কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)

كتاب السنن للإمام أبي داود

سنت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮ টি

হাদীস নং: ৪৬৫৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلفاء کا بیان
عمر بن خطاب (رض) کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو عمر نے اس سے کہا : کیا تم کتاب میں مجھے (میرا حال) پاتے ہو ؟ وہ بولا : ہاں، انہوں نے کہا : کیسا پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا : قرن کیا ہے ؟ وہ بولا : لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا : جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا، عمر نے کہا : اللہ عثمان پر رحم کرے، (تین مرتبہ) پھر کہا : ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : وہ تو لوہے کا میل ہے (یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہوجائیں گے) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا : اے گندے ! بدبودار (تو یہ کیا کہتا ہے) اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! وہ ایک نیک خلیفہ ہوگا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہوگا کہ تلوار بےنیام ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا، (یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہوگی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : الدفر کے معنی نتن یعنی بدبو کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٤٠٨) (ضعیف الإسناد) (عیسائی پادری کے قول کا کیا اعتبار ؟ )
حدیث نمبر: 4656 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ،‏‏‏‏عَنِ الْأَقْرَعِ مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَعَوْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَهَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَجِدُنِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَجِدُكَ قَرْنًا فَرَفَعَ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَرْنٌ مَهْ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَرْنٌ حَدِيدٌ أَمِينٌ شَدِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي يَجِيءُ مِنْ بَعْدِي ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجِدُهُ خَلِيفَةً صَالِحًا غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَجِدُهُ صَدَأَ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا دَفْرَاهُ يَا دَفْرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْلَفُ حِينَ يُسْتَخْلَفُ وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ الدَّفْرُ النَّتْنُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے فضائل کے بارے میں
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٥) ، سنن الترمذی/الفتن ٤٥ (٢٢٢٢) ، الشھادات ٤، (٢٣٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الشہادات ٩ (٢٦٥١) ، فضائل الصحابة ١ (٣٦٥٠) ، الرقاق ٧ (٦٤٢٨) ، الأیمان ٧ (٦٦٩٥) ، سنن النسائی/الأیمان والنذور ٢٨ (٣٨٤٠) ، مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٢٧، ٤٣٦، ٤٤٠) (صحیح ) وضاحت : وضاحت ١ ؎ : کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہوجائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
حدیث نمبر: 4657 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں زبان طعن دراز کرنے کی ممانعت
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٣) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٤ (٢٥٤١) ، سنن الترمذی/المناقب ٥٩ (٣٨٦١) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٠ (١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٠١، ١٢٥٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١، ٥٤، ٥٥، ٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کا شان ورود یہ ہے کہ ایک بار عبدالرحمن بن عوف (رض) اور خالد بن ولید (رض) کے درمیان کچھ کہا سنی ہوگئی جس پر خالد نے عبدالرحمن کو کچھ نامناسب الفاظ کہہ دیئے، جس پر رسول اکرم ﷺ نے یہ فرمایا، اس سے پتہ چلا کہ مخصوص اصحاب کے مقابلہ میں دیگر صحابہ کرام کا یہ حال ہے تو غیر صحابی کا کیا ذکر، غیر صحابی کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا صحابی کے ایک مُد غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا، اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام عالی کا پتہ چلتا ہے، اور یہیں سے ان بدبختوں کی بدبختی اور بدنصیبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جن کے مذہب کی بنیاد صحابہ کرام کو سب وشتم کا نشانہ بنانا اور تبرا بازی کو دین سمجھنا ہے۔
حدیث نمبر: 4658 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں زبان طعن دراز کرنے کی ممانعت
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ (رض) مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان (رض) کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ (رض) کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان (رض) کہتے : حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے : ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے : اے سلمان ! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں ؟ تو سلمان نے کہا : رسول اللہ ﷺ بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کردیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو (اے اللہ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب (امیر المؤمنین) کو لکھ بھیجوں گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٥٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤٣٧، ٤٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4659 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ لَهُ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا سَلْمَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَسَلْمَانُ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُوَرِّثَ رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت کا بیان
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال (رض) نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ ﷺ نے فرمایا : کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر (رض) موجود ہیں، ابوبکر (رض) موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا : اے عمر ! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا : ابوبکر کہاں ہیں ؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر (رض) کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو (پھر سے) نماز پڑھائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٢٢) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے خلافت صدیقی کا صاف اشارہ ملتا ہے کیونکہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کا پیش خیمہ ہے۔
حدیث نمبر: 4660 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِيعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِالنَّاسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت کا بیان
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ (رض) نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا : جب نبی اکرم ﷺ نے عمر (رض) کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا : نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ (یعنی ابوبکر) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ ﷺ یہ غصے میں فرما رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4661 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ زَمْعَةَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا لَا لَا لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی (رض) کو فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ حماد کی روایت میں ہے : شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٠٤) ، المناقب ٢٥ (٣٦٢٩) ، فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦) ، الفتن ٢٠ (٧١٠٩) ، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٣) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٧ (١٤١١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥ /٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ کی اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ حسن (رض) نے معاویہ (رض) سے صلح کرلی اور ایک عظیم فتنہ کو ختم کردیا یہ سال اتحاد ملت کا سال تھا۔
حدیث نمبر: 4662 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. ح وحَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ:‏‏‏‏ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ (رض) نے کہا : لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٣٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4663 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ حُذَيْفَةُمَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ (رض) کے پاس گئے تو آپ نے کہا : میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ (رض) ملے، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں ؟ ) تو فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہوجائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہوجائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٣٨١) (صحیح) (اس کے راوی ثعلبہ یا ضبیعہ مجہول ہیں لیکن سابقہ حدیث کی تقویت سے صحیح ہے )
حدیث نمبر: 4664 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৫
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٣٨١) (صحیح) ( ثعلبہ بن ضبیعہ اور ضبیعہ بن حصین ایک ہی ہیں جو مجہول ہیں اور سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
حدیث نمبر: 4665 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ بِمَعْنَاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৬
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) سے کہا : ہمیں آپ (معاویہ (رض) سے جنگ کے لیے) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے : مجھے رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٤٢، ١٤٨) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 4666 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُلِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৭
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہوگا قتل کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٣٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢، ٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4667 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৮
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخصومات ٤ (٢٤١٢) ، الأنبیاء ٢٥ (٣٣٩٨) ، الدیات ٣٢ (٦٩١٧) ، صحیح مسلم/الفضائل (٢٣٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١، ٣٣، ٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو ، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ، جیسا کہ اللہ نے فرمایا : تلک الرسل فضلنا بعضهم على بعض۔
حدیث نمبر: 4668 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৯
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٥) ، و تفسیر القرآن ٤ (٤٦٣٠) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤٣ (٢٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٤، ٣٤٢، ٣٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس (علیہ السلام) سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، یا یہ کہ یونس (علیہ السلام) پر نبی اکرم ﷺ کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہوگا۔
حدیث نمبر: 4669 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭০
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٢٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٥) (صحیح لغیرہ) (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں ، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
حدیث نمبر: 4670 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭১
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کردیا، یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو ، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہوگئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخصومات ١ (٢٤١٢) ، الأنبیاء ٣٢ (٢٣٩٨) ، التفسیر ٤ (٤٦٣٨) ، والرقاق ٤٣ (٦٥١٧) ، التوحید ٣١ (٧٤٧٢) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤٢ (٢٣٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٠ (٣٢٤٥) ، مسند احمد (٢/٢٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ اس یہودی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اسے طمانچہ رسید کردیا، رسول اکرم ﷺ نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بےہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء (علیہ السلام) قابل احترام ہیں۔
حدیث نمبر: 4671 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ:‏‏‏‏ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭২
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو کہا : اے مخلوق میں سے سب سے بہتر ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ شان تو ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٦٩) ، سنن الترمذی/تفسیر البینة ٨٦ (٣٣٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٧٨، ١٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب ہو، وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے، آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔
حدیث نمبر: 4672 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ‏‏‏‏‏‏يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ 0 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৩
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الفضائل ٢ (٢٢٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٩٥، ٢٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4673 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ شَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৪
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تبع کے بارے میں یہ فرمان آپ ﷺ کا اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں آپ کو بتادیا گیا کہ وہ ایک مرد صالح تھے۔
حدیث نمبر: 4674 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ لَعِينٌ هُوَ أَمْ لَا ؟ وَمَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لَا ؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৫
سنت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٤٢) ، مسند احمد (٢/٤٨٢، ٥٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا ، یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔
حدیث نمبر: 4675 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ.
tahqiq

তাহকীক: