কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ৩২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری (رض) کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ (رض) نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! (یہ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہوجائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے ؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا : تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔ ابوموسیٰ (رض) نے کہا : پھر آپ سورة المائدہ کی اس آیت : فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔ اس پر ابوموسیٰ (رض) نے ان سے کہا : آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے ؟ ابن مسعود (رض) نے کہا : ہاں، تو ابوموسیٰ (رض) نے ان سے کہا : کیا آپ نے عمار (رض) کی بات (جو انہوں نے عمر (رض) سے کہی) نہیں سنی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی (زمین) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں تو بس اس طرح کرلینا کافی تھا ، اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبداللہ (رض) نے ان سے کہا : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ، عمار (رض) کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے ؟ !۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التیمم ٧ (٣٤٥، ٣٤٦) ، ٨ (٣٤٧) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٨) ، سنن الترمذی/الطہارة ١١٠ (١٤٤ مختصراً ) ، سنن النسائی/الطھارة ٢٠٣ (٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 321 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ ؟ فَقَالَ: لَا، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6 ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَعَمَّار لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدَ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں عمر (رض) کے پاس تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں (جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہوجاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟ ) عمر (رض) نے کہا : جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں نماز نہیں پڑھ سکتا، وہ کہتے ہیں : اس پر عمار (رض) نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے (اونٹ چراتے تھے) اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی، بہرحال میں تو مٹی (زمین) پر لوٹا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں بس اس طرح کرلینا کافی تھا اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیرلیا، اس پر عمر (رض) نے کہا : عمار ! اللہ سے ڈرو ١ ؎، انہوں نے کہا : امیر المؤمنین ! اگر آپ چاہیں تو قسم اللہ کی میں اسے کبھی ذکر نہ کروں، عمر (رض) نے کہا : ہرگز نہیں، قسم اللہ کی ہم تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں، یعنی معاملہ تم پر چھوڑتے ہیں تم اسے بیان کرنا چاہو تو کرو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف :: ١٠٣٦٢) (صحیح) (مگر إلى نصف الذراعين کا لفظ صحیح نہیں ہے ، یہ شاذ ہے اور صحیحین میں ہے بھی نہیں ) وضاحت : ١ ؎: اس بےاطمینانی کی وجہ یہ تھی کہ عمر (رض) خود اس قضیہ میں عمار (رض) کے ساتھ موجود تھے لیکن انہیں اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے یاد ہی نہیں آ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 322 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَمَّارُ، اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا. فَقَالَ، عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
ابن ابزی عمار بن یاسر (رض) سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اے عمار ! تمہیں اس طرح کرلینا کافی تھا ، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) (صحیح) (” الذراعين ...“ کا جملہ صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 323 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، ثُمّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ وَلَمْ يَبْلُغْ الْمِرْفَقَيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر (رض) کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں بس اتنا کرلینا کافی تھا ، اور پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیرلیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اس میں إلى المرفقين ہے یا إلى الكفين. (یعنی آپ ﷺ نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٣١٣٨ ، ١٠٣٦٢ ) (صحیح) (شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر : ٣٢٦)
حدیث نمبر: 324 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّار، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ ﷺ نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ١ ؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے : دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا : جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) (صحیح) ( المرفقين والذراعين والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر : ٣٢٦ ) وضاحت : ١ ؎ : ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے ، یعنی مرفق اور ذراع دونوں ” کہنی “ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 325 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ، يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولَ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار (رض) اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیرلینا تمہارے لیے کافی تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے : میں نے عمار (رض) کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا : پھونک نہیں ماری ، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے : آپ ﷺ نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 326 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْأَبِيهِ،عَنْ عَمَّارٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَنْفُخْ، وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ ١ ؎ کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ایک بار مٹی پر ہاتھ مار کر چہرہ اور دونوں ہتھیلی پر پھیرا جائے۔
حدیث نمبر: 327 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَأَمَرَنِي ضَرْبَةً وَاحِدَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان
موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں : ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر (رض) سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہنیوں تک (مسح کرے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٣٦٢) (منکر) (اس کی سند میں محدث ایک مبہم راوی ہے )
حدیث نمبر: 328 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنْ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضر میں تیمم کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ (رض) کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری (رض) کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا : رسول اللہ ﷺ بئرجمل (مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ ﷺ سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے (دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التیمم ٣ (٣٣٧) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (تعلیقاً ) (٣٦٩) ، سنن النسائی/الطھارة ١٩٥ (٣١٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 329 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضر میں تیمم کرنے کا بیان
نافع کہتے ہیں : میں ابن عمر (رض) کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس (رض) کے پاس گیا، ابن عمر (رض) نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ (ابھی) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہوجانے کے قریب ہوا تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم ﷺ سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت (موافقت) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ ﷺ کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر (رض) کا فعل روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٤٢٠) (ضعیف) (محمد بن ثابت لین الحدیث ہیں ایک ضربہ والی اگلی حدیث صحیح ہے )
حدیث نمبر: 330 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَفِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ ابْنُ دَاسَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ضَرْبَتَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضر میں تیمم کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہوگئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٥٣٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 331 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًاحَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی تیمم کرسکتا ہے
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ بکریاں جمع ہوگئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ابوذر ! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چناچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہوجایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : ابوذر !، میں خاموش رہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر ! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور (دوسری طرف سے) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، (غسل کر کے مجھے ایسا لگا) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو (کے پانی کے حکم میں) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔ مسدد کی روایت میں غنيمة من الصدقة کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٩٢ (١٢٤) ، سنن النسائی/الطھارة ٢٠٥ (٣٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥٥، ١٨٠) (صحیح) (بزار وغیرہ کی روایت کردہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے ایک راوی عمرو بن بجدان مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎: اس طرح کے الفاظ زبان پر یوں ہی بطور تعجب جاری ہوجاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 332 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، ابْدُ فِيهَا، فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، فَقَالَ: الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی تیمم کرسکتا ہے
قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر (رض) کے پاس آیا، انہوں نے کہا : مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا : تم ان کا دودھ پیو ، (حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے) ، پھر ابوذر (رض) نے کہا : میں پانی سے (اکثر) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں (بیٹھے) تھے، آپ نے فرمایا : ابوذر ؟ ، میں نے کہا : جی، اللہ کے رسول ! میں تو ہلاک و برباد ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا : کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا ؟ ، میں نے کہا : میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چناچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ (غسل کرو) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک (رض) کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٠٨) (صحیح) (ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک راوی رجل من بنی عامر مبہم راوی ہیں اور یہ وہی عمرو بن بجدان ہیں )
حدیث نمبر: 333 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ، فَقَالَ لِي: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سردی کے خوف سے جنبی تیمم کرسکتا ہے؟
عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کرلیا تو مرجاؤں گا، چناچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ؟ ، چناچہ میں نے آپ ﷺ کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ ولا تقتلوا أنفسکم إن الله کان بکم رحيما (سورۃ النساء : ٢٩) تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 334 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاص، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ، وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ، يَقُولُ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سردی کے خوف سے جنبی تیمم کرسکتا ہے؟
عمرو بن العاص (رض) کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے : تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں فتيمم کے الفاظ ہیں (یعنی انہوں نے تیمم کیا) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٧٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 335 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِكَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ فِيهِ: فَتَيَمَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی یا معذور تیمم کرسکتا ہے؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہوگیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چناچہ اس نے غسل کیا تو وہ مرگیا، پھر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا ؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے) ، پھر اس پر مسح کرلیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤١٣) (حسن) ( إنما کان يكفيه یہ جملہ ثابت نہیں ہے )
حدیث نمبر: 336 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ ؟ فَقَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی یا معذور تیمم کرسکتا ہے؟
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مرگیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (٥٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٢) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ٦٩ (٧٧٩) (حسن )
حدیث نمبر: 337 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی حاصل ہوجائے تو کیا کرنا چاہیئے؟
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آگیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چناچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی : تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہوگئی ، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا : تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے، وہ بکر بن سوادہ سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں ابو سعید خدری (رض) کا ذکر محفوظ نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الغسل والتیمم ٢٧ (٤٣٣) (تحفة الأشراف : ٤١٧٦، ١٩٠٨٩، ١٦٥٩٩) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ٦٤ (٧٧١) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ عبداللہ بن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمزوری ہے اور دیگر لوگوں نے اس کو مرسلاً ہی روایت کیا ہے )
حدیث نمبر: 338 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ: يَرْوِيهِ عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَذِكْرُ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی حاصل ہوجائے تو کیا کرنا چاہیئے؟
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ دو صحابی رسول ﷺ (سفر میں تھے) ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٤١٧٦، ١٩٠٨٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 339 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے غسل کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ١ ؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا : کیا تم لوگ نماز (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو ؟ اس شخص نے کہا : جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آگیا ہوں، اس پر عمر (رض) نے کہا : اچھا صرف وضو ہی ؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا ہے : جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢ (٨٧٨) ، ٥ (٨٨٢) ، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٥) ، موطا امام مالک/النداء للصلاة ١(٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجمعة ٣ (٤٩٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مراد عثمان بن عفان (رض) ہیں۔
حدیث نمبر: 340 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتَحْتَبِسُونِ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ.
তাহকীক: