আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৩ টি

হাদীস নং: ২৯৯০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کے متعلق
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به اللہ فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء» ١ ؎ نازل ہوئی۔ تو اس نے ہم سب کو فکرو غم میں مبتلا کردیا۔ ہم نے کہا : ہم میں سے کوئی اپنے دل میں باتیں کرے پھر اس کا حساب لیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس میں سے کیا بخشا جائے گا اور کیا نہیں بخشا جائے ؟ ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا يكلف اللہ نفسا إلا وسعها لها ما کسبت وعليها ما اکتسبت» ٢ ؎ اور اس آیت نے اس سے پہلی والی آیت کو منسوخ کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٣٣٦) (ضعیف الإسناد) (سدی اور علی (رض) کے درمیان کا راوی مبہم ہے ) وضاحت : ١ ؎ : تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا ، پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے (البقرہ : ٢٨٤ ) ۔ ٢ ؎ : اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ، جو نیکی کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی کرے وہ بھی اس پر ہے (البقرہ : ٢٨٦ ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2990
حدیث نمبر: 2990 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَعَلِيًّا، يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ سورة البقرة آية 284، ‏‏‏‏‏‏أَحْزَنَتْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ فَيُحَاسَبُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَدْرِي مَا يُغْفَرُ مِنْهُ وَلَا مَا لَا يُغْفَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کے متعلق
امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به الله» ١ ؎ اور (دوسرے) قول «من يعمل سوءا يجز به» ٢ ؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے (تمہارے سوا) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت (وغیرہ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کردیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہوجاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے (صاف ستھرا) نکلتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٧٨٢٣) (ضعیف الإسناد) (” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : البقرہ : ٢٨٦ ۔ ٢ ؎ : جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا (النساء : ١٢٣ ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (6086) ، المشکاة (1557) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2991
حدیث نمبر: 2991 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمَيَّةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 وَعَنْ قَوْلِهِ:‏‏‏‏ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ مُعَاتَبَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ سے کہی تو آپ نے فرمایا : (پہلے تو) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بےچون و چرا بات مان لی، (چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف اللہ نفسا إلا وسعها لها ما کسبت وعليها ما اکتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا» ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا کردیا (تمہاری دعا قبول کرلی) «ربنا ولا تحمل علينا إصرا کما حملته علی الذين من قبلنا» ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا ، اللہ نے فرمایا : میں نے تمہارا کہا کردیا ، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» اے اللہ ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ، اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کردیا (یعنی تمہاری دعا قبول کرلی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابن عباس (رض) سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٥٧ (١٢٥) (تحفة الأشراف : ٥٤٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2992
حدیث نمبر: 2992 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهُ شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ مِنْ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قُولُوا:‏‏‏‏ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا سورة البقرة آية 286، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَآدَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُقَالُ هُوَ وَالِدُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» ٢ ؎ کی تفسیر پوچھی۔ تو آپ نے فرمایا : جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو (کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں) ۔ یزید کی روایت میں ہے جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو یہ بات عائشہ (رض) نے دو یا تین بار کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦٢٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قرآن میں دو قسم کی آیات ہیں ١ - محکم ، ٢ - اور متشابہ ، محکم وہ آیات ہیں جن کے معانی اور مطالب بالکل واضح ہیں جیسے نماز پڑھو ، زکاۃ ادا کرو وغیرہ ، اور متشابہ وہ آیات ہیں جن کے معانی واضح نہیں ہوتے ، ان کے صحیح معانی یا تو اللہ جانتا ہے ، یا اللہ کے رسول جانتے تھے ، ان کے معانی معلوم کرنے کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا ہے ، ان پر ایمان بالغیب کا مطالبہ ہے لیکن زیع و ضلال کے متلاشی لوگ ان کے غلط معانی بیان کرنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ، انہی سے بچنے کا مشورہ اس حدیث میں دیا گیا ہے۔ ٢ ؎ : پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر (آل عمران : ٧ ) ۔ قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2993
حدیث نمبر: 2993 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ الْخَزَّازُ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ يَزِيدُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو عَامِرٍ الْقَاسِمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ سورة آل عمران آية 7، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا رَأَيْتِيهِمْ فَاعْرِفِيهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ يَزِيدُ:‏‏‏‏ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاعْرِفُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت «هو الذي أنزل عليك الکتاب منه آيات محکمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣ - ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں قاسم بن محمد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف یزید بن ابراہیم تستری نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ٤ - ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر آل عمران ١ (٤٥٤٧) ، صحیح مسلم/العلم ١ (٢٦٦٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٧) (تحفة الأشراف : ١٧٤٦٠) ، و مسند احمد (٦/٤٨) ، وسنن الدارمی/المقدمة ١٩ (١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر ، حالانکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا (آل عمرآن : ٧ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2994
حدیث نمبر: 2994 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولی الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ١ ؎ پڑھی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩٥٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے ، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے (آل عمرآن : ٦٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5769 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2995
حدیث نمبر: 2995 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 68 ، .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ (قیامت میں) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہوگا ۔ اشعث بن قیس (رض) کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک (مشترک) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کردیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا : تم قسم کھاؤ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا» ١ ؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٢٦٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمرآن : ٧٧ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2323) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2996
حدیث نمبر: 2996 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ:‏‏‏‏ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ:‏‏‏‏ احْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَنْ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت : «لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون» ١ ؎ یا «من ذا الذي يقرض اللہ قرضا حسنا» ٢ ؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ (رض) کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا (تو چھپاتا) اعلان نہ کرتا ٣ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر : صحیح البخاری/الزکاة ٤٤ (١٤٦١) ، والوکالة ١٥ (٢٣١٨) ، والوصایا ١٧ (٢٧٥٨) ، وتفسیر آل عمران ٥ (٤٥٥٤) ، والأشربة ١٣ (٥٦١١) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (٩٩٨) (تحفة الأشراف : ٧٠٤، و ٢٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے (آل عمران : ٩٢ ) ۔ ٢ ؎ : ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے (البقرہ : ٢٤٥ ) ۔ ٣ ؎ : کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1482) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2997
حدیث نمبر: 2997 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! (واقعی) حاجی کون ہے ؟۔ آپ نے فرمایا : وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : کون سا حج سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا (خوب خوب) خون بہایا جائے ۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! («من استطاع سبیلاً» میں) «سبیل» سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : زاد راہ (توشہ) اور سواری ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عمر (رض) کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٨١٣ (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن یزید خوزی سخت ضعیف ہے، لیکن العج والثج کا جملہ ابن ماجہ کی ایک حدیث سے ثابت ہے سنن ابن ماجہ : ٢٨٩٦ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، لکن جملة العج والثج ثبتت في حديث آخر، ابن ماجة (2896) ، صحيح ابن ماجة برقم (2341) ، ضعيف ابن ماجة (631) ، الإرواء (988) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2998
حدیث نمبر: 2998 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنِ الْحَاجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الشَّعِثُ التَّفِلُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْعَجُّ وَالثَّجُّ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا السَّبِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ الْمَكِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم» ١ ؎ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین (رض) کو بلایا پھر فرمایا : یا اللہ ! یہ لوگ میرے اہل ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٨٧٥) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : آؤ ہم تم اپنے اپنے لڑکوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں (آل عمرآن : ٦١ ) ۔ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے ساتھ آپ ﷺ کے معاملہ کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی ، معاملے میں دونوں فریقوں کو اپنے اپنے خاص اہل خانہ کو ساتھ لے کر قسم کھانی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کا جھوٹ سچے کی زندگی میں ظاہر کر دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2999
حدیث نمبر: 2999 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ هُوَ مَدَنِيٌ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61، ‏‏‏‏‏‏دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، ‏‏‏‏‏‏وَفَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏وَحُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
ابوغالب کہتے ہیں کہ ابوامامہ (رض) نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر (حروراء کے مقتول خوارج کے) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا : یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» ١ ؎ پڑھی میں نے ابوامامہ (رض) سے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ کہا : میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے۔ ٣ - اور ابوامامہ باہلی (رض) کا نام صدی بن عجلان ہے، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٧٦) (تحفة الأشراف : ٤٩٣٥) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (176) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3000
حدیث نمبر: 3000 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سلمة، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ:‏‏‏‏ كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ:‏‏‏‏ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو غَالِبٍ يُقَالُ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ اسْمُهُ صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ سَيِّدُ بَاهِلَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
معاویہ بن حیدہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے قول «کنتم خير أمة أخرجت للناس» ١ ؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا : تم ستر امتوں کا تتمہ (و تکملہ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «کنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٢٨٧) (تحفة الأشراف : ١١٣٨٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے (آل عمران : ١١٠ ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (4287 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3001
حدیث نمبر: 3001 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ تَتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے کے چاروں دانت (رباعیہ) توڑ دیئے گئے، اور پیشانی زخمی کردی گئی، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا : بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہوگی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ١ ؎ نازل ہوئی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٢١ (تعلیقا في الترجمة) صحیح مسلم/الجھاد ٣٨ (١٧٩١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٢٧) (تحفة الأشراف : ٧٨٧) ، و مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٨، ٢٠١، ٢٠٦، ٢٥٢، ٢٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اے نبی ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران : ١٢٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3002
حدیث نمبر: 3002 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ وَجْهُهُ شَجَّةً فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے : وہ امت کیسے فلاح یاب ہوگی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کر رہے ہوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں «ورمی رمية علی كتفه» کی بابت غلطی کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3002) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3003
حدیث نمبر: 3003 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ غَلِطَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا : اے اللہ ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر، اے اللہ ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر، اے اللہ ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر ، تو آپ پر یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» نازل ہوئی۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی، انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے، ٣ - زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وراجع : صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩) (تحفة الأشراف : ٦٧٨٠) (صحیح) (سند میں عمر بن حمزہ بن عبد اللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن بخاری کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3004
حدیث نمبر: 3004 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَأَسْلَمُوا فَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَعْرِفْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَرَفَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چار افراد کے لیے بدعا فرماتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت : «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت و توفیق بخش دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ یعنی : اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر» ٢ - اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وراجع : صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩، ٤٠٧٠) (تحفة الأشراف : ٨٤٣٦) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3005
حدیث نمبر: 3005 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 فَهَدَاهُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو کہتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر (رض) نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله» ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، ٢ - اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٤٠٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں (آل عمران : ١٣٥ ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1359) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3006
حدیث نمبر: 3006 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعُوهُ وَرَوَاهُ مِسْعَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِسْعَرٍ فَأَوْقَفَهُ وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَأَوْقَفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا إِلَّا هَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے (بوجھل) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ١ ؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٨) ، وتفسیر آل عمران ١١ (٤٥٦٢) (تحفة الأشراف : ٣٧٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں ایک جماعت کو چین کی نیند آنے لگی (آل عمران : ١٥٤ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3007
حدیث نمبر: 3007 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَفَعْتُ رَأْسِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا يَمِيدُ تَحْتَ حَجَفَتِهِ مِنَ النُّعَاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا سورة آل عمران آية 154 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ ابوطلحہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم جنگ احد میں اپنی صف (پوزیشن) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہوگئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی (نیند) نے آ گھیرا تھا، حالت یہ ہوگئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی، میں اسے سنبھال رہا تھا۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب ہوجانے والے (ڈرپوک) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٠٠٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3008
حدیث نمبر: 3008 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ غُشِينَا وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَاقِدُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَجْبَنُ قَوْمٍ وَأَرْعَبُهُ وَأَخْذَلُهُ لِلْحَقِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০০৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) ارشاد باری «ما کان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں : جنگ بدر کے دن (مال غنیمت میں آئی ہوئی) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی، بعض لوگوں نے کہا : شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو تو آیت : «ما کان لنبي أن يغل» ١ ؎ نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے، ٣ - اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق :«خصيف عن مقسم» روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحروف ٣ (٣٩٧١) (تحفة الأشراف : ٦٤٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہوجائے ، ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا ، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے (آل عمران : ١٦١ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2788) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3009
حدیث نمبر: 3009 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ افْتُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ:‏‏‏‏ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক: