আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৬ টি
হাদীস নং: ৬৩৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیور کی زکوة
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب (رض) کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ انہیں اپنی حدیث میں وہم ہوا ہے ١ ؎ انہوں نے کہا ہے عمرو بن الحارث سے روایت ہے وہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے سے روایت کر رہے ہیں اور صحیح یوں ہے زینب کے بھتیجے عمرو بن حارث سے روایت ہے ، ٢- نیز عمرو بن شعیب سے بطریق : «عن أبيه، عن جده، عبدالله بن عمرو بن العاص عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت ہے کہ آپ نے زیورات میں زکاۃ واجب قرار دی ہے ٢ ؎ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ٣- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم سونے چاندی کے زیورات میں زکاۃ کے قائل ہیں۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک بھی یہی کہتے ہیں۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں ابن عمر، عائشہ، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک (رض) شامل ہیں، کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاۃ نہیں ہے۔ بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٤٨ (١٤٦٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٠) ، سنن النسائی/الزکاة ٨٢ (٢٥٨٤) ، ( تحفة الأشراف : أیضا : ١٥٨٨٧) ، مسند احمد (٣/٥٠٢) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ انہوں نے عمرو بن حارث اور عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے کو دو الگ الگ آدمی جانا ہے اور پہلا دوسرے سے روایت کر رہا ہے جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ دونوں ایک ہی آدمی ہیں ابن اخی زینب عمرو بن حارث کی صفت ہے عمرو بن حارث اور ابن اخی زینب کے درمیان «عن» کی زیادتی ابومعاویہ کا وہم ہے صحیح بغیر «عن» کے ہے جیسا کہ شعبہ کی روایت میں ہے۔ ٢ ؎ : اس سلسلہ میں بہتر اور مناسب بات یہ ہے کہ استعمال کے لیے بنائے گئے زیورات اگر فخر ومباہات ، اور اسراف وتبذیر کے لیے اور زکاۃ سے بچنے کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ ہے بصورت دیگر ان میں زکاۃ واجب نہیں ہے۔ سونے کے زیورات کی زکاۃ کا نصاب ساڑھے سات تولے یعنی ٨٠ گرام اصلی سونا ہے کہ کم از کم اتنے وزن اصلی سونے پر ایک سال گزر جائے تو مالک ٥٠۔ ٢% کے حساب سے زکاۃ ادا کرے ، یاد رکھیے اصلی خالص سونا ہال قیراط ہوتا ہے ، تفصیل کے لیے فقہ الزکاۃ میں دیکھی جاسکتی ہے ( ابو یحییٰ ) ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 636
حدیث نمبر: 636 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهِمَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فِي الْحُلِيِّ زَكَاةً وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ مَقَالٌ. وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةَ مَا كَانَ مِنْهُ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَيْسَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیور کی زکوة
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٧٣٠) (حسن) (یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف ہے، سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، مگر دوسری سند اور دوسرے سیاق سے یہ حدیث حسن ہے، الإرواء ٣/٢٩٦، صحیح ابی داود ١٣٩٦) قال الشيخ الألباني : حسن بغير هذا اللفظ، الإرواء (3 / 296) // 817 //، المشکاة (1809) ، صحيح أبي داود (1396) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 637
حدیث نمبر: 637 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا: أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ ؟ قَالَتَا: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟ قَالَتَا: لَا، قَالَ: فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبزیوں کی زکوة
معاذ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو لکھا، وہ آپ سے سبزیوں کی زکاۃ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا : ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، ٢- اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے، اور اسے صرف موسیٰ بن طلحہ سے روایت کیا جاتا ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سبزیوں میں زکاۃ نہیں ہے، ٤- حسن، عمارہ کے بیٹے ہیں، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ شعبہ وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ابن مبارک نے انہیں متروک قرار دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٣٥٤) (صحیح) (سند میں حسن بن عمارہ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے : إرواء الغلیل رقم : ٨٠١) وضاحت : ١ ؎ : یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن چونکہ متعدد طرق سے مروی ہے جس سے تقویت پا کر یہ اس قابل ہوجاتی ہے کہ اس سے استدلال کیا جاسکے ، اسی لیے اہل علم نے زکاۃ کے سلسلہ میں وارد نصوص کے عموم کی اس حدیث سے تخصیص کی ہے اور کہا ہے کہ سبزیوں میں زکاۃ نہیں ہے۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہوا اور دیگر بیسیوں روایات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے درمیان ، صحابہ کرام کا آپس میں ایک دوسرے کے درمیان اور غیر مسلم بادشاہوں ، سرداروں اور امراء اور نبی اکرم ﷺ کے مابین تحریری خط وکتابت کا سلسلہ عہد نبوی و عہد صحابہ میں جاری تھا ، قارئین کرام منکرین حدیث کی دروغ گوئی اور کذب بیانی سے خبردار رہیں ، اصل دین کے دشمن یہی لوگ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (3 / 279) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 638
حدیث نمبر: 638 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْعِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْخَضْرَاوَاتِ وَهِيَ الْبُقُولُ، فَقَالَ: لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْحَسَنُ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ وَتَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نہری زمین کی کھیتی پر زکوة
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس فصل کی سینچائی بارش یا نہر کے پانی سے کی گئی ہو، اس میں زکاۃ دسواں حصہ ہے، اور جس کی سینچائی ڈول سے کھینچ کر کی گئی ہو تو اس میں زکاۃ دسویں حصے کا آدھا یعنی بیسواں حصہ ١ ؎ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں انس بن مالک، ابن عمر اور جابر سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- یہ حدیث بکیر بن عبداللہ بن اشج، سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے بھی روایت کی گئی ہے، اور ان سب نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، گویا یہ زیادہ صحیح ہے، ٣- اور اس باب میں ابن عمر کی حدیث بھی صحیح ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ٢ ؎، ٤- اور اسی پر بیشتر فقہاء کا عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٧ (١٨١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٢٠٨ و ١٣٤٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں بالاتفاق «حولان حول» سال کا پورا ہونا شرط نہیں ، البتہ نصاب شرط ہے یا نہیں جمہور ائمہ عشر یا نصف عشر کے لیے نصاب کو شرط مانتے ہیں ، جب تک پانچ وسق نہ ہو عشر یا نصف عشر واجب نہیں ہوگا ، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نصاب شرط نہیں ، وہ کہتے ہیں : «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما کسبتم ومما أخرجنا لکم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه واعلموا أن اللہ غني حميد» (البقرة : 267) اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو ، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا ، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو ، ہاں اگر آنکھیں بند کرلو تو ، اور جان لو اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور خوبیوں والا ہے ۔ «مما أخرجنا» میں «ما» کلمہ عموم ہے اس طرح «فيما سقت السماء وفيما سقی بالنضح» میں بھی «ما» کلمہ عموم ہے۔ ٢ ؎ : اور جو آگے آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بما بعده (640) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 639
حدیث نمبر: 639 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ وَقَدْ صَحَّ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نہری زمین کی کھیتی پر زکوة
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ طریقہ جاری فرمایا کہ جسے بارش یا چشمے کے پانی نے سیراب کیا ہو، یا عثری یعنی رطوبت والی زمین ہو جسے پانی دینے کی ضرورت نہ پڑتی ہو تو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس میں دسویں کا آدھا یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٥ (١٤٨٣) ، سنن ابی داود/ الزکاة ١١ (١٥٩٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٢٥ (٢٤٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٧ (١٨١٢) ، ( تحفة الأشراف : ٦٩٧٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1817) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 640
حدیث نمبر: 640 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم کے مال کی زکوة
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے خطاب کیا تو فرمایا : جو کسی ایسے یتیم کا ولی (سرپرست) ہو جس کے پاس کچھ مال ہو تو وہ اسے تجارت میں لگا دے، اسے یونہی نہ چھوڑ دے کہ اسے زکاۃ کھالے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اس لیے کہ مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن شعیب سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا : … اور آگے یہی حدیث ذکر کی، ٣- عمرو : شعیب کے بیٹے ہیں، اور شعیب محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں۔ اور شعیب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : یہ ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور جس نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے صرف اس وجہ سے ضعیف کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو کے صحیفے سے حدیث بیان کی ہے۔ لیکن اکثر اہل حدیث علماء عمرو بن شعیب کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں اور اسے ثابت مانتے ہیں جن میں احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہما بھی شامل ہیں، ٤- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ ہے، انہیں میں عمر، علی، عائشہ، اور ابن عمر ہیں۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٥- اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ نہیں ہے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٧٧٧) (ضعیف) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، اخیر عمر میں مختلط بھی ہوگئے تھے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی زکاۃ دیتے دیتے کل مال ختم ہوجائے ٢ ؎ : یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ «رفع القلم عن ثلاث : صبي ، ومجنون ، ونائم» کے خلاف ہے اور حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ «تأكله الصدقة» میں صدقہ سے مراد نفقہ ہے۔ مدفون مال میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نکالا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (788) // ضعيف الجامع الصغير (2179) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 641
حدیث نمبر: 641 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، لِأَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب، فَرَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةً، مِنْهُمْ عُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعَائِشَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَشُعَيْبٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَقَالَ: هُوَ عِنْدَنَا وَاهٍ وَمَنْ ضَعَّفَهُ فَإِنَّمَا ضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ يُحَدِّثُ مِنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَمَّا أَكْثَرُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فَيَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَيُثْبِتُونَهُ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیوان کے زخمی کرنے پر کوئی دیت نہیں اور دفن شدہ خزانے پر پانچواں حصہ ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جانور کا زخم رائیگاں ہے ١ ؎ یعنی معاف ہے، کان رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے ٢ ؎ اور رکاز (دفینے) میں سے پانچواں حصہ دیا جائے گا ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک، عبداللہ بن عمرو، عبادہ بن صامت، عمرو بن عوف مزنی اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٨ (٦٩١٢) ، صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٢٢٧) ، و ١٥٢٣٨) (صحیح) وأخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩) ، والمساقاة ٣ (٢٣٥٥) ، والدیات ٢٩ (٦٩١٣) ، سنن ابی داود/ الخراج ٤٠ (٣٠٨٥) ، والدیات ٣٠ (٤٥٩٣) ، سنن النسائی/الزکاة ٢٨ (٢٤٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٤ (٢٦٧٣) ، موطا امام مالک/الزکاة ٤ (٩) ، العقول ١٨ (١٢) ، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٩٥، ٥٠١، ٥٠٧) ، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠) ، والمؤلف في الأحکام ٣٧ (١٣٧٧) من غیر ذلک الطریق وضاحت : ١ ؎ : یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے تو جانور کے مالک پر اس زخم کی دیت نہ ہوگی۔ ٢ ؎ : یعنی کان یا کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہوجائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہوگی۔ ٣ ؎ : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رکاز ( دفینہ ) میں زکاۃ نہیں بلکہ خمس ہے ، اس کی حیثیت مال غنیمت کی سی ہے ، اس میں خمس واجب ہے جو بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور باقی کا مالک وہ ہوگا جسے یہ دفینہ ملا ہے ، رہا «معدن» کان تو وہ رکاز نہیں ہے اس لیے اس میں خمس نہیں ہوگا بلکہ اگر وہ نصاب کو پہنچ رہا ہے تو اس میں زکاۃ واجب ہوگی ، جمہور کی یہی رائے ہے ، حنفیہ کہتے ہیں رکاز معدن اور کنز دونوں کو عام ہے اس لیے وہ معدن میں بھی خمس کے قائل ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2673) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 642
حدیث نمبر: 642 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلہ وغیرہ کا اندازہ کرنا
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ (رض) ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : جب تم تخمینہ لگاؤ تو تخمینہ کے مطابق لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں عائشہ، عتاب بن اسید اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٢- تخمینہ لگانے کے سلسلے میں اکثر اہل علم کا عمل سہل بن ابی حثمہ (رض) کی حدیث پر ہے اور سہل بن ابی حثمہ (رض) کی حدیث ہی کے مطابق احمد اور شافعی بھی کہتے ہیں، تخمینہ لگانا یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور کے پھل جن کی زکاۃ دی جاتی ہے پک جائیں تو سلطان (انتظامیہ) ایک تخمینہ لگانے والے کو بھیجے جو اندازہ لگا کر بتائے کہ اس میں کتنا غلہ یا پھل ہوگا اور تخمینہ لگانا یہ ہے کہ کوئی تجربہ کار آدمی دیکھ کر یہ بتائے کہ اس درخت سے اتنا اتنا انگور نکلے گا، اور اس سے اتنی اتنی کھجور نکلے گی۔ پھر وہ اسے جوڑ کر دیکھے کہ کتنا عشر کی مقدار کو پہنچا، تو ان پر وہی عشر مقرر کر دے۔ اور پھل کے پکنے تک ان کو مہلت دے، پھل توڑنے کے وقت اپنا عشر دیتے رہیں۔ پھر مالکوں کو اختیار ہوگا کہ بقیہ سے جو چاہیں کریں۔ بعض اہل علم نے تخمینہ لگانے کی تشریح اسی طرح کی ہے، اور یہی مالک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ١٤ (١٦٠٥) ، سنن النسائی/الزکاة ١٤ (١٦٠٥) ، سنن النسائی/الزکاة ٢٦ (٢٤٩٣) ، ( تحفة الأشراف : ٤٦٤٧) ، مسند احمد (٤/٣) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن مسعود لین الحدیث ہیں) وضاحت : ١ ؎ : یہ خطاب زکاۃ وصول کرنے والے عمال اور ان لوگوں کو ہے جو زکاۃ کی وصولی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں ، تہائی یا چوتھائی حصہ چھوڑ دینے کا حکم اس لیے ہے تاکہ مالک پھل توڑتے وقت اپنے اعزہ و اقرباء اور اپنے ہمسایوں مسافروں وغیرہ پر خرچ کرسکے اور اس کی وجہ سے وہ کسی حرج اور تنگی میں مبتلا نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (281) ، الضعيفة (2556) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 643
حدیث نمبر: 643 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، يَقُولُ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْخَرْصِ، وَبِحَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: وَالْخَرْصُ: إِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ مِنَ الرُّطَبِ وَالْعِنَبِ مِمَّا فِيهِ الزَّكَاةُ بَعَثَ السُّلْطَانُ خَارِصًا يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، وَالْخَرْصُ أَنْ يَنْظُرَ مَنْ يُبْصِرُ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الزَّبِيبِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَيُحْصِي عَلَيْهِمْ وَيَنْظُرُ مَبْلَغَ الْعُشْرِ مِنْ ذَلِكَ فَيُثْبِتُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الثِّمَارِ فَيَصْنَعُونَ مَا أَحَبُّوا، فَإِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ أُخِذَ مِنْهُمُ الْعُشْرُ. هَكَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلہ وغیرہ کا اندازہ کرنا
عتاب بن اسید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتا تھا۔ اسی سند سے ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا : اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا، جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے، پھر کشمش ہوجانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہوجانے کے بعد نکالی جاتی ہے۔ (یعنی جب خشک ہوجائیں) امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابن جریج نے یہ حدیث بطریق : «ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة» روایت کی ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : ابن جریج کی حدیث محفوظ نہیں ہے اور ابن مسیب کی حدیث جسے انہوں نے عتاب بن اسید سے روایت کی ہے زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے (بس صرف سنداً ، ورنہ ضعیف یہ بھی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ١٣ (١٦٠٣) ، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٩) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٨ (١٨٩١) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٤٨) (ضعیف) (سعید بن المسیب اور عتاب (رض) کے درمیان سند میں انقطاع ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (807) ، ضعيف أبي داود (280) // عندنا برقم (347 / 1603) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 644
حدیث نمبر: 644 حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَارِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَثْبَتُ وَأَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انصاف کے ساتھ زکوة لینے والا عامل
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والا، اللہ کی راہ میں لڑنے والے غازی کی طرح ہے، جب تک کہ وہ اپنے گھر لوٹ نہ آئے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یزید بن عیاض محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٣- محمد بن اسحاق کی یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الخراج ٧ (٢٩٣٦) سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٤ (١٨٠٩) (تحفة الأشراف : ٣٥٨٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1809) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 645
حدیث نمبر: 645 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ح. وحَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوہ لینے میں زیادتی کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ٣- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالک» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالک» کہتے ہیں ١ ؎، ٤- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح سنان بن سعد ہے، ٥- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے پر وہی گناہ ہے جو نہ دینے والے پر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٤ (١٥٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٤ (١٨٠٨) ، ( تحفة الأشراف : ٨٤٧) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یزید بن ابی حبیب اور انس کے درمیان جو راوی ہیں ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے ، لیث بن سعد نے سعد بن سنان کہا ہے اور عمرو بن حارث اور لہیعہ نے سنان بن سعد کہا ہے ، امام بخاری نے عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ کے قول کو صحیح کہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1808) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 646
حدیث نمبر: 646 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَقَدْ تَكَلَّمَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، وَهَكَذَا يَقُولُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَيَقُولُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: وَالصَّحِيحُ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ. وَقَوْلُهُ: الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا ، يَقُولُ: عَلَى الْمُعْتَدِي مِنَ الْإِثْمِ كَمَا عَلَى الْمَانِعِ إِذَا مَنَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة لینے والے کو راضی کرنا
جریر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب زکاۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تم سے راضی اور خوش ہو کر ہی جدا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٥٥ (٩٨٩) ، سنن النسائی/الزکاة ١٤ (٢٤٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١١ (١٨٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ٣٢١٥) ، مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦١، ٣٦٤، ٣٦٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1802) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 647
حدیث نمبر: 647 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا يُفَارِقَنَّكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة مال داروں سے لے کر فقرا میں دی جائے
ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا مصدق (زکاۃ وصول کرنے والا) آیا اور اس نے زکاۃ ہمارے مالداروں سے لی اور اسے ہمارے فقراء کو دے دیا۔ میں اس وقت ایک یتیم لڑکا تھا، تو اس نے مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوجحیفہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٨٠٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں اشعث بن سوار ضعیف ہیں، لیکن مسئلہ یہی ہے جو دیگر دلائل سے ثابت ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 649
حدیث نمبر: 649 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَجَعَلَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کو زکوة لینا جائز ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بےنیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہوگی ١ ؎، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بےنیاز ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ٣- شعبہ نے اسی حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر پر کلام کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٢٣ (١٦٢٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٨٧ (٢٥٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠) ، ( تحفة الأشراف : ٩٣٨٧) (صحیح) (سند میں حکیم بن جبیر اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی روایت میں زبید کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : راوی کو شک ہے کہ آپ نے «خموش» کہا یا «خدوش» یا «کدوح» سب کے معنی تقریباً خراش کے ہیں ، بعض حضرات «خدوش» ،«خموش» اور «کدوح» کو مترادف قرار دے کر شک راوی پر محمول کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زخم کے مراتب ہیں کم درجے کا زخم «کدوح» پھر «خدوش» اور پھر «خموش» ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 650
حدیث نمبر: 650 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ، قَالَ: خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کو زکوة لینا جائز ہے
سفیان نے بھی حکیم بن جبیر سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے۔ جب سفیان نے یہ حدیث روایت کی تو ان سے شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے کہا : کاش حکیم کے علاوہ کسی اور نے اس حدیث کو بیان کیا ہوتا، تو سفیان نے ان سے پوچھا ـ: کیا بات ہے کہشعبہحکیم سے حدیثروایت نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، وہ نہیں کرتے۔ تو سفیان نے کہا : میں نے اسے زبید کو محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے سنا ہے، اور اسی پر ہمارے بعض اصحاب کا عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی کے پاس پچاس درہم ہوں تو اس کے لیے زکاۃ جائز نہیں۔ اور بعض اہل علم حکیم بن جبیر کی حدیث کی طرف نہیں گئے ہیں بلکہ انہوں نے اس میں مزید گنجائش رکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس پچاس درہم یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ ضرورت مند ہو تو اس کو زکاۃ لینے کا حق ہے، اہل فقہ و اہل حدیث میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 651
حدیث نمبر: 651 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ صَاحِبُ شُعْبَةَ: لَوْ غَيْرُ حَكِيمٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ: وَمَا لِحَكِيمٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ شُعْبَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سُفْيَانُ: زُبَيْدًا يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ خَمْسُونَ دِرْهَمًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ الصَّدَقَةُ، قَالَ: وَلَمْ يَذْهَبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَوَسَّعُوا فِي هَذَا، وَقَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ أَكْثَرُ وَهُوَ مُحْتَاجٌ فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الزَّكَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کے لئے زکوة لینا جائز نہیں
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے، ٢- اور شعبہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ، حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اور اس حدیث کے علاوہ میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی ہٹے کٹے کے لیے مانگنا جائز ہے اور جب آدمی طاقتور و توانا ہو لیکن محتاج ہو اور اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اسے صدقہ دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک اس دینے والے کی زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ « لا تحل له الصدقة» کا مطلب ہے کہ اس کے لیے مانگنا درست نہیں ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٢٣ (١٦٣٤) ، ( تحفة الأشراف : ٨٦٢٦) ، مسند احمد (٢/١٦٤) ، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٧٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : «ذی مرّۃ» کے معنی «ذی قوّۃ» کے ہیں اور «سویّ» کے معنی جسمانی طور پر صحیح و سالم کے ہیں۔ ٢ ؎ : یعنی «لا تحل له الصدقة» میں صدقہ مسئلہ ( مانگنے ) کے معنی میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (1444) ، الإرواء (877) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 652
حدیث نمبر: 652 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ح. وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ قَوِيًّا مُحْتَاجًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ أَجْزَأَ عَنِ الْمُتَصَدِّقِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى الْمَسْأَلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس کے لئے زکوة لینا جائز نہیں
حبشی بن جنادہ سلولی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا آپ عرفہ میں کھڑے تھے، آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ کی چادر کا کنارا پکڑ کر آپ سے مانگا، آپ نے اسے دیا اور وہ چلا گیا، اس وقت مانگنا حرام ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں نہ کسی ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لیے سوائے جان لیوا فقر والے کے اور کسی بھاری تاوان میں دبے شخص کے۔ اور جو لوگوں سے اس لیے مانگے کہ اس کے ذریعہ سے اپنا مال بڑھائے تو یہ مال قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراش ہوگا۔ اور وہ جہنم کا ایک گرم پتھر ہوگا جسے وہ کھا رہا ہوگا، تو جو چاہے اسے کم کرلے اور جو چاہے زیادہ کرلے ا ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٢٩١) (صحیح) (سند میں مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے، صحیح الترغیب ٨٠٢، وتراجع الألبانی ٥٥٧) وضاحت : ا ؎ : مانگنے کی عادت اختیار کرنے والوں کو اس وعید پر غور وفکر کرنا چاہیئے ، بالخصوص دین حق کی اشاعت و دعوت کا کام کرنے والے داعیان و مبلغین کو۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (3 / 384) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (877) ، ضعيف الجامع الصغير (1781) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 653 اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 654
حدیث نمبر: 653 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَسَأَلَهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَاهُ وَذَهَبَ فَعِنْدَ ذَلِكَ حَرُمَتِ الْمَسْأَلَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ .حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقروض وغیرہ کا زکوٰۃ لینا جائز ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص ١ ؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہوگیا اور اس پر قرض زیادہ ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے صدقہ دو چناچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا : جتنا مل رہا ہے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، جویریہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة (١٥٥٦) ، سنن ابی داود/ البیوع ٦٠ (٣٤٦٩) ، سنن النسائی/البیوع ٣٠ (٤٥٣٤) ، و ٩٤ (٤٦٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥ (٢٣٥٦) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٧٠) ، مسند احمد (٣/٣٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معاذ بن جبل (رض) ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2356) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 655
حدیث نمبر: 655 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجُوَيْرِيَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: