আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

مناقب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৪ টি

হাদীস নং: ৩৭৬৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر : علی بن مدینی کے والد ہیں، ٢- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٠٣٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1226) ، المشکاة (6153) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3763
حدیث نمبر: 3763 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ ﷺ کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٤٢٤٦) (صحیح الإسناد) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوفا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3764
حدیث نمبر: 3764 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا،‏‏‏‏ وَلَا رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكُورُ:‏‏‏‏ الرَّحْلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا : تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو ، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٠٣) (صحیح) وضاحت : ؎ : قصہ یہ ہے کہ «عمرۃ القضاء» کے موقع سے حمزہ (رض) کی بچی کی کفالت کے لیے : جعفر، علی اور زید بن خارجہ (رض) کے درمیان اختلاف ہوا، سب نے اپنا اپنا حق جتایا، لیکن بچی کی خالہ کے جعفر (رض) کی زوجیت میں ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے بچی کو جعفر کے حوالہ کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3765
حدیث نمبر: 3765 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْن عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:‏‏‏‏ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چناچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر (رض) مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٧ (٤١٢٥) (تحفة الأشراف : ١٢٩٤٢) (ضعیف جداً ) (سند میں ابراہیم بن الفضل ابواسحاق متروک ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، المشکاة (6152 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3766
حدیث نمبر: 3766 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ، عَنْسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتُ لَأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لِامْرَأَتِهِ:‏‏‏‏ يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ،‏‏‏‏ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ،‏‏‏‏ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چناچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، (جو ہمیں پیش کرتے) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (حاتم بن سیاہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجودگی میں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف، اور یزید بن قسیط یہ یزید بن عبداللہ بن قسیط لیثی ثقہ راوی ہیں) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3767
حدیث نمبر: 3767 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا الْمَسَاكِينِ، ‏‏‏‏‏‏فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبَنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٣٤) ، و مسند احمد (٣/٣، ٢٢، ٦٤، ٨٠) (صحیح) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ٧٩٦) وضاحت : ١ ؎ : جنت میں جوانوں کے سردار اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں ، ( ١) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے ( اور جنتی ہیں ) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے ، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے ، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی ، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں ( ٢) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کردیئے جائیں گے ، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے ( ٣) اس زمانہ کے ( جب یہ دونوں جوان تھے ) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے ، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (796) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3768 ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (796) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3768
حدیث نمبر: 3768 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا الْحَكَمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب
اسامہ بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین (رض) تھے، آپ ﷺ کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٦) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6156 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3769
حدیث نمبر: 3769 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَحِبَّهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ ١ ؎ تو ابن عمر (رض) نے کہا : اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے ! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : حسن اور حسین (رض) یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ٣- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١٨ (٥٩٩٤) (تحفة الأشراف : ٧٣٠٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا ، ہوسکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کردی ہو ، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6155) ، الصحيحة (564) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3770
حدیث نمبر: 3770 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ،وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٢٧٩) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6157) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3771
حدیث نمبر: 3771 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَوَهِيَ تَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) ، آپ فاطمہ (رض) سے فرماتے : میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٠٦) (ضعیف) (سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6158) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3772
حدیث نمبر: 3772 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ:‏‏‏‏ ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ ،‏‏‏‏ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں (رض) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤) ، والمناقب ٢٥ (٣٦٢٩) ، وفضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦) ، والفتن ٢٠ (٧١٠٩) ، سنن ابی داود/ السنة ١٣ (٤٦٦٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٧ (١٤١١) (تحفة الأشراف : ١١٦٥٨) ، و مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا ، چناچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ، ایک گروہ معاویہ (رض) کے ساتھ اور دوسرا حسن (رض) کے ساتھ تھا ، تو حسن (رض) نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (923) ، الإرواء (1597) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3773
حدیث نمبر: 3773 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین (رض) دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالکم وأولادکم فتنة» ١ ؎ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کرسکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤) ، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠) (تحفة الأشراف : ١٩٥٨) ، و مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : التغابن : ١٥۔ ٢ ؎ : جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے کمال شفقت کی دلیل ہے ، وہیں حسن اور حسین (رض) کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3600) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3774
حدیث نمبر: 3774 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ،‏‏‏‏ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا،‏‏‏‏ وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ،‏‏‏‏ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
یعلیٰ بن مرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ١ ؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ١- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٤) (تحفة الأشراف : ١١٨٥٠) ، و مسند احمد (٤/١٧٢) (حسن) (تراجع الالبانی ٣٧٥) الصحیحہ ١٢٢٧) وضاحت : ١ ؎ : بقول قاضی عیاض : اللہ کے رسول ﷺ من جانب اللہ مطلع کردیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کردیا کہ حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے ، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں ۔ ٢ ؎ : یعنی : حسین (رض) کی بہت ہی زیادہ اولاد ہوگی ، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے ، سو ایسا ہی ہوا۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (144) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3775
حدیث نمبر: 3775 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ،‏‏‏‏ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی (رض) سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٥٢) (تحفة الأشراف : ١٥٣٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3776
حدیث نمبر: 3776 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৭
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور حسن بن علی (رض) ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٨٢٦ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وقد مضی (2828 و 2829) // هذا رقم الدع اس وهو عندنا برقم (2266 / 2995، 2996) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3777
حدیث نمبر: 3777 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৮
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین (رض) کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے (جب کہ وہ حسین نہیں ہے) ١ ؎۔ تو میں نے کہا : سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٢٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ جملہ اس نے حسین (رض) کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا ، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔ ٢ ؎ : اس سے پہلے حدیث رقم ٣٧٨٦ کے تحت زہری کی ایک روایت انس (رض) سے گزری ہے ، اس میں ہے کہ حسن بن علی (رض) سے زیادہ اللہ کے رسول ﷺ سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی (رض) سب سے زیادہ مشابہ تھے ، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے ، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے : ( ١) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن (رض) باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس (رض) کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن (رض) کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ ( ٢) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی (رض) کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ ( ٣) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے ( دیکھئیے اگلی روایت ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6170 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3778
حدیث نمبر: 3778 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ،‏‏‏‏ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ حسن (رض) سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین (رض) اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٣٠٢) (ضعیف) (سند میں ہانی بن ہانی مجہول الحال راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (6161) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3779
حدیث نمبر: 3779 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ١ ؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے : آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہوگیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہوگیا، پھر لوگ کہنے لگے : آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩١٤٠) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : حسن اور حسین (رض) کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین (رض) کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک ، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ( عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3780
حدیث نمبر: 3780 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ،‏‏‏‏ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً،‏‏‏‏ ثُمَّ خَرَجَتْ،‏‏‏‏ فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا : تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے ؟ میں نے کہا : اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جاسکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا : اب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا : کون ہو ؟ حذیفہ ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا : «ما حاجتک غفر اللہ لک ولأمك» کیا بات ہے ؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو (پھر) آپ نے فرمایا : یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین (رض) اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٣٣٢٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (205 - 206) ، المشکاة (6162) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3781
حدیث نمبر: 3781 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَالَتْ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ،‏‏‏‏ فَسَمِعَ صَوْتِي،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ،‏‏‏‏ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২
مناقب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
براء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین (رض) کو دیکھا تو فرمایا : «اللهم إني أحبهما فأحبهما» اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٩) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٨ (٢٤٢٢) (تحفة الأشراف : ١٧٩٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2789) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3782
حدیث نمبر: 3782 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক: