কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
اذان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬২ টি
হাদীস নং: ৬৬৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تنہا نماز پڑھے اور وہ شخص اذان دے
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے : دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کردیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٢ (١٢٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٩) ، مسند احمد ٤/١٤٥، ١٥٧، ١٥٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 666
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص تنہا نماز ادا کرے اور تکبیر پڑھے
رفاعہ بن رافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٢) مطولاً ، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٤) ، مسند احمد ٤/٣٤٠، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٥٧، ٨٥٨، ٨٥٩، ٨٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٧ (٤٦٠) ، ویأتي عند المؤلف : ١٠٥٤، ١١٣٧، ١٣١٤، ١٣١٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ مسئی صلا ۃ جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب : باب الرخص ۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخص ۃ فی الذکر فی السجود اور باب أقل ما یجزی بہ الصلا ۃ میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 667
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کس طریقہ سے پڑھنا چاہئے؟
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ قد قامت الصلاة کہتے تو اسے دو بار کہتے، چناچہ جب ہم قد قامت الصلاة سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٢٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پالیتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 668
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر شخص کا اپنے اپنے لئے تکبیر کہنا
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا : جب نماز کا وقت آجائے تو تم دونوں اذان دو ، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٣٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ترجمہ الباب پر ثم أقیما سے استدلال ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اذان بھی ہر ایک اپنے لیے الگ الگ کہے، لیکن یہ بعید ازفہم ہے، اور اس کی توجیہ حدیث رقم : ٦٣٥ میں گزر چکی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 669
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضیلت اذان سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ١ ؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان (کی آواز) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو (پھر) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو (پھر) آجاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے (کہ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد ٣١ (٥١٦) ، موطا امام مالک/الالهة ١ (٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨١٨) ، مسند احمد ٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١، سنن الدارمی/الصلاة ١١ (١٢٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 670
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کہنے پر قرعہ ڈالنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں (کہ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٤١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث میں حبوا کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہاتھوں کے سہارے چلنے کے ہیں جیسے بچہ ابتداء میں چلتا ہے یا چوتڑوں کے بل گھسٹ کر چلنے کو حبوا کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 671
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موذن ایسے شخص کو بنانا چاہئے کہ جو اذان پر معاوضہ وصول نہ کرے
عثمان بن ابی العاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ١ ؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٠) ، مسند احمد ٤/٢١ (٢١٧، ٢١٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الصلاة ٣٧ (٤٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 672
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے کلمات موذن کے ساتھ دہرانا
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١) ، صحیح مسلم/الصلاة ٧(٣٨٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢) ، مسند احمد ٣/٥، ٥٣، ٧٨، ٩٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 673
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے کا اجر و ثواب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بلال (رض) کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٦٤١) ، مسند احمد ٢/٣٥٢ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے
مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا : اللہ أكبر اللہ أكبر، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ اللہ أكبر اللہ أكبر کہا، پھر اس نے أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن لا إله إلا اللہ کہا، پھر اس نے أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ أشهد أن محمدا رسول اللہ کہا، پھر انہوں نے کہا : معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢٣ (٩١٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٠٠) ، وفي عمل الیوم واللیلة رقم : (٣٥٠، ٣٥١) ، مسند احمد ٤/٩٣، ٩٥، ٩٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 675
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کلمات موذن کہے وہی کلمات سننے والے شخص کو بھی کہنا چاہئے
ابوامامہ بن سہل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، وقد أخرجہ المؤلف فی الیوم واللیلة برقم : (٣٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 676
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس وقت مؤذن حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہے تو سننے والا شخص کیا کہے؟
علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ (رض) کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے حى على الصلاة کہا تو انہوں نے : لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، پھر جب اس نے حى على الفلاح کہا تو انہوں نے : لا حول ولا قوة إلا باللہ کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٤٣١) ، مسند احمد ٤/٩١، ٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٩) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 677
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قال: إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا : جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ وسلام ١ ؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ٢ ؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہوجائے گی ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٣) ، سنن الترمذی/المناقب ١ (٣٦١٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٧١) ، مسند احمد ٢/١٦٨، وفی الیوم واللیلة (٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ٢ ؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ٣ ؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 678
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت کی دعا
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے مؤذن (کی اذان) سن کر یہ کہا : وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦ (٥٢٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٢ (٢١٠) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢١) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٧٧) ، مسند احمد ١/١٨١، فی الیوم واللیلة (٧٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 679
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے وقت کی دعا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی : اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة اے اللہ ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب ! محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلت ٢ ؎ عطا فرما، اور مقام محمود ٣ ؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ٤ ؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤) ، تفسیر الإسراء ١١ (٤٧١٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٨ (٥٢٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤٣ (٢١١) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٤٦) ، وفی الیوم واللیلة (٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلی درجہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: فضیلت وہ اعلی مرتبہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوق پر حاصل ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ٣ ؎: مقام محمود یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو عطا کرے گا، اور اسی جگہ آپ ﷺ وہ شفاعت عظمی فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ ٤ ؎: بیہقی کی روایت میں اس دعا کے بعد إنک لا تخلف الميعاد کا اضافہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اسی طرح اس دعا کے پڑھتے وقت کچھ لوگ یا ا ٔرحم الراحمین کا اضافہ کرتے ہیں، اس اضافہ کا بھی کتب حدیث میں کہیں وجود نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 680
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا کرنے سے متعلق
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر دو اذان ١ ؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤) ، ١٦ (٦٢٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥) مختصراً ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١١٠ (١١٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٨) ، مسند احمد ٤/٨٦ و ٥/٥٤، ٥٥، ٥٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں واللہ أعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 681
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا کرنے سے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نکلتے، اور وہ اسی طرح (نماز کی حالت میں) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٩٥ (٥٠٣) ، الأذان ١٤ (٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١١١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٣/٢٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی کرتے کیونکہ اذان اور اقامت میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 682
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، وَيُصَلُّونَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں اذان ہونے کے بعدبغیر نماز ادا کئے نکل جانا کیسا ہے؟
ابوالشعثاء کہتے ہیں : میں نے ابوہریرہ (رض) کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انہوں نے کہا : رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤٥ (٦٥٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٤٣ (٥٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٦ (٢٠٤) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٧ (٧٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٧٧) ، مسند احمد ٢/٤١٠، ٤١٦، ٤٧١، ٥٠٦، ٥٣٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٢ (١٢٤١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 683
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ حَتَّى قَطَعَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں اذان ہونے کے بعدبغیر نماز ادا کئے نکل جانا کیسا ہے؟
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہوجانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : اس شخص نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 684
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قال: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے والا شخص امام کو اطلاع دے کہ جس وقت نماز شروع ہونے لگے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ١ ؎ اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے، پھر اپنا سر اٹھاتے، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا اور آپ ﷺ پر فجر عیاں اور ظاہر ہوجاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کردیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٧٣) ، مسند احمد ٦/٣٤، ٧٤، ٨٣، ٨٥، ٨٨، ١٤٣، ٢١٥، ٢٤٨، ویأتي عند المؤلف في السھو ٧٤ (برقم : ١٣٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے صراحت کے ساتھ ایک رکعت کے وتر کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 685
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْإِقَامَةِ، فَيَخْرُجُ مَعَهُ. وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ.
তাহকীক: