কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ১৬৫৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہوجاتی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨١٢) ، موطا امام مالک/الجماعة ٧ (٢١) ، مسند احمد ٦/٢٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٩ (١٤٢٥، ١٤٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1658
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی بیٹھ کر (نماز) پڑھنے والے پر فضیلت کا بیان
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے آدھی ہوتی ہے، اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں لیکن میں تم لوگوں کی طرح نہیں ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٣٧) ، مسند احمد ٢/١٦٢، ١٩٢، ٢٠١، ٢٠٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: میرا معاملہ تم لوگوں سے جداگانہ ہے، میں خواہ بیٹھ کر پڑھوں یا کھڑے ہو کر میری نماز میں کوئی کمی نہیں رہتی، بیٹھ کر پڑھنے میں بھی مجھے پورا ثواب ملتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1659
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقُلْتُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ: إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نماز بیٹھ کر پڑھنے والے کی لیٹ کر پڑھنے والے پر فضیلت کا بیان
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا : تو آپ نے فرمایا : جس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی وہ سب سے افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کا آدھا ثواب ملے گا، اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے آدھا ملے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ١٧ (١١١٥) ، ١٨ (١١١٦) ، ١٩ (١١١٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤١ (١٢٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٣١) ، مسند احمد ٤/٤٢٦، ٤٣٣، ٤٣٥، ٤٢ ٤، ٤٤٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا : بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے آدھا ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1660
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الَّذِي يُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٦) ، انظر صحیح ابن خزیمة ٩٧٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: علم حدیث کے قواعد کے مطابق اس کے صحیح ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں، امام ابن خزیمہ نے بھی اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1661
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَا أَحْسِبُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا خَطَأً وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کو قرأت کرنے کے طریقہ کا بیان
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨٦) وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٣ (٤٤٩) ، مسند احمد ٦/١٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1662
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَكَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ، قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣١٥ (١٣٣٣) ، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٠ (٢٩١٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٤٩) ، مسند احمد ٤/١٥١، ١٥٨، ٢٠١، ویأتی عند المؤلف برقم : ٢٥٦٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ صرف نفلی نماز ہے، ورنہ مغرب، عشاء، فجر اور جمعہ کی نماز میں جہر کرنا واجب ہے، جس طرح فرض و نفل صدقہ کا معاملہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1663
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ، وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورة البقرہ شروع کردی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا : آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورة پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورة نساء شروع کردی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورة آل عمران شروع کردی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبحان ربي العظيم پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1664
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے رکوع کیا، اور یہ اتنا ہی لمبا تھا جتنا آپ کا قیام تھا، آپ نے اپنے رکوع میں سبحان ربي العظيم کہا، پھر آپ اتنی ہی دیر بیٹھے جتنی دیر کھڑے تھے، اور رب اغفر لي رب اغفر لي کہتے رہے، پھر آپ ﷺ نے اتنی دیر تک سجدہ کیا جتنی دیر تک آپ کھڑے تھے، اور سبحان ربي الأعلى کہتے رہے تو آپ نے صرف چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ بلال (رض) صبح کی نماز کے لیے بلانے آگئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث میرے نزدیک مرسل (منقطع) ہے، میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حذیفہ (رض) سے کچھ سنا ہے، علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں یوں کہا : عن طلح ۃ ، عن رجل، عن حذیف ۃ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر الأرقام : ١٠٠٩، ١٠١٠، ١٠٧٠، ١١٤٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1665
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ثِقَةٌ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ جَلَسَ، يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، فَمَا صَلَّى إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ إِلَى الْغَدَاةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي مُرْسَلٌ وَطَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ لَا أَعْلَمُهُ سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ شَيْئًا، وَغَيْرُ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ٢ ؎ واللہ اعلم۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٢ (١٢٩٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (الجمعة ٦٥) (٥٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٢ (١٣٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٤٩) ، مسند احمد ٢/٢٦، ٥١، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٤ (١٤٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ٢ ؎: اس سے ان کی مراد والنہار کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1666
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٣) ، الوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣) ، التھجد ١٠ (١١٣٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٩٩) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣) ، مسند احمد ٢/٣٠، ١١٣، ١٤١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہوجائیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1667
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٩٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1668
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے منبر پر فرماتے سنا : آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا : وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٨٥) ، مسند احمد ٣/١٠، ٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1669
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہوجانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧٦٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1670
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، قَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣١٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٨٨) ، مسند احمد ٢/١١٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1671
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : رات کی نماز کیسے پڑھی جائے ؟ تو آپ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہوجانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1672
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہوجانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٧١٠) ، مسند احمد ٢/١٣٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1673
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قال: أَخْبَرَنِيحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا : اللہ کے رسول ! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہوجانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٧٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1674
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر پڑھنے کے حکم کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی، پھر فرمایا : اے اہل قرآن ! وتر پڑھو ١ ؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (الوتر ٢) (٤٥٣، ٤٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤ (١١٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٣٥) ، مسند احمد ١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٠، ١١٥، ١٢٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٢٠) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مختلط ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، مگر متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤٨٢ ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو اہل قرآن کہا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے تھے بلکہ یہاں اہل قرآن کا مطلب شریعت اسلامیہ کے پیروکار ہیں، اور شریعت قرآن و حدیث دونوں کے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ حدیث کے بغیر صرف قرآن کا۔ ٢ ؎: طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وتر سے مراد قیام اللیل ہے، کیونکہ وتر کا اطلاق قیام اللیل پر بھی ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1675
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر پڑھنے کے حکم کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (الوتر ٢) (٥٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤، حم ١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٥، ١٤٤، ١٤٥، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٢٠) (صحیح) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام ) وضاحت : ١ ؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1676
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ سونے سے قبل وتر پڑھنے کی ترغب کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے : وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٣٣ (١١٧٨) ، الصیام ٦٠ (١٩٨١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦١٨) ، مسند احمد ٢/٤٥٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٥) ، الصوم ٣٨ (١٧٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تیرھویں چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1677
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: النَّوْمِ عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى.
তাহকীক: