কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪০ টি
হাদীস নং: ২১৯৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین طلاقوں کے بعد رجعت نہیں ہو سکتی
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يکتمن ما خلق الله في أرحامهن اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کردیا ہے اسے چھپائیں (سورۃ البقرہ : ٢٢٨) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کردیا گیا اور ارشاد ہوا الطلاق مرتان یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٥٤ (٣٥٢٩) ، ٧٥ (٣٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٣) ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٢٨٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2195 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ سورة البقرة آية 228 الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَنُسِخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق میں طلاق دینا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا، وہ عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ ﷺ کو غصہ آگیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ : کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں (ملتی ہے) ، نبی اکرم ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا : اسے طلاق دے دو ، چناچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا : اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو ، عبد یزید نے کہا : اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کرلو ، اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن (سورۃ الطلاق : ١) اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت (حدیث نمبر : ٢٢٠٦) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک ہی شمار کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٥) (عندہ ” داود بن حصین “ مکان ” بعض بنی أبی رافع “ (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث حسن ہے، اور مؤلف نے جس حدیث (نمبر : ٢٢٠٦) کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضعیف ہے، نیز اولاد رکانہ واقعہ کے بیان میں خود مضطرب ہیں، یاد رہے کہ عہد نبوی میں ” تین طلاق “ اور ” طلاقہ بتہ “ ہم معنی الفاظ تھے، عہد نبوی و عہد صحابہ کے بعد لوگوں نے ” طلاق بتہ “ کا یہ معنی بنادیا کہ جس میں ایک دو ، تین طلاق دہندہ کی نیت کے مطابق طے کیا جائیگا (تفصیل کے لے دیکھئے تنویر الآفاق )
حدیث نمبر: 2196 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَجُلَسَائِهِ: أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ، وَفُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا ؟قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ يَزِيدَ: طَلِّقْهَا، فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ: رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ، رَاجِعْهَا، وَتَلَا: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ، لِأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ إِنَّ رُكَانَةَ، إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق میں طلاق دینا
مجاہد کہتے ہیں : میں ابن عباس (رض) کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس (رض) خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا : تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو : اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ومن يتق الله يجعل له مخرجا ١ ؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن ، في قبل عدتهن ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس (رض) سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس (رض) نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہوگئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے (یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی) تو وہ ایک شمار ہوگی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داودٔ (تحفة الأشراف : ٦٤٠١) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ التفسیر (١١٦٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ، وہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے۔ ٢ ؎ : اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو ۔
حدیث نمبر: 2197 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2، وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ، فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا، عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ أَيُّوبُ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، كُلُّهُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ: أَنَّهُ أَجَازَهَا، قَالَ: وَبَانَتْ مِنْكَنَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ. وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، هَذَا قَوْلُهُ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَجَعَلَهُ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق میں طلاق دینا
ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عباس (رض) کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ (رض) کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور ابن عباس (رض) کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہوجائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہوچکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے اس کی مثال صَرْف والی حدیث کی طرح ہے ١ ؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کرلیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٤٣٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/المغازی ١٠ (٣٩٩١ تعلیقًا) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جس طرح وہ نقدی کو نقدی سے بیچنے کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں ربا صرف ادھار کی صورت میں ہے نقد کی صورت میں نہیں پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس سے بھی انہوں نے بعد میں رجوع کرلیا تھا۔
حدیث نمبر: 2198 وَصَارَ قَوْلُ وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، فَكُلُّهُمْ قَالُوا: لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. قالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ حِينَ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَا: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ سَاقَ هَذَا الْخَبَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ هُوَ: أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ تَبِينُ مِنْ زَوْجِهَا مَدْخُولًا بِهَا وَغَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. هَذَا مِثْلُ خَبَرِ الصَّرْفِ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق میں طلاق دینا
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس (رض) سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے زمانے نیز عمر (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : ہاں کیوں نہیں ؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے زمانے میں نیز عمر (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر (رض) نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٧٦٣) (ضعیف) (اس سند میں غیر واحد مبہم رواة ہیں ، مگر اس میں غیرمدخول بہا کا لفظ ہی منکر ہے باقی باتیں اگلی روایت سے ثابت ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مگر عمر (رض) کا یہ حکم واجب العمل نہیں ہوسکتا ، کیونکہ حدیث صحیح سے رسول اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں تین طلاق کا ایک طلاق ہونا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2199 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْطَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو الصَّهْبَاءِ، كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا، قَالَ: أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق میں طلاق دینا
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کے زمانے میں نیز عمر (رض) کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : ہاں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٢ (١٤٧٢) ، سنن النسائی/الطلاق ٨ (٣٤٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٧١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ائمہ حدیث اور علما ظاہر کا اسی پر عمل ہے۔
حدیث نمبر: 2200 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَلِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتْ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق کنایہ کا بیان اور یہ کہ احکام نیت پر مرتب ہوتے ہیں
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چناچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الوحي ١ (١) ، الایمان ٤١ (٥٤) ، العتق ٦ (٢٥٢٩) ، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٨٩٨) ، النکاح ٥ (٥٠٧٠) ، النذور ٢٣ (٦٦٨٩) ، الحیل ١ (٦٩٥٣) ، صحیح مسلم/الإمارة ٤٥ (١٩٠٧) ، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٦ (١٦٤٧) ، سنن النسائی/الطھارة ٦٠ (٧٥) ، الطلاق ٢٤ (٣٤٦٧) ، الأیمان والنذور ١٩ (٣٨٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٢٦ (٤٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥، ٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2201 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق کنایہ کا بیان اور یہ کہ احکام نیت پر مرتب ہوتے ہیں
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب (رض) کے نابینا ہوجانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا : کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چناچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا : تم اپنے میکے چلی جاؤ ١ ؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٢٦ (٢٧٥٧) ، والجھاد ١٠٣ (٢٩٤٧) ، ١٩٨ (٣٠٨٨) ، و تفسیر سورة البراء ة ١٤ (٤٦٧٣) ، ١٧ (٤٦٧٧) ، ١٨ (٤٦٧٧) ، ١٩ (٤٦٧٨) ، والاستئذان ٢١ (٦٢٥٥) ، والأیمان والنذور ٢٤ (٦٦٩١) ، والأحکام ٥٣ (٧٢٢٥) ، صحیح مسلم/التوبة ٩ (٢٧٦٩) ، سنن النسائی/المساجد ٣٨ (٧٣٢) ، والطلاق ١٨ (٣٤٥٣) ، والأیمان والنذور ٣٦(٣٨٥٤) ، ٣٧ (٣٨٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١١١٣١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر سورة التوبة (٣١٠١) ، مسند احمد (٣/٤٥٥، ٤٥٧، ٤٥٩، ٦/٣٨٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٤ (١٥٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی انہوں نے اپنے اس قول سے طلاق کی نیت نہیں کی تو اس سے طلاق نہیں مراد لی گئی، اگر وہ طلاق کی نیت کرتے تو طلاق واقع ہوجاتی، کنائی الفاظ سے اسی وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب اس کی نیت کی ہو۔
حدیث نمبر: 2202 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَسَاقَ قِصَّتَهُ فِي تَبُوكَ، قَالَ: حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کو طلاق کا اختیار دینا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٥ (٥٢٦٢) ، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٧) ، سنن الترمذی/الطلاق ٤ (١١٧٩) ، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٤) والطلاق ٢٧ (٣٤٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٠ (٢٠٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٥، ٤٧، ١٧١، ١٧٣، ١٨٥، ٢٠٢، ٢٠٥، ٢٣٩) ، سنن الدارمی/الطلاق ٥ (٢٣١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑجائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2203 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ اب طلاق کا اختیار تجھے ہے تو اسکا کیا حکم ہے؟
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی أمرک بيدك کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا : نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ (رض) سے ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں : تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے : میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطلاق ٣ (١١٧٨) ، سنن النسائی/الطلاق ١١(٣٤٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 2204 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ ؟قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ. قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ. فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ. فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہہ دے کہ اب طلاق کا اختیار تجھے ہے تو اسکا کیا حکم ہے؟
حسن سے أمرک بيدك کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٩٢، ١٨٥٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : أمرک بيدك کے معنی ہیں : تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہوگی، لیکن ام المومنین عائشہ (رض) کی مذکورہ حدیث نمبر (٢٢٠٣) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2205 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ الْحَسَنِ، فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ، قَالَ: ثَلَاثٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتہ کا بیان
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ١ ؎ (قطعی طلاق) دے دی، پھر نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی ؟ رکانہ نے کہا : قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر (رض) کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان (رض) کے دور خلافت میں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطلاق ٢ (١١٧٧) ، ق / الطلاق ١٩ (٢٠٥١) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/ الطلاق ٨ (٢٣١٨) (ضعیف) (اس کے راوی نافع مجہول ہیں ، نیز اس حدیث میں بہت ہی اضطراب ہے اس لئے بروایت امام ترمذی امام بخاری نے بھی اس کو ضعیف قرارد یا ہے ) وضاحت : ١ ؎ : البتہ : بتّ کا اسم مرہ ہے ، البتہ اور بتات کے معنی یقیناً اور قطعاً کے ہیں، طلاق بتہ یا البتہ ایسی طلاق جو یقینی اور قطعی طور پر پڑچکی ہے ، اور صحیح احادیث کی روشنی میں تین طلاق سنت کے مطابق تین طہر میں دی جائے ، تو اس کے بعد یہ طلاق قطعی اور بتہ ہوگی، واضح رہے کہ یزید بن رکانہ کی یہ حدیث ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2206 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّرُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً ؟فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتہ کا بیان
اس سند سے بھی رکانہ بن عبد یزید سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2207 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ ابْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتہ کا بیان
رکانہ بن عبد یزید (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا : تم نے کیا نیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : ایک کی، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی بیان کردہ ہے اور وہ حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں اور ابن جریج والی روایت بعض بنی رافع (جو ایک مجہول ہے) سے منقول ہے جسے وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس (رض) سے، (دیکھئیے حدیث نمبر : ٢٠٩٦) تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٣) (اس کے تین رواة ضعیف ہیں ، دیکھئے : إرواء الغلیل : ٢٠٦٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2208 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ ؟قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ ؟قَالَ: آللَّهِ ؟ قَالَ: هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتِهِ وَهُمْ أَعْلَمُ بِهِ. وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ رَوَاهُ عَنْ بَعْضِ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محض طلاق کے خیال سے طلاق واقع نہیں ہوتی
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کردیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العتق ٦ (٢٥٢٨) ، والطلاق ١١ (٥٢٦٩) ، والأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٥٨ (١٢٧) ، سنن الترمذی/الطلاق ٨ (١١٨٣) ، سنن النسائی/الطلاق ٢٢ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٤ (٢٠٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٩٣، ٣٩٨، ٤٢٥، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٩١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 2209 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ، وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کو بہن کہنا
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن ! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا یہ تیری بہن ہے ؟ آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٩٩، ١٨٨٤٦) (اس کے راوی ابوتمیمة تابعی ہیں اس لئے مرسل ہے) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : اگرچہ اس کے کہنے سے وہ اس کی بہن نہیں ہوجائے گی مگر نامناسب بات زبان سے نکالنی مناسب نہیں، گو وہ اس کی دینی بہن ہو یا رشتہ میں بھی بہن کے مرتبہ کی ہو جیسے چچا یا پھوپھی یا خالہ کی بیٹی۔
حدیث نمبر: 2210 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخَيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُخْتُكَ هِيَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کو بہن کہنا
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن ! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٩٩، ١٨٨٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کردیا ہے )
حدیث نمبر: 2211 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخَيَّةُ، فَنَهَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کو بہن کہنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین جھوٹ بولے ١ ؎ جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے، پہلا جب انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں ٢ ؎، دوسرا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا : بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے کی کارستانی ہے، تیسرا اس موقعہ پر جب کہ وہ ایک سرکش بادشاہ کے ملک سے گزر رہے تھے ایک مقام پر انہوں نے قیام فرمایا تو اس سرکش تک یہ بات پہنچی، اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، چناچہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بلوایا اور عورت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : یہ تو میری بہن ہے ، جب وہ لوٹ کر بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو کیونکہ آج میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہے لہٰذا تم میری دینی بہن ہو، تو تم اس کے پاس جا کر مجھے جھٹلا نہ دینا ، اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ (رض) سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٥٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٧) ، والنکاح ١٢(٥٠١٢) ، صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٧١) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة الأنبیاء (٣١٦٥) ، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : انہیں جھوٹ اس لئے کہا گیا ہے کہ ظاہر میں تینوں باتیں جھوٹ تھیں، لیکن حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ تینوں باتیں بطور تعریض و توریہ کہی تھیں، توریہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذومعنی گفتگو کرے، جس کا ایک ظاہری مفہوم ہو اور ایک باطنی، وہ اپنی گفتگو سے صحیح مقصود کی نیت کرے اور اس کی طرف نسبت کرنے میں جھوٹا نہ ہو، اگرچہ ظاہری الفاظ میں اور اس کی چیز کی طرف نسبت کرنے میں جسے مخاطب سمجھ رہا ہو جھوٹا ہو۔ ٢ ؎ : یہ بات ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہی تھی جب ان کے شہر کے لوگ باہر میلے کے لئے جارہے تھے، ان سے بھی لوگوں نے چلنے کے لئے کہا، تو انہوں نے بہانہ کیا کہ میں بیمار ہوں، یہ بہانہ بتوں کو توڑنے کے لئے کیا تھا، پھر جب لوگ میلہ سے واپس آئے تو پوچھا بتوں کو کس نے توڑا ؟ ابراہیم وضاحت نے جواب دیا : ” بڑے بت نے توڑا “ ، اگرچہ یہ دونوں قول خلاف واقعہ تھے لیکن حکمت سے خالی نہ تھے، اللہ کی رضامندی کے واسطے تھے۔
حدیث نمبر: 2212 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثًا: ثِنْتَانِ فِي ذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأُتِيَ الْجَبَّارُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ نَزَلَ هَاهُنَا رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ هِيَ أَحْسَنُ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا أُخْتِي، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْهَا، قَالَ: إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، وَإِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، وَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُوَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہار کا بیان
سلمہ بن صخر بیاضی (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چناچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کرلیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آگیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم یہ نہیں ہوسکتا تو میں خود ہی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ﷺ کو پوری بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا : سلمہ ! تم نے ایسا کیا ؟ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہوگئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا : میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا : مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ ﷺ نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطلاق ٢٠ (١١٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٥ (٢٠٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٧، ٥/٤٣٦) ، سنن الدارمی/الطلاق ٩ (٢٣١٩) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو الإرواء : ٢٠٩١) ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٢١٣ ) وضاحت : ١ ؎ : ظہار ی ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے أنت علي كظهر أمي یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، شریعت اسلامیہ میں ایسا کہنے والا گنہگار ہوگا اور اس پر کفارہ لازم ہوگا، جب تک کفارہ ادا نہ کر دے وہ بیوی کے قریب نہیں جاسکتا۔
حدیث نمبر: 2213 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ ابْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ: عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ الْبَيَاضِيُّ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنَ امْرَأَتِي شَيْئًا يُتَابَعُ بِي حَتَّى أُصْبِحَ، فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِخَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ، وَقُلْتُ: امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لَا وَاللَّهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتَ بِذَاكَ يَا سَلَمَةُ، قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، وَأَنَا صَابِرٌ لِأَمْرِ اللَّهِ، فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ، قَالَ: حَرِّرْ رَقَبَةً، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: وَهَلْ أَصَبْتُ الَّذِي أَصَبْتُ إِلَّا مِنَ الصِّيَامِ، قَالَ: فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ بِتْنَا وَحْشَيْنِ مَا لَنَا طَعَامٌ، قَالَ: فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، وَكُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَنِي، أَوْ أَمَرَ لِي، بِصَدَقَتِكُمْ، زَادَ ابْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: بَيَاضَةُ بَطْنٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہار کا بیان
خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ (رض) کہتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کرلیا تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ ﷺ مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے : اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی : قد سمع الله قول التي تجادلک في زوجها اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی (سورۃ المجادلہ : ١) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں : ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں : ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں : اسی وقت آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آگئی، میں نے کہا : اللہ کے رسول (آپ یہ دے دیجئیے) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ، اور اپنے چچا زاد بھائی (یعنی شوہر) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٨٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤١٠) (حسن )
حدیث نمبر: 2214 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ: ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ، وَيَقُولُ: اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 إِلَى الْفَرْضِ، فَقَالَ: يُعْتِقُ رَقَبَةً، قَالَتْ: لَا يَجِدُ، قَالَ: فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَتْ: مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَتْ: فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتِ، اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ، قَالَ: وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد فِي هَذَا: إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
তাহকীক: