কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১১০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو امام خطبہ موقوف کرسکتا ہے
بریدہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین (رض) دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ ﷺ منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا : اللہ نے سچ فرمایا ہے : إنما أموالکم وأولادکم فتنة (التغابن : ١٥) تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤) ، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٩٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1109 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ، ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کے دوران گو ٹھ مار کر بیٹھنا
معاذ بن انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ١ ؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٣ (الجمعة ١٨) (٥١٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔ ٢ ؎ : اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1110 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کے دوران گو ٹھ مار کر بیٹھنا
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ (رض) کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1111 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کے وقت گفتگو ممنوع ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں (کسی سے) کہا : چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٢٢ (١٤٠٢، ١٤٠٣) ، والعیدین ٢١ (١٥٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٤٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٣٩٤) ، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (الجمعة ١٦) (٥١٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٦ (١١١٠) ، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1112 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قُلْتَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کے وقت گفتگو ممنوع ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں : ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ١ ؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا کیونکہ اللہ فرماتا ہے : جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٨٦٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٨١، ٢١٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 1113 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی اپنا وضو ٹوٹنے کی اطلاع امام کو کس طرح دے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہوجائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٠٤٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٨ (١٢٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے کیوں کہ شرم کی بات (ہوا خارج ہوجانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1114 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص خطبہ کے دوران مسجد میں آئے تو وہ تحیة المسجد کی نماز پڑھے یا نہیں؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ، اس نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اٹھ کر نماز پڑھو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التھجد ٢٥ (١١٦٦) ، والجمعة ٣٢ (٩٣٠) ، ٣٣ (٩٣١) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١٠) ، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٥١١) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٧ (١١١٣) ، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٦ (١٤٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
حدیث نمبر: 1115 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَأَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص خطبہ کے دوران مسجد میں آئے تو وہ تحیة المسجد کی نماز پڑھے یا نہیں؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں سلیک غطفانی (رض) (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم نے کچھ پڑھا ؟ ، انہوں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٧ (١١١٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٩٤، ١٢٣٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1116 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُأَصَلَّيْتَ شَيْئًا ؟قَالَ: لَا، قَالَ: صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص خطبہ کے دوران مسجد میں آئے تو وہ تحیة المسجد کی نماز پڑھے یا نہیں؟
جابر بن عبداللہ (رض) کا بیان ہے کہ سلیک (رض) آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٣٣٩) ، مسند احمد (٣/٢٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی (رض) کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
حدیث نمبر: 1117 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن لوگوں کی گردن نہ پھاندے
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بسر (رض) کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا : ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا : بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٢٠ (١٤٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٥١٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٨٨، ١٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1118 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ کے دوران کسی کو اونگھ آنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٢ (الجمعة ٢٧) (٥٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢، ٣٢، ١٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1119 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام منبر سے اتر نے کے بعد گفتگو کرسکتا ہے
انس (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ (خطبہ دے کر) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کرلیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (الجمعة ٢١) (٥١٧) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٩ (١١١٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧) (ضعیف) (والصحیح ہو الحدیث رقم : ٢٠١) (جریر بن حازم سے وہم ہوا ہے ، اصل واقعہ عشاء کا ہے نہ کہ جمعہ کا ، جیسا کہ حدیث نمبر : ٢٠١ میں ہے )
حدیث نمبر: 1120 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، لَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَهُ مُسْلِمٌ أَوْ لَا، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْزِلُ مِنْ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ ثَابِتٍ هُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی ایک رکعت پالینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧) ، سنن النسائی/المواقیت ٣٠ (٥٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٤٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥) ، دی/الصلاة ٢٢(١٢٥٦، ١٢٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سنن ابن ماجہ میں باب ماجاء فیمن أدرک من الجمع ۃ رکع ۃ کے تحت تین حدیثیں ہیں ، پہلی بسند ابن ابی ذئب عن الزہری عن ابی سلمہ و سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ کا لفظ یہ ہے : من أدرک من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى اور دوسری حدیث بطریق ابن عیینہ عن الزہری عن ابی سلم ۃ عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ مثل سیاق ابی داود مروی ہے، اور تیسری روایت بسند یونس بن یزید الأیلی عن الزہری عن سالم عن ابن عمرعن النبی ﷺ ہے اور اس کا سیاق یہ ہے : من أدرک ركعة من صلاة الجمعة أو غيرها فقد أدرک الصلاة اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت سے کم پائے گا تو اس کی جمعہ کی نماز فوت ہوجائے گی، یعنی وہ جمعہ کے بدلے ظہر کی چار رکعتیں پڑھے گا، یہی جمہور کا مذہب ہے، اور ابوداود اور ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر پوری ایک رکعت نہ پائے، مثلاً : دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا ، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے ، اور بعض کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے :ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا ( کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کرلو) تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا ، اور یہ دو رکعت ہی ہے، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے ، اور اس کی تائید مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کی ہے۔ ( ملاحظہ ہو : تحفۃ الأحوذی علی سنن الترمذی حدیث رقم : ٥٢٤ )
حدیث نمبر: 1121 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز جمعہ میں کون سی سورتیں پڑھنی چاہئیں
نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں اور جمعہ کے روز سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑجاتا تو (بھی) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣) (٥٣٣) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٥) ، والعیدین ٣١ (١٥٩١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١٢٠) ، ١٥٧ (١٢٨١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩) ، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٣، ٢٧٦، ٢٧٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1122 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، قَالَ: وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَقَرَأَ بِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز جمعہ میں کون سی سورتیں پڑھنی چاہئیں
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورة الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٤) سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٣٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩) ، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٧) ، دی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٧، ١٦٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1123 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ: مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ: كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز جمعہ میں کون سی سورتیں پڑھنی چاہئیں
ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ (رض) نے نماز جمعہ پڑھائی تو (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ اور دوسری میں إذا جاءک المنافقون پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے (نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی (رض) کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٧ (الجمعة ٢٢) (٥١٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1124 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز جمعہ میں کون سی سورتیں پڑھنی چاہئیں
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٦١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧، ١٣، ١٤، ١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1125 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مقتدی اور امام کے بیچ میں دیوار حائل ہو تو اقتداء درست ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٨٠ (٧٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1126 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے بعد نفل نماز پڑھنے کا بیان
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا : کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو ؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجمعة ٤٣ (١٤٣٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٨) ، والجمعة ١٨ (٨٨٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٩ (الجمعة ٢٤) (٥٢٢) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٣(٦٩) ، مسند احمد (٢/٤٤٩، ٤٩٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤(١٤٧٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1127 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْد، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَقَامِهِ، فَدَفَعَهُ، وَقَالَ: أَتُصَلِّي الْجُمُعَةَ أَرْبَعًاوَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَيَقُولُ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے بعد نفل نماز پڑھنے کا بیان
نافع کہتے ہیں ابن عمر (رض) جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ اسے پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٧٥٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1128 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَيُطِيلُ الصَّلَاةَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ، وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِوَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক: