কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪০ টি
হাদীস নং: ২২৭৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ صاحب فراش کا ہے
رباح کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کردیا، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چناچہ گرگٹ جیسا (سرخ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا، میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کہنے لگی : یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان (رض) کی عدالت میں پیش کیا، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کرلیا، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا : کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا تھا ؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ بستر والے کا ہے ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے، (سنگسار نہیں کیا) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٨٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٥٩، ٦٥، ٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی رباح کوفی مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 2275 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْالْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ رَبَاحٍ، قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ، ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ، يُقَالُ لَهُ: يُوحَنَّهْ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ: هَذَا لِيُوحَنَّهْ، فَرَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: مَهْدِيٌّ، قَالَ: فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، فَقَالَ لَهُمَا: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَجَلَدَهَا، وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور باپ میں سے بچہ کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تک تو (دوسرا) نکاح نہیں کرلیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٨٧٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٢، ٢٠٣) (حسن )
حدیث نمبر: 2276 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور باپ میں سے بچہ کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
ہلال بن اسامہ سے روایت ہے کہ ابومیمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ میں ایک بار ابوہریرہ (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے، عورت کہنے لگی : ابوہریرہ ! (پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا : تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو، ابوہریرہ (رض) نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا : میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کرسکتا ہے ؟ ابوہریرہ (رض) نے کہا : یا اللہ ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ ابوعنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لا کر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو ، اس کا شوہر بولا : میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کرسکتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے ، چناچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأحکام ٢١ (١٣٥٧) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٤٧) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام شافعی کی یہی دلیل ہے، ان کے نزدیک لڑکے کو اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرلے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب تک کم سن ہے ماں کے ساتھ رہے گا، اور جب خود کھانے، پینے، پہنے اور استنجا کرنے لگے تو باپ کے ساتھ ہوجائے گا، یہ قول زیادہ قوی ہے۔
حدیث نمبر: 2277 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ سَلْمَى مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَجُلَ صِدْقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَادَّعَيَاهُ وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَطَنَتْ لَهُ بِالْفَارِسِيَّةِ، زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ، وَرَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ، فَجَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ سَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَقَدْ نَفَعَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ، فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور باپ میں سے بچہ کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
علی (رض) کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ (رض) مکہ گئے تو حمزہ (رض) کی صاحبزادی کو لے آئے، جعفر (رض) کہنے لگے : اسے میں لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی (رض) کہنے لگے : اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید (رض) نے کہا : سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں، اتنے میں نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو علی (رض) نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٨، ١١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2278 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا آخُذُهَا، أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا، فَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ وَقَدِمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ: وَأَمَّا الْجَارِيَةُ، فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور باپ میں سے بچہ کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے اس میں ہے کہ : آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر (رض) کے پاس رہے گی، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٨٩٧٣، ١٠٢٢٣) (صحیح) (یہ روایت خود تو مرسل ہے، اس لئے پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح مانی گئی ہے )
حدیث نمبر: 2279 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: وَقَضَى بِهَا لِجَعْفَرٍ، وَقَالَ: إِنَّ خَالَتَهَا عِنْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور باپ میں سے بچہ کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آگئی، علی (رض) ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور (فاطمہ (رض) سے) کہا : اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ : جعفر (رض) کہنے لگے : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا : خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٣٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٨، ١٠٨، ١١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2280 حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةَ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ فَحَمَلَتْهَا، فَقَصَّ الْخَبَرَ، قَالَ: وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ کی عدت کا بیان
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا چناچہ یہی پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٨) (حسن )
حدیث نمبر: 2281 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا طُلِّقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُطَلَّقَةِ عِدَّةٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ طُلِّقَتْ أَسْمَاءُ بِالْعِدَّةِ لِلطَّلَاقِ، فَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَتْ فِيهَا الْعِدَّةُ لِلْمُطَلَّقَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ عورتوں کی عدت میں استثناء کے احکامات
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں (سورۃ البقرہ : ٢٢٨) اور فرمایا : واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے (سورۃ الطلاق : ٤) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں (سورۃ الاحزاب : ٤٩) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢١٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٣) (حسن )
حدیث نمبر: 2282 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ سورة البقرة آية 228، وَقَالَ: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ سورة الطلاق آية 4، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ سورة البقرة آية 237 فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا سورة الأحزاب آية 49.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین حفصہ (رض) کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کرلی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٧٦ (٣٥٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١ (٢٠١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤٩٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطلاق ٢ (٢٣١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2283 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس (رض) کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص (رض) نے انہیں طلاق بتہ دے دی ١ ؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ ﷺ نے فاطمہ سے فرمایا : اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہوگی، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی، اور جب عدت مکمل ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ فاطمہ (رض) کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم (رض) کے پیغام کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے (یعنی بہت زدو کو ب کرنے والے شخص ہیں) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے ٢ ؎، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ، فاطمہ (رض) کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کرلو، چناچہ میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠) ، سنن النسائی/النکاح ٨ (٣٢٢٤) ، الطلاق ٧٣ (٣٥٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/النکاح ٣٧ (١١٣٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٩) الطلاق ٤ (٢٠٢٤) ، ٩ (٢٠٣٢) ، ١٠ (٢٠٣٥) ، موطا امام مالک/الطلاق ٢٣ (٦٧) ، مسند احمد (٦/ ٤١٢، ٤١٣، ٤١٤ ، ٤١٥) ، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض روایتوں میں ہے ” انہیں تین طلاق دی “ اور بعض میں ہے ” انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی “ اور بعض میں ہے ” انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی “ ان روایات میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ انہیں اس سے پہلے دو طلاق دے چکے تھے اور اس بار تیسری طلاق دی، تو جس نے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے تین طلاق میں سے آخری طلاق دی یا وہ طلاق دی جو باقی رہ گئی تھی تو وہ اصل صورت حال کے مطابق ہے اور جس نے روایت کی ہے کہ طلاق بتہ دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ ایسی طلاق دی جس سے وہ مبتوتہ ہوگی اور جس نے روایت کی ہے کہ تین طلاق دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ تین میں جو کمی رہ گئی تھی اسے پورا کردیا۔ ٢ ؎ : صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا درست ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔
حدیث نمبر: 2284 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَتَسَخَّطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَ أَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس (رض) نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ (رض) نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید (رض) اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ (خرچ) دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٠٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تین طلاق دی ہوئی عورت کے لئے نہ نفقہ ہے، اور نہ سکنی (رہائش) ، نفقہ و سکنی رجعی طلاق میں ہے، اس امید میں کہ شاید شوہر کے دل کے اندر رجوع کی بات پیدا ہوجائے، اور رجوع کرلے۔
حدیث نمبر: 2285 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ. وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً، فَقَالَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت قیس (رض) نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی (رض) نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید (رض) والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش ، نیز نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٨٤، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مجھ سے پوچھے بغیر شادی نہ کرلینا۔
حدیث نمبر: 2286 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو،عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَخَبَرَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَال: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَلَا مَسْكَنٌ، قَالَ فِيهِ: وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
فاطمہ بنت قیس (رض) کہتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں ولا تفوتيني بنفسک ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی (نہ کہ طلاق بتہ) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٢٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2287 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ فِيهِ: وَلَا تُفَوِّتِينِي بِنَفْسِكِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَ الْبَهِيُّ وَ عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَاصِمٍ وَ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، كُلُّهُمْ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا، اور نہ ہی رہائش دلائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٦(١٤٨٠) ، سنن الترمذی/الطلاق ٥ (١١٨٠) ، سنن النسائی/الطلاق ٧٢ (٣٥٨١) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٢٠٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٢٥) ، وقد أخرجہ : دی/الطلاق ١٠ (٣٢٢٠) ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٢٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2288 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس (رض) نے انہیں خبر دی کہ وہ ابوحفص بن مغیرہ (رض) کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ ﷺ سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم (رض) کے گھر منتقل ہوجانے کا حکم دیا ١ ؎۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ (رض) کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں : ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بھی فاطمہ بنت قیس (رض) کی بات کا انکار کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٢٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلقہ کا عدت گزارنے کے لئے گھر سے نکل کر کسی اور جگہ رہنا درست نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی سخت ضرورت لاحق ہوجائے مثلا کرائے کا مکان ہو، اور کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو، یا مکان گرپڑے، یا مالک مکان جبرا نکال دے، یا علاج و معالجہ کی ضرورت ہو، یا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2289 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَأَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَاسْمُ أَبِي حَمْزَةَ دِينَارٌ وَهُوَ مَوْلَى زِيَادٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کے نفقہ کا بیان جس کو طلاق بتہ دی گئی
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس (رض) کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص (رض) کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم ﷺ نے علی (رض) کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی (رض) کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے : اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہوسکتی ہیں، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور آپ سے دریافت کیا) آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کہاں جاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے ، چناچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہوگئی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اسامہ (رض) سے کردیا۔ تو قبیصہ ١ ؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ (رض) کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے فطلقوهن لعدتهن ، لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلک أمرا ٢ ؎ تک یعنی خاوند کا دل مائل ہوجائے اور رجوع کرلے فاطمہ (رض) نے کہا : تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہوگی ؟ ٣ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠) ، سنن النسائی/النکاح ٨ (٣٢٢٤) ، الطلاق ٧٣ (٣٥٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جیسا کہ آگے اس کی تصریح آرہی ہے۔ ٢ ؎ : انہیں ان کی عدت میں یعنی طہر کے شروع میں طلاق دو ، اور مدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے، اس نے یقینا اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ ٣ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نہ نکلنا یا نہ نکالنا صرف پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ہے۔
حدیث نمبر: 2290 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى فَاطِمَةَفَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي حَفْصٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْنِي عَلَى بَعْضِ الْيَمَنِ، فَخَرَجَ مَعَهُ زَوْجُهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ لَهَا، وَأَمَرَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَنْ يُنْفِقَا عَلَيْهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا، وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: أَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يُبْصِرُهَا، فَلَمْ تَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى مَضَتْ عِدَّتُهَا فَأَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ، فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ، فَسَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّه، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ حَتَّى لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1، قَالَتْ: فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَأَمَّا الزُّبَيْدِيُّ، فَرَوَى الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا، حَدِيثَ عُبَيْدِ اللهِ بمَعْنى مَعْمَرٍ، وَحَدِيثَ أَبي سلَمَةَ بمَعْنى عَقِيلٍ. قال أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ مُحمَّدُ بنُ إِسْحاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ، بِمَعْنًى دَلَّ عَلَى خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حِينَ قَالَ: فَرَجَعَ قَبِيصَةُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس (رض) عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ (اصل بات) یاد بھی ہے یا بھول گئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٢٨٨) (تحفة الأشراف : ١٠٤٠٥، ١٨٠٢٥) (صحیح موقوف ) وضاحت : ١ ؎ : کتاب اللہ سے مراد سورة طلاق کی آیت لعل الله يحدث بعد ذلک أمرا ، اور سنت سے مراد عمر (رض) والی روایت ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا کہ مطلقہ ثلاثہ کو نفقہ اور سکنی ملے گا، لیکن یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2291 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ مَعَالْأَسْوَدِ، فَقَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كُنَّا لِنَدَعَ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي أَحَفِظَتْ ذَلِكَ أَمْ لَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) فاطمہ بنت قیس (رض) کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں : چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٤١ (٥٣٢٦) تعلیقاً ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٨ (٢٠٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٠١٨) (حسن )
حدیث نمبر: 2292 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَقَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) سے فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2293 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قِيلَلِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ ؟ قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاطمہ بنت قیس کی تردید
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ (رض) کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں : یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٠٢٣) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے ، سلیمان بن یسار تابعی ہیں )
حدیث نمبر: 2294 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ.
তাহকীক: