سے پہلے پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٦ (الوتر ١٢) (٤٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٢ (١١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٨٤) ، مسند احمد ٣/٤، ١٣، ٣٥، ٣٧، ٧١، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1683
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ صبح سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وتر فجر نکلنے سے پہلے پڑھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1684
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ فجر کی اذان کے بعد وتر پڑھنا
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہوگئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا : کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا : ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے (اٹھ کر) نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦١٣ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1685
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِديٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ، قَالَ: وَسُئِلَعَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٧٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1686
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم اپنے اونٹ پر وتر پڑھتے تھے، اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٦٤٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1687
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٩) مطولاً ، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠) مطولاً ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٨ (٤٧٢) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٧ (١٢٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٨٥) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٥) ، مسند احمد ٢/٧، ٥٧، ١١٣، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣ (١٦٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1688
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قال: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رکعات وتر کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٢، ٧٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٦ (١١٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٥٨) ، مسند احمد ١/٣١١، ٣٦١، ٢/٤٣، ٥١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رکعات وتر کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1690
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَمُحَمَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رکعات وتر کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا : تو آپ نے فرمایا : دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٦٧) ، مسند احمد ٢/٤٠، ٥٨، ٧١، ٧٦، ٧٩، ١٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1691
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَفَّانَ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو (طاق) کر دے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٧٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1692
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر ایک رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٦٥٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1693
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہوجانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر (طاق) کر دے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٢٥) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٧٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1695
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَنَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتُمُ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٢٦) ، الوتر ١ (٩٩٤) ، التھجد ٣ (١١٢٣) ، ٢٣ (١١٦٠) ، الدعوات ٥ (٦٣١٠) صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٤١) ، الشمائل ٣٩ (٢٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٦ (١١٩٨) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٨) ، مسند احمد ٦/٣٥، ١٨٢، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٥ (١٥١٤) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ١٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ق لکن ذکر الاضطجاع بعد الوتر شاذ والمحفوظ بعد سنة الفجر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1696
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی ہوتی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ١ ؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا (بھی) حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ١٦ (١١٤٧) ، التراویح ١ (٢٠١٣) ، المناقب ٢٤ (٣٥٦٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٤١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧١٩) موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٩) ، مسند احمد ٦/٣٦، ٧٣، ١٠٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں نہی مقصود نہیں بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔ ٢ ؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، واضح رہے کہ یہ بات آپ کی خصوصیات میں سے تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1697
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًاقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.
তাহকীক: