কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৭৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان
اس طریق سے بھی سفیان سے یہی حدیث گذشتہ سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی دفعہ اٹھایا ، اور بعض لوگوں کی روایت میں ہے کہ ایک بار اٹھایا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٧٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 751 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ لَمْ يَذْكُرُوا: ثُمَّ لَا يَعُودُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوگئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٦) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 752 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٦٣ (٢٤٠) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦ (٨٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٥، ٤٣٤، ٥٠٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣٢ (١٢٧٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 753 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابن زبیر (رض) کو کہتے سنا : دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی زرعہ لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 754 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْر، يَقُولُ: صَفُّ الْقَدَمَيْنِ وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ١٠ (٨٨٩) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣ (٨١١) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٤٧) (حسن )
حدیث نمبر: 755 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ علی (رض) کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٣١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی متروک ہیں )
حدیث نمبر: 756 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سعید بن جبیر سے فوق السرة (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے تحت السرة (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٠٣٠) (ضعیف) (اس کے راوی جریر ضبّی لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 757 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: تَحْتَ السُّرَّةِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
ابو وائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٤٩٤) (ضعیف) (اس سند میں بھی عبدالرحمن بن اسحاق ہیں )
حدیث نمبر: 758 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٨٢٩) (صحیح) (دو صحابہ وائل اور ہلب (رض) کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے )
حدیث نمبر: 759 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملک لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے : اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے) ، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب ! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے : اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره و تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے : اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١) ، سنن الترمذی/ الدعوات ٣٢ (٣٤٢١، ٣٤٢٢) ، سنن النسائی/ الافتتاح ١٧ (٨٩٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥، (٨٦٤) ، ٧٠ (١٠٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٣، ٩٥، ١٠٢، ١٠٣، ١١٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٤) ، ویأتي ہذا الحدیث برقم : (١٥٠٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 760 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
علی بن ابی طالب (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (رفع یدین کرتے) ، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور الله اکبر کہتے، اور عبدالعزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں :والخير كله في يديك والشر ليس إليك کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : نماز سے فارغ ہوتے وقت آپ ﷺ یہ دعا پڑ ھتے : اللهم اغفر لي ما قدمت وأخرت وما أسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت اے اللہ ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٧٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٢٨) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 761 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ، وَدَعَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَذْكُرْ: وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَزَادَ فِيهِ: وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا : جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو وأنا أول المسلمين کے جگہ وأنا من المسلمين کہا کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٤٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 762 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وغيرهما من فقهاء أهل المدينة فإذا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ، فَقُلْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي قَوْلَهُ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کے لیے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی : الله أكبر الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں ؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تب اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے (کہا ہے) ، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کو کون پہلے اٹھا لے جائے ۔ حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : جب تم میں سے کوئی آئے تو (اطمینان و سکون سے) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٦٠٠) ، سنن النسائی/الافتتاح ١٩ (٩٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٣، ١١٥٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٧، ١٦٨، ١٨٨، ٢٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 763 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِيَ النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا، وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ: وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا (عمرو کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی ؟ ) آپ ﷺ نے تین تین بار فرمایا : الله أكبر کبيرا الله أكبر کبيرا الله أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا و سبحان الله بكرة وأصيلا اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور فرمایا : أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : اس کا نفث شعر ہے، اس کا نفخ کبر ہے اور اس کا همز جنون یا موت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢ (٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٣١٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٨٠، ٨٣، ٨٥، ٤/٨٠، ٨٢، ٨٥) (ضعیف) (اس کے ایک راوی عاصم کے نام میں بہت اختلاف ہے، تو گویا وہ مجہول ہوئے، ابن حجر نے ان کو لین الحدیث کہا ہے )
حدیث نمبر: 764 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَدْرِي أَيَّ صَلَاةٍ هِيَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ، قَالَ: نَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نفل نماز میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣١٩٩) (ضعیف) (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہیں، یہ وہی عاصم ہیں )
حدیث نمبر: 765 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ قیام اللیل (تہجد) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار الله اکبر ، دس بار الحمد الله ، دس بار سبحان الله ، دس بار لا إله إلا الله ، اور دس بار استغفر الله کہتے اور یہ دعا کرتے : اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن (سوال کے لیے) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے ربیعہ نے ام المؤمنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦١٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٠ (١٣٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٨٢، ١٦١٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤٣) ، ویأتي عند المؤلف برقم : (٥٠٨٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 766 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَازِيُّ، عَنْعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَفْتَتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامَ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا وَسَبَّحَ عَشْرًا وَهَلَّلَ عَشْرًا وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا : میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : اللہ کے نبی کریم ﷺ جب قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے تھے : اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحکم بين عبادک فيما کانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك أنت تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم اے اللہ ! جبرائیل و میکائیل اور اسرافیل کے رب ! آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غیب اور ظاہر کے جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بیشک تو جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/صلاة المسافرین ٢٦ (٧٧٠) ، سنن الترمذی/الدعوات ٣١ (٣٤٢٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١١ (١٦٢٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٠ (١٣٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٥٦) (حسن )
حدیث نمبر: 767 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ أَنْتَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے جب آپ رات میں (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٩) (حسن )
حدیث نمبر: 768 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِلَا إِخْبَارٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ، وَيَقُولُ:
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
مالک کہتے ہیں نماز کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض نماز ہو یا نفل۔ تخریج دارالدعوہ : موطا امام مالک/کتاب القرآن ٩، عقیب حدیث (٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 769 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ فِي الْفَرِيضَةِ وَغَيْرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا
رفاعہ بن رافع زرقی (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع الله لمن حمده کہا تو آپ ﷺ کے پیچھے ایک آدمی نے اللهم ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں ؟ ، اس آدمی نے کہا : میں نے، اللہ کے رسول ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٩) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٦ (٩٣٢) ، التطبیق ٢٢ (١٠٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٥) ، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٥) ، مسند احمد (٤/٣٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٨٤ (٤٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 770 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ.
তাহকীক: