আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৬ টি
হাদীস নং: ৬৫৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اہل بیت اور آپ ﷺ کے غلامون کے لئے زکوة لینا جائز نہیں
معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے : صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھالیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں سلمان، ابوہریرہ، انس، حسن بن علی، ابوعمیرہ (معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے) ، میمون (یا مہران) ، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٩٨ (٢٦١٤) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣٨٦) ، مسند احمد (٥/٥) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ سے آخرت کا ثواب مقصود ہوتا ہے اور اس کا دینے والا باعزت اور لینے والا ذلیل و حاجت مند سمجھا جاتا ہے جب کہ ہدیہ سے ہدیہ کئے جانے والے کا تقرب مقصود ہوتا ہے اور ہدیہ کرنے والی کی نظر میں اس کے باعزت اور مکرم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 656
حدیث نمبر: 656 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ فَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ أَكَلَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدِّ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اہل بیت اور آپ ﷺ کے غلامون کے لئے زکوة لینا جائز نہیں
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا : تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو، مگر انہوں نے کہا : نہیں، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لوں، چناچہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا : ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابورافع نبی اکرم ﷺ کے مولیٰ ہیں، ان کا نام اسلم ہے اور ابن ابی رافع کا نام عبیداللہ بن ابی رافع ہے، وہ علی بن ابی طالب (رض) کے منشی تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٢٩ (١٦٥٠) ، سنن النسائی/الزکاة ٩٧ (٢٦١٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٠١٨) ، مسند احمد (٦/١٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس اصول کے تحت ابورافع کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہوا کیونکہ ابورافع رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ تھے ، لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے اور بنی ہاشم کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ بنی ہاشم ، بنی فاطمہ اور آل نبی کی طرف منسوب کرنے والے آج کتنے ہزار لوگ ہیں جو لوگوں سے زکاۃ و صدقات کا مال مانگ مانگ کر کھاتے ہیں ، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شاہ جی ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (1829) ، الإرواء (3 / 365 و 880) ، الصحيحة (1612) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 657
حدیث نمبر: 657 حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ: لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُهُ: أَسْلَمُ، وَابْنُ أَبِي رَافِعٍ هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزیز وقا رب کو زکوة دینا
سلمان بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے ، نیز فرمایا : مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے، ٢- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق : «حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣- نیز شعبہ نے بطریق : «عاصم، عن حفصة، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ١ ؎ زیادہ صحیح ہے، ٥- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق : «حفصة، عن الرباب، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، ٦- اس باب میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ زینب، جابر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصوم ٢١ (٢٣٥٥) ، (بالشطر الأول فحسب) ، سنن النسائی/الزکاة ٨٢ (٢٥٨٣) ، (بالشطر الثانی فحسب) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٥ (١٦٩٩) ، (بالشطر الأول) ، والزکاة ٢٨ (١٨٤٤) ، (بالشطر الثانی) ، ( تحفة الأشراف : ٤٤٨٦) ، مسند احمد (٤/١٨، ٢١٤) ، سنن الدارمی/الزکاة ٣٨ (١٧٢٣) ، (بالشطر الثانی) نیز دیکھئے رقم : ٦٩٥ پہلا فقرہ صیام سے متعلق (ضعیف) ہے، سند میں رباب، أم الرائح لین الحدیث ہیں، اور صدقہ سے متعلق دوسرا فقرہ صحیح ہے، تراجع الالبانی ١٣٢، والسراج المنیر ١٨٧٣، ١٨٧٤) وضاحت : ١ ؎ : جس میں رباب کے واسطے کا ذکر ہے۔ قال الشيخ الألباني : (جملة إذا أفطر ... ) ضعيف، والصحيح من فعله صلی اللہ عليه وسلم، (جملة الصدقة علی .... ) صحيح (جملة إذا أفطر ... ) ، ابن ماجة (1699) ، (جملة الصدقة علی ... ) ، ابن ماجة (1844) // عندنا برقم (1494) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 658
حدیث نمبر: 658 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَاسَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ وقَالَ: الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالرَّبَاب هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ بِنْتُ صُلَيْعٍ، وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْعَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الرَّبَاب، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ، وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ عَوْن، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال میں زکوة کے علاوہ بھی حق ہے
فاطمہ بنت قیس (رض) کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ١ ؎ پھر آپ نے سورة البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی : «ليس البر أن تولوا وجوهكم» نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو ٢ ؎ الآیۃ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزکاة ٣ (١٧٨٩) ، (لکن لفظہ ” لیس فی المال حق سوی الزکاة “ ) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٣ (١٦٧٧) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف راوی ہے، ابو حمزہ میمون بھی ضعیف ہیں، اور ابن ماجہ کے یہاں اسود بن عامر کی جگہ یحییٰ بن آدم ہیں لیکن ان کی روایت شریک کے دیگر تلامذہ کے برخلاف ہے، دونوں سیاق سے یہ ضعیف ہے) وضاحت : ١ ؎ : بظاہر یہ حدیث «ليس في المال حق سوی الزکاة» کے معارض ہے ، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ زکاۃ اللہ کا حق ہے اور مال میں زکاۃ کے علاوہ جو دوسرے حقوق واجبہ ہیں ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے۔ ٢ ؎ : پوری آیت اس طرح ہے : «ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملآئكة والکتاب والنبيين وآتی المال علی حبه ذوي القربی واليتامی والمساکين وابن السبيل والسآئلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتی الزکاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون» (البقرة : 177) ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقۃً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ، قیامت کے دن پر ، فرشتوں پر ، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو ، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے غلاموں کو آزاد کرنے نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی کرے ، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں آیت سے استدلال اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ وجوہ میں مال دینے کا ذکر فرمایا ہے پھر اس کے بعد نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (1789) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 659
حدیث نمبر: 659 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ سورة البقرة آية 177 الْآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال میں زکوة کے علاوہ بھی حق ہے
فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ١ ؎، ٢- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے، ٣- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف) وضاحت : ١ ؎ : «إسناده ليس بذلک» الفاظ جرح میں سے ہے ، اس کا تعلق مراتب جرح کے پہلے مرتبہ سے ہے ، جو سب سے ہلکا مرتبہ ہے ، ایسے راوی کی حدیث قابل اعتبار ہوتی ہے یعنی تقویت کے قابل اور اس کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف أيضا //، المشکاة (1 / 597) ، ضعيف سنن ابن ماجة (397) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 660
حدیث نمبر: 660 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ، وَأَبُو حَمْزَةَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ، وَرَوَى بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا کرنے کی فضلیت
ابوہریرہ (رض) کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ١ ؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ٢ ؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہوجاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٨ (تعلیقا عقب حدیث رقم : ١٤١٠) ، والتوحید ٢٣ (تعلیقا عقب حدیث رقم : ٧٤٣٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٩ (١٠١٤) ، سنن النسائی/الزکاة ٤٨ (٢٥٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٨ (١٨٤٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٣٧٩) ، مسند احمد (٢/٣٣١، ٤١٨، ٥٣٨) ، سنن الدارمی/الزکاة ٣٥ (١٧١٧) (صحیح) وأخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٨ (١٤١٠) ، والتوحید ٢٣ (٧٤٣٠) ، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر المذکور) ، و مسند احمد (٢/٣٨١، ٤١٩، ٤٣١، ٤٧١، ٥٤١) من غیر ہذا الطریق وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ٢ ؎ : «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح ظلال الجنة (623) ، التعليق الرغيب، الإرواء (886) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 661
حدیث نمبر: 661 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا کرنے کی فضلیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہوجاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب (قرآن) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن اللہ هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور « (يمحق اللہ الربا ويربي الصدقات» اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نیز عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلا کیفیت جاری کرو ١ ؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ہاتھ، کان، آنکھ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : تشبیہ تو تب ہوگی جب کوئی کہے : «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع کسمع أو مثل سمع» یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے تو یہ تشیبہ ہوئی۔ (نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : «ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير» اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٢٨٧) ، وانظر : مسند احمد (٢/٢٦٨، ٤٠٤) (منکر) (” و تصدیق ذلک “ کے لفظ سے منکر ہے، عباد بن منصور اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے اور دوسرے کی روایتوں میں اس اضافہ کا تذکرہ نہیں ہے، یعنی اس اضافہ کے بغیر حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان پر ایمان لاؤ اور ان کی کیفیت کے بارے میں گفتگو نہ کرو۔ یہاں آج کل کے صوفیاء و مبتدعین کے عقائد کا بھی رد ہوا ، یہ لوگ سلف صالحین کے برعکس اللہ کی صفات کی تاویل اور کیفیت بیان کرتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : منکر بزيادة : صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 662
حدیث نمبر: 662 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَال: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ . وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة التوبة آية 104، وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 104، و يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ، وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالُوا: قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ. هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ: أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ، وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، وَقَالُوا: هَذَا تَشْبِيهٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ، فَتَأَوَّلَتْ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ، وَقَالُوا: إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ، وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ: يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ، فَإِذَا قَالَ: سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ، وَأَمَّا إِذَا قَالَ: كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلَا يَقُولُ كَيْفَ، وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ، فَهَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيهًا، وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الشورى آية 11.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا کرنے کی فضلیت
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا : رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں ، پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا : رمضان میں صدقہ کرنا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٤٩) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (889) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 663
حدیث نمبر: 663 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ: شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ ، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا کرنے کی فضلیت
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٩) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عبداللہ بن عیسیٰ الخزار ضعیف ہیں لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں دیکھئے الصحیحة رقم : ١٩٠٨) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 22) ، الإرواء (885) // ضعيف الجامع الصغير (1489) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 664
حدیث نمبر: 664 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّارُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ عَنْ مِيتَةِ السُّوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سائل کا حق
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء (رض) (جو رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی۔ (تو میں کیا کروں ؟ ) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ام بجید (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٣٣ (١٦٦٧) ، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٣٥) ، مسند احمد (٦/٣٨٢- ٣٨٣) ، وأخرجہ موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ٥ (٨) ، و مسند احمد (٧٠٤) ، و (٦/٤٣٥) ، من غیر ہذا الطریق والسیاق (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں مبالغہ ہے ، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤ جو بھی میسر ہو اسے دے دو ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 29) ، صحيح أبي داود (1467) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 665
حدیث نمبر: 665 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تالیف قلب کے لئے زکوة دینا
صفوان بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے (فتح مکہ سے قبل) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ٢- اس باب میں ابوسعید (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ١ ؎، ٤- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ١٤ (٢٣١٣) ، (بلفظ ” عن ابن المسیب أن صفوان قال : … “ ) ، ( تحفة الأشراف : ٤٩٤٤) ، مسند احمد (٣/٤٠١) و (٦/٤٦٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ سعید بن مسیب نے صفوان بن امیہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے اور راوی فلان عن فلان اسی وقت کہتا ہے جب اس نے اس سے کچھ سنا ہو گو ایک ہی حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ ( صحیح مسلم میں «أن صفوان قال» ہی ہے ) امام شافعی کا قول قابل قبول اور قابل عمل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 666
حدیث نمبر: 666 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بِهَذَا أَوْ شِبْهِهِ فِي الْمُذَاكَرَةِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ صَفْوَانَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ أَصَحُّ وَأَشْبَهُ، إِنَّمَا هُوَ: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعْطَوْا، وَقَالُوا: إِنَّمَا كَانُوا قَوْمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَسْلَمُوا، وَلَمْ يَرَوْا أَنْ يُعْطَوْا الْيَوْمَ مِنَ الزَّكَاةِ عَلَى مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ كَانَ الْيَوْمَ عَلَى مِثْلِ حَالِ هَؤُلَاءِ وَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يَتَأَلَّفَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَعْطَاهُمْ جَازَ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے زکوة میں دیا ہوا مال وراثت میں ملے
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مرگئیں (تو اس لونڈی کا کیا ہوگا ؟ ) آپ نے فرمایا : تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اسے تمہیں لوٹا بھی دیا ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ نے فرمایا : تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے ، اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ان کی طرف سے حج کرلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بریدہ (رض) کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہوجائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ٤- اور بعض کہتے ہیں : صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہوجائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے (یہ زیادہ افضل ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٢٧ (١١٤٩) ، سنن ابی داود/ الزکاة ٣١ (١٦٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٣ (٢٣٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٩٨٠) ، مسند احمد (٥/٣٥١، ٣٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1759 و 2394) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 667
حدیث نمبر: 667 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ قَالَ: صُومِي عَنْهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ، فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقی کرنے کے بعد واپس لوٹانا مکروہ ہے
عمر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنا صدقہ واپس نہ لو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٥٢٦) ، وأخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠) ، والہبة ٣٠ (٢٦٢٣) ، و ٣٧ (٢٦٣٦) ، والوصایا ٣١ (٢٧٧٥) ، والجہاد ١١٩ (٢٩٧٠) ، و ١٣٧ (٣٠٠٣) ، صحیح مسلم/الہبات ١ (١٦٢٠) ، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٦) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠) ، موطا امام مالک/الزکاة ٢٦ (٤٩) ، مسند احمد (١/٤٠، ٥٤) ، من غیر ہذا الطریق کما أخرجہ صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٨٩) ، وسنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٨) ، من مسند عبداللہ بن عمر (رض) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے ، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے ، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں ، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے ، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری (رض) کی حدیث «لا تحل الصدقة إلا لخمسة لعامل عليها اور جل اشتراها بما … الحديث» کے معارض ہے ، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر (رض) والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائے گی اور ابوسعید (رض) والی روایت بیان جواز پر ، یا عمر (رض) کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری (رض) کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2390) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 668
حدیث نمبر: 668 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْعُمَرَ: أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے صدقہ دینا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری والدہ فوت ہوچکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اس نے عرض کیا : میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عکرمة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ٣- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ١ ؎، ٤- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٦٢) ، سنن ابی داود/ الوصایا ١٥ (٢٨٨٢) ، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٥) ، ( تحفة الأشراف : ٦١٦٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ان دونوں کے سلسلہ میں اہل سنت والجماعت میں کوئی اختلاف نہیں ، اختلاف صرف بدنی عبادتوں کے سلسلہ میں ہے جیسے صوم و صلاۃ اور قرأت قرآن وغیرہ عبادتیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (6566) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 669
حدیث نمبر: 669 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ: لَيْسَ شَيْءٌ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ إِلَّا الصَّدَقَةُ وَالدُّعَاءُ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّ لِي مَخْرَفًا يَعْنِي: بُسْتَانًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کا خاوند کے گھر سے خرچ کرنا
ابوامامہ باہلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا : عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اور کھانا بھی نہیں ؟۔ آپ نے فرمایا : یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوامامہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٥) ، ( تحفة الأشراف : ٤٨٨٣) ، مسند احمد (٥/٢٦٧) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کرسکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں ، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی ، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2295) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 670
حدیث نمبر: 670 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامُ ؟ قَالَ: ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا . وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کا خاوند کے گھر سے خرچ کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی، اور خزانچی کو بھی، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٦١٥٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2294) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 671
حدیث نمبر: 671 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لَهُ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کا خاوند کے گھر سے خرچ کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابو وائل سے روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ١٧ (١٤٢٥) ، و ٢٥ (١٤٣٧) ، و ٢٦ (١٤٣٩) ، والبیوع ١٢ (٢٠٦٥) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٤) ، سنن ابی داود/ الزکاة ٤٤ (١٦٨٥) ، سنن النسائی/الزکاة ٥٧ (٢٥٤٠) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٠٨) ، مسند احمد (٦/٤٤، ٩٩، ٣٧٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح بما قبله (671) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 672
حدیث نمبر: 672 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَعْطَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا بِطِيبِ نَفْسٍ غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِهِ لَهَا مَا نَوَتْ حَسَنًا وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، لَا يَذْكُرُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَسْرُوقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کے بارے میں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے - صدقہ فطر ١ ؎ میں ایک صاع گیہوں ٢ ؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ (رض) مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کرلیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ٤- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥) ، و ٧٣ (١٥٠٦) ، و ٧٥ (١٥٠٨) ، و ٧٦ (١٥١٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥) ، سنن ابی داود/ الزکاة ١٩ (١٦١٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٣٨ (٢٥١٥) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٩) ، مسند احمد (٣/٢٣، ٧٣، ٩٨) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صدقہ فطر کی فرضیت رمضان کے آغاز کے بعد عید سے صرف دو روز پہلے ٢ ھ میں ہوئی ، اس کی ادائیگی کا حکم بھی نماز عید سے پہلے پہلے ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند حضرات اس روز مانگنے سے بےنیاز ہو کر عام مسلمانوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں ، اس کی مقدار ایک صاع ہے خواہ کوئی بھی جنس ہو ، صدقہ فطر کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ اور صاع ڈھائی کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔ ٢ ؎ : «صاعاً من طعام» میں «طعام» سے مراد «حنطۃ» گیہوں ہے کیونکہ «طعام» کا لفظ مطلقاً گیہوں کے معنی میں بولا جاتا تھا جب کہا جاتا ہے : «إذهب إلى سوق الطعام» تو اس سے «سوق الحنطۃ» گیہوں کا بازار ہی سمجھا جاتا تھا ، اور بعض لوگوں نے کہا «من طعام مجمل» ہے اور آگے اس کی تفسیر ہے ، یہ «عطف الخاص علی العام» ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1829) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 673
حدیث نمبر: 673 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ، إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَتَكَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ: إِنِّي لَأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعٌ إِلَّا مِنَ الْبُرِّ، فَإِنَّهُ يُجْزِئُ نِصْفُ صَاعٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَرَوْنَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کے بارے میں
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ سنو ! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا : «العباس بن ميناء عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٧٤٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سالم بن نوح حافظے کے ضعیف ہیں، مگر اس حدیث کی اصل ثابت ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 674
حدیث نمبر: 674 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ، أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ: عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مِينَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ. حَدَّثَنَا جَارُودُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کرلیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا (یعنی ابوذباب) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٧ (١٥١١) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤) ، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢) ، و ٣١ (٢٥٠٣) ، ( تحفة الأشراف : ٧٥١٠) ، مسند احمد ( ٢/٥) (صحیح) وأخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣) ، و ٧١ (١٥٠٤) ، و ٧٤ (١٥٠٧) ، و ٧٤ (١٥٠٧) ، و ٧٨ (١٥١٢) ، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر السابق) ، و سنن ابی داود/ الزکاة ١٩ (١٦١١) ، وسنن النسائی/الزکاة ٣٢ (٢٥٠٤) ، و ٣٣ (٢٥٠٥) ، وسنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٥، و ١٨٢٦) ، (٥٢) ، و مسند احمد (٢/٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧) ، و سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٦٦٨) ، من غیر ہذا الطریق عنہ، وانظر الحدیث الآتی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1825) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 675
حدیث نمبر: 675 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
তাহকীক: