কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৩ টি
হাদীস নং: ৪৩৭১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کا بیان
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس (رض) کی روایت۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الطب ٦ (٥٦٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٩١) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4371 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ يَعْنِي حَدِيثَ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض سے غفور رحيم تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کرلے تو ایسا نہ ہوگا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المحاربة ٧ (٤٠٥١) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : سنن نسائی میں یہاں عبارت اس طرح ہے : فمن تاب منهم قبل أن يقدر عليه لم يكن عليه سبيل، وليست هذه الآية للرجل المسلم، فمن قتل وأفسد في الأرض وحارب الله ورسوله ثم لحق بالکفار قبل أن يقدر عليه لم يمنعه ذلك أن يقام فيه الحد الذي أصابه۔ ٢ ؎ : یہ صرف ابن عباس (رض) کا مذہب ہے، جمہور علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، نیز اس کے راوی علی بن حسین کے بارے میں کلام ہے، ان کا حافظہ کمزور تھا اس لئے انہیں وہم ہوجاتا تھا۔
حدیث نمبر: 4372 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة المائدة آية 33 ـ 34 نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کردیا، وہ کہنے لگے : اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا ؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید (رض) کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہوسکتی ہے ؟ چناچہ اسامہ (رض) نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسامہ ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو ! پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہوجاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٨ (٢٦٤٨) ، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٥) ، فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٢) ، المغازي ٥٣ (٤٣٠٤) ، الحدود ١١ (٦٧٨٧) ، ١٢ (٦٧٨٨) ، ١٤ (٦٨٠٠) ، صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، سنن الترمذی/الحدود ٦ (١٤٣٠) ، سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٩٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٦ (٢٥٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٦٢) ، سنن الدارمی/الحدود ٥ (٢٣٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4373 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کرلے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی) ۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم ﷺ سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ٢ (١٦٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٦٢) ، ویأتی برقم (٤٣٩٧) (صحیح)
حدیث نمبر: 4374 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدشرعی کے دفع کے لئے سفارش کا حکم
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کردیا کرو سوائے حدود کے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٩١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/١٨١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4375 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم تک جرم کا مقدمہ پہنچنے سے پہلے پہلے اسے معاف کردیا جائے
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہوگئی (اسے معاف نہیں کیا جاسکتا) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قطع السارق ٥ (٤٨٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4376 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے
نعیم بن ہزال اسلمی (رض) روایت کرتے ہیں کہ ماعز (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا : اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپالیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٢١٧) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4377 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ: لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے
ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال (رض) نے ماعز (رض) سے کہا تھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جائیں اور آپ کو بتادیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٢٩) (ضعیف) (ابن المنکدر تابعی ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 4378 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنْ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے
وائل (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آگئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا : ہاں اسی نے کیا ہے، چناچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا : تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا (کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا : اس کو رجم کر دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہوجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ٢٢ (١٤٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦/٣٩٩) (حسن )
حدیث نمبر: 4379 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا بِهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ارْجُمُوهُ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، عَنْ سِمَاكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد کے ساقط ہونے کے لئے حاکم کی تلقین
ابوامیہ مخزومی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کرلیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا : کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ ﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا : اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے کہا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا : اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قطع السارق ٣ (٤٨٨١) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٩ (٢٥٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4380 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْأَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ، قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی حد کا اعتراف کرے لیکن اس کا نام نہ بتائے
ابوامامہ (رض) کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حد کا مرتکب ہوگیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٢٥١، ٢٦٢، ٢٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4381 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفتیش کی غرض سے مجرم کو مارنا پیٹنا
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر (رض) کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان (رض) کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان (رض) نے کہا : تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہوگی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا : یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان (رض) نے کہا : نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قول سے نعمان (رض) نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرم پر جب شبہ ہو تو اس کو پکڑنا صحیح ہے ، مگر ناحق مار پیٹ سے اس سے اقبال جرم کرانا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر ظلم ہے ، جیسا کہ آج کل میں لوگ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4382 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّأَنَّ قَوْمًا مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ، فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ، فَأَتَوْا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْا النُّعْمَانَ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلَا امْتِحَانٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ، فَقَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَيْ لَا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلَّا بَعْدَ الِاعْتِرَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں (چور کا ہاتھ) کاٹتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٨٩) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٤) ، سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٥) ، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٢٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢٣) ، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٠، ٨١، ١٠٤، ١٦٣، ٢٤٩، ٢٥٢) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4383 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں : چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الحدود ١٣ (٦٧٩٠) ، صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٤) ، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٩٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ الحدود ٧ (٢٤) ، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4384 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِييُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،عَنْ عُرْوَةً، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال میں جس کی قیمت تین درہم تھی (چور کا ہاتھ) کاٹا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩١٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٣٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٤) ، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١) ، مسند احمد ( ٢/٦، ٥٤، ٦٤، ٨٠، ١٤٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4385 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمر (رض) نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن النسائی/ قطع السارق ٧ (٤٩١٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٥) ، دی/ الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح) (اس میں عورتوں کے چبوترہ کا ذکر صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 4386 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے (چرانے پر) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٨٤) (شاذ )
حدیث نمبر: 4387 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق،عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ رَجُلٍ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ دِينَارٌ أَوْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَسَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق بِإِسْنَادِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کرلیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج (رض) کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : پھل اور جمار (کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا تو اس شخص نے کہا : مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج (رض) اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چناچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کثر کے معنیٰ جمار کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨١، ٣٥٨٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢) ، مسند احمد ( ٣/٤٦٣، ٤٦٤، ٥/١٤٠، ١٤٢) ، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جمار کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے ، اور کھایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4388 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلَامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْكَثَرُ الْجُمَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨١) (شاذ )
حدیث نمبر: 4389 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : جس ضرورت مند نے اسے کھالیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہوگی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩) ، سنن النسائی/قطع السارق ٩ (٤٩٦١) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٨ (٢٥٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٢/١٨٦) (حسن )
حدیث نمبر: 4390 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ الْجُوخَانُ.
তাহকীক: