কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجا میں تین پتھر سے کم پتھر استعمال کرنے سے متعلق
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (حقارت کے انداز میں) ان سے کہا : تمہارے نبی تمہیں (سب کچھ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا (بھی) ؟ تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا : ہاں ! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (استنجاء کے لیے) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٢) ، سنن ابی داود/فیہ ٤ (٧) ، سنن الترمذی/فیہ ١٢ (١٦) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٠٥) ، مسند احمد ٥/ ٤٣٧، ٤٣٨، ٤٣٩، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو : ٤٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 41
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ. قال: أَجَلْنَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ڈھیلوں سے استنجا کرنے کی رخصت
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت (پاخانے) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ١ ؎ اور فرمایا : یہ رکس (ناپاک) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں : رکس سے مراد جنوں کا کھانا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٢١ (١٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ١٣ (١٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٤) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٠) ، مسند احمد ١/٣٨٨، ٤١٨، ٤٢٧، ٤٥٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دو ہی پتھر پر اکتفا کیا اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے تیسرا خود اٹھا لیا ہو، نیز مسند احمد اور سنن دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ائتنی بحجر فرما کر تیسرا پتھر لانے کے لیے بھی کہا، اس کی سند صحیح ہے۔ ٢ ؎: لغوی اعتبار سے اس کا ثبوت محل نظر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 42
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الرِّكْسُ طَعَامُ الْجِنِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک پتھر سے استنجا کرنے کی رخصت و اجازت کا بیان
سلمہ بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ٢١ (٢٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٤ (٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٦) ، مسند احمد ٤/ ٣١٣، ٣٣٩، ٣٤٠، کلہم بزیادة إذا توضأت فانثر، ویأتي عند المؤلف برقم : ٨٩، بزیادة اذا توضات فاستنثر (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مؤلف کا استدلال فأوتر کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی طاق سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے اور تین کی قید حدیث رقم : ٤١ میں آچکی ہے، اس لیے طاق سے تین والا طاق مراد ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 43
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف پتھر یا مٹی کے ڈھیلوں ہی سے استنجا کرلیا جائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٢١ (٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٥٧) ، مسند احمد ٦/ ١٠٨، ١٣٣، سنن الدارمی/الطہارة ١١ (٦٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 44
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَلْيَسْتَطِبْ بِهَا فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی سے استنجا کرنے کا حکم
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٥ (١٥٠) ، ١٦ (١٥٠) ، ١٧ (١٥٢) ، الصلاة ٩٣ (٥٠٠) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢١ (٢٧١) ، سنن ابی داود/فیہ ٢٣ (٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٤) ، مسند احمد ٣/١١٢، ١٧١، ٢٠٣، ٢٥٩، ٢٨٤، سنن الدارمی/الطہارة ١٥ (٧٠٢، ٧٠٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 45
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ مَعِي نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی سے استنجا کرنے کا حکم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ایسا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ١٥ (١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٧٠) ، مسند احمد ٦/١١٣، ١١٤، ١٢٠، ١٣٠، ١٧١، ٢٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 46
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض علماء نے داہنے ہاتھ سے عضو تناسل کے چھونے کی ممانعت کو بحالت پیشاب خاص کیا ہے، کیونکہ ایک روایت میں إذا بال أحدکم فلا یمس ذکرہ کے الفاظ وارد ہیں، اور ایک دوسری روایت میں لا يمسکن أحدکم ذكره بيمينه وهو يبول آیا ہے، اس لیے ان لوگوں نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، اور نووی نے حالت استنجاء اور غیر استنجاء میں کوئی تفریق نہیں کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حالت استنجاء میں اس کی ممانعت ہے جب کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو دوسری حالتوں میں جب کہ اس کی ضرورت نہیں پڑتی بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 47
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے برتن میں سانس لینے سے، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 48
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت
سلمان (رض) کہتے ہیں کہ مشرکوں نے (حقارت کے انداز میں) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ (تک) کی تعلیم دیتے ہیں، تو انہوں نے (فخریہ) کہا : ہاں، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (بحالت قضائے حاجت) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا، نیز فرمایا : تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابن حزم کہتے ہیں کہ بدون ثلاث ۃ احجار میں دون، اقل کے معنی میں یا غیر کے معنی میں ہے، لہٰذا نہ تین پتھر سے کم لینا درست ہے نہ زیادہ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے دون کو غیر کے معنی میں لینا غلط ہے، یہاں دونوں سے مراد اقل ہے جیسے ليس فيما دون خمس من الأبل صدقة میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 49
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفَيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمُ الْخِرَاءَةَ، قال: أَجَلْنَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجا کرنے کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٨٨٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٩ (٣٥٨) ، ٤١ (٤٧٣) ، مسند احمد ٢/٣١١، ٤٥٤، سنن الدارمی/الطہارة ١٥ (٧٠٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح صاف ہوجائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل ہوجائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 50
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجا کرنے کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنا
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے، اور آپ نے حاجت پوری کی، پھر فرمایا : جریر ! پانی لاؤ، میں نے پانی حاضر کیا، تو آپ ﷺ نے پانی سے استنجاء کیا، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : پھر آپ ﷺ نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٩ (٣٥٩) ، سنن الدارمی/الطہارة ١٦ (٧٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٠٧) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 51
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، قال: حَدَّثَنَاإِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْخَلَاءَ فَقَضَى الْحَاجَةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا جَرِيرُ، هَاتِ طَهُورًا، فَأَتَيْتُهُ بِالْمَاءِ فَاسْتَنْجَى بِالْمَاءِ، وَقَالَ: بِيَدِهِ فَدَلَكَ بِهَا الْأَرْضَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ نا پاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا یعنی اسے دفع کر دے گا ؟ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٣٣ (٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٧٢) ، سنن الترمذی/فیہ ٥٠ (٦٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٥ (٥١٧) ، سنن الدارمی/الطہارة ٥٥ (٧٥٩) ، مسند احمد ٢/١٢، ٢٣، ٣٨، ١٠٧، ویأتي عند المؤلف في المیاہ ٢ (برقم : ٣٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ مطلب نہیں کہ وہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہوگا کیونکہ یہ معنی لینے کی صورت میں قلتین (دو قلہ) کی تحدید بےمعنی ہوجائے گی۔ قُلّہ سے مراد بڑا مٹکا ہوتا ہے کہ جس میں پانچ سو رطل پانی آتا ہے، یعنی اڑھائی مشک۔ ٢ ؎: حاکم کی روایت میں لم يحمل الخبث کی جگہ لم ينجسه شيء ہے، جس سے لم يحمل الخبث کے معنی کی وضاحت ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 52
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، کرنے دو روکو نہیں ١ ؎، جب وہ فارغ ہوگیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی (رح)) کہتے ہیں : یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کرلینے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٧ (٢١٩) ، الأدب ٣٥ (٦٠٢٥) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٨ (٥٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠) ، وقد أحرجہ : سنن الدارمی/الطہارة ٦٢ (٧٦٧) ، مسند احمد ٣/١٩١، ٢٢٦، ویأتي عند المؤلف برقم : (٣٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں، ایک تو یہ کہ اگر اسے بھگاتے تو وہ پیشاب کرتا ہوا جاتا جس سے ساری مسجد نجس ہوجاتی، دوسری یہ کہ اگر وہ پیشاب اچانک روک لیتا تو اندیشہ تھا کہ اسے کوئی عارضہ لاحق ہوجاتا، تیسری یہ کہ وہ گھبرا جاتا اور مسلمانوں کو بدخلق سمجھ کر اسلام ہی سے پھرجاتا وغیرہ وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 53
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يَعْنِي لَا تَقْطَعُوا عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ نا پاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے مسجد میں پیشاب کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢١) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 54
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: بَالَ أَعْرَابِيُّ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ نا پاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اس پر چیخے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو (کرنے دو ) تو لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کرلیا، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر بہا دیا گیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 55
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَالَ فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتْرُكُوهُ، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّأَمَرَ بِدَلْوٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠) ، الأدب ٨٠ (٦١٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤١١١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٣٨ (٣٨٠) مفصلاً ، سنن الترمذی/فیہ ١١٢ (١٤٧) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٨ (٥٢٩) ، مسند احمد ٢/٢٨٢، ویأتي عند المؤلف برقم : (٣٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 56
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹھہرے ہوئے پانی سے متعلق
ابوہریرہ (رض) رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے وضو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث عوف، عن محمد بن سیرین، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٤٩٢) ، وحدیث عوف، عن خلاس بن عمرو، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٣٠٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٥١ (٦٨) ، مسند احمد ٢/٢٥٩، ٢٦٥، ٤٩٢، ٥٢٩، ویأتي عند المؤلف برقم : (٣٩٧) من غیر ہذا الطریق (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 57
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ. قَالَ عَوْفٌ: وَقَالَ خِلَاسٌ: عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹھہرے ہوئے پانی سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٥٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٨ (٢٣٩) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٩٢) ، مسند احمد ٢/٣١٦، ٣٤٦، ٣٦٢، ٣٦٤، سنن الدارمی/الطہارة ٥٤ (٧٥٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٢٢٢، ٣٩٧، ٣٩٨، ٣٩٩، ٤٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 58
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ يَعْقُوبُ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا بِدِينَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندری پانی کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کا پانی پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٤١ (٨٣) ، سنن الترمذی/فیہ ٥٢ (٦٩) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٨ (٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦١٨) ، موطا امام مالک/فیہ ٣ (١٢) ، مسند احمد ٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨، ٣٩٢، ٣٩٣، سنن الدارمی/الطہارة ٥٣ (٧٥٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : (٣٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مردار سے مراد وہ سمندری جانور ہیں جو سمندر میں مریں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے، دیگر سمندری جانور نہیں، لیکن اس تخصیص پر کوئی صریح دلیل نہیں ہے، اور آیت کریمہ : أحل لکم صيدُ البحرِ وطعامُه بھی مطلق ہے۔ سائل نے صرف سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا تھا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھانے کا بھی حال بیان کردیا کیونکہ جیسے سمندری سفر میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے ویسے کبھی کھانے کی بھی کمی ہوجاتی ہے، اس کا مردار حلال ہے، یعنی سمندر میں جتنے جانور رہتے ہیں جن کی زندگی بغیر پانی کے نہیں ہوسکتی وہ سب حلال ہیں، گو ان کی شکل مچھلی کی نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 59
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برف سے وضو کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے، تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں کہتا ہوں اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٩ (٧٤٤) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٥٩٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٨١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٩٦) ، مسند احمد ٢/٢٣١، ٤٩٤، سنن الدارمی/الصلاة ٣٧ (١٢٨٠) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : (٣٣٤، ٨٩٥، ٨٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ برف سے وضو درست ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے برف سے گناہ دھونے کی دعا مانگی ہے، اور ظاہر ہے کہ گناہ وضو سے دھوئے جاتے ہیں لہٰذا برف سے وضو کرنا صحیح ہوا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 60
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ.
তাহকীক: