কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১১৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٦ (١٢٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٥، ٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہی سارے محدثین ، امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا مذہب ہے، لیکن امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ ملا کر ہیں، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قیام کے علاوہ، اور امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ زائد سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ زائد پانچ تکبیرات (اور سبھی کے نزدیک یہ تکبیریں دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی) ، امام ابوحنیفہ کے نزدیک پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، لیکن اس کے لئے کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1149 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات کا بیان
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ، اس میں ہے (یہ تکبیریں) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1150 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر (زوائد) کے بعد ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٦ (١٢٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨٠) (حسن )
حدیث نمبر: 1151 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَالتَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى، وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر الله أكبر کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١١٥١، (تحفة الأشراف : ٨٧٢٨) (حسن صحیح) (لیکن أربعاً کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ خمساً ہے )
حدیث نمبر: 1152 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ الْأُولَى سَبْعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: سَبْعًا وَخَمْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات کا بیان
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے ؟ تو ابوموسیٰ نے کہا : چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا : انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا : میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں : اس (گفتگو کے وقت) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٣٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤١٦) (حسن) (ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : ١٠٤٦/م )
حدیث نمبر: 1153 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: صَدَقَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ، وقَالَ أَبُو عَائِشَةَ: وَأَنَا حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی نماز میں کون سی سورتیں پڑھی جائیں
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو واقد الیثی (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ آپ نے کہا : آپ ﷺ ان میں ق والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة وانشق القمر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العیدین ٣ (٨٩١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣) ، (٥٣٤، ٥٣٥) ، سنن النسائی/العیدین ١١ (١٥٦٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٧ (١٢٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥١٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ العیدین ٤ (٨) ، مسند احمد (٥/٢١٧، ٢١٨، ٢١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1154 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ سننے کے لئے لوگوں کا بیٹھے رہنا
عبداللہ بن سائب (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العیدین ١٤ (١٥٧٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٩ (١٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1155 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّا نَخْطُبُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید گاہ کی آمدورفت کے لئے الگ الگ راستے اختیار کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة ١٦٢ (١٢٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٠٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1156 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَذَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، ثُمَّ رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام کسی عذر کی بناء پر عید کے دن نماز نہ پڑھا سکے تو دوسرے دن پڑھائے
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العیدین ١ (١٥٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٥٧، ٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1157 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِفَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام کسی عذر کی بناء پر عید کے دن نماز نہ پڑھا سکے تو دوسرے دن پڑھائے
بکر بن مبشر انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٠٢٦) (ضعیف) (اسحاق بن سالم مجہول راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ایک تو یہ حدیث ضعیف ہے دوسرے اس کا تعلق پچھلے باب سے ہے ، سنن ابوداود کے بعض نسخوں میں پچھلے ہی باب میں ہے۔
حدیث نمبر: 1158 حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: كُنْتُ أَغْدُو مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى، فَنَسْلُكُ بَطْنَ بَطْحَانَ حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَنُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعَ مِنْ بَطْنِ بَطْحَانَ إِلَى بُيُوتِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال (رض) بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال (رض) کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٤) ، ٢٦ (٩٨٩) ، الزکاة ٢١ (١٤٣١) ، اللباس ٥٧ (٥٨٨١) ، ٥٩ (٥٨٨٣) ، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤) ، سنن الترمذی/الجمعة ٣٥ (٥٣٧) ، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٨٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٠ (١٢٩١) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٥٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) ، وانظر أیضاحدیث رقم : ١١٤٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1159 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بارش کے دن عید کی نماز مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ (ایک بار) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة ١٦٧ (١٣١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٢٠) (ضعیف) (عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول راوی ہیں )
حدیث نمبر: 1160 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ الْفَرَوِيِّينَ، وَسَمَّاهُ الرَّبِيعُ فِي حَدِيثِهِ عِيسَى بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، سَمِعَ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍفَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
عبداللہ بن زید بن عاصم (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستسقاء ١ (١٠٠٥) ، ٤ (١٠١٢) ، ١٥ (١٠٢٣) ، والدعوات ٢٥ (٦٣٤٣) ، صحیح مسلم/الاستسقاء ١ (٨٩٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٨ (الجمعة ٤٣) (٥٥٦) ، سنن النسائی/الاستسقاء ٢ (١٥٠٤) ، ٣ (١٥٠٦) ، ٥ (١٥٠٨) ، ٦ (١٥٠٩) ، ٧ (١٥١٠) ، ٨ (١٥١١) ، ١٢ (١٥١٩) ، ١٤ (١٥٢١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٣ (١٢٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة الاستسقاء ١(١) ، مسند احمد (٤/٣٨، ٣٩، ٤٠، ٤١، ٤٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٨ (١٥٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا اور نیچے کا اوپر ، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہوگیا اور بایاں کنارہ داہنی طرف، اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آجائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آجائے۔
حدیث نمبر: 1161 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْعَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ بِالنَّاسِ لِيَسْتَسْقِيَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا وَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے (جو صحابی رسول تھے) سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1162 حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: وَقَرَأَ فِيهِمَا. زَادَ ابْنُ السَّرْحِ: يُرِيدُ الْجَهْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے : آپ ﷺ نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کرلیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1163 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي الْحِمْصِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْالزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
عبداللہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقا پڑھی، آپ ﷺ کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1164 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا، فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے، جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1166 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
عبداللہ بن زید مازنی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف نکلے، اور (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کی، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر پلٹی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1167 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة استسقاء کے احکام
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے (عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے، جو مدینہ کے حاکم تھے) ابن عباس (رض) کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں : آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٨ (٥٥٨) ، سنن النسائی/الاستسقاء ٣ (١٥٠٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٣ (١٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٦٩، ٣٥٥) (حسن )
حدیث نمبر: 1165 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ نَحْوَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقَبَةَ، قَالَ عُثْمَانُ ابْنُ عُقْبَةَ: وَكَانَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى، زَادَ عُثْمَانُ: فَرَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالْإِخْبَارُ لِلنُّفَيْلِيِّ، وَالصَّوَابُ ابْنُ عُقْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز استسقاء میں رفع یدین کا بیان
عمیر مولیٰ آبی اللحم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٠٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجمعة ٤٣ (٥٥٧) ، مسند احمد (٥/٢٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1168 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَعُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنْ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ.
তাহকীক: