আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৩ টি
হাদীস নং: ৩৩২৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الجن
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے بعض صحابہ سے پوچھا : کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم نہیں جانتے مگر پوچھ کر جان لیں گے، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، کہا : اے محمد ! آج تو تمہارے ساتھی ہار گئے، آپ نے پوچھا : کیسے ہار گئے ؟ اس نے کہا : یہود نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں ؟ آپ نے پوچھا : انہوں نے کیا جواب دیا ؟ اس نے کہا : انہوں نے کہا : ہمیں نہیں معلوم، ہم اپنے نبی سے پوچھ کر بتاسکتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا وہ قوم ہاری ہوئی مانی جاتی ہے جس سے ایسی چیز پوچھی گئی ہو جسے وہ نہ جانتی ہو اور انہوں نے کہا ہو کہ ہم نہیں جانتے جب تک کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ نہ لیں ؟ (اس میں ہارنے کی کوئی بات نہیں ہے) البتہ ان لوگوں نے تو اس سے بڑھ کر بےادبی و گستاخی کی بات کی، جنہوں نے اپنے نبی سے یہ سوال کیا کہ ہمیں اللہ کو کھلے طور پر دکھا دو ، آپ نے فرمایا : اللہ کے ان دشمنوں کو ہمارے سامنے لاؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھتا ہوں، وہ نرم مٹی ہے ، جب وہ سب یہودی آ گئے تو انہوں نے کہا : اے ابوالقاسم ! جہنم کے نگراں لوگوں کی کتنی تعداد ہے ؟ آپ نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ فرمایا : ایک مرتبہ دس (انگلیاں دکھائیں) اور ایک مرتبہ نو (کل ١٩) انہوں نے کہا : ہاں، (آپ نے درست فرمایا) اب آپ نے پلٹ کر ان سے پوچھا : جنت کی مٹی کا ہے کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : وہ لوگ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہنے لگے : ابوالقاسم ! وہ روٹی کی ہے، آپ نے فرمایا : روٹی میدہ (نرم مٹی) کی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے مجالد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٥١) (ضعیف) (سند میں مجالد ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «وما جعلنا أصحاب النار إلا ملائكة» (المدثر : ٣١) کی تفسیر میں لائے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3348) // ضعيف الجامع الصغير (2937) مختصرا // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3327
حدیث نمبر: 3327 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ يَعْلَمُ نَبِيُّكُمْ كَمْ عَدَدُ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ ؟ قَالُوا: لَا نَدْرِي حَتَّى نَسْأَلَ نَبِيَّنَا، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ غُلِبَ أَصْحَابُكَ الْيَوْمَ، قَالَ: وَبِمَا غُلِبُوا ؟ قَالَ: سَأَلَهُمْ يَهُودُ: هَلْ يَعْلَمُ نَبِيُّكُمْ كَمْ عَدَدُ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ ؟ قَالَ: فَمَا قَالُوا ؟ قَالَ: قَالُوا: لَا نَدْرِي حَتَّى نَسْأَلَ نَبِيَّنَا، قَالَ: أَفَغُلِبَ قَوْمٌ سُئِلُوا عَمَّا لَا يَعْلَمُونَ، فَقَالُوا: لَا نَعْلَمُ حَتَّى نَسْأَلَ نَبِيَّنَا، لَكِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ ، فَقَالُوا: أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً، عَلَيَّ بِأَعْدَاءِ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ الدَّرْمَكُ، فَلَمَّا جَاءُوا قَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ كَمْ عَدَدُ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ ؟ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا فِي مَرَّةٍ عَشَرَةٌ وَفِي مَرَّةٍ تِسْعَةٌ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ: فَسَكَتُوا هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالُوا: خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخُبْزُ مِنَ الدَّرْمَكِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الجن
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ : «هو أهل التقوی وأهل المغفرة» وہی (اللہ) ہے جس سے ڈرنا چاہیئے، اور وہی مغفرت کرنے والا ہے (المدثر : ٥٦) ، کے بارے میں فرمایا : اللہ عزوجل کہتا ہے کہ میں اس کا اہل اور سزاوار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، تو جو مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرایا تو مجھے لائق ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- سہل حدیث میں قوی نہیں مانے جاتے ہیں اور وہ یہ حدیث ثابت سے روایت کرنے میں تنہا (بھی) ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٤٢٩٩) (تحفة الأشراف : ٤٣٤) (ضعیف) (سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (4299) // ضعيف سنن ابن ماجة (936) ، المشکاة (2351 / التحقيق الثاني) ضعيف الجامع الصغير (4061) بلفظ : قال ربکم // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3328
حدیث نمبر: 3328 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُطَعِيُّ، وَهُوَ أَخُو حَزْمِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى، فَمَنِ اتَّقَانِي فَلَمْ يَجْعَلْ مَعِي إِلَهًا، فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَسُهَيْلٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ ثَابِتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ قیامہ کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے (دہرانے) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کرلیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرک به لسانک لتعجل به» اے نبی ! ) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں (القیامۃ : ١٦) ، نازل ہوئی۔ (راوی) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، (ان کے شاگرد) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الوحی ٤ (٥) ، وتفسیر سورة القیامة ١ (٤٩٢٧) ، و ٢ (٤٩٢٨) ، و ٣ (٤٩٢٩) ، وفضائل القرآن ٢٨ (٥٠٤٤) ، والتوحید ٤٣ (٧٥٢٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٢ (٤٤٨) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٦) (تحفة الأشراف : ٥٦٣٧) ، و مسند احمد (١/٣٤٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3329
حدیث نمبر: 3329 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: فَكَانَ يُحَرِّكُ بِهِ شَفَتَيْهِ ، وَحَرَّكَ سُفْيَانُ شَفَتَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُحْسِنُ الثَّنَاءَ عَلَى مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ خَيْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ قیامہ کی تفسیر
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہوگا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہوگا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ : ٢٣) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے، ٢- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر (رض) کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٦٦٦) (ضعیف) (سند میں ثویر ضعیف اور رافضی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3330 اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے، اور ان کے قول سے روایت کی ہے اور اسے انہوں نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے، اور میں ثوری کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند میں مجاہد کا نام لیا ہو، ٤- اسے ہم سے بیان کیا ابوکریب نے، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا عبیداللہ اشجعی نے اور عبیداللہ اشجعی نے روایت کی سفیان سے، ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3330
حدیث نمبر: 3330 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ 22 إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23 سورة القيامة آية 22-23 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ هَذَا مَرْفُوعًا، وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.وَرَوَى الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ مُجَاهِد عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ غَيْرَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَثُوَيْرٌ يكنى أبا جهم، وأبو فاختة اسمه سعيد بن علاقة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ عبس کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ «عبس وتولی» والی سورة (عبداللہ) ابن ام مکتوم نابینا کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے : اللہ کے رسول ! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ ﷺ ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے (مشرک) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو ؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولی» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٣٠٥) (صحیح الإسناد) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3331
حدیث نمبر: 3331 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعيدٍ الْأَمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: هَذَا مَا عَرَضْنَا عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: أُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْشِدْنِي، وَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ وَيَقُولُ: أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا، فَيَقُولُ: لَا، فَفِي هَذَا أُنْزِلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ عبس کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ (قیامت کے دن) جمع کیے جاؤ گے ننگے پیر، ننگے جسم، بیختنہ کے، ایک عورت (ام المؤمنین عائشہ (رض)) نے کہا : کیا ہم میں سے بعض بعض کی شرمگاہ دیکھے گا ؟ آپ نے فرمایا : «لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه» اے فلانی ! اس دن ہر ایک کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسرے کی فکر سے غافل و بےنیاز کر دے گی (سورۃ عبس : ٤٢) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ مختلف سندوں سے ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور اسے سعید بن جبیر نے بھی روایت کیا ہے، ٢- اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٣٥) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3332
حدیث نمبر: 3332 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَيُبْصِرُ أَوْ يَرَى بَعْضُنَا عَوْرَةَ بَعْضٍ ؟ قَالَ: يَا فُلَانَةُ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ سورة عبس آية 37 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَيْضًا، وَفِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت تکویر کی تفسیر
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے اچھا لگے کہ وہ قیامت کا دن دیکھے اور اس طرح دیکھے، اس نے آنکھوں سے دیکھا ہے تو اسے چاہیئے کہ «إذا الشمس کورت» اور «إذا السماء انفطرت» ، «وإذا السماء انشقت» ١ ؎ پڑھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہشام بن یوسف وغیرہ نے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے (اس میں ہے) آپ نے فرمایا : جسے خوشی ہو کہ وہ قیامت کا دن دیکھے، آنکھ سے دیکھنے کی طرح اسے چاہیئے کہ سورة «إذا الشمس کورت» پڑھے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣٠٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ یہ تینوں سورتیں قیامت کا واضح نقشہ پیش کرتی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1081) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3333
حدیث نمبر: 3333 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الصَّنْعَانِيُّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَلَمْ يَذْكُرْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت مطففین کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہوجاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا يکسبون» یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے (المطففین : ١٤) ، میں کیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٤١ (٤١٨) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٩ (٤٢٤٤) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، التعليق الرغيب (2 / 268) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3334
حدیث نمبر: 3334 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 . قال: هذا حديث حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت مطففین کی تفسیر
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین : ٦) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٤٢٢ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر الحديث (2550) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3335
حدیث نمبر: 3335 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَمَّادٌ: هُوَ عِنْدَنَا مَرْفُوعٌ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ: يَقُومُونَ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت مطففین کی تفسیر
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3336
حدیث نمبر: 3336 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ: يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ . قال: هذا حديث حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ انشقاق کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس سے حساب کی جانچ پڑتال کرلی گئی وہ ہلاک (برباد) ہوگیا ، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تو فرماتا ہے «فأما من أوتي کتابه بيمينه» سے «يسيرا» جس کو کتاب دائیں ہاتھ میں ملی اس کا حساب آسانی سے ہوگا (الانشقاق : ٧- ٨) ، تک آپ نے فرمایا : وہ حساب و کتاب نہیں ہے، وہ تو صرف نیکیوں کو پیش کردینا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم سے بیان کیا سوید بن نصر نے وہ کہتے ہیں : ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے، اور وہ روایت کرتے ہیں عثمان بن اسود سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح، ٣- ہم سے بیان کیا محمد بن ابان اور کچھ دیگر لوگوں نے انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی نے اور انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابوملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٤٢٦ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وقد مضی برقم (2556) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3337
حدیث نمبر: 3337 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ إِلَى قَوْلِهِ يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 7 ـ 8 قَالَ: ذَلِكِ الْعَرْضُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا حساب ہوا ( یوں سمجھو کہ ) وہ عذاب میں پڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے قتادہ کی روایت سے جسے وہ انس سے، اور انس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهَمَذَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ . قال: هذا حديث غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ بروج کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور («شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی (ایک ایسا وقت) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کرلیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا : وہ کہتے ہیں : ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ٢- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ٣- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٤- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٥٥٩) (حسن) (الصحیحة ١٥٠٢) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (1362 / التحقيق الثانی) ، الصحيحة (1502) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3339
حدیث نمبر: 3339 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ: يَوْمُ الْقِيَامَةِ، وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ: يَوْمُ عَرَفَةَ، وَالشَّاهِدُ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ، فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ، وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْمُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مَنِ الْأَئِمَّةِ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ بروج کی تفسیر
صہیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» (سرگوشی) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا (ہلانا) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے (آخر کار) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول ! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں (کیا پڑھتے ہیں ؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا : ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کرلو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» (سزا و بدلہ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ نے ان پر موت مسلط کردی، چناچہ ایک دن میں ستر ہزار لوگ مرگئے ١ ؎۔ صہیب (راوی) کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ حدیث بیان کی تو اس کے ساتھ آپ نے ایک اور حدیث بھی بیان فرمائی، آپ نے فرمایا : ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا، وہ اپنے بادشاہ کو خبریں بتاتا تھا، اس کاہن نے بادشاہ سے کہا : میرے لیے ایک ہوشیار لڑکا ڈھونڈھ دو ، راوی کو یہاں شبہہ ہوگیا کہ «غلاما فهما» کہا یا «فطنا لقنا» کہا (معنی تقریباً دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے) میں اسے اپنا یہ علم سکھا دوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں مرگیا تو تمہارے پاس سے یہ علم ختم ہوجائے گا اور تم میں کوئی نہ رہ جائے گا جو اس علم سے واقف ہو، آپ فرماتے ہیں : اس نے جن صفات و خصوصیات کا حامل لڑکا بتایا تھا لوگوں نے اس کے لیے ویسا ہی لڑکا ڈھونڈ دیا، لوگوں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کر اور اس کے پاس باربار آتا جاتا ہے وہ لڑکا اس کاہن کے پاس آنے جانے لگا، اس لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانہ کے اندر ایک راہب رہا کرتا تھا (اس حدیث کے ایک راوی) معمر کہتے ہیں : میں سمجھتا ہوں عبادت خانہ کے لوگ اس وقت کے مسلمان تھے، وہ لڑکا جب بھی اس راہب کے پاس سے گزرتا دین کی کچھ نہ کچھ باتیں اس سے پوچھا کرتا، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس لڑکے نے راہب کو اپنے متعلق خبر دی، کہا : میں اللہ کی عبادت کرنے لگا ہوں وہ لڑکا راہب کے پاس زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھنے اور رکنے لگا اور کاہن کے پاس آنا جانا کم کردیا، کاہن نے لڑکے والوں کے یہاں کہلا بھیجا کہ لگتا ہے لڑکا اب میرے پاس نہ آیا جایا کرے گا، لڑکے نے راہب کو بھی یہ بات بتادی، راہب نے لڑکے سے کہا کہ جب کاہن تم سے پوچھے کہاں تھے ؟ تو کہہ دیا کرو گھر والوں کے پاس تھا، اور جب تیرے گھر والے کہیں کہ تو کہاں تھا ؟ تو ان کو بتایا کہ تم کاہن کے پاس تھے، راوی کہتے ہیں : غلام کے دن ایسے ہی کٹ رہے تھے کہ ایک دن لڑکے کا گزر لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت پر ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ وہ چوپایہ شیر تھا، لڑکے نے یہ کیا کہ ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! راہب جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے اسے قتل کردینے کی توفیق چاہتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے اسے پتھر مارا اور جانور کو ہلاک کردیا، لوگوں نے پوچھا : اسے کس نے مارا ؟ جنہوں نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا : فلاں لڑکے نے، یہ سن کر لوگ اچنبھے میں پڑگئے، لوگوں نے کہا : اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، یہ بات ایک اندھے نے سنی تو اس نے لڑکے سے کہا : اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھے یہ دوں گا، لڑکے نے کہا : میں تجھ سے یہ سب چیزیں نہیں مانگتا تو یہ بتا اگر تیری بینائی تجھے واپس مل گئی تو کیا تو اپنی بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لے آئے گا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ (بالکل ایمان لے آؤں گا) ۔ راوی کہتے ہیں : لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی، یہ دیکھ کر اندھا ایمان لے آیا، ان کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ گیا، اس نے انہیں بلا بھیجا تو انہیں لا کر حاضر کیا گیا، اس نے ان سے کہا : میں تم سب کو الگ الگ طریقوں سے قتل کر ڈالوں گا، پھر اس نے راہب کو اور اس شخص کو جو پہلے اندھا تھا قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، ان میں سے ایک کے سر کے بیچوں بیچ (مانگ) پر آرا رکھ کر چیر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کردیا گیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ایسے پہاڑ پر لے جاؤ جو ایسا ایسا ہو اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے پھینک دو چناچہ لوگ اسے اس خاص پہاڑ پر لے گئے اور جب اس آخری جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے وہ لوگ اسے پھینک دینا چاہتے تھے، تو وہ خود ہی اس پہاڑ سے لڑھک لڑھک کر گرنے لگے، یہاں تک کہ صرف لڑکا باقی بچا، پھر جب وہ واپس آیا تو بادشاہ نے اس کے متعلق پھر حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ، اور اسے اس میں ڈبو کر آ جاؤ، اسے سمندر پر لے جایا گیا تو اللہ نے ان سب کو جو اس لڑکے کے ساتھ گئے ہوئے تھے ڈبو دیا، اور خود لڑکے کو بچا لیا، (لڑکا بچ کر پھر بادشاہ کے پاس آیا) اور اس سے کہا : تم مجھے اس طرح سے مار نہ سکو گے إلا یہ کہ تم مجھے سولی پر لٹکا دو اور مجھے تیر مارو، اور تیر مارتے وقت کہو اس اللہ کے نام سے میں تیر چلا رہا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے، بادشاہ نے اس لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا، لڑکا سولی پر لٹکا دیا گیا پھر بادشاہ نے اس پر تیر مارا، اور تیر مارتے ہوئے کہا : «بسم اللہ رب هذا الغلام» بادشاہ نے تیر چلایا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھ لیا پھر مرگیا (شہید) ہوگیا، لوگ بول اٹھے اس لڑکے کو ایسا علم حاصل تھا جو کسی اور کو معلوم نہیں، ہم تو اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : بادشاہ سے کہا گیا کہ آپ تو تین ہی آدمیوں سے گھبرا گئے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی، اب تو یہ سارے کے سارے لوگ ہی آپ کے خلاف ہوگئے ہیں (اب کیا کریں گے ؟ ) آپ نے فرمایا : اس نے کئی ایک کھائیاں (گڈھے) کھودوائے اور اس میں لکڑیاں ڈلوا دیں اور آگ بھڑکا دی، لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا : جو اپنے (نئے) دین سے پھر جائے گا اسے ہم چھوڑ دیں گے اور جو اپنے دین سے نہ پلٹے گا ہم اسے اس آگ میں جھونک دیں گے، پھر وہ انہیں ان گڈھوں میں ڈالنے لگا ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے متعلق فرماتا ہے (پھر آپ نے آیت «قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود» سے لے کر « العزيز الحميد» تک پڑھی ٢ ؎۔ راوی کہتے ہیں : لڑکا (سولی پر لٹکا کر قتل کر دئیے جانے کے بعد) دفن کردیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ میں زمین سے نکالا گیا، اس کی انگلیاں اس کی کنپٹی پر اسی طرح رکھی ہوئی تھیں جس طرح اس نے اپنے قتل ہوتے وقت رکھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩٦٩) (صحیح) صحیح مسلم/الزہد ١٧ (٣٠٠٥) (تحفة الأشراف : ٤٩٦٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا ( جیسا کہ مسند احمد کی مطول روایت میں ہے ) : میں اپنی اس «ہمس» (خاموش سرگوشی ) میں تمہاری اس بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کو خوش تو ہوتا ہوں لیکن اللہ کے اس طرح کے «نقمہ» (عذاب و سزا سے ) پناہ مانگتا ہوں اور میں اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں «اللهم بك أقاتل وبک أحاول ولا حول ولا قوة إلا بالله»۔ ٢ ؎ : خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی ، جب کہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے ، یہ لوگ ان مسلمانوں سے ( کسی اور گناہ کا ) بدلہ نہیں لے رہے تھے سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے ( البروج : ٤-٨) یہ واقعہ رسول اللہ کی ولادت سے پچاس سال پہلے ملک یمن میں پیش آیا تھا ، اس ظالم بادشاہ کا نام ذونواس یوسف تھا ، یہ یہودی المذہب تھا ، ( تفصیل کے لیے دیکھئیے الرحیم المختوم / صفی الرحمن مبارکپوری ) ۔ قال الشيخ الألباني : (حديث : إن نبيا من الأنبياء .... ) صحيح، (حديث : کان ملک من الملوک وکان لذلک الملک کا هن ) صحيح (حديث : إن نبيا من الأنبياء .. ) تخريج الکلم الطيب (125 / 83) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3340
حدیث نمبر: 3340 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ هَمَسَ وَالْهَمْسُ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ: تَحَرُّكُ شَفَتَيْهِ كَأَنَّهُ يَتَكَلَّمُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ هَمَسْتَ، قَالَ: إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أُعْجِبَ بِأُمَّتِهِ ، فَقَالَ: مَنْ تَقُولُ لِهَؤُلَاءِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْهُمْ بَيْنَ أَنْ أَنْتَقِمَ مِنْهُمْ، وَبَيْنَ أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، فَاخْتَارَ النِّقْمَةَ، فَسَلَّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفًا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْآخَرِ، قَالَ: كَانَ مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ وَكَانَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ كَاهِنٌ يَكْهَنُ لَهُ، فَقَالَ الْكَاهِنُ: انْظُرُوا لِي غُلَامًا فَهِمًا، أَوْ قَالَ: فَطِنًا لَقِنًا فَأُعَلِّمَهُ عِلْمِي هَذَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ أَمُوتَ فَيَنْقَطِعَ مِنْكُمْ هَذَا الْعِلْمُ وَلَا يَكُونَ فِيكُمْ مَنْ يَعْلَمُهُ، قَالَ: فَنَظَرُوا لَهُ عَلَى مَا وَصَفَ، فَأَمَرُوهُ أَنْ يَحْضُرَ ذَلِكَ الْكَاهِنَ وَأَنْ يَخْتَلِفَ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يَخْتَلِفُ إِلَيْهِ، وَكَانَ عَلَى طَرِيقِ الْغُلَامِ رَاهِبٌ فِي صَوْمَعَةٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: أَحْسِبُ أَنَّ أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ كَانُوا يَوْمَئِذٍ مُسْلِمِينَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَسْأَلُ ذَلِكَ الرَّاهِبَ كُلَّمَا مَرَّ بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَخْبَرَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَعْبُدُ اللَّهَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَمْكُثُ عِنْدَ الرَّاهِبِ، وَيُبْطِئُ عَنِ الْكَاهِنِ، فَأَرْسَلَ الْكَاهِنُ إِلَى أَهْلِ الْغُلَامِ إِنَّهُ لَا يَكَادُ يَحْضُرُنِي، فَأَخْبَرَ الْغُلَامُ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: إِذَا قَالَ لَكَ الْكَاهِنُ: أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْ: عِنْدَ أَهْلِي، وَإِذَا قَالَ لَكَ أَهْلُكَ: أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّكَ كُنْتَ عِنْدَ الْكَاهِنِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا الْغُلَامُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِجَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ كَثِيرٍ قَدْ حَبَسَتْهُمْ دَابَّةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ تِلْكَ الدَّابَّةَ كَانَتْ أَسَدًا، قَالَ: فَأَخَذَ الْغُلَامُ حَجَرًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مَا يَقُولُ الرَّاهِبُ حَقًّا فَأَسْأَلُكَ أَنْ أَقْتُلَهَا، قَالَ: ثُمَّ رَمَى فَقَتَلَ الدَّابَّةَ، فَقَالَ النَّاسُ: مَنْ قَتَلَهَا ؟ قَالُوا: الْغُلَامُ، فَفَزِعَ النَّاسُ وَقَالُوا: لَقَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا لَمْ يَعْلَمْهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَسَمِعَ بِهِ أَعْمَى فَقَالَ لَهُ: إِنْ أَنْتَ رَدَدْتَ بَصَرِي فَلَكَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ لَهُ: لَا أُرِيدُ مِنْكَ هَذَا، وَلَكِنْ أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعَ إِلَيْكَ بَصَرُكَ أَتُؤْمِنُ بِالَّذِي رَدَّهُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ فَرَدَّ عَلَيْهِ بَصَرَهُ فَآمَنَ الْأَعْمَى، فَبَلَغَ الْمَلِكَ أَمْرُهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَالَ: لَأَقْتُلَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ قِتْلَةً لَا أَقْتُلُ بِهَا صَاحِبَهُ، فَأَمَرَ بِالرَّاهِبِ وَالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ أَعْمَى، فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ عَلَى مَفْرِقِ أَحَدِهِمَا فَقَتَلَهُ، وَقَتَلَ الْآخَرَ بِقِتْلَةٍ أُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَأَلْقُوهُ مِنْ رَأْسِهِ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى ذَلِكَ الْجَبَلِ فَلَمَّا انْتَهَوْا بِهِ إِلَى ذَلِكَ الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادُوا أَنْ يُلْقُوهُ مِنْهُ جَعَلُوا يَتَهَافَتُونَ مِنْ ذَلِكَ الْجَبَلِ وَيَتَرَدَّوْنَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا الْغُلَامُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَرَ بِهِ الْمَلِكُ أَنْ يَنْطَلِقُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ فَيُلْقُونَهُ فِيهِ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى الْبَحْرِ فَغَرَّقَ اللَّهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ وَأَنْجَاهُ، فَقَالَ الْغُلَامُ لِلْمَلِكِ: إِنَّكَ لَا تَقْتُلُنِي حَتَّى تَصْلُبَنِي وَتَرْمِيَنِي، وَتَقُولَ إِذَا رَمَيْتَنِي: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ هَذَا الْغُلَامِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ ثُمَّ رَمَاهُ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ هَذَا الْغُلَامِ، قَالَ: فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى صُدْغِهِ حِينَ رُمِيَ ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ أُنَاسٌ: لَقَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا مَا عَلِمَهُ أَحَدٌ فَإِنَّا نُؤْمِنُ بِرَبِّ هَذَا الْغُلَامِ، قَالَ: فَقِيلَ لِلْمَلِكِ أَجَزِعْتَ أَنْ خَالَفَكَ ثَلَاثَةٌ، فَهَذَا الْعَالَمُ كُلُّهُمْ قَدْ خَالَفُوكَ، قَالَ: فَخَدَّ أُخْدُودًا ثُمَّ أَلْقَى فِيهَا الْحَطَبَ وَالنَّارَ، ثُمَّ جَمَعَ النَّاسَ، فَقَالَ: مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ تَرَكْنَاهُ وَمَنْ لَمْ يَرْجِعْ أَلْقَيْنَاهُ فِي هَذِهِ النَّارِ، فَجَعَلَ يُلْقِيهِمْ فِي تِلْكَ الْأُخْدُودِ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِيهِ: قُتِلَ أَصْحَابُ الأُخْدُودِ 4 النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ 5 حَتَّى بَلَغَ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ سورة البروج آية 4 ـ 8، قَالَ: فَأَمَّا الْغُلَامُ فَإِنَّهُ دُفِنَ، فَيُذْكَرُ أَنَّهُ أُخْرِجَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأُصْبُعُهُ عَلَى صُدْغِهِ كَمَا وَضَعَهَا حِينَ قُتِلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ غاشیہ کی تفسیر
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کرلیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذکر لست عليهم بمصيطر» آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیہ : ٢٢) ، پڑھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٨ (٢١/٣٥) (تحفة الأشراف : ٢٧٤٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : بظاہر اس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے ، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا ، بعد میں ہوا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح متواتر، ابن ماجة (71) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3341
حدیث نمبر: 3341 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ 21 لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ 22 سورة الغاشية آية 21-22 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فجر کی تفسیر
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» (جفت) اور «الوتر» (طاق) سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» (جفت) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» (طاق) ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ایک مبہم راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3342
حدیث نمبر: 3342 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ؟ فَقَالَ: هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وِتْرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت الشمس کی تفسیر
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی ، انہوں نے کہا : پھر آپ نے کسی کے ہوا خارج ہوجانے پر ان کے ہنسنے پر انہیں نصیحت کی، آپ نے فرمایا : آخر تم میں کا کوئی کیوں ہنستا (و مذاق اڑاتا) ہے جب کہ وہ خود بھی وہی کام کرتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٧ (٣٣٧٧) ، وتفسیر الشمس ١ (٤٩٤٢) ، والنکاح ٩٤ (٥٢٠٤) ، والأدب ٤٣ (٦٠٤٢) ، صحیح مسلم/الجنة والنار ١٣ (٢٨٥٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥١ (١٩٨٣) (تحفة الأشراف : ٥٢٩٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے ، ١- اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ٢- مجلس میں کسی کی ریاح زور سے خارج ہوجانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ ، کس حکیمانہ پیرائے میں آپ ﷺ نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے ! قابل غور ہے ، «فداہ أبی وأمی»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1983) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3343
حدیث نمبر: 3343 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَذْكُرُ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا سورة الشمس آية 12 انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ النِّسَاءَ، فَقَالَ: إِلَامَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ، قَالَ: ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ اللیل کی تفسیر
علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم (قبرستان) بقیع میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لے آئے، آپ بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا : ہر متنفس کا ٹھکانہ (جنت یا جہنم) پہلے سے لکھ دیا گیا ہے ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ ہم اپنے نوشتہ (تقدیر) پر اعتماد و بھروسہ کر کے بیٹھ رہیں ؟ جو اہل سعادہ نیک بختوں میں سے ہوگا وہ نیک بختی ہی کے کام کرے گا، اور جو بدبختوں میں سے ہوگا وہ بدبختی ہی کے کام کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کو توفیق ملے گی، جو نیک بختوں میں سے ہوگا، اس کے لیے نیک بختی کے کام آسان ہوں گے اور جو بدبختوں میں سے ہوگا اس کے لیے بدبختی کے کام آسان ہوں گے ، پھر آپ نے (سورۃ واللیل کی) آیت «فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنيسره لليسری وأما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنيسره للعسری» جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بےپرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کردیں گے (اللیل : ٥- ١٠) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢١٣٦ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح ومضی باختصار برقم (2234) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3344
حدیث نمبر: 3344 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي الْبَقِيعِ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَدْخَلُهَا ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ ؟ قَالَ: بَلِ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى 5 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى 6 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى 7 وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى 8 وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى 9 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى 10 سورة الليل آية 5-10 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ ضحی کی تفسیر
جندب بجلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے ، راوی کہتے ہیں : آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا : (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد ( ﷺ ) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعک ربک وما قلی» نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ : ٣) ، نازل فرمائی۔ ١ ؎ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٩ (٢٨٠٢) ، والأدب ٩٠ (٦١٤٦) ، صحیح مسلم/الجھاد ٣٩ (١٧٩٦) (تحفة الأشراف : ٣٢٥٠) ، و مسند احمد (٤/٣١٢، ٣١٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : وحی میں یہ تاخیر کسی وجہ سے ہوئی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3345
حدیث نمبر: 3345 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَدَمِيَتْ أُصْبُعُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ، قَالَ: وَأَبْطَأَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ الم نشرح کی تفسیر
انس بن مالک (رض) اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا (کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک (محمد ہیں) ١ ؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک ، قتادہ کہتے ہیں : میں نے انس (رض) سے کہا : کہاں تک ؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : پیٹ کے نیچے تک ، پھر آپ نے فرمایا : اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ٢ ؎ اس حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اسے ہشام دستوائی اور ہمام نے قتادہ سے روایت کیا ہے، ٣- اس باب میں ابوذر (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢٠٧) ، ومناقب الأنصار ٤٢ (٣٣٣٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٤) ، سنن النسائی/الصلاة ١ (٤٤٩) (تحفة الأشراف : ١١٢٠٢) ، و مسند احمد (٤/١٠٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان تین میں ایک جعفر ، ایک حمزہ اور ایک نبی ﷺ تھے ٢ ؎ : شق صدر کا واقعہ کئی بار ہوا ہے ، انہی میں سے ایک یہ واقعہ ہے۔ ٣ ؎ : یہ قصہ اسراء اور معراج کا ہے جو بہت معروف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3346
حدیث نمبر: 3346 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: أَحَدٌ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مَاءُ زَمْزَمَ فَشَرَحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا، قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: مَا يَعْنِي ؟ قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِي، فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ قَلْبِي بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَفِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ.
তাহকীক: