কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২ টি
হাদীস নং: ১৫৩৪
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا
ام الدرادء (رض) کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء (رض) نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے (غائبانہ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں : تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٥) ، مسند احمد (٥/١٩٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1534 حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৫
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٥٠ (١٩٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1535 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৬
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البروالصلة ٧ (١٩٠٥) ، والدعوات ٤٨ (٣٤٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١١ (٣٨٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٨، ٣٤٨، ٤٣٤، ٤٧٨، ٥١٧، ٥٢٣) (حسن )
حدیث نمبر: 1536 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৭
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی قوم سے خوف ہو تو کیا کرے
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے : اللهم إنا نجعلک في نحورهم ونعوذ بک من شرورهم اے اللہ ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩١٢٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٦٠١) ، مسند احمد (٤/٤١٤، ٤١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1537 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৮
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استخارہ کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة سکھاتے تھے، آپ ﷺ ہم سے فرماتے : جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے :اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولاأقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ١ ؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث کان ثم رضني به اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ١ ؎ میرے واسطے دین و دنیا، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر، اے اللہ ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین، دنیا، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی فرما ۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں عن محمد بن المنکدر عن جابر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ٢٥ (١١٦٢) ، والدعوات ٤٨ (٦٣٨٢) ، والتوحید ١٠ (٧٣٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (٤٨٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٨ (١٣٨٣) ، سنن النسائی/النکاح ٢٧ (٣٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں پر اس کام کا نام لے یا صرف دل میں اس کا خیال کرلے۔
حدیث نمبر: 1538 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ، خَالُ الْقَعْنَبِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ. قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ عِيسَى: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৯
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٥٤) ، (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
حدیث نمبر: 1539 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪০
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من العجز، والکسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بک من عذاب القبر، وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٢٥ (٢٨٢٣) ، و تفسیر سورة النحل ١ (٤٧٠٧) ، والدعوات ٣٨ (٦٣٦٧) ، ٤٢ (٦٣٧١) ، صحیح مسلم/الذکر ١٥ (٢٧٠٦) ، سنن النسائی/الاستعاذہ ٦ (٥٤٥٤) ، مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧، ٢٠٨، ٢١٤، ٢٣١) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٣) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الدعوات ٧١ (٣٤٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : زندگی کا فتنہ : بیماری ، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد ، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 1540 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪১
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا :اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ١ ؎ نے ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٤٠ (٦٣٦٩) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧١ (٣٤٨٤) ، سنن النسائی/الاستعاذة ٧ (٥٤٥٥) (تحفة الأشراف : ١١١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٢٠، ٢٢٦، ٢٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
حدیث نمبر: 1541 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِوَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪২
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورة سکھاتے تھے، فرماتے : اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧٠ (٣٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣٣) ، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 1542 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৩
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے : اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار، و عذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر اے اللہ ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف : ١٧١٣٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الدعاء ٢٥ (٥٨٩) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧٢ (٣٤٨٩) ، سنن النسائی/الاستعاذة ١٦ (٥٤٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1543 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৪
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم اے اللہ ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذہ ١٣ (٥٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٨) ، مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٢٥، ٣٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض حدیثوں میں آپ ﷺ نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ ﷺ نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1544 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৫
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا تھی : اللهم إني أعوذ بک من زوال نعمتک، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتک، وجميع سخطک اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1545 حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৬
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تو فرماتے : اللهم إني أعوذ بک من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق اے اللہ ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ضبارة مجہول اور دوید لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1546 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السُّلَيْكِ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৭
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة اے اللہ ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ١٩ (٥٤٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٣ (٣٣٥٤) (حسن )
حدیث نمبر: 1547 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من الأربع : من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع اے اللہ ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں : ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٠) ، والدعاء ٢ (٣٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1548 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من صلاة لا تنفع اے اللہ ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨٧) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1549 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: أُرَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُوَذَكَرَ دُعَاءً آخَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا : آپ کہتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل اے اللہ ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٨ (٢٧١٦) ، سنن النسائی/السہو ٦٣ (١٣٠٨) ، والاستعاذة ٥٧ (٥٥٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣١، ١٠٠، ١٣٩، ٢١٣، ٢٥٧، ٢٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1550 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫১
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
شکل بن حمید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : کہو : االلهم إني أعوذ بک من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي ١ ؎ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٧٥ (٣٤٩٢) ، سنن النسائی/الاستعاذة ٣ (٥٤٤٦) ، ٩ (٥٤٥٧) ، ١٠(٥٤٥٨) ، ٢٧ (٥٤٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا ، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ ، دل کی برائی حسد، کفر ، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بےمحل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
حدیث نمبر: 1551 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى عَنْسَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫২
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
ابوالیسر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من الهدم، وأعوذ بک من التردي، وأعوذ بک من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلک مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا اے اللہ ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٦٠ (٥٥٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١١١٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1552 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৩
استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے پناہ طلب کرنے والی چیزیں
اس سند سے بھی ابوالیسر (رض) سے اسی طرح کی روایت ہے اس میں والغم کا اضافہ ہے یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1553 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ،أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، زَادَ فِيهِوَالْغَمِّ.
তাহকীক: