কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪০ টি
হাদীস নং: ২২৯৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
حدیث نمبر : 2295 ہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کرلیا تو ام المؤمنین عائشہ (رض) نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو ، بروایت سلیمان : مروان نے کہا : عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آگئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم : کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس (رض) کا قصہ معلوم نہیں ؟ تو ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا : فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا : اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں (عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق (٥٣٢١) ، صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٣٧، ١٧٥٦٠، ١٨٠٢٢، ١٨٠٣٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطلاق ٢٢ (٦٣) (صحیح )
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا، فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي، وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوَ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ؟فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ، فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ. یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا ک
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس (رض) کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی (ایسا کیوں ہوا ؟ ) تو سعید نے جواب دیا : اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کردیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم (رض) کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٠٢١) (صحیح) (لیکن ابن المسیب کا یہ بیان خلاف واقعہ ، یعنی ، فاطمہ کی منتقلی تین طلاق کے سبب تھی )
حدیث نمبر: 2296 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ: فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کو تین طلاقیں ہوچکی ہوں وہ دوران عدت ضرورة گھر سے باہر جا سکتی ہے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہوسکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٧ (١٤٨١) ، سنن النسائی/الطلاق ٧١ (٣٥٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٩ (٢٠٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢١) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2297 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلًا لَهَا، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي مِنْهُ أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا شوہر مر جائے اس کو ایک سال کا خرچ دینا میراث کی آیت سے منسوخ ہو گیا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے (سورۃ البقرہ : ٢٤٠) میراث کی آیت نازل ہوجانے کے بعد منسوخ ہوگیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آجانے کے بعد منسوخ ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٦٩ (٣٥٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٠، ١٩١١٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التفسیر ٤١ (٤٥٣١) ، الطلاق ٥٠(٥٣٤٤) (حسن )
حدیث نمبر: 2298 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کے والد ابوسفیان (رض) کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا : کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے ۔ زینب (رض) کہتی ہیں : میں ام المؤمنین زینب بنت جحش (رض) کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا : کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔ زینب (رض) کہتی ہیں : میں نے اپنی والدہ ام سلمہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا : نہیں ، پھر فرمایا : تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب (رض) سے پوچھا : مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں :حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١) ، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٦) ، ٤٧ (٥٣٣٨) ، ٥٠ (٥٣٤٥) ، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠) ، ٥٩ (٣٥٥٧) ، ٦٣ (٣٥٦٣) ، ٦٧ (٣٥٦٨) ، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٧٦، ١٨٢٥٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١) ، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2299 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے
زینب (رض) کہتی ہیں : میں ام المؤمنین زینب بنت جحش (رض) کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا : کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے
زینب (رض) کہتی ہیں : میں نے اپنی والدہ ام سلمہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا : نہیں ، پھر فرمایا : تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب (رض) سے پوچھا : مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں :حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١) ، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٦) ، ٤٧ (٥٣٣٨) ، ٥٠ (٥٣٤٥) ، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠) ، ٥٩ (٣٥٥٧) ، ٦٣ (٣٥٦٣) ، ٦٧ (٣٥٦٨) ، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٧٦، ١٨٢٥٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١) ، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کی وفات کے بعد عورت اس کے گھر میں عدت گزارے
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان (رض) (ابو سعید خدری (رض) کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں ؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہوجانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں ؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں (وہاں چلی جاؤ) فریعہ (رض) کہتی ہیں : (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺ نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا : تم نے کیسے کہا ؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہوجائے فریعہ (رض) کہتی ہیں : پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان (رض) کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطلاق ٢٣ (١٢٠٤) ، سنن النسائی/الطلاق ٦٠ (٣٥٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣١ (٢٠٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٤٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطلاق ٣١ (٨٧) ، مسند احمد (٦/٣٧٠، ٤٢٠) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2300 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَتْ: فَقَالَ: امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان کی رائے جن کے نزدیک مطلقہ کے لئے نقل مکانی درست ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں غير إخراج (سورة البقرہ : ٢٤٠) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کردی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں : اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آگیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہوگیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التفسیر ٤١ (٤٥٣١) ، الطلاق ٥٠ (٥٣٤٤) ، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (٥٧٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2301 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَابْنُ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240. قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240، قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے
ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے ۔ راوی یعقوب نے : سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے بجائے : دھلے ہوئے کپڑے کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ١٢ (٣١٣) ، الجنائز ٣٠ (١٢٧٨) ، الطلاق ٤٧ (٥٣٣٩) ، ٤٩ (٥٣٤٢) ، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (٩٣٨) ، سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٤) ، ٦٥ (٣٥٦٦) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٥ (٢٠٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٦٥) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٣ (٢٣٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2302 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ. قَالَ يَعْقُوبُ مَكَانَ عَصْبٍ: إِلَّا مَغْسُولًا. وَزَادَ يَعْقُوبُ: وَلَا تَخْتَضِبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے
ام عطیہ (رض) سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ خضاب نہ لگائے اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ : رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٨١٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2303 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ الْمِسْمَعِيُّ: قَالَ يَزِيدُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِيهِ: وَلَا تَخْتَضِبُ. وَزَادَ فِيهِ هَارُونُ: وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ نہ زرد اور گیروے رنگ کا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے، نہ خضاب (مہندی وغیرہ) لگائے، اور نہ سرمہ لگائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ تمام کام بناؤ سنگار کے ہیں، اس لئے عدت میں ان سے پرہیز ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 2304 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے
حدیث نمبر : 2305 ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ جلاء (سرمہ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس بھیجا تاکہ وہ جلاء کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا : اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آجائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ (رض) نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ (رض) کا جب انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا : ام سلمہ یہ کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا : یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو ، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! پھر کنگھی کس چیز سے کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٦٦ (٣٥٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی مغیرہ بن الضحاک لین الحدیث ہیں ، اور ام حکیم اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں )
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا فَتَكْتَحِلُ بِالْجِلَاءِ، قَالَ أَحْمَدُ: الصَّوَابُ: بِكُحْلِ الْجِلَاءِ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجِلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلِي بِهِ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَهُ بِالنَّهَارِ، ثُمّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ: إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزَعِينَهُ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ، قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملہ عورت کی عدت کا بیان
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ (رض) کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا ؟ چناچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ (رض) کے نکاح میں تھیں (وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہوگیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہوگئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک (رض) ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : میں تمہیں بنی سنوری ہوئی دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم ! تم چار مہینے دس دن (کی عدت) گزارے بغیر نکاح نہیں کرسکتی۔ سبیعہ (رض) کا بیان ہے : جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہوگئی اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کرسکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ١٠ (٣٩٩١ تعلیقًا) ، الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠) ، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٤) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥١٨، ٣٥١٩) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پہلے یہ آیت اتری تھی : والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا یہ آیت سورة بقرہ (آیت : ٢٣٤) کی ہے، اس میں حاملہ اور غیر حاملہ دونوں داخل تھیں ، پھر سورة طلاق والی آیت نمبر (٤) وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن نازل ہوئی تو حاملہ کی عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش) قرار پائی اور غیر حاملہ کی چار مہینہ دس دن پہلی آیت کے موافق برقرار رہی اکثر علماء کا یہی مذہب ہے اور بعض علماء کے نزدیک چونکہ دونوں آیتیں متعارض ہیں اس لئے دونوں میں سے جو مدت لمبی أبعد الأجلين ہو اسے اختیار کرے۔
حدیث نمبر: 2306 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ، أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ، أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً، لَعَلَّكِ تَرْتَجِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ، جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملہ عورت کی عدت کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ١ ؎ کرلے کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد مباہلہ ہے۔ ٢ ؎ : جو کہ سورة البقرہ میں ہے ابن مسعود (رض) کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورة بقرہ میں ہے “ ، اور ” حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورة طلاق کے اندر ہے جو کہ سورة بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 2307 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَاالْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کی عدت کا بیان
عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ (ہمارے نبی کریم ﷺ کی) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، (سنت یہ ہے کہ) جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کی یعنی ام ولد ١ ؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٣ (٢٠٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ام ولد : ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک سے بچہ جنا ہو۔
حدیث نمبر: 2308 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْمَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةً، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، يَعْنِي أُمَّ الْوَلَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت تین طلاقیں ہوجائیں وہ سابقہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتی تاوقتیکہ دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی ؟۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٩ (٣٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٥٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الشہادات ٣ (٢٦٣٩) ، والطلاق ٤ (٥٢٦٠) ، والساعة ٣٧ (٥٧٩٢) ، واللباس ٦ (٥٨٢٥) ، والأدب ٦٨ (٦٠٨٤) ، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣) ، سنن الترمذی/النکاح ٢٧ (١١١٨) ، سنن النسائی/النکاح ٤٣ (٣٢٨٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٢) ، مسند احمد (٦/٣٤، ٣٧، ١٩٢، ٢٢٦، ٢٢٩) ، سنن الدارمی/الطلاق ٤ (٢٣١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہم بستری اور صحبت کے بعد طلاق واقع ہونے کی صورت میں نکاح جدید سے وہ پہلے شوہر کی بیوی بن سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 2309 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الْآخَرِ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا سخت ترین گناہ ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ، میں نے کہا پھر اس کے بعد ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، نیز کہا : نبی اکرم ﷺ کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ (سورۃ الفرقان : ٦٨) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ تفسیر سورة البقرة ٣ (٤٤٧٧) ، والأدب ٢٠ (٤٧٦١) ، والحدود ٢٠ (٦٨١١) ، والدیات ٢ (٦٨٦١) ، والتوحید ٤٠ (٧٥٢٠) ، ٤٦ (٧٥٣٢) ، صحیح مسلم/الایمان ٣٧ (٨٦) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (٣١٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٧١، ٤٢٤، ٤٣٤، ٤٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2310 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا سخت ترین گناہ ہے
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تكرهوا فتياتکم على البغاء (سورۃ النور : ٣٣) تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٨٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2311 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا سخت ترین گناہ ہے
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ : ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم (النور : ٣٣) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٦٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2312 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ: غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ.
তাহকীক: