কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৯৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں : ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ آپ ﷺ ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں : اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن و بارک لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاکرين لنعمتک مثنين بها قابليها وأتمها علينا اے اللہ ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزارو ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (شریک کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 969 حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ،عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عُلِّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود (رض) کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کرلی تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٤٧٤) ، وانظر رقم (٩٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٢٢) (شاذ) (إذا قلت ... الخ کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے )
حدیث نمبر: 970 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُبِيَدِي فَحَدَّثَنِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِفَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے : التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : اس تشہد میں وبرکاته اور وحده لا شريك له کا اضافہ میں نے کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وراجع : موطا امام مالک/الصلاة ١٣(٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تشہد میں یہ دونوں اضافے نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ابن عمر (رض) نے اپنی طرف سے ان کا اضافہ خود کردیا ہو بلکہ آپ نے اپنے اس تشہد میں ان کا اضافہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر کیا ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے انہیں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 971 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتَ فِيهَاوَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَاوَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا (ابھی) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا : تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا : حطان ! شاید تم نے یہ بات کہی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ایک دوسرے شخص نے کہا : میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ (رض) نے کہا : کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو ؟ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا : جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ١ ؎ اور جب وہ الله أكبر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی الله أكبر کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو یہ اس کے برابر ہوگیا ٢ ؎ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے سمع الله لمن حمده یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو یہ اس کے برابر ہوجائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے : التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں : وبرکاته کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی أشهد کہا بلکہ وأن محمدا کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٤) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣١) ، والتطبیق ٢٣ (١٠٦٥) ، ١٠١ (١١٧٣) ، والسھو ٤٤ (١٢٨١) ، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٢٤ (٩٠١) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠١، ٤٠٥، ٤٠٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسلم کی روایت میں يجبكم ہے یعنی : اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا۔ ٢ ؎ : یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہوگئی۔
حدیث نمبر: 972 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَعَلَّمَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ. فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ: وَبَرَكَاتُهُ، وَلَا قَالَ: وَأَشْهَدُ، قَالَ: وَأَنَّ مُحَمَّدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
اس سند سے بھی ابوموسیٰ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں (سلیمان تیمی) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو، اور انہوں نے تشہد میں أشهد أن لا إله إلا الله کے بعد وحده لا شريك له کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : آپ کا قول : فأنصتوا محفوظ نہیں ہے، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٩٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 973 حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ،حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَفَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ زَادَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُهُ فَأَنْصِتُوا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے : التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٤ (٢٩٠) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥) ، والسھو ٤٢ (١٢٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 974 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، وَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے، انہوں نے اما بعد کے بعد کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو : التحيات الطيبات والصلوات والملک لله پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ صحیفہ (جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا) یہ بتارہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٦١٧) (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس جملے کا باب سے تعلق یہ ہے کہ یہ الفاظ جنہیں سلیمان بن سمرہ نے اپنے والد سمرہ (رض) سے روایت کیا ہے اس صحیفہ کے الفاظ ہیں جنہیں سمرہ نے املا کرایا تھا اور جنہیں ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کیا ہے، ابوداود کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سلیمان بن سمرہ کا سماع اپنے والد سمرہ سے ثابت ہے اسی طرح حسن بصری کا سماع بھی ثابت ہے کیونکہ یہ دونوں طبقہ ثالثہ کے راوی ہیں تو جب سلیمان اپنے والد سمرہ سے سن سکتے ہیں تو حسن بصری کے سماع کے لئے بھی کوئی چیز مانع نہیں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے صرف عقیقہ والی حدیث سنی ہے اور باقی حدیثیں جو سمرہ سے وہ روایت کرتے ہیں وہ اسی صحیفہ میں لکھی ہوئی حدیثیں ہیں سمرہ سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہیں ابو داود نے اسی خیال کی تردید کی ہے۔
حدیث نمبر: 975 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ، وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى كُوفِيُّ الْأَصْلِ كَانَ بِدِمَشْقَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: دَلَّتْ هَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود وسلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہو : اللهم صل على محمد وآل محمد کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد یعنی اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ١ ؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ٢ ؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧٠) ، و تفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٧) ، والدعوات ٣٢ (٦٣٥٧) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٤ (٤٨٣) ، سنن النسائی/السھو ٥١ (١٢٨٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کی وضاحت ابوالعالیہ نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب نبی اکرم ﷺ کی مدح و ستائش اور تعظیم کرنا اور فرشتوں وغیرہ کے درود بھیجنے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے اس مدح و ستائش اور تعظیم میں طلب زیادتی ہے، ابوالعالیہ کے اس قول کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کرنے کے بعد اس مشہور قول کی تردید کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے درود کا معنیٰ رحمت بتایا گیا ہے۔ ٢ ؎ : برکت کے معنیٰ بالیدگی و بڑھوتری کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کو عطا کی ہیں وہ سب نبی اکرم ﷺ کو عطا فرما اور انہیں قائم و دائم رکھ اور انہیں بڑھا کر کئی گنا کر دے۔
حدیث نمبر: 976 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ، فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
اس سند سے بھی شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے : صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١١١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 977 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
اس طریق سے بھی حکم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے : اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے، اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی برکت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے : كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٩٧٦، (تحفة الأشراف : ١١١١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 978 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، كَمَا رَوَاهُ مِسْعَرٌ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَسَاقَ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
عمرو بن سلیم زرقی انصاری کہتے ہیں کہ مجھے ابو حمید ساعدی (رض) نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کہو : اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی، اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٩) ، والدعوات ٣٣ (٦٣٦٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٧) ، سنن النسائی/السھو ٥٥ (١٢٩٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٩٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٦) ، مسند احمد (٥/٤٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 979 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سعد بن عبادہ (رض) کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد (رض) نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کہو ۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ (رض) کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں في العالمين إنک حميد مجيد کا اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٥) ، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (٣٢٢٠) ، سنن النسائی/السہو ٤٩ (١٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٠٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٧) ، مسند احمد (٤/١١٨، ١١٩، ٥/ ٢٧٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 980 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَخْبَرَهُ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ زَادَ فِي آخِرِهِفِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
اس سند سے بھی عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : یوں کہو اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد اے اللہ ! نبی امی محمد اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٠٧) (حسن )
حدیث نمبر: 981 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کردیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے : اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٦٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی حبان الکلابی میں کلام ہے )
حدیث نمبر: 982 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى، إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کیا دعا پڑھے
ابوہریرہ (رض) کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨) ، سنن النسائی/السھو ٦٤ (١٣١١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦(٩٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٥٨٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٧) ، مسند احمد (٢/٢٣٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٦ (١٣٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 983 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کیا دعا پڑھے
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تشہد کے بعد یہ کہتے تھے : اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات یعنی اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٤) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٢١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/القرآن ٨(٣٣) ، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١) ، ویأتي برقم (١٥٤٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 984 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کیا دعا پڑھے
محجن بن ادرع (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کرلی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے : اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بےنیاز، بےمقابل ولا مثیل اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السھو ٥٨ (١٣٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٢١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 985 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد آہستہ پڑھنا چاہیے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ تشہد آہستہ پڑھی جائے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٠٤ (٢٩١) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 986 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفَى التَّشَهُّدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا : تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، میں نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : جب آپ ﷺ نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ١ ؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢١ (٥٨٠) ، سنن النسائی/التطبیق ٩٨ (١١٦١) ، والسھو ٣٢ (١٢٦٧) ٣٣ (١٢٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٥١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ١١(٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٣ (١٣٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا لا إله پر اٹھانے اور إلا الله پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 987 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا
عبداللہ بن زبیر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢١ (٥٧٩) ، سنن النسائی/التطبیق ٩٩ (١١٦٢) ، والسھو ٣٥ (١٢٧١) ، ٣٩ (١٢٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 988 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَاعَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ. وَأَرَانَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
তাহকীক: