কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
اذان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬২ টি
হাদীস নং: ৬৪৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے کے وقت آواز کو اونچا کرنا
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٨٨٨) ، مسند احمد ٤/٢٨٤، ٢٩٨، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥١ (٩٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر میں تثویب سے متعلق
ابو محذورہ (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان ٢ ؎ میں کہتا تھا : حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢١٧٠) ، مسند احمد ٣/٤٠٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تثویب سے مراد فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنا ہے۔ ٢ ؎: پہلی اذان سے مراد اذان ہے، اقامت کو دوسری اذان کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 647
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: كُنْتُ أُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُأَقُولُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فجر میں تثویب سے متعلق
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢١٧٠) (صحیح) ابوعبدالرحمن امام نسائی کہتے ہیں : ابو جعفر سے مراد ابو جعفر الفراء نہیں ہیں ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَيْسَ بِأَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلمات اذان کے آخری جملے
بلال (رض) کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٠٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ بِلَالٍ، قال: آخِرُ الْأَذَانِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلمات اذان کے آخری جملے
اسود کہتے ہیں کہ بلال (رض) کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٠٣١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 650
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قال: كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلمات اذان کے آخری جملے
اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٠٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 651
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلمات اذان کے آخری جملے
ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ اذان کا آخری کلمہ لا إله إلا اللہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢١٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 652
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قال: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ آخِرَ الْأَذَانِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر رات کے وقت بارش برس رہی ہو تو جماعت میں حاضر ہونا لازم نہیں ہے
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالکم نماز کے لیے آؤ، فلاح (کامیابی) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٧٠٦) ، مسند احمد ٤/١٦٨، ٣٤٦، ٥/٣٧٠، ٣٧٣ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یہ نماز میں نہ آنے کے اجازت ہے، اور حى على الصلاة میں جو آنا چاہے اس کے لیے آنے کی نداء ہے، دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 653
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ، يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر رات کے وقت بارش برس رہی ہو تو جماعت میں حاضر ہونا لازم نہیں ہے
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا : ألا صلوا في الرحال لوگو سنو ! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا : ألا صلوا في الرحال لوگو سنو ! (اپنے) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٠ (٦٦٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ٢١٤ (١٠٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٢ (١٠) ، مسند احمد ٢/٦٣، سنن الدارمی/الصلاة ٥٥ (١٣١١) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 654
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھے پہلی نماز کے وقت میں تو اس کو چاہئے کہ اذان دے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال (رض) نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر بلال (رض) نے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث حدیث رقم : ٦٠٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نمرہ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 655
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو وقت کی نماز ایک پڑھے پہلی نماز کے وقت ختم ہونے کے بعد تو اس کو اذان دینا چاہئے؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ (عرفہ سے) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٢٦٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 656
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو وقت کی نماز ایک پڑھے پہلی نماز کے وقت ختم ہونے کے بعد تو اس کو اذان دینا چاہئے؟
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا : عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا : یہ کیسی نماز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث حدیث رقم : ٤٨٢ (صحیح) (لیکن ” ثم قال : الصلاة “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ” ثم أقام الصلاة “ صحیح ہے، جیسا کہ رقم : ٨٢ میں گزرا) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقام صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 657
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ: هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو وقت کی نماز ایک پڑھے پہلی نماز کے وقت ختم ہونے کے بعد تو اس کو اذان دینا چاہئے؟
سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے (بھی) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢ (شاذ) (لیکن ” بإقامة واحدة “ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ” دو اقامت سے پڑھی “ جیسا کہ رقم : ٤٨٢ میں گزرا ) قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 658
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ. ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو نمازیں ایک ساتھ پڑھے اسے کتنی مرتبہ تکبیر کہنی چاہئے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٢ (شاذ) (ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھنے کی بات شاذ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہر ایک الگ الگ اقامت سے پڑھے ) قال الشيخ الألباني : شاذ م ولفظ البخاري كل واحدة منهما بإقامة وهو المحفوظ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 659
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دو نمازیں ایک ساتھ پڑھے اسے کتنی مرتبہ تکبیر کہنی چاہئے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں (اور) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ١ ؎ اور ان دونوں (نمازوں) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩٦ (١٦٧٣) ، سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٢٧، ١٩٢٨) ، مسند احمد ٢/٥٦، ١٥٧، سنن الدارمی/المناسک ٥٢ (١٩٢٦) ، ویأتي عند المؤلف : ٣٠٣١) (تحفة الأشراف : ٦٩٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر (رض) کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں بأذان واحد وإقامتین کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ (رض) کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے اقیمت الصلو ۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 660
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ، صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء نمازوں کے لئے اذان دینے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، (یہ (واقعہ) قتال کے سلسلہ میں جو (آیتیں) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے) چناچہ اللہ عزوجل نے وكفى اللہ المؤمنين القتال اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہوگیا (الاحزاب : ٢٥ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٤١٢٦) ، مسند احمد ٣/٢٥، ٤٩، ٦٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٦ (١٥٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 661
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ سورة الأحزاب آية 25، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کئی نمازیں قضا ہوجائیں ایک ہی اذان تمام حضرات کے لئے کافی ہے لیکن تکبیر ہر ایک نماز کے لئے الگ الگ ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چناچہ آپ نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر بلال (رض) نے تکبیر کہی تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٢٣ (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 662
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قال: قال عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَمَرَ بِلَالًافَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک وقت کی نماز کے واسطے صرف تکبیر پڑھنا بھی کافی ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا : روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٦٢٣ (صحیح) (اس کے راوی ” ابو الزبیر “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ اور ان کے والد ” ابن مسعود “ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 663
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ایک رکعت پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر کر چل دیا
معاویہ بن حدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا : کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا : یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا : یہ طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ١٩٦ (١٠٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٦) ، مسند احمد ٦/٤٠١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 664
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً. فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چرواہے کا اذان دینا
عبداللہ بن ربیعہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٥٢٥١) ، مسند احمد ٤/٣٣٦، وفي الیوم واللیلة ١٨ (٣٨) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 665
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ.
তাহকীক: