আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৩ টি
হাদীস নং: ৩২২৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت فاطر
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا : ابوذر ! کیا تم جانتے ہو یہ (سورج) کہاں جاتا ہے ؟ ، ابوذر کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا : وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ (قیامت کے قریب) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا ۔ ابوذر کہتے ہیں : پھر آپ نے «وذلک مستقر لها» یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پڑھا۔ راوی کہتے ہیں : یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢١٨٦ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قراءت ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلک تقدير العزيز العليم» (یس : ٣٨) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر (2295) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3227
حدیث نمبر: 3227 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ، قَالَ: وَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت صافات
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لکم لا تناصرون» انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا : کیا بات ہے ؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ ( الصافات : ٢ ٤- ٢٥) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٤٨) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 50) ، ظلال الجنة (112) // ضعيف الجامع الصغير (5170) ، ضعيف ابن ماجة (36 - 208) يرويه عن أبي هريرة // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3228
حدیث نمبر: 3228 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ لَا يُفَارِقُهُ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ 24 مَا لَكُمْ لا تَنَاصَرُونَ 25 سورة الصافات آية 24-25 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت صافات
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت کریمہ : «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ہم نے انہیں (یعنی یونس کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا (الصافات : ٧٧) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ایک لاکھ بیس ہزار تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3229
حدیث نمبر: 3229 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ سورة الصافات آية 147 قَالَ: عِشْرُونَ أَلْفًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت صافات
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا (الصافات : ٧٧) ، کی تفسیر میں فرمایا : (نوح کے تین بیٹے) حام، سام اور یافث تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ٢- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٦٠٥) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کے سمرہ (رض) سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3230
حدیث نمبر: 3230 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جَنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ: وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ سورة الصافات آية 77 قَالَ: حَامٌ، وَسَامٌ، وَيَافِثُ ، كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى: يُقَالُ: يَافِتُ، وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ، وَيُقَالُ: يَفِثُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت صافات
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «سام» «ابوالعرب» (عربوں کے باپ) ہیں اور «حام» «ابوالحبش» (اہل حبشہ کے باپ) ہیں اور «یافث» «ابوالروم» (رومیوں کے باپ) ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٦٠٦) (ضعیف) (دیکھیے پچھلی حدیث کا بیان) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3683) // ضعيف الجامع الصغير (3214) ، وسيأتي برقم (826 / 4207) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3231
حدیث نمبر: 3231 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ، وَيَافِثُ أَبُو الروم .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ص
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم ﷺ بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا : بھتیجے ! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کرلیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہوجائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا : ایک ہی کلمہ ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ایک ہی کلمہ ، آپ نے فرمایا : چچا جان ! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا : ایک معبود کو تسلیم کرلیں ؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں میں نہیں سنی ہے، یہ تو صرف بناوٹی اور (تمہاری) گھڑی ہوئی بات ہے، (ہم یہ بات تسلیم نہیں کرسکتے) ابن عباس کہتے ہیں : اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورة ص کی آیات «ص والقرآن ذي الذکر بل الذين کفروا في عزة وشقاق) إلى قوله (ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» صٓ، اس نصیحت والے قرآن کی قسم، بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ چھٹکارے کا نہ تھا اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہیں میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے، کیا اس نے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کردیا، واقعی یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے (ص : ١- ٧) ، تک نازل ہوئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے یحییٰ بن عمارہ کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٥٦٤٥، و ٥٦٤٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن عباد یا یحییٰ بن عمارہ لین الحدیث راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3232 اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3232
حدیث نمبر: 3232 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْيَحْيَى، قَالَ عَبْدٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ، وَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَ أَبِي طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ كَيْ يَمْنَعَهُ وَشَكَوْهُ إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا تُرِيدُ مِنْ قَوْمِكَ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ مِنْهُمْ كَلِمَةً وَاحِدَةً تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ ، قَالَ: كَلِمَةً وَاحِدَةً ؟ قَالَ: كَلِمَةً وَاحِدَةً ؟ قَالَ: يَا عَمِّ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالُوا: إِلَهًا وَاحِدًا: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ سورة ص آية 7، قَالَ: فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ: ص وَالْقُرْءَانِ ذِي الذِّكْرِ 1 بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ 2 إِلَى قَوْلِهِ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ سورة ص آية 1 ـ 7. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ. وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ عِمَارَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ص
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا ، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا : - خواب میں - رب کریم نے کہا : اے محمد ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» (اونچے مرتبے والے فرشتے) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، (ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے، (بحث و تکرار ہو رہی ہے) ؟ میں نے کہا : ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟ ) (فرمایا) کفارات یہ ہیں : ( ١) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، ( ٢) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، ( ٣) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوجائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، رب کریم کہے گا : اے محمد ! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو :«اللهم إني أسألک فعل الخيرات وترک المنکرات وحب المساکين وإذا أردت بعبادک فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے ، آپ نے فرمایا : درجات بلند کرنے والی چیزیں ( ١) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، ( ٢) ( محتاج و مسکین) کو کھانا کھلانا ہے، ( ٣) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس (رض) کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ (اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آرہی ہے) ٢- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٤١٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مولف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ «ما کان لي من علم بالملإ الأعلی إذ يختصمون» (ص : 69 ) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الظلال (388) ، التعليق الرغيب (1 / 98 - 126) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3233
حدیث نمبر: 3233 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، أَوْ قَالَ: فِي نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ إِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ ذَكَرُوا بَيْنَ أَبِي قِلَابَةَ، وَبَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ص
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے میرا رب (خواب میں) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا : محمد ! میں نے کہا : میرے رب ! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا : اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا : (میرے) رب ! میں نہیں جانتا، (اس پر) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان (سینے میں) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہوگیا، (پھر) کہا : محمد ! میں نے عرض کیا : (میرے) رب ! میں حاضر ہوں، اور تیرے حضور میری موجودگی میری خوش بختی ہے، فرمایا : فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے ؟ میں نے کہا : انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کیا کیا ہیں) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر (بھلائی) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہوجائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل اور عبدالرحمٰن بن عائش (رض) ١ ؎ کی بھی نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے، اور اس پوری لمبی حدیث کو معاذ بن جبل نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا، (اس میں ہے) میں نے ذرا سی اونگھ لی، تو مجھے گہری نیند آ گئی، پھر میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا : «فيم يختصم الملأ الأعلی» فرشتوں کی (سب سے اونچے مرتبے کی جماعت) کس بات پر لڑ جھگڑ رہی ہے ؟ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٥٧٨٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : معاذ بن جبل (رض) کی حدیث تو خود مؤلف کے یہاں آرہی ہے ، اور عبدالرحمٰن بن عائش (رض) کی حدیث بغوی کی شرح السنہ میں ہے ، ان عبدالرحمٰن بن عائش کی صحابیت کے بارے میں اختلاف ہے ، صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابی نہیں ہیں ، معاذ کی اگلی حدیث بھی انہی کے واسطہ سے ہے اور ان کے اور معاذ کے درمیان بھی ایک راوی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (3233) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3234
حدیث نمبر: 3234 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: رَبِّ لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، وَالْكَفَّارَاتِ، وَفِي نَقْلِ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ، وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَمَنْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ص
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے (حجرہ سے) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو (اپنے قریب) بلایا، فرمایا : اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا : میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، (تہجد کی) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا : اے محمد ! میں نے کہا : میرے رب ! میں حاضر ہوں، اس نے کہا : «ملا ٔ الأعلی» (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا : رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا : میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا (اور پہچان گیا ) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا : رب ! میں حاضر ہوں، اس نے کہا : «ملا ٔ الأعلی» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا : نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر (دوسری نماز کے انتظار میں) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا : پھر کس چیز کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں) ؟ میں نے کہا : (محتاجوں اور ضرورت مندوں کو) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا : مانگو (اور مانگتے وقت کہو) کہو :«اللهم إني أسألک فعل الخيرات وترک المنکرات وحب المساکين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألک حبک وحب من يحبک وحب عمل يقرب إلى حبك» اے اللہ ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں : مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم ﷺ سے (بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم ﷺ سے نہیں سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٣٦٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر العلو (119 / 80) ، الظلال (388) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3235
حدیث نمبر: 3235 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامِ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ، فَقَالَ لَنَا: عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ أَنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي، فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ ، قَالَ: مَا هُنَّ ؟ قُلْتُ: مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، قَالَ: فِيمَ ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِينُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا، ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَالَ: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، هَكَذَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
عبداللہ بن زبیر (رض) اپنے باپ (زبیر ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربکم تختصمون» پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس (توحید و شرک کے سلسلے میں) جھگڑ رہے ہو گے (الروم : ٣١) ، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان (آخرت میں) لڑائی جھگڑے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، انہوں نے کہا : پھر تو معاملہ بڑا سخت ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٦٢٩) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3236
حدیث نمبر: 3236 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُومَةُ بَعْدَ الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَمْرَ إِذًا لَشَدِيدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا علی أنفسهم لا تقنطوا من رحمة اللہ إن اللہ يغفر الذنوب جميعا» اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کردیتا ہے (الزمر : ٥٣) ، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی (کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں، ٣- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٧٧١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” شہر بن حوشب “ ضعیف ہیں) وضاحت : ١ ؎ : احمد کی روایت میں «لا يبالي» کے بعد آیت کا اگلا ٹکڑا بھی ہے «إن اللہ هو الغفور الرحيم» (الشوری : ٥) صاحب تحفہ الأحوذی فرماتے ہیں : شاید پہلے «لا يبالي» کا لفظ بھی آیت میں شامل تھا جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3237
حدیث نمبر: 3237 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ: يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53 وَلَا يُبَالِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ يَرْوِي عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَأُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ هِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : محمد ! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روکے ہوئے ہے، زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے ہوئے ہے، پہاڑوں کو ایک انگلی سے تھامے ہوئے ہے، اور مخلوقات کو ایک انگلی پر آباد کئے ہوئے ہے، پھر کہتا ہے : میں ہی (ساری کائنات کا) بادشاہ ہوں۔ (یہ سن کر) آپ ﷺ کھلکھلا کر ہنس پڑے، فرمایا : پھر بھی لوگوں نے اللہ کی قدر و عزت نہ کی جیسی کہ کرنی چاہیئے تھی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة الزمر ٢ (٤٨١١) ، والتوحید ١٩ (٧٤١٤) ، و ٢٦ (٧٤٥١) ، و ٣٦ (٧٥١٣) ، صحیح مسلم/المنافقین ح ١٩ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف : ٤٩٠٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الظلال (541 - 544) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3238
حدیث نمبر: 3238 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ پس نبی اکرم ﷺ تعجب سے اور (اس کی باتوں کی) تصدیق میں ہنس پڑے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الظلال (541 - 544) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3239
حدیث نمبر: 3239 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی کا نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزر ہوا، نبی اکرم ﷺ نے اس (یہودی) سے کہا : ہم سے کچھ بات چیت کرو ، اس نے کہا : ابوالقاسم ! آپ کیا کہتے ہیں : جب اللہ آسمانوں کو اس پر اٹھائے گا ١ ؎ اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر اور ساری مخلوق کو اس پر، ابوجعفر محمد بن صلت نے (یہ بات بیان کرتے ہوئے) پہلے چھنگلی (کانی انگلی) کی طرف اشارہ کیا، اور یکے بعد دیگرے اشارہ کرتے ، ہوئے انگوٹھے تک پہنچے، (اس موقع پر بطور جواب) اللہ تعالیٰ نے «وما قدروا اللہ حق قدره» انہوں نے اللہ کی (ان ساری قدرتوں کے باوجود) صحیح قدر و منزلت نہ جانی، نہ پہچانی (الزمر : ٦٧) ، نازل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- ہم اسے (ابن عباس (رض) کی روایت سے) صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- ابوکدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا ہے، انہوں نے یہ حدیث حسن بن شجاع سے اور حسن نے محمد بن صلت سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٤٥٧) (ضعیف) (سند میں عطاء بن السائب مختلط راوی ہیں) وضاحت : ١ ؎ : احمد کی روایت میں یوں ہے «یوم یحمل…»۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف المصدر نفسه // هو کتاب ظلال الجنة في تخريج أحاديث کتاب السنة لابن أبي عاصم برقم (545) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3240
حدیث نمبر: 3240 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا يَهُودِيُّ، حَدِّثْنَا ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ عَلَى ذِهْ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ بِخِنْصَرِهِ أَوَّلًا، ثُمَّ تَابَعَ حَتَّى بَلَغَ الْإِبْهَامَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو كُدَيْنَةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ شُجَاعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّلْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : کیا تمہیں معلوم ہے جہنم کتنی بڑی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، انہوں نے کہا : بیشک، قسم اللہ کی ! مجھے بھی معلوم نہ تھا، (مگر) عائشہ (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ساری زمین قیامت کے دن رب کی ایک مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے (الزمر : ٦٧) ، کے تعلق سے پوچھا : رسول اللہ ! پھر اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : جہنم کے پل پر، (اس سے مجھے معلوم ہوگیا کہ جہنم بہت لمبی چوڑی ہوگی) اس حدیث کے سلسلے میں پوری ایک کہانی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٦٢٢٨) (صحیح الإسناد) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3241
حدیث نمبر: 3241 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سورة الزمر آية 67، قَالَتْ: قُلْتُ: فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول ! «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» زمین ساری کی ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی، اور آسمان سارے کے سارے اس کے ہاتھ لپٹے ہوئے ہوں گے پھر اس دن مومن لوگ کہاں پر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ ! وہ لوگ (پل) صراط پر ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3242
حدیث نمبر: 3242 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سورة الزمر آية 67 فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ يَا عَائِشَةُ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا : ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : کہو : «حسبنا اللہ ونعم الوکيل توکلنا علی اللہ ربنا وربما» ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے راوی کہتے ہیں : کبھی کبھی سفیان نے «توکلنا علی اللہ ربنا» کے بجائے «علی اللہ توکلنا» روایت کیا ہے۔ (اس کے معنی بھی وہی ہیں) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٤٤) (صحیح) (سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ : «ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الأرض» (الزمر : 68) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1078 - 1079) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3243
حدیث نمبر: 3243 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْمَرَ أَنْ يَنْفُخَ فَيَنْفُخَ ، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: فَكَيْفَ نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللَّهِ رَبِّنَا، ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْأَعْمَشُ أَيْضًا عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا : اللہ کے رسول ! صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک سینگ (بھوپو) ہے جس میں پھونکا جائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٤٣٠ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1080) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3244
حدیث نمبر: 3244 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الصُّورُ ؟ قَالَ: قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں میں سے چن لیا، (یہ سنا) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا : تو ایسا کہتا ہے جب کہ (تمام انسانوں اور جنوں کے سردار) نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ (دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے) رسول اللہ ﷺ نے آیت : «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء اللہ ثم نفخ فيه أخری فإذا هم قيام ينظرون» جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں گے (کہ ان کے ساتھ) کیا کیا جاتا ہے ؟ (الزمر : ٦٩) ، پڑھی اور کہا : سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہوگا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کردیا ہے ٢ ؎ اور جس نے کہا : میں یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٠٦٢) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : روز حشر کا یہ واقعہ سنانے کہ آپ ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلیت ذکر کرنا چاہتے ہیں نیز اپنی خاکساری کا اظہار فرما رہے ہیں ، اپنی خاکساری ظاہری کرنا دوسری بات ہے ، اور فی نفسہ موسیٰ (علیہ السلام) کا تمام انبیاء کے افضل ہونا اور بات ہے البتہ اس طرح کسی نبی کا نام لے کر آپ کے ساتھ مقابلہ کر کے آپ کی فضیلت بیان کرنے والے کو تاؤ میں آ کر مار دینا مناسب نہیں ہے ، آپ نے اس وقت یہی تعلیم دہی ہے۔ ٣ ؎ : حقیقت میں نبی اکرم ﷺ سب سے افضل نبی ہیں ، اور سیدالأنبیاء و الرسل ہیں ، لیکن انبیاء کا آپس میں تقابل عام حالات میں صحیح نہیں ہے ، بلکہ خلاف ادب ہے ، اس کا تواضح و انکساری اور انبیاء و رسل کی غرض و احترام میں آپ نے ادب سکھایا اور اس طرح کے موازنہ پر تنقید فرمائی۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح تخريج الطحاوية ص // (160 - // 162) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3245
حدیث نمبر: 3245 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ: لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ، قَالَ: تَقُولُ هَذَا وَفِينَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68 فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ زمر کی تفسیر
ابوسعید اور ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پکارنے والا پکار کر کہے گا : (جنت میں) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ تعالیٰ کے قول : «وتلک الجنة التي أورثتموها بما کنتم تعملون» یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے نیک اعمال کے بدلے وارث بنائے جاؤ گے (الزخرف : ٧٢) ، کا یہی مطلب ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن مبارک وغیرہ نے یہ حدیث ثوری سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنة ٨ (٢٨٣٧) (تحفة الأشراف : ٣٩٦٣، ١٢١٩٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3246
حدیث نمبر: 3246 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاق، أَنَّ الْأَغَرَّ أَبَا مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الزخرف آية 72 . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
তাহকীক: