কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৬ টি
হাদীস নং: ৩২৮১
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم کے کفارہ میں میں کونسا صاع معتبر ہے؟
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کردیا تو ایک صاع (١٦) رطل کا ہوگیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کردیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟ انہوں نے کہا : اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا : پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٦٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : خالد قسری کا یہ عمل دلیل نہیں ہے، عراقی صاع (٨) رطل کا ہوتا ہے، حجازی نبوی صاع (٥) رطل کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3281 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ، فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ يَدَهُ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، قَالَ: أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮২
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن باندی کا بیان (جو کفارہ میں آزاد کرنے کے لائق ہو
معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول ﷺ نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا : میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ ﷺ نے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان کے اوپر، آپ ﷺ نے (پھر) پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم :(٩٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٨) (صحیح ) شرید سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کردینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) ، دی/ النذور ١٠ (٢٣٩٣) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 3282 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا ؟، قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا، قَالَ: أَيْنَ اللَّهُ ؟، قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا ؟، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ. حدیث نمبر: 3283 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৩
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ ( حبش کے پاس ایک ریاست ہے ) کی ایک کالی لونڈی ہے۔ ۔ ۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৪
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن باندی کا بیان (جو کفارہ میں آزاد کرنے کے لائق ہو
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ ﷺ نے اس (لونڈی) سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان کے اوپر ہے) پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : میں کون ہوں ؟ تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا : اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٩١) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مسعود ی اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایت لی ہے لیکن معاویہ سلمی کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے) (الصحیحة : ٣١٦١، تراجع الألباني : ١٠٧ )
حدیث نمبر: 3284 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ ؟، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا، فَقَالَ لَهَا: فَمَنْ أَنَا ؟، فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৫
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کرنے کے بعد انشاء اللہ کہنے کا بیان
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا پھر کہا : ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے : پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١١٦) (ضعیف) (البانی نے اسے صحیح ابی داود (٣٢٨٥) میں عن عکرمة مرسلا داخل کیا ہے، ابن حبان نے مسند ابن عباس کو صحیح میں ذکر کیا ہے ٤٣٤٣ )
حدیث نمبر: 3285 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِد، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْنَدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ: عَنْ شَرِيكٍ، ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৬
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کرنے کے بعد انشاء اللہ کہنے کا بیان
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ، پھر فرمایا : ان شاء اللہ پھر فرمایا : قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا انشاء اللہ پھر فرمایا : قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا : ان شاء اللہ ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩١١٦) (ضعیف) (عکرمة سے سماک کی روایت میں اضطراب ہے، نیز حدیث مرسل ہے کہ عکرمہ نے صحابی کا تذکرہ نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود ٣٢٨٦، والتلخیص الحبیر ٢٤٩٦ ) وضاحت : ١ ؎ : اگر قسم میں انشاء اللہ بدون توقف اور سکوت کہے تب قسم میں حانث ہونے سے کفارہ لازم نہیں آئے گا، ورنہ لازم آئے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (٣٢٦١) میں ہے، یہ حدیث ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3286 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৭
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر ماننے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل (کی جیب) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨) ، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣) ، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٣٩) ، سنن النسائی/الأیمان ٢٤ (٣٨٣٢، ٣٨٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١١٨) ، دی/النذور ٥ (٢٣٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں منجانب اللہ جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لئے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر شدہ امر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 3287 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنِ النَّذْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَيَقُولُ: لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৭
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کلام کرنے کے بعد انشاء اللہ کہنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل (کی جیب) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨) ، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣) ، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٣٩) ، سنن النسائی/الأیمان ٢٤ (٣٨٣٢، ٣٨٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١١٨) ، دی/النذور ٥ (٢٣٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں منجانب اللہ جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لئے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر شدہ امر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 3287 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنِ النَّذْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَيَقُولُ: لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৮
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نذر ماننے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کہتا ہے :) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٨٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢) ، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٤٠) ، سنن الترمذی/النذر ١٠ (١٥٣٨) ، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣) ، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ کی طرف مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3288 حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ الْقَدَرَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُهُ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ الْقَدَرَ قَدَّرْتُهُ، يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ، يُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي مِنْ قَبْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮৯
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی گناہ کے کام کی منت مان لینا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأیمان ٢٨ (٦٦٩٦) ، ٣١ (٦٧٠٠) ، سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٦) ، سنن النسائی/الأیمان ٢٦ (٣٨٣٧) ، ٢٧ (٣٨٣٨، ٣٨٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٥٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/النذور ٤ (٨) ، مسند احمد (٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤) ، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : گویا معصیت کی نذر نہیں پوری کی جائے گی کیونکہ یہ غیر مشروع ہے، لیکن کفارہ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3289 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ، فَلَا يَعْصِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯০
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٤) ، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٥-٣٨٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح ) اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا : ابن مبارک نے کہا ہے (یعنی اس حدیث کے بارے میں) کہ ابوسلمہ (رض) نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ (رض) سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں : اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کردیا ہے ان سے پوچھا گیا : کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے ؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 3290 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. حدیث نمبر: 3291 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ شَبُّويَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَتَصْدِيقُ ذَلِك مَا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: أَفْسَدُوا عَلَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، قِيلَ لَهُ: وَصَحَّ إِفْسَادُهُ عِنْدَكَ، وَهَلْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ أَمْثَلَ مِنْهُ يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯১
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯২
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں : اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین (رض) سے اور عمران نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ (رض) سے انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٨٢) (صحیح بما قبلہ) (اس سند میں سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہیں اس لئے پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
حدیث نمبر: 3292 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ: إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৩
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
عقبہ بن عامر (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور (بطور کفارہ) تین دن کے روزے رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤) ، سنن النسائی/الأیمان ٣٢ (٣٨٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤) (تحفة الأشراف : ٩٩٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٤٣، ٣/١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١) ، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدا للہ بن زحر سخت ضعیف ہیں اس میں صیام والی بات ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں )
حدیث نمبر: 3293 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ أُخْتٍ لَهُ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৪
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
عبدالرزاق کہتے ہیں : ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٩٠) (ضعیف) (عبید اللہ بن زخر کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 3294 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ مَوْلًى لِبَنِي ضَمْرَةَ، وَكَانَ أَيَّمَا رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ أَخْبَرَهُ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৫
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا (یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف : ٦٣٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١٠، ٣١٥) (ضعیف) (اس کے راوی شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور اس میں بھی کفارہ (بذریعہ صیام) کی بات منکر ہے )
حدیث نمبر: 3295 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْكُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ يَعْنِي أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৬
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر (رض) کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦١٩٧، ١٩١٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٥٢، ٣١١) ، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہی اس نذر کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 3296 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ، وَتُهْدِيَ هَدْيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৭
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر (رض) کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بےنیاز ہے، اسے کہو : سوار ہوجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ (رض) سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ : (٣٢٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٩٧، ١٩١٢١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3297 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৮
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے: «مر أختك فلتركب» اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ بِمَعْنَى هِشَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْهَدْيَ، وَقَالَ فِيهِ: مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بِمَعْنَى هِشَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৯
قسم کھانے اور نذر (منت) ماننے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں ( کہ میں کیا کروں ) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو ۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ .
তাহকীক: