আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৩ টি

হাদীস নং: ৩২৪৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ مومن کی تفسیر
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت : «وقال ربکم ادعوني أستجب لکم إن الذين يستکبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» (غافر : 60) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٩٦٩ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : تمہارے رب نے فرمایا : مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ بڑا بن کر میری عبادت ( دعا ) سے منہ پھیرتے ہیں وہ ذلت خواری کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ( المؤمن : ٦٠) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3828) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3247
حدیث نمبر: 3247 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حم السجدہ کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ تین آدمی خانہ کعبہ کے قریب جھگڑ بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی چڑھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا : کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا : ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا : اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :«وما کنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعکم ولا أبصارکم ولا جلودکم» (فصلت : 22) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة المومن ١ (٤٨١٦) ، و ٢ (٤٨١٧) ، والتوحید ٤١ (٧٥٢١) ، صحیح مسلم/المنافقین ح ٥ (٢٧٧٥) (تحفة الأشراف : ٩٣٣٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور تم ( اپنی بداعمالیاں ) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی ، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بیخبر ہے ( حم السجدہ : ٢٢) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3248
حدیث نمبر: 3248 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ اخْتَصَمَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَلِيلا فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏كَثِيرًا شَحْمُ بُطُونِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَحَدُهُمْ:‏‏‏‏ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ ؟ فَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ سورة فصلت آية 22 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حم السجدہ کی تفسیر
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : میں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا کھڑا تھا، تین ناسمجھ جن کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی) آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، انہوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا، ان میں سے ایک نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے : کیا اللہ ہماری یہ بات چیت سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب ہم بآواز بلند بات چیت کرتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو نہیں سنتا ہے، تیسرے نے کہا : اگر وہ ہماری بات چیت کا کچھ حصہ سن سکتا ہے تو وہ سبھی کچھ سن سکتا ہے، عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آیت «وما کنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعکم ولا أبصارکم ولا جلودکم» (فصلت : 22) سے لے کر «فأصبحتم من الخاسرين» (فصلت : 23) تک نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں ـ: ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٩٣٩٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3249 اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے وہب بن ربیعہ کے واسطہ سے عبداللہ سے اسی طرح روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٩٥٩٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3249
حدیث نمبر: 3249 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ،‏‏‏‏ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَحَدُهُمْ:‏‏‏‏ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا هَذَا ؟ فَقَال الْآخَرُ:‏‏‏‏ إِنَّا إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهُ وَإِذَا لَمْ نَرْفَعْ أَصْوَاتَنَا لَمْ يَسْمَعْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَال عَبْدُ اللَّهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ إِلَى قَوْلِهِ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 23 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حم السجدہ کی تفسیر
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «إن الذين قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا» (فصلت : 30) ١ ؎ پڑھی، آپ نے فرمایا : بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے، ٤- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٤٢٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں سہیل بن ابی حزم ضعیف راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : (واقعی ) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں : تم نہ ڈرو ، نہ غم کرو ، اور اس جنت کا خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ( حم السجدۃ : ٣٠) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (4079) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3250
حدیث نمبر: 3250 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَرَأَ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا سورة فصلت آية 30 قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ قَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ ثُمَّ كَفَرَ أَكْثَرُهُمْ فَمَنْ مَاتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مِمَّنْ اسْتَقَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ رَوَى عَفَّانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏مَعْنَى اسْتَقَامُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ شوری کی تفسیر
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربی» اے نبی ! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت و تبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو (الشوریٰ : ٢٣) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا : «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا : (تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، (آیت کا مفہوم ہے) اللہ نے کہا : میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا (بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس (رض) سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ١ (٣٤٩٧) ، وتفسیر سورة الشوری ١ (٤٨١٨) (تحفة الأشراف : ٥٧٢٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3251
حدیث نمبر: 3251 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ:‏‏‏‏ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ أَعَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ شوری کی تفسیر
بنی مرہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں کوفہ آیا مجھے بلال بن ابوبردہ ١ ؎ کے حالات کا علم ہوا تو میں نے (جی میں) کہا کہ ان میں عبرت و موعظت ہے، میں ان کے پاس آیا، وہ اپنے اس گھر میں محبوس و مقید تھے جسے انہوں نے خود (اپنے عیش و آرام کے لیے) بنوایا تھا، عذاب اور مار پیٹ کے سبب ان کی ہر چیز کی صورت و شکل بدل چکی تھی، وہ چیتھڑا پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا : اے بلال ! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں نے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب آپ بغیر دھول اور گردوغبار کے (نزاکت و نفاست سے) ناک پکڑ کر ہمارے پاس سے گزر جاتے تھے، اور آج آپ اس حالت میں ہیں ؟ انہوں نے کہا : تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے کہا : بنی مرہ بن عباد سے، انہوں نے کہا : کیا میں تم سے ایک ایسی حدیث نہ بتاؤں جس سے امید ہے کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، میں نے کہا : پیش فرمائیے، انہوں نے کہا : مجھ سے میرے باپ ابوبردہ نے بیان کیا اور وہ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کسی بندے کو چھوٹی یا بڑی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس کے گناہ کے سبب ہی پہنچتی ہے، اور اللہ اس کے جن گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے وہ تو بہت ہوتے ہیں ۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی «وما أصابکم من مصيبة فبما کسبت أيديكم ويعفو عن کثير» (الشوری : 30) پڑھی ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٠٧٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” شیخ من بنی مرہ “ مبہم راوی ہے، نیز عبیداللہ بن الوازع الکلابی البصری مجہول ہے) وضاحت : ١ ؎ : یہ ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پوتے تھے ، بصرہ کے قاضی تھے ، بڑے متکبر اور ظالم تھے ، کسی وجہ سے قید کردیئے گئے تھے۔ ٢ ؎ : تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے پہنچتی ہے ، اور بہت سے گناہ تو وہ ( یونہی ) معاف کردیتا ہے ، یعنی ان کی وجہ سے مصیبت میں نہیں ڈالتا ( الشوریٰ : ٣٠) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3252
حدیث نمبر: 3252 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَازِعِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَأُخْبِرْتُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ فِيهِ لَمُعْتَبَرًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ مَحْبُوسٌ فِي دَارِهِ الَّتِي قَدْ كَانَ بَنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِذَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ قَدْ تَغَيَّرَ مِنَ الْعَذَابِ وَالضَّرْبِ وَإِذَا هُوَ فِي قُشَاشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ يَا بِلَالُ لَقَدْ رَأَيْتُكَ وَأَنْتَ تَمُرُّ بِنَا تُمْسِكُ بِأَنْفِكَ مِنْ غَيْرِ غُبَارٍ وَأَنْتَ فِي حَالِكَ هَذَا الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مِنْ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَبَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ هَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِأَبِي مُوسَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يُصِيبُ عَبْدًا نَكْبَةٌ فَمَا فَوْقَهَا أَوْ دُونَهَا إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَرَأَ:‏‏‏‏ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ سورة الشورى آية 30 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زخرف کی تفسیر
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہوجاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہوجاتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی «ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں (الزخرف : ٥٨) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم اسے صرف حجاج بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں، حجاج ثقہ، مقارب الحدیث ہیں اور ابوغالب کا نام حزور ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٨) (تحفة الأشراف : ٤٩٣٦) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (48) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3253
حدیث نمبر: 3253 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَجَّاجٌ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ حَزَوَّرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ دخان کی تفسیر
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آ کر کہا : ایک قصہ گو (واعظ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا (قیامت کے قریب) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہوجائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہوجائے گا۔ مسروق کہتے ہیں : یہ سن کر عبداللہ غصہ ہوگئے (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (سنبھل کر) بیٹھ گئے۔ پھر کہا : تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» اللہ بہتر جانتا ہے کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» اللہ بہتر جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتکلفين» کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں (ص : ٨٦) ، (بات اس دخان کی یہ ہے کہ) جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر (آپ کی دعا قبول ہوگئی) ، ان پر قحط پڑگیا، ہر چیز اس سے متاثر ہوگئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے (اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے) ، عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا : آپ کی قوم ہلاک و برباد ہوگئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے عبداللہ نے کہا : یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشی الناس هذا عذاب أليم» جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ (دھواں) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے (الدخان : ١٠) ، کا، منصور کہتے ہیں : یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اکشف عنا العذاب إنا مؤمنون» اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں (الدخان : ١٢) ، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جاسکے گا ؟۔ عبداللہ کہتے ہیں : «بطشہ» ، «لزام» (بدر) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا : «قمر» (چاند) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا : روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستسقاء ٢ (١٠٠٧) ، و ١٣ (١٠٢٠) ، تفسیر سورة یوسف ٤ (٤٦٩٣) ، وتفسیر سورة الفرقان ٥ (٤٧٦٧) ، وتفسیر الروم ١ (٤٧٧٤) ، وتفسیر ص ٣ (٤٨٠٩) ، وتفسیر الدخان ١ (٤٨٢٠) ، و ٢ (٤٨٢١) ، و ٣ (٤٨٢٢) ، صحیح مسلم/المنافقین ٧ (٢٧٩٨) (تحفة الأشراف : ٩٥٧٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3254
حدیث نمبر: 3254 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، سَمِعَا أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ الدُّخَانُ فَيَأْخُذُ بِمَسَامِعِ الْكُفَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَغَضِبَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَنْصُورٌ:‏‏‏‏ فَلْيُخْبِرْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الرَّجُلِ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ:‏‏‏‏ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، ‏‏‏‏‏‏إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْصَتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ الْعِظَامَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَهَذَا لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ‏‏‏‏ 10 ‏‏‏‏ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏‏‏‏ 11 ‏‏‏‏ سورة الدخان آية 10-11، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَنْصُورٌ:‏‏‏‏ هَذَا لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ سورة الدخان آية 12، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ يُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قًالَ:‏‏‏‏ مَضَى الْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَالدُّخَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ الْقَمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ الروم . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَاللِّزَامُ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ دخان کی تفسیر
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : «فما بکت عليهم السماء والأرض وما کانوا منظرين» (کفار و مشرکین) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی (الدخان : ٢٩) ، کا مطلب ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٧٥) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابان رقاشی ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4491) // ضعيف الجامع الصغير (5214) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3255
حدیث نمبر: 3255 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ بَابَانِ بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ سورة الدخان آية 29. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ دخان کی تفسیر
عبداللہ بن سلام (رض) کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب عثمان غنی (رض) کو جان سے مار ڈالنے کا ارادہ کرلیا گیا تو عبداللہ بن سلام (رض) ان کے پاس آئے، عثمان (رض) نے ان سے کہا : تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں آپ کی مدد میں (آپ کو بچانے کے لیے) آیا ہوں، انہوں نے کہا : تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو ، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے، چناچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا : لوگو ! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا (یعنی حصین) پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں، میرے بارے میں آیت : «وشهد شاهد من بني إسرائيل علی مثله فآمن واستکبرتم إن اللہ لا يهدي القوم الظالمين» بنی اسرائیل میں سے گواہی دینے والے نے اس کے مثل گواہی دی (یعنی اس بات پر گواہی دی کہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے) اور ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (الاحقاف : ١٠) ، اور میرے ہی حق میں «قل کفی بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الکتاب» اے نبی کہہ دو ! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے (اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ حق کیا ہے اور کس کے پاس ہے) (الرعد : ٤٣) ، آیت اتری ہے، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، تو ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے اس شخص (عثمان) کے قتل کردینے سے، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے (بھگا دو گے) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جاسکے گی، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے (عبداللہ بن مسعود (رض) کی بات سن کر) کہا : اس یہودی کو قتل کر دو ، اور عثمان (رض) کو بھی مار ڈالو قتل کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣٤٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مجہول راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد // وسيأتي برقم (795 / 4073) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3256
حدیث نمبر: 3256 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أُرِيدَ عُثْمَانُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ:‏‏‏‏ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ جِئْتُ فِي نَصْرِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي فَإِنَّكَ خَارِجٌ خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ نَزَلَتْ فِيَّ:‏‏‏‏ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَتْ فِيَّ:‏‏‏‏ قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 43 إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ نَبِيُّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلَائِكَةَ وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُغْمَدُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ 10.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ دخان کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے (اندر آتے باہر جاتے) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہوجاتے، میں نے عرض کیا : ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں (صحیح) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی (آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے) (الاحقاف : ٢٤) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦) ، وتفسیر الاحقاف ٢ (٤٨٢٩) (تحفة الأشراف : ١٧٣٨٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2757) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3257
حدیث نمبر: 3257 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ وَمَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَى:‏‏‏‏ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ دخان کی تفسیر
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) سے کہا : کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ؟ انہوں نے کہا : ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا : آپ کا اغوا کرلیا گیا ہے یا (جن) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے ؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : جنوں کا قاصد (مجھے بلانے) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا ، ابن مسعود کہتے ہیں : ـپھرآپاٹھکرچلے اور ہمیں انکے آثار (نشانات و ثبوت) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں : جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا : ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید (گوبر) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا : (اسی وجہ سے) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠) ، سنن ابی داود/ الطھارة ٤٢ (٨٥) (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح) (اس حدیث پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم ١٠٣٨) قال الشيخ الألباني : صحيح دون جملة اسم اللہ و علف لدوابکم ، الضعيفة (1038) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3258
حدیث نمبر: 3258 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ هَلْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ قَدِ افْتَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ اغْتِيلَ أَوِ اسْتُطِيرَ مَا فُعِلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا أَصْبَحْنَا أَوْ كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّعْبِيُّ:‏‏‏‏ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ عَظْمٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ لَحْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمُ الْجِنِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت محمد ﷺ کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت : «واستغفر لذنبک وللمؤمنين والمؤمنات» تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ (محمد : ١٩) ، کی تفسیر میں فرمایا : میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوہریرہ (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں ، ٣- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٤٥ (٤٣ ¤ ٤- ٤٣٩) (تحفة الأشراف : ١٥٢٧٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3259
حدیث نمبر: 3259 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت محمد ﷺ کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن یہ آیت «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يکونوا أمثالکم» اے عرب کے لوگو ! تم (ایمان و جہاد سے) پھر جاؤ گے تو تمہارے بدلے اللہ دوسری قوم کو لا کر کھڑا کرے گا، وہ تمہارے جیسے نہیں (بلکہ تم سے اچھے) ہوں گے (محمد : ٣٨) ، تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا : ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مارا (رکھا) پھر فرمایا : یہ اور اس کی قوم، یہ اور اس کی قوم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس کی سند میں کلام ہے، ٣- عبداللہ بن جعفر نے بھی یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٠٣٦) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن آنے والی حدیث کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1017 / الطبعة الثانية) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3260
حدیث نمبر: 3260 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ سورة محمد آية 38، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ يُسْتَبْدَلُ بِنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا وَقَوْمُهُ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا وَقَوْمُهُ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت محمد ﷺ کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ اگر ہم پلٹ جائیں گے تو وہ ہماری جگہ لے آئے جائیں گے، اور وہ ہم جیسے نہ ہوں گے، سلمان (رض) رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے سلمان (رض) کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : یہ اور ان کے اصحاب، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایمان ثریا ١ ؎ کے ساتھ بھی معلق ہوگا تو بھی فارس کے کچھ لوگ اسے پالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ عبداللہ بن جعفر بن نجیح : علی بن المدینی کے والد ہیں، ٢- علی بن حجر نے عبداللہ بن جعفر سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1017 / الطبعة الثانية) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3261 علی بن حجر نے ہمیں یہ حدیث بطریق : «‏‏‏‏إسمعيل بن جعفر عن عبد اللہ بن جعفر» روایت کی ہے، نیز : ہم سے بشر بن معاذ نے یہ حدیث بطریق «عبد اللہ بن جعفر عن العلاء» بھی روایت کی ہے مگر اس طریق میں «معلق بالثريا» کے الفاظ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ثریا سات ستارے ہیں جو سب ستاروں سے زیادہ بلندی پر ہیں ، اور آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایمان ( یا دین ، یا علم جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اور سب کا حاصل مطلب ایک ہی ہے ) ثریا پر بھی چلا جائے تو بھی سلمان فارسی (رض) کو قوم کے کچھ لوگ وہاں بھی جا کر حاصل کرلیں گے ، اور یہ پیشین گوئی اس طرح ہوگئی کہ اہل فارس میں سیکڑوں علماء اسلام پیدا ہوئے ، اور بقول امام احمد بن حنبل : اگر اس سے محدثین نہیں مراد ہوں تو میں نہیں سمجھتا کہ تب پھر کون مراد ہوں گے ، «رحمہم اللہ جمیعا»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1017 / الطبعة الثانية) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3261
حدیث نمبر: 3261 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَمْ يَكُونُوا أَمْثَالَنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ سَلْمَانُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مَنُوطًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ. وَقَدْ رَوَى عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَثِيرَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مُعَلَّقٌ بِالثُّرَيَّا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فتح کی تفسیر
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ (اس بار بھی) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب (کنارے) ہوگیا، اور (اپنے آپ سے) کہا : ابن خطاب ! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ ﷺ سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو (اور تجھے سرزنش کی جائے) عمر بن خطاب کہتے ہیں : ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، عمر بن خطاب کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ نے فرمایا : ابن خطاب ! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورة نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورة یہ ہے «إنا فتحنا لک فتحا مبينا» بیشک اے نبی ! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے (الفتح : ١) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً (بلاعاً ) روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٥ (٤١٧٧) ، وتفسیر سورة الفتح ١ (٤٨٣٣) ، وفضائل القرآن ١٢ (٥٠١٢) (تحفة الأشراف : ١٠٣٨٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3262
حدیث نمبر: 3262 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَرَّكْتُ رَاحِلَتِي فَتَنَحَّيْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْتُ:‏‏‏‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كَلُّ ذَلِكَ لَا يُكَلِّمُكَ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَخْلَقَكَ بِأَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِنْهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ مُرْسَلًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فتح کی تفسیر
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر» (اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے (الفتح : ٢) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے (سن کر) «هنيأ مريئًا» (آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو) کہا، اے اللہ کے نبی ! اللہ نے آپ کو بتادیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے (الفتح : ٥) ، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٤٢) (صحیح الإسناد) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3263
حدیث نمبر: 3263 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 2 مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا ؟ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ:‏‏‏‏ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فتح کی تفسیر
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی ( ٨٠) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کو قتل کردیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت :«وهو الذي كف أيديهم عنکم وأيديكم عنهم» وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے (الفتح : ٢٤) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجھاد ٤٦ (١٨٠٨) ، سنن ابی داود/ الجھاد ١٣٠ (٢٦٨٨) (تحفة الأشراف : ٣٠٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2408) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3264
حدیث نمبر: 3264 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأُخِذُوا أَخْذًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ سورة الفتح آية 24 الْآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فتح کی تفسیر
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے «وألزمهم كلمة التقوی» اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا (الفتح : ٢٦) ، کے متعلق فرمایا : اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے، ٣- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3265
حدیث نمبر: 3265 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى سورة الفتح آية 26، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ حجرات کی تفسیر
عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں تو تو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ابوبکر نے عمر (رض) سے کہا : آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر (رض) نے کہا : میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چناچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي» رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو ( الحجرات : ٢) ، اس واقعہ کے بعد عمر (رض) جب نبی اکرم ﷺ سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑجاتا، راوی کہتے ہیں : ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی ابوبکر (رض) کا ذکر نہیں کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦٨ (٤٣٦٧) ، وتفسیر الحجرات ٢ (٤٨٤٧) ، والاعتصام ٦ (٧٣٠٢) (تحفة الأشراف : ٥٢٦٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : ابن زبیر نے آپ ﷺ کے سامنے پست ترین آواز سے بات نہ کرنے کے سلسلے میں صرف عمر کا ذکر کیا ، اپنے نانا ابوبکر (رض) کا ذکر نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3266
حدیث نمبر: 3266 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَال أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسْمِعْ كَلَامَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَكَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَدَّهُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ مُرْسَلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.
tahqiq

তাহকীক: