আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৩ টি
হাদীস নং: ৩০২৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا، (یہ کہتا ہوا) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے ابن عباس (رض) سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ١ ؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہوگی ؟ ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المحاربة (تعظیم الدم) ٢ (٤٠١٠) (تحفة الأشراف : ٦٣٠٣) (وانظر أیضا : سنن النسائی/المحاربة ٢ (٤٠٠ ¤ ٤- ٤٠٠٩) ، و ٤٨ (٤٨٧٠) ، وسنن ابن ماجہ/الدیات ٢ (٢٦٢١) ، و مسند احمد (١/٢٤٠، ٢٩٤، ٣٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے ، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (النساء : ٩٣ ) ۔ ٢ ؎ : کسی مومن کو عمداً اور ناحق قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟ اس بابت صحابہ میں اختلاف ہے ، ابن عباس (رض) کی رائے ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی ، ان کی دلیل یہی آیت ہے جوان کے بقول بالکل آخری آیت ہے ، جس کو منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری ، مگر جمہور صحابہ و سلف کی رائے ہے کہ قرآن کی دیگر آیات کا مفاد ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ ہے ، جب مشرک سے توبہ کرنے والی کی توبہ قبول ہوگی تو قاتل عمد کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ مقتول کو راضی کردیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (3465 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (3 / 203) ، الصحيحة (2697) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3029
حدیث نمبر: 3029 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: مَا نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنَ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں نے کہا : اس نے تم لوگوں کی پناہ لینے کے لیے تمہیں سلام کیا ہے، پھر ان لوگوں نے بڑھ کر اسے قتل کردیا، اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اور انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل اللہ فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقی إليكم السلام لست مؤمنا» اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں (النساء : ٩٤ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١١٩) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3030
حدیث نمبر: 3030 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ ؟ فَقَامُوا: فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 ، قَالَ أَبُو عِيسَى 12: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں (النساء : ٩٥ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت : «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ (یا یہ کہا) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم (رض) کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٣١ (٢٨٣١) ، وتفسیر النساء ١٨ (٤٥٩٣، ٤٥٩٤) ، وفضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠) ، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨) (تحفة الأشراف : ١٨٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں (النساء : ٩٥ ) ، اس کے بعد والے ٹکڑے نے بیٹھے رہ جانے والوں میں سے معذروں کو مستثنیٰ کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3031
حدیث نمبر: 3031 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، جَاءَ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَيُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَائِدَةَ، وَأُمُّ مَكْتُومٍ أُمُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» کی تفسیر میں کہتے ہیں : جب جنگ بدر کا موقع آیا تو اس موقع پر یہ آیت جنگ بدر میں شریک ہونے والے اور نہ شریک ہونے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی۔ تو عبداللہ بن جحش اور ابن ام مکتوم (رض) دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم دونوں اندھے ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے کہ ہم جہاد میں نہ جائیں ؟ تو آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ ان بیٹھ رہنے والوں سے مراد اس آیت میں غیر معذور لوگ ہیں، باقی رہے معذور لوگ تو وہ مجاہدین کے برابر ہیں۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت دی ہے۔ اور بیٹھ رہنے والے مومنین پر اپنی جانب سے ان کے درجے بڑھا کر فضیلت دی ہے۔ اور یہ بیٹھ رہنے والے مومنین وہ ہیں جو بیمار و معذور نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے ابن عباس (رض) کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - مقسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں اور مقسم کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٥ (٣٩٥٤) ، وتفسیر النساء ١٩ (٤٥٩٥) (تحفة الأشراف : ٦٤٩٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3032
حدیث نمبر: 3032 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، سَمِعَ مِقْسَمًامَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 عَنْ بَدْرٍ، وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ لَمَّا نَزَلَتْ غَزْوَةُ بَدْرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: إِنَّا أَعْمَيَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ لَنَا رُخْصَةٌ ؟ فَنَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً، فَهَؤُلَاءِ الْقَاعِدُونَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا 95 دَرَجَاتٍ مِنْهُ سورة النساء آية 94-95 عَلَى الْقَاعِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرِ أُولِي الضَّرَرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمِقْسَمٌ يُقَالُ: هُوَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَيُقَالُ: هُوَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ زید بن ثابت (رض) نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں املا کرایا « (لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» گھروں میں بیٹھ رہنے والے مسلمان، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہوسکتے اسی دوران ابن ام مکتوم آپ ﷺ کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا، وہ نابینا شخص تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران (قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے) میری ران پر تھی، وہ (نزول وحی کے دباؤ سے) بوجھل ہوگئی، لگتا تھا کہ میری ران پس جائے گی۔ پھر (جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہوگئی) تو آپ کی پریشانی دور ہوگئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد (رض) سے روایت کی ہے، ٣ - معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری (صحابی) نے مروان بن حکم (تابعی) سے۔ اور مروان نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا ہے، وہ تابعی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٣١ (٢٨٣٢) ، وتفسیر النساء ١٩ (٤٥٩٢) (تحفة الأشراف : ٣٧٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3033
حدیث نمبر: 3033 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ، لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمْلِيهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنِالزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رِوَايَةُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ التَّابِعِين، رَوَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَمَرْوَانُ لم يسمع من النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مِنَ التَّابِعِين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) سے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے (النساء : ١٠١ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں (پھر قصر کیوں کر جائز ہوگی ؟ ) عمر (رض) نے کہا : جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کرلو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٥) (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) ، و مسند احمد (١/٢٥، ٣٦) ، وسنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1065) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3034
حدیث نمبر: 3034 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍيُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ضجنان اور عسفان (نامی مقامات) کے درمیان قیام فرما ہوئے، مشرکین نے کہا : ان کے یہاں ایک نماز ہوتی ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، اور وہ نماز عصر ہے، تو تم پوری طرح تیاری کرلو پھر ان پر یک بارگی ٹوٹ پڑو۔ (اس پر) جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کردیں (ان میں سے) ایک گروہ کے ساتھ آپ نماز پڑھیں اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے۔ پھر دوسرے گروہ کے لوگ آئیں اور آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر یہ (پہلے گروہ والے لوگ) اپنی ڈھالیں اور ہتھیار لے کر ان کے پیچھے کھڑے رہیں ١ ؎ اس طرح ان سب کی ایک ایک رکعت ہوگی اور رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں ہوں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس سند سے عبداللہ بن شقیق کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، ابن عباس، جابر، ابوعیاش زرقی، ابن عمر، حذیفہ، ابوبکرہ اور سہل بن ابوحشمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور ابوعیاش کا نام زید بن صامت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ١٣٥٦٦) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف «وإذا کنت فيهم فأقمت لهم الصلاة فلتقم طآئفة منهم معک وليأخذوا أسلحتهم» (النساء : ١٠٢ ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3035
حدیث نمبر: 3035 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَأَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ وَتَقُومُ طَائِفَةٌ أُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي الْآخَرُونَ وَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَتَكُونُ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَأَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
قتادہ بن نعمان (رض) کہتے ہیں کہ (انصار) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا : فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا : اللہ کی قسم ! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں - یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا - انہوں (یعنی صحابہ) نے کہا : یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہوجاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا (میدہ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کرلیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ (ایک بار ایسا ہوا) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا : میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر (جشن) منا رہے ہوں گے۔ (یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا : قسم اللہ کی ! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں ؟ قسم اللہ کی ! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو ۔ لوگوں نے کہا : جناب ! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہوسکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا : بھتیجے ! اگر تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے اور آپ سے اس (حادثے) کا ذکر کرتے (تو ہوسکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا) قتادہ بن نعمان (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا : ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید (کے گھر) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن (کھانا) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن (غلے) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس بارے میں مشورہ (اور پوچھ تاچھ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا ۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہوگئے۔ اور ان سب نے (رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر) کہا : اللہ کے رسول ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه علی نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ٣ ؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا : «ولولا فضل اللہ عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ٤ ؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ (بنی ابیرق) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں : میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہوچکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا (اور یقین کرلیا) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا (اور ہے) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولی ونصله جهنم وساءت مصيرا إن اللہ لا يغفر أن يشرک به ويغفر ما دون ذلک لمن يشاء ومن يشرک بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ٥ ؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت (رض) نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، (یہ سن کر) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر (اس سے) کہا : تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے ؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ٢ - یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ٣ - قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری (رض) کے اخیافی بھائی ہیں، ٤ - ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٠٧٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یقیناً ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس بصیرت کے مطابق فیصلہ کریں جس سے اللہ نے آپ کو نوازا ہے ، اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو (النساء : ١٠٥ ) ۔ ٢ ؎ : اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں ، یقیناً دغا باز ، گنہگار اللہ تعالیٰ کو اچھا نہیں لگتا ، وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپ سکتے ، وہ راتوں کے وقت جب کہ اللہ کے ناپسندیدہ باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے ، ان کے تمام اعمال کو وہ گھیرے ہوئے ہے ، ہاں ، تو یہ تم لوگ ہو کہ جنہوں نے ان لوگوں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں جھگڑا کرلیا (ان کی حمایت کردی) لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا ؟ اور وہ کون ہے جو ان کے وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا ، جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کر والا پائے گا (النساء : ١٠٧ تا ١١٠ ) ۔ ٣ ؎ : اور جو گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے اور اللہ بخوبی جاننے والا اور پوری حکمت والا ہے ، اور جو شخص کوئی گناہ یا خطا کر کے کسی بےگناہ کے ذمہ تھوپ دے ، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناہ کیا (النساء : ١١١ -١١٢) ۔ ٤ ؎ : اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا ، دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب و حکمت اتاری ہے اور تجھے وہ سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا ، اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے ، ان کے اکثر مصلحتیٰ مشورے خیر سے عاری ہیں ، ہاں ، بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔ ٥ ؎ : ہدایت کے واضح ہونے کے بعد جو شخص رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرے گا اور مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلے گا تو جدھر کا وہ رخ کرے گا ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے ، اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ اور جہنم بری جگہ ہے ، اللہ اسے معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ، اور شرک کے سوا جو چیز بھی اللہ جس کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا وہ بہت بڑی گمراہی میں جا پڑے گا (النساء : ١١٥ ، ١١٦ ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3036
حدیث نمبر: 3036 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَّا يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقٍ بِشْرٌ، وَبُشَيْرٌ، وَمُبَشِّرٌ، وَكَانَ بُشَيْرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا يَقُولُ: الشِّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَنْحَلُهُ بَعْضَ الْعَرَبِ، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الشِّعْرَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ إِلَّا هَذَا الْخَبِيثُ أَوْ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ، وَقَالُوا: ابْنُ الْأُبَيْرِقِ قَالَهَا، قَالَ: وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ حَاجَةٍ وَفَاقَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ يَسَارٌ فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ، مِنَ الدَّرْمَكِ، ابْتَاعَ الرَّجُلُ مِنْهَا فَخَصَّ بِهَا نَفْسَهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِنَّمَا طَعَامُهُمُ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ، فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ، فَجَعَلَهُ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، وَفِي الْمَشْرَبَةِ سِلَاحٌ وَدِرْعٌ وَسَيْفٌ، فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْبَيْتِ فَنُقِبَتِ الْمَشْرَبَةُ وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّهُ قَدْ عُدِيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَنُقِبَتْ مَشْرَبَتُنَا فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، قَالَ: فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا، فَقِيلَ لَنَا: قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ اسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَلَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ، قَالَ: وَكَانَ بَنُو أُبَيْرِقٍ، قَالُوا: وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ وَاللَّهِ مَا نُرَى صَاحِبَكُمْ إِلَّا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ، فَلَمَّا سَمِعَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: أَنَا أَسْرِقُ ! فَوَاللَّهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَمَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا، فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ نَشُكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا، فَقَالَ لِي عَمِّي: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرَبَةً لَهُ وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ فَلْيَرُدُّوا عَلَيْنَا سِلَاحَنَا فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُ فِي ذَلِكَ، فَلَمَّا سَمِعَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: أَسَيْرُ بْنُ عُرْوَةَ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا ثَبَتٍ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمِهِمْ بِالسَّرِقَةِ عَلَى غَيْرِ ثَبَتٍ وَلَا بَيِّنَةٍ، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا صَنَعْتَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا سورة النساء آية 105 بَنِي أُبَيْرِقٍ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ سورة النساء آية 106 أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ: إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا 106 وَلا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا 107 يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 106 ـ 110 أَيْ لَوِ اسْتَغْفَرُوا اللَّهَ لَغَفَرَ لَهُمْ وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَإِثْمًا مُبِينًا سورة النساء آية 111 قَوْلَهُ لِلَبِيدٍ وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 113 ـ 114، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ فَرَدَّهُ إِلَى رِفَاعَةَ، فَقَالَ قَتَادَةُ: لَمَّا أَتَيْتُ عَمِّي بِالسِّلَاحِ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَشَا أَوْ عَسَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أُرَى إِسْلَامُهُ مَدْخُولًا، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بُشَيْرٌ بِالْمُشْرِكِينَ فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعْدِ ابْنِ سُمَيَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا 115 إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِيدًا 116 سورة النساء آية 115-116 فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ رَمَاهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِأَبْيَاتٍ مِنْ شِعْرِهِ، فَأَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ فِي الْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَتْ: أَهْدَيْتَ لِي شِعْرَ حَسَّانَ مَا كُنْتَ تَأْتِينِي بِخَيْرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيِّ، وَرَوَى يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مُرْسَلٌ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت : «إن اللہ لا يغفر أن يشرک به ويغفر ما دون ذلک لمن يشاء» اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا (النساء : ١١٦ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے، ٣ - ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠١١١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3037
حدیث نمبر: 3037 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا (النساء : ١٢٣ ) ، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کی، تو آپ نے فرمایا : حق کے قریب ہوجاؤ، اور سیدھے رہو، مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اسے کوئی مصیبت پہنچ جائے (تو اس کے سبب سے بھی اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ١٤ (٢٥٧٤) (تحفة الأشراف : ١٤٥٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج الطحاوية (390) ، الضعيفة تحت الحديث (2924) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3038
حدیث نمبر: 3038 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِي كُلِّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ كَفَّارَةٌ حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا أَوِ النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا ، ابْنُ مُحَيْصِنٍ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت : «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون اللہ وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ابوبکر ! کیا میں تمہیں ایک آیت جو (ابھی) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ؟ ابوبکر (رض) کہتے ہیں : تو آپ نے مجھے (مذکورہ آیت) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کیا حال ہے ! میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو ؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہوگا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (گھبراؤ نہیں) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ (چھوٹی موٹی) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہوگا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہوگا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ٢ - موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ٣ - اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ٤ - اس باب میں ام المؤمنین عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٦٠٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے، اور مولی بن سباع مجہول ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (1237) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3039
حدیث نمبر: 3039 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصِيرًا سورة النساء آية 123، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا أُقْرِئُكَ آيَةً أُنْزِلَتْ عَلَيَّ ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِيهَا فَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنِّي قَدْ كُنْتُ وَجَدْتُ انْقِصَامًا فِي ظَهْرِي فَتَمَطَّأْتُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَأَيُّنَا لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَإِنَّا لَمُجْزَوْنَ بِمَا عَمِلْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ فَتُجْزَوْنَ بِذَلِكَ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَلَيْسَ لَكُمْ ذُنُوبٌ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ فَيُجْمَعُ ذَلِكَ لَهُمْ حَتَّى يُجْزَوْا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ مَجْهُولٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ (رض) کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم ﷺ انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا : آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ (رض) کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» کوئی حرج نہیں کہ دونوں (میاں بیوی) صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے (النساء : ١٢٨ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کرلی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس (رض) کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2020) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3040
حدیث نمبر: 3040 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَشِيَتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَفَعَلَ فَنَزَلَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 ، فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ كَأَنَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦٦ (٤٣٦٤) ، وتفسیر النساء ٢٧ (٤٦٠٥) ، والفرائض ١٤ (٦٧٤٤) ، صحیح مسلم/الفرائض ٣ (١٦١٨) ، سنن ابی داود/ الفرائض ٣ (٢٨٨٨) (تحفة الأشراف : ١٧٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو ، نہ ہی ماں باپ ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا ، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا۔ (النساء : ١٧٦ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2570) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3041
حدیث نمبر: 3041 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ أَوْ آخِرُ شَيْءٍ نَزَلَ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ، وَيُقَالُ ابْنُ يُحْمِدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے سلسلہ میں تو تمہارے لیے آیت صیف ١ ؎ کافی ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٩٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آیت «صیف» گرمی کے موسم میں حجۃ الواداع کے راستہ میں نازل ہوئی۔ اور «آیت صیف» کے نام سے مشہور ہوئی۔ پوری آیت یوں ہے : «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة إن امرأ هلک ليس له ولد ــ إلى ــ فللذکر مثل حظ الأنثيين» تک (لوگ تجھ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دو اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں بتاتا ہے) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2571) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3042
حدیث نمبر: 3042 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176، فَقَال لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُجْزِئُكَ آيَةُ الصَّيْفِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
طارق بن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا : امیر المؤمنین ! اگر یہ آیت «اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا» آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا (المائدہ : ٣ ) ، ہمارے اوپر (ہماری توریت میں) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، عمر بن خطاب (رض) نے اس سے کہا : مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٣٣ (٤٥) ، والمغازي ٧٧ (٤٤٠٧) ، وتفسیر المائدة ٢ (٤٦٠٦) ، والإعتصام ١ (٧٢٦٨) ، صحیح مسلم/التفسیر (٣٠١٧) ، سنن النسائی/الحج ١٩٤ (٣٠٠٦) ، والإیمان ١٨ (٥٠١٥) (تحفة الأشراف : ١٠٤٦٨) ، و مسند احمد (١/٢٨، ٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے اچھا اور خوشی کا دن اور کون سا ہوگا ، یہ دونوں دن تو ہمارے لیے عید اور خوشی کے دن ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3043
حدیث نمبر: 3043 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ عَلَيْنَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنِّي أَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے آیت «اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا : اگر یہ آیت ہم (یہودیوں) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس (رض) نے کہا : یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ (اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٢٩٦) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3044
حدیث نمبر: 3044 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمْعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، (کبھی خالی نہیں ہوتا) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے دیکھا (سوچا ؟ ) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کرچکا ہے ؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے (جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد اللہ مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء» ١ ؎ کی تفسیر ہے، اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی کسی طرح کا وہم و قیاس لڑایا جائے گا۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام : سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر ھود ٢ (٤٦٨٤) ، والتوحید ١٩ (٧٤١١) ، و ٢٢ (٧٤١٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ١١ (٩٩٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٧) (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٣) ، و مسند احمد (٢/٣١٣، ٥٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، انہی کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے (المائدہ : ٦٤ ) ۔ ٢ ؎ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اس کی نہ تو تاویل کی جائے گی اور نہ ہی کوئی تفسیر ، یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ ایسا ایسا ہے بلکہ جیسی اس کی ذات ہے ایسے ہی اس کا ہاتھ بھی ہے ، اس کی کیفیت بیان کئے بغیر اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (197) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3045
حدیث نمبر: 3045 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُ الرَّحْمَنِ مَلْأَى سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي تَفْسِيرُ هَذِهِ الْآيَةِ وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ سورة المائدة آية 64 وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَتْهُ الْأَئِمَّةُ نُؤْمِنُ بِهِ كَمَا جَاءَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفَسَّرَ أَوْ يُتَوَهَّمَ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنْهِمُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ تُرْوَى هَذِهِ الْأَشْيَاءُ وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُقَالُ كَيْفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمک من الناس» اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا (المائدہ : ٦٧ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا : تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦٢١٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا ، مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3046 اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ بعض نے یہ حدیث جریری کے واسطہ سے، عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگہبانی کی جاتی تھی، اور انہوں نے اس روایت میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3046
حدیث نمبر: 3046 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ سورة المائدة آية 67فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ، فَقَالَ لَهُمْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ١ ؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے ، پھر رسول اللہ ﷺ سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : نہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! تم اس وقت تک نجات نہ پاؤ گے جب تک کہ تم ان بدکاروں کو برائی سے روک نہ دو ۔ ان کو بھلائی کی طرف موڑ نہ دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں : یزید نے کہا کہ سفیان ثوری اس روایت میں عبداللہ بن مسعود کا نام نہیں لیتے ہیں، ٣ - یہ حدیث محمد بن مسلم بن ابی الوضاح سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ علی بن بذیمہ سے، علی بن بذیمہ ابوعبیدہ سے اور ابوعبیدہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، ٤ - بعض راوی اسے ابوعبیدہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٦) (تحفة الأشراف : ٩٦١٤) (ضعیف) (سند میں ابو عبیدہ کا اپنے باپ عبد اللہ بن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان میں کوئی اچھا اور کوئی برا نہ رہا ، سب ایک جیسے مستحق عذاب ہوگئے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (4006) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3047
حدیث نمبر: 3047 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ، وَوَاكَلُوهُمْ، وَشَارَبُوهُمْ، فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ، وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطُرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ لَا يَقُولُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مائدہ
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين کفروا من بني إسرائيل علی لسان داود وعيسى ابن مريم ذلک بما عصوا وکانوا يعتدون» سے لے کر «ولو کانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولکن كثيرا منهم فاسقون» ١ ؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم ﷺ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا : نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٩٥٩٠) (ضعیف) (یہ مرسل ہے، ابو عبیدہ تابعی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا ، ان پر داود اور مسیح ابن مریم (علیہم السلام) کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔ کیونکہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔ جو بھی منکر ، قوم کرتی ، اور سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔ وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔ تم ان میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں ، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے ، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبی پر اور جو چیز اس نبی پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے ، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و بدکار ہیں (المائدہ : ٧٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف انظر ما قبله (3047) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3048 اس سند سے محمد بن مسلم نے علی بن بذیمہ سے علی بن بذیمہ نے ابوعبیدہ سے، اور ابوعبیدہ نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٠٤٧ (ضعیف ) وضاحت : ٢ ؎ : جو بھی ہو بہرحال یہ سند ضعیف ہے ، اگر سند میں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہے تو ان سے ان کے بیٹے ابوعبیدہ کا سماع نہیں ہے ، اور اگر ان کا ذکر نہیں ہے تب تو یہ سند معضل ہوگئی (یعنی دو راوی سند سے ساقط ہوگئے) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف انظر ما قبله (3047 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3048
حدیث نمبر: 3048 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ كَانَ الرَّجُلُ فِيهِمْ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ، فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ سورة المائدة آية 78 فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 81، قَالَ: وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: لَا حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدِيِ الظَّالِمِ فَتَأْطُرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا . حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَمْلَاهُ عَلَي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
তাহকীক: