আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৩ টি

হাদীস নং: ৩০৪৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے تسلی بخش صاف صاف حکم بیان فرما، تو سورة البقرہ کی پوری آیت «يسألونک عن الخمر والميسر» ١ ؎ نازل ہوئی۔ (جب یہ آیت نازل ہوچکی) تو عمر (رض) بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ (یہ آیت سن کر) عمر (رض) نے پھر کہا : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرمایا : تو سورة نساء کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری» ٢ ؎ نازل ہوئی، عمر (رض) پھر بلائے گئے اور انہیں یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی گئی، انہوں نے پھر کہا : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے۔ تو سورة المائدہ کی آیت «إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر» سے «فهل أنتم منتهون» ٣ ؎ تک نازل ہوئی، عمر (رض) پھر بلائے گئے اور آیت پڑھ کر انہیں سنائی گئی، تو انہوں نے کہا : ہم باز رہے ہم باز رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اسرائیل سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأشربة ١ (٣٦٧٠) ، سنن النسائی/الأشربة ١ (٥٥٤٢) (تحفة الأشراف : ١٠٦١٤) ، و مسند احمد (١/٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تم سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں تو کہہ دیجئیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ اور لوگوں کے لیے نفع بھی ہیں ، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا (اور زیادہ) ہے (البقرہ : ٢١٩ ) ۔ ٢ ؎ : اے ایمان والو ! نشہ و مستی کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء : ٤٣ ) ۔ ٣ ؎ : شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب خوری اور قمار بازی کی وجہ سے تم میں عداوت اور بغض ڈال دے ، اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم باز نہ آؤ گے ؟ (المائدہ : ٩١ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3049
حدیث نمبر: 3049 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ سورة البقرة آية 219، ‏‏‏‏‏‏فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي النِّسَاءِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43 فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنَ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 فَدُعِيَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِسْرَائِيلَ هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ انتقال فرما گئے۔ پھر جب شراب حرام ہوگئی تو کچھ لوگوں نے کہا : ہمارے ان ساتھیوں کا کیا ہوگا جو شراب پیتے تھے اور انتقال کر گئے، تو آیت نازل ہوئی «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے (قبل حرمت) وہ جو کچھ کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے جب کہ وہ (قبل حرمت کھاتے وقت) متقی رہے، ایمان پر رہے اور نیک عمل کرتے رہے (المائدہ : ٩٣ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے بھی ابواسحاق کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٢١) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح بما بعده (3051) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3050
حدیث نمبر: 3050 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ مَاتَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَالَ رِجَالٌ:‏‏‏‏ كَيْفَ بِأَصْحَابِنَا وَقَدْ مَاتُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ؟ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ أَيْضًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
اس سند سے ابواسحاق نے براء بن عازب (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ انتقال کر گئے، وہ لوگ شراب پیتے تھے، پھر شراب کی حرمت آ گئی تو نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ نے کہا : ہمارے ان ساتھیوں کا کیا حال ہوگا ؟ جو شراب پیتے تھے اور وہ مرچکے ہیں ؟ تو (اس وقت) آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٨٨٣) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3051
حدیث نمبر: 3051 حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ:‏‏‏‏ مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ بِأَصْحَابِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو لوگ شراب پیتے تھے اور مرگئے ان کا کیا ہوگا ؟ اس وقت آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے (حرمت سے پہلے) کھائے پئے جب کہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کرلی، ایمان لائے اور اچھے عمل کیے (المائدہ : ٩٣ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١١٨) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (3051) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3052
حدیث نمبر: 3052 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ؟ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم انہی میں سے ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٢ (٢٤٥٩) (تحفة الأشراف : ٩٤٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ ابن مسعود (رض) بھی ان لوگوں میں ہیں جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے ، یہ مطلب نہیں ہے کہ شراب کی حرمت سے پہلے انتقال کر جانے والوں میں ابن مسعود بھی ہیں ، کیونکہ وہ تو زندہ تھے اور انہی سے آپ ﷺ فرما رہے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3053
حدیث نمبر: 3053 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْتَ مِنْهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو عورت کے لیے بےچین ہوجاتا ہوں، مجھ پر شہوت چھا جاتی ہے۔ چناچہ میں نے اپنے آپ پر گوشت کھانا حرام کرلیا ہے۔ (اس پر) اللہ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل اللہ لکم ولا تعتدوا إن اللہ لا يحب المعتدين وکلوا مما رزقکم اللہ حلالا طيبا» مسلمانو ! اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کر رکھا ہے اس میں پاکیزہ حلال کھاؤ (المائدہ : ٨٧ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے اسے عثمان بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے، ٣ - خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3054
حدیث نمبر: 3054 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي إِذَا أَصَبْتُ اللَّحْمَ انْتَشَرْتُ لِلنِّسَاءِ وَأَخَذَتْنِي شَهْوَتِي فَحَرَّمْتُ عَلَيَّ اللَّحْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ‏‏‏‏ 87 ‏‏‏‏ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالا طَيِّبًا سورة المائدة آية 86-87 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ مُرْسَلًا لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ولله علی الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» جو لوگ خانہ کعبہ تک پہنچ سکتے ہوں ان پر اللہ کے حکم سے حج کرنا فرض ہے (آل عمران : ٩٧ ) ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے، لوگوں نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا ، پھر اللہ نے یہ آیت اتاری : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم» اے ایمان والو ! بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار معلوم ہو (المائدہ : ١٠١ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث علی (رض) کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اور اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٨١٤ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف مضی برقم (811) // (134 - 818) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3055
حدیث نمبر: 3055 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا مُنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فِي كُلِّ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فِي كُلِّ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باپ کون ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم» اے ایمان والو ! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کردی جائیں تو تم کو برا لگے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر المائدة ١٢ (٤٦٢١) ، والاعتصام ٣ (٧٢٩٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (٢٣٥٩) (تحفة الأشراف : ١٦٠٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ عبداللہ بن حذافہ سہمی ہیں ، سوال اس لیے کرنا پڑا کہ لوگ انہیں غیر باپ کی طرف منسوب کر رہے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3056
حدیث نمبر: 3056 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَبِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُوكَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے، انہوں نے کہا : اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» ١ ؎ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں (اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣ - بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر (رض) کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢١٦٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسلمانو ! تمہارے ذمہ ہے اپنے آپ کو بچانا اور سنبھالنا ، جب تم سیدھی راہ پر رہو گے تو تمہیں گمراہ شخص نقصان نہ پہنچا سکے گا (المائدہ : ١٠٥ ) ۔ ٢ ؎: یعنی اپنے آپ کو بچانے اور سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے ایسا نہ کرنے سے اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آنے کا خطرہ ہے پھر وہ سب کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مضی برقم (2257) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3057
حدیث نمبر: 3057 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلَهُ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی (رض) کے پاس آ کر پوچھا : اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا : کون سی آیت ؟ میں نے کہا : آیت یہ ہے : «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا : آگاہ رہو ! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا : بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیرو ہوگئے ہیں، دنیا کو آخرت پر حاصل دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو ، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا (کسی بات پر جمے رہنا) ایسا مشکل کام ہوگا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ (اس حدیث کے راوی) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا : اللہ کے رسول ! (ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٤١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٤) (تحفة الأشراف : ١١٨٨١) (ضعیف) (سند میں عمرو بن جاریہ اور ابو امیہ شعبانی لین الحدیث راوی ہیں، مگر اس کے بعض ٹکڑے صحیح ہیں، دیکھیے سابقہ حدیث ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، لکن بعضه صحيح فانظر الحديث المتقدم (2361) نقد الکتاني (27 / 27) ، المشکاة (5144) ، //، صحيح أبي داود - باختصار السند (1844 - 2375) //، الصحيحة (594) // ضعيف الجامع الصغير (2344) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3058
حدیث نمبر: 3058 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَيَّةُ آيَةٍ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ قَوْلُهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا، ‏‏‏‏‏‏سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَهَوًى مُتَّبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعِ الْعَوَامَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৫৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
تمیم داری (رض) سے روایت ہے، وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت» ١ ؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں : میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی۔ (اتفاق ایسا ہوا کہ) وہ بیمار پڑگیا، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ جب وہ مرگیا تو ہم نے یہ پیالہ لے لیا اور ہزار درہم میں اسے بیچ دیا، پھر ہم نے اور عدی بن بداء نے اسے آپس میں تقسیم کرلیا، پھر ہم اس کے بیوی بچوں کے پاس آئے اور جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انہیں واپس دے دیا، جب انہیں چاندی کا جام نہ ملا تو انہوں نے ہم سے اس کے متعلق پوچھا، ہم نے کہا کہ جو ہم نے آپ کو لا کردیا اس کے سوا اس نے ہمارے پاس کچھ نہ چھوڑا تھا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے مدینہ جانے کے بعد میں نے اسلام قبول کرلیا، تو میں اس گناہ سے ڈر گیا، چناچہ میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور پیالہ کی صحیح خبر انہیں دے دی، اور اپنے حصہ کے پانچ سو درہم انہیں ادا کر دئیے، اور انہیں یہ بھی بتایا کہ میری طرح (عدی بن بداء) کے پاس بھی پیالہ کی قیمت کے پانچ سو درہم ہیں پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس پکڑ کر لائے، آپ نے ان سے ثبوت مانگا تو وہ لوگ کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لیں جسے اس کے اہل دین اہم اور عظیم تر سمجھتے ہوں تو اس نے قسم کھالی۔ اس پر آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت» سے لے کر «أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم» ٢ ؎ تک نازل ہوئی۔ تو عمرو بن العاص (رض) اور (بدیل کے وارثوں میں سے) ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ عدی جھوٹا ہے، پھر اس سے پانچ سو درہم چھین لیے گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٢ - ابوالنضر جن سے محمد بن اسحاق نے یہ حدیث روایت کی ہے، وہ میرے نزدیک محمد بن سائب کلبی ہیں، ابوالنضر ان کی کنیت ہے، محدثین نے ان سے روایت کرنی چھوڑ دی ہے، وہ صاحب تفسیر ہیں (یعنی مفسرین میں جو کلبی مشہور ہیں وہ یہی شخص ہیں) میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : محمد بن سائب کلبی کی کنیت ابوالنضر ہے، ٣ - اور ہم سالم ابوالنضر مدینی کی کوئی روایت ام ہانی کے آزاد کردہ غلام صالح سے نہیں جانتے۔ اس حدیث کا کچھ حصہ مختصراً کسی اور سند سے ابن عباس (رض) سے مروی ہے (جو آگے آ رہا ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : لم یذکرہ في مظانہ) (ضعیف الإسناد جداً ) (سند میں باذان مولی ام ہانی سخت ضعیف راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مسلمانو ! جب تم میں سے کسی کے مرنے کا وقت آن پہنچے تو وصیت کرنے کے وقت تم مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ موجود ہونے چاہیں۔ (مائدہ : ١٠٧ ) ٢ ؎ : اے ایمان والو ! تمہارے آپس میں کے (مسلمانوں یا عزیزوں میں سے) معتبر شخصوں کا گواہ ہونا مناسب ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواہ تم میں سے ہوں یا اور مذہب کے لوگوں میں سے دو شخص ہوں ، اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور موت آ جائے اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز (عصر) کے بعد کھڑا کرلو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہیئے اگرچہ کوئی رشتہ دار بھی ہو اور نہ ہی ہم اللہ تعالیٰ کی گواہی کو ہم پوشیدہ رکھیں گے ، اگر ہم ایسا کریں ، تو ہم اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے ، (یوں قسم کھا کر وہ گواہی دیں) پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان لوگوں میں سے کہ جن کے مقابلے میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا اور دو شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری قسم ان دونوں کی اس قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا اگر ہم بھی ایسا کریں تو ہم اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے ، یہ قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد قسمیں الٹی پڑجائیں گی ، اور اللہ سے ، ڈرتے رہو اور اس کا حکم کان لگا کر سنو ! اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو (یعنی فاسقوں اور مجرموں کو) ہدایت کے راستے میں نہیں لگایا کرتا (المائدہ : ، ١٠٦ ١٠٨) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد جدا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3059
حدیث نمبر: 3059 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بَاذَانَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَرِئَ مِنْهَا النَّاسُ غَيْرِي وَغَيْرَ عَدِيَّ بْنِ بَدَّاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَا نَصْرَانِيَّيْنِ يَخْتَلِفَانِ إِلَى الشَّامِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيَا الشَّامَ لِتِجَارَتِهِمَا وَقَدِمَ عَلَيْهِمَا مَوْلًى لِبَنِي سَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ بُدَيْلُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ بِتِجَارَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَهُ جَامٌ مِنْ فِضَّةٍ يُرِيدُ بِهِ الْمَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عُظْمُ تِجَارَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرِضَ فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُبَلِّغَا مَا تَرَكَ أَهْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ تَمِيمٌ:‏‏‏‏ فَلَمَّا مَاتَ أَخَذْنَا ذَلِكَ الْجَامَ فَبِعْنَاهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اقْتَسَمْنَاهُ أَنَا وَعَدِيُّ بْنُ بَدَّاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا إِلَى أَهْلِهِ دَفَعْنَا إِلَيْهِمْ مَا كَانَ مَعَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَفَقَدُوا الْجَامَ فَسَأَلُونَا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ مَا تَرَكَ غَيْرَ هَذَا وَمَا دَفَعَ إِلَيْنَا غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ تَمِيمٌ:‏‏‏‏ فَلَمَّا أَسْلَمْتُ بَعْدَ قُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ تَأَثَّمْتُ مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ وَأَدَّيْتُ إِلَيْهِمْ خَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ عِنْدَ صَاحِبِي مِثْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمُ الْبَيِّنَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجِدُوا،‏‏‏‏فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَحْلِفُوهُ بِمَا يُعْظَمُ بِهِ عَلَى أَهْلِ دِينِهِ فَحَلَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِلَى قَوْلِهِ أَوْ يَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ سورة المائدة آية 106 ـ 108، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَحَلَفَا، ‏‏‏‏‏‏فَنُزِعَتِ الْخَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ عَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو النَّضْرِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ هُوَ عِنْدِي مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏يُكْنَى أَبَا النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَرَكَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ وَهُوَ صَاحِبُ التَّفْسِيرِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ يُكْنَى أَبَا النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَا نَعْرِفُ لِسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ الْمَدَنِيِّ رِوَايَةً عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنْ هَذَا عَلَى الِاخْتِصَارِ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ (سفر پر) نکلا اور یہ سہمی (جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے (ورثاء) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چناچہ (جب مقدمہ پیش ہوا) رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ (اور انہوں نے قسم کھالی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٣٥ (٢٧٨٠) ، سنن ابی داود/ الأقضیة ١٩ (٣٦٠٦) (تحفة الأشراف : ٥٥٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3060
حدیث نمبر: 3060 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مُسْلِمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَحَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَأَنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ سورة المائدة آية 106 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق : «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٣٤٨) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ) قال الشيخ الألباني : (حديث عمار) ضعيف الإسناد، (حديث ابن أبي عروبة) ضعيف أيضا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3061
حدیث نمبر: 3061 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَاءِ خُبْزًا وَلَحْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لِغَدٍ فَمُسِخُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍمَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنا جواب القاء کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جواب اپنے اس قول کے جواب میں القاء کرے گا «وإذ قال اللہ يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله» جب اللہ تعالیٰ (قیامت میں) کہے گا اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو اللہ کو چھوڑ کر ؟ (المائدہ : ١١٦ ) ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا جواب یہ القاء کرے گا «سبحانک ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق» پاک ہے تیری ذات : میں بھلا وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے (المائدہ : ١١٦ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ١٣٥٣١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3062
حدیث نمبر: 3062 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ يُلَقَّى عِيسَى حُجَّتَهُ وَلَقَّاهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ سورة المائدة آية 116، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقَّاهُ اللَّهُ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ سورة المائدة آية 116 الْآيَةَ كُلَّهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورة المائدہ (اور سورة الفتح) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : آخری سورة جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر اللہ والفتح» ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٨٦٢) (حسن الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : اور صحیح بخاری میں براء (رض) سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ ہے «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» (النساء : ١٧٦ ) ان سب اقوال کے درمیان اس طرح تطبیق دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی معلومات کے مطابق خبر دی ہے ، اس بابت کوئی مرفوع روایت تو ہے نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3063
حدیث نمبر: 3063 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت انعام
علی (رض) سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں، بلکہ آپ جو (دین قرآن) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فإنهم لا يکذبونک ولکن الظالمين بآيات اللہ يجحدون» وہ لوگ تجھ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (الانعام : ٣٣ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٢٨٨) (ضعیف الإسناد) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز معاویہ بن ہشام سے اوہام صادر ہوئے ہیں ) قال الشيخ الألباني : (حديث علي) ضعيف الإسناد، (حديث ناجية) ضعيف أيضا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3064
حدیث نمبر: 3064 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ أَبَا جَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَا نُكَذِّبُكَ وَلَكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فَإِنَّهُمْ لا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ سورة الأنعام آية 33 .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت انعام
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب آیت «قل هو القادر علی أن يبعث عليكم عذابا من فوقکم أو من تحت أرجلکم» کہہ دیجئیے، وہ (اللہ) قادر ہے اس بات پر کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے اوپر سے یا نیچے سے (الانعام : ٦٥ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں پھر جب آگے «أو يلبسکم شيعا ويذيق بعضکم بأس بعض» یا تم کو مختلف فریق بنا کر ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے (الانعام : ٦٥ ) کا ٹکڑا نازل ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں ہی باتیں (اللہ کے لیے) آسان ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر الأنعام ٢ (٤٦٢٨) ، والإعتصام ١١ (٧٣١٣) ، والتوحید ١٦ (٧٤٠٦) (تحفة الأشراف : ٢٥٣٦) ، و مسند احمد (٣/٣٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3065
حدیث نمبر: 3065 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ هَاتَانِ أَيْسَرُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت انعام
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «قل هو القادر علی أن يبعث عليكم عذابا من فوقکم أو من تحت أرجلکم» کہہ دو (اے محمد ! ) وہ (اللہ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے (الانعام : ٦٥ ) ، کے متعلق فرمایا : آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے (یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٨٥١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابوبکر بن أبی مریم ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3066
حدیث نمبر: 3066 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت انعام
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم (شرک) کی آمیزش نہ کی (الأنعام ٨٢ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا : (تم غلط سمجھے) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی ؟ انہوں نے کہا تھا : «يا بني لا تشرک بالله إن الشرک لظلم عظيم» اے میرے بیٹے ! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے (لقمان : ١٣ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٢٣ (٣٢) ، وأحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٦٠) ، و ٤١ (٣٤٢٨، ٣٤٢٩) ، تفسیر الإنعام ولقمان ١ (٤٧٧٦) ، والمرتدین ١ (٦٩١٨) ، و ٩ (٦٩٣٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٥٦ (١٢٤) (تحفة الأشراف : ٩٤٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3067
حدیث نمبر: 3067 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৬৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت انعام
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا : اے ابوعائشہ ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بڑی بہتان لگائے گا : ( ١ ) جس نے خیال کیا کہ محمد ﷺ نے (معراج کی رات میں) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی ذات کے بارے میں بڑی بہتان لگائی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے «لا تدرکه الأبصار وهو يدرک الأبصار وهو اللطيف الخبير» کہ اسے انسانی نگاہیں نہیں پاسکتی ہیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے (یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سبھی کو دیکھ لیتا ہے) اور اس کی ذات لطیف و خبیر ہے ، «وما کان لبشر أن يكلمه اللہ إلا وحيا أو من وراء حجاب» کسی انسان کو بھی یہ مقام و درجہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ اس سے بغیر وحی کے یا بغیر پردے کے براہ راست اس سے بات چیت کرے ، (وہ کہتے ہیں) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا : ام المؤمنین ! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : «ولقد رآه نزلة أخری» بیشک محمد نے اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا (النجم : ١٣ ) «ولقد رآه بالأفق المبين» بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا (التکویر : ٢٣ ) تب عائشہ (رض) نے کہا : قسم اللہ کی ! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا : وہ تو جبرائیل (علیہ السلام) تھے (ان آیتوں میں میرے دیکھنے سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھنا تھا، اللہ کو نہیں) ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے جس میں جبرائیل (علیہ السلام) کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔ جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہے، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیان جگہ کو گھیر رکھا تھا ، ( ٢ ) : اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد ﷺ پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد ﷺ نے چھپالی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو (النساء : ٦٧ ) ، ( ٣ ) : وہ شخص بھی اللہ پر جھوٹا الزام لگانے والا ہے جو یہ سمجھے کہ کل کیا ہونے والا ہے، محمد اسے جانتے ہیں، جب کہ اللہ خود کہتا ہے «قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله» کہ آسمان و زمین میں غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ١ (٤٨٥٥) ، والتوحید ٤ (٧٣٨٠) ، و ٤٦ (٧٥٣١) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٧ (١٧٧) (تحفة الأشراف : ١٧٦١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3068
حدیث نمبر: 3068 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ:‏‏‏‏ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51 وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْظِرِينِي وَلَا تُعْجِلِينِي أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَأَيْتُهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ يُكْنَى أَبَا عَائِشَةَ وَهُوَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا كَانَ اسْمُهُ فِي الدِّيوَانِ.
tahqiq

তাহকীক: