কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১২৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
نعیم بن ہمار (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ١ ؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود، سنن النسائی/ الکبری الصلاة ٦٠ (٤٦٦، ٤٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٦، ٢٨٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٠ (١٤٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علماء نے ان رکعتوں کو نماز الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1289 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَا تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
ام ہانی بنت ابی طالب (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے : رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں : رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے ، دیکھئے اگلی حدیث )
حدیث نمبر: 1290 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْمَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِصَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَىفَذَكَرَ مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی (رض) کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٢ (١١٠٣) ، والتھجد ٣١ (١١٧٦) ، والجزیة ٩ (٣١٧١) ، والغازي ٥٠ (٤٢٩٢) ، والآدب ٩٤ (٦١٥١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٣٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (٤٧٤) ، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٠٧) ، وقد أخرجہ : الحیض ١٦ (٣٣٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٧ (١٣٢٣) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٨) ، مسند احمد (٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1291 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَاغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا : کیا رسول اللہ ﷺ دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ؟ آپ نے کہا : مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧) ، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤ ، ٢١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” سورة الحجرات “ سے ” سورة الناس “ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1292 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٥ (١١٢٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٩) ، مسند احمد (٦/٨٥، ٨٦، ١٦٧، ١٦٩، ٢٢٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٢ (١٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1293 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کا بیان
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ (رض) سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے ؟ آپ نے کہا : ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا) ، آپ ﷺ جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٢ (٦٧٠) ، والفضائل ١٧ (٢٣٢٢) ، سنن النسائی/السھو ٩٩ (١٣٥٩، ١٣٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٢١٥٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٥ (٥٨٥) ، مسند احمد (٥/٩١، ٩٧، ١٠٠، ٠١ ١، ١٠٥، ١٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1294 حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًافَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن کی نماز کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (٥٩٧) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٧) ، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٦، ٥١) ، سنن الدارمی/ الصلاة ١٥٥(١٥٠٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1295 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن کی نماز کا بیان
مطلب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو : اے اللہ ! اے اللہ ! ، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا : چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1296 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ. سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوٰةالتسبیح کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب (رض) سے فرمایا : اے عباس ! اے میرے چچا ! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں ؟ کیا میں آپ کو نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں : آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کرلیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٠ (١٣٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1297 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوٰةالتسبیح کا بیان
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو (رض) تھے، انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ ﷺ نے فرمایا : جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ : پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کرلو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی ، میں نے عرض کیا : اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کرسکوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کرلو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حبان بن ہلال : ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس (رض) سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں فقال حديث عن النبي ﷺ (تو ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٦٠٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1298 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَحَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ: إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ ؟ قَالَ: صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ: حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوٰةالتسبیح کا بیان
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے : پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٣٩٤، ١٥٦٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1299 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِجَعْفَرٍ: بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٧ (الجمعة ٧١) (٦٠٤) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١١٠٧) (حسن )
حدیث نمبر: 1300 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہوجاتے (یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں : ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٤٦٨، ١٨٦٧٧) (ضعیف) (اس کے راوی یعقوب بن عبد اللہ قمی اور جعفر دونوں میں کلام ہے ، نیز ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے )
حدیث نمبر: 1301 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے : میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي ﷺ کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس (رض) سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٤٦٨، ١٨٦٧٧) (ضعیف )
حدیث نمبر: 1302 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: كُلُّ شَيْءٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی سنتوں کا بیان
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 1303 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی فرضیت کا منسوخ ہونا اور اس میں سہولت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں سورة مزمل کی آیت قم الليل إلا قليلا، نصفه ١ ؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرء وا ما تيسر من القرآن ٢ ؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کرسکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کردیا ہے،ناشئة الليل کے معنی شروع رات کے ہیں، چناچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور أقوم قيلا سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول إن لک في النهار سبحا طويلا ٣ ؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : سورة المزمل : (٢، ٣) ٢ ؎ : سورة المزمل : (٢٠) ٣ ؎ : سورة المزمل : ( ٧ )
حدیث نمبر: 1304 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا 2 نِصْفَهُ سورة المزمل آية 1-2 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ سورة المزمل آية 20 وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: وَأَقْوَمُ قِيلا سورة المزمل آية 6 هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا سورة المزمل آية 7، يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کی فرضیت کا منسوخ ہونا اور اس میں سہولت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورة کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٦٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1305 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے : ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ١٢ (١١٤٢) ، وبدء الخلق ١١ (٣٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٢٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٨ (٧٧٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦٠٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٤ (١٣٢٩) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٥) ، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٢٥٣، ٢٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1306 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ، عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٢٦، ٢٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1307 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦١١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٤٥٠ ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی۔
حدیث نمبر: 1308 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ.
তাহকীক: