কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৬ টি
হাদীস নং: ২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے وقت بیت اللہ کی جانب پشت کرنے کی ممانعت
ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پاخانہ و پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١١ (١٤٤) ، الصلاة ٢٩ (٣٩٤) ، صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٤) ، سنن ابی داود/فیہ ٤ (٩) ، سنن الترمذی/فیہ ٦ (٨) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٧ (٣١٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٧٨) ، مسند احمد ٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢١، سنن الدارمی/فیہ ٦ (٦٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ خطاب اہل مدینہ اور ان لوگوں کو ہے جو خانہ کعبہ سے اتر یا دکھن کی سمت میں رہتے ہیں، اس سے مقصود اس سمت کی جانب رہنمائی ہے جس میں قبلہ نہ آدمی کے آگے ہو نہ پیچھے، برصغیر ہند و پاک والوں کا قبلہ چونکہ پچھم میں ہے اس لیے یہاں اس حدیث کے مطابق اتر اور دکھن کی طرف منہ یا پیٹھ کی جائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 21
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یعقوب بن ابراہیم، غندر، معمر، ابن شہاب، عطا بن یزید، حضرت ابوایوب انصاری
ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 22
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکانات میں پیشاب پاخانہ کے وقت بیت اللہ کی جانب چہرہ یا پشت کرنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٢ (١٤٥) ، ١٤ (١٤٨، ١٤٩) ، الخمس ٤ (٣١٠٢) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٦) ، سنن ابی داود/فیہ ٥ (١٢) ، سنن الترمذی/فیہ ٧ (١١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٨ (٣٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٥٢) ، موطا امام مالک/القبلة ٢ (٣) ، مسند احمد ٢/١٢، ١٣، ٤١، سنن الدارمی/طہارة ٨ (٦٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہوگی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ ﷺ نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 23
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِمُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کے وقت شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے کی ممانعت
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) نہ پکڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣) ، ١٩ (١٥٤) ، الأشربة ٢٥ (٥٦٣٠) مطولاً ، صحیح مسلم/الطہارة ١٨ (٢٦٧) ، سنن ابی داود/فیہ ١٨ (٣١) ، سنن الترمذی/فیہ ١١ (١٥) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٥ (٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٥) ، مسند احمد ٤/٣٨٤، ٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٠، ٣٠٩، ٣١٠، ٣١١، سنن الدارمی/الطہارة ١٣ (٧٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ داہنے ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 24
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْخُذْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضائے حاجت کے وقت شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے کی ممانعت
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 25
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 26
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حذیفہ (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 27
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحرا میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 28
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا بَهْزٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْحُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا. قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِوَلَمْ يَذْكُرْ مَنْصُورٌ الْمَسْحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکان میں بیٹھ کر پیشاب کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، آپ ﷺ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ٨ (١٢) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٤ (٣٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٧) ، مسند احمد ٦/١٣٦، ١٩٢، ٢١٣ (صحیح) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٠١، تراجع الالبانی ٢ ) وضاحت : ١ ؎: حذیفہ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم دونوں کی روایتوں میں تعارض ہے لیکن حذیفہ (رض) کی روایت کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ سنداً وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور اگر دونوں روایتوں کو صحت میں برابر مان لیا جائے تو جواب یہ ہوگا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی حذیفہ رضی اللہ عنہا کے اثبات میں قادح نہیں کیونکہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی نفی ان کی معلومات کی حد تک ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا عام دستور یہی تھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے، اور بیان جواز کے لیے آپ نے کھڑے ہو کر بھی پیشاب کیا ہے جیسا کہ حذیفہ (رض) کی روایت سے ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 29
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ، مَا كَانَ يَبُولُ إِلَّا جَالِسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شے کی آڑ میں پیشاب کرنا
عبدالرحمٰن بن حسنہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی طرح کوئی چیز تھی، تو آپ نے اسے رکھا، پھر اس کے پیچھے بیٹھے، اور اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا، اس پر لوگوں نے کہا : ان کو دیکھو ! یہ عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے سنا تو فرمایا : کیا تمہیں اس چیز کی خبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک شخص کو پیش آئی، انہیں جب پیشاب میں سے کچھ لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے، تو ان کے ایک شخص نے انہیں (ایسا کرنے سے) روکا، چناچہ اس کی وجہ سے وہ اپنی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ١١ (٢٢) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٦ (٣٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٩٣) ، مسند احمد ٤/١٩٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 30
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ خَلْفَهَا فَبَالَ إِلَيْهَا. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ، فَقَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ صَاحِبُهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب سے بچنے کا بیان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : یہ دونوں قبر والے عذاب دئیے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں دیے جا رہے ہیں ١ ؎، رہا یہ شخص تو اپنے پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا، اور رہا یہ (دوسرا) شخص تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا ، پھر آپ ﷺ نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی، پھر فرمایا : امید ہے کہ جب تک یہ دونوں خشک نہ ہوجائیں ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٥ (٢١٦) ، ٥٦ (٢١٨) ، الجنائز ٨١ (١٣٦١) ، ٨٨ (١٣٧٨) ، الأدب ٤٦ (٦٠٥٢) ، ٤٩ (٦٠٥٥) ، صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢) ، سنن ابی داود/فیہ ١١ (٢٠) ، سنن الترمذی/فیہ ٣ ٥ (٧٠) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٦ (٣٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٧) ، مسند احمد ١/٢٢٥، سنن الدارمی/الطہارة ٦١ (٧٦٦) ، و یأتي عند المؤلف في الجنائز ١١٦ (رقم : ٢٠٧٠، ٢٠٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 31
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَإِنَّهُ كَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا. خَالَفَهُ مَنْصُورٌ، رَوَاهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ طَاوُسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتن میں پیشاب کرنا
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٣ (٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٢) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 32
أَخْبَرَنَا أَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَاأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ السَّرِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طشت میں پیشاب کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (مرض الموت میں) علی (رض) کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ کا جسم ڈھیلا پڑگیا۔ (آپ فوت ہوگئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی ؟ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٤١) ، المغازي ٨٣ (٤٤٥٩) ، صحیح مسلم/الوصیة ٥ (١٦٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٧٠) ، مسند احمد ٦/٣٢، ویأتي عند المؤلف في الوصایا ٢ (رقم : ٣٦٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 33
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّلَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ. وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى، قَالَ الشَّيْخُ: أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت
عبداللہ بن سرجس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٦ (٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٢٢) ، مسند احمد ٥/٨٢ (ضعیف) (قتادہ کا سماع عبداللہ بن سرجس سے نہیں ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، تراجع الالبانی ١٣١ ) وضاحت : ١ ؎: سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سانپ، بچھو وغیرہ سوراخ سے نکل کر ایذا نہ پہنچائیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 34
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ. قَالُوا لِقَتَادَةَ: وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٥ (٣٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٩١١) ، مسند احمد ٣/٣٥٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے وہ پانی مراد ہے جو دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڈھا، جھیل، تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا، ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، اگر اس میں مزید نجاست و غلاظت ڈال دی جائے تو یہ پانی مزید بدبودار ہوجائے گا، اور اس کی عفونت اور سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 35
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل خانہ میں پیشاب کرنا منع ہے
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ١٥ (٢٧) ، سنن الترمذی/فیہ ١٧ (٢١) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢ (٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٨) ، مسند احمد ٥/٥٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله فإن عامة الوسواس منه صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 36
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کرنے والے شخص کو سلام کرنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠) ، سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٦) ، سنن الترمذی/فیہ ٦٧ (٩٠) ، الاستئذان ٢٧ (٢٧٢٠) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٦٩٦) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سلام کا جواب نہیں دیا کا مطلب ہے فوری طور پر جواب نہیں دیا بلکہ وضو کرنے کے بعد دیا، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بطور تادیب سرے سے سلام کا جواب ہی نہ دیا ہو۔ قال الألباني :(صحيح دون قوله : فإن عامة الوسواس منه ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 37
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کرنے کے بعد سلام کا جواب دینا
مہاجر بن قنفذ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کرلیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٨ (١٧) مطولاً ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢٧ (٣٥٠) مطولاً ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٠) ، مسند احمد ٤/٣٤٥، ٥/٨٠، سنن الدارمی/الاستئذان ١٣ (٢٦٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 38
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّهُسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٦٣٥) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠) مطولاً ، سنن الترمذی/الطہارة ١٤ (١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض روایتوں میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 39
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَّةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدُكُمْ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لید سے استنجا کرنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں (باپ کی طرح ہوں) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے، نہ پیٹھ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ، آپ (استنجاء کے لیے) تین پتھروں کا حکم فرماتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے (استنجاء کرنے سے) آپ منع فرماتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داودالطہارة ٤ (٨) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٥٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٦٥) مختصراً ، مسند احمد ٢/٢٤٧، ٢٥٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٤ (٧٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہاں مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو کسی کام کی نہیں ہوتی جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 40
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قال: أَخْبَرَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَلَاءِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ. وَكَانَيَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ.
তাহকীক: