আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
سفرکا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭২ টি
হাদীস নং: ৬০৪
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کے بعد گھر میں (نوافل) نماز پڑھنا افضل ہے
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث کعب بن عجرہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور صحیح وہ ہے جو ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے، ٣- حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب پڑھی تو آپ برابر مسجد میں نماز ہی پڑھتے رہے جب تک کہ آپ نے عشاء نہیں پڑھ لی۔ اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کے بعد دو رکعت مسجد میں پڑھی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠٤ (١٣٠٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠١) ، ( تحفة الأشراف : ١١١٠٧) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (1165) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 604
حدیث نمبر: 604 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ الْبَصْرِيُّ ثِقَة، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَمَا زَالَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَفِي الْحَدِيثِ دِلَالَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص مسلمان ہو تو غسل کرے
قیس بن عاصم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پانی اور بیری سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ آدمی جب اسلام قبول کرے تو غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩ (٢٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣١٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج المشکاة (543) ، صحيح أبي داود (381) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 605
حدیث نمبر: 605 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ لِلرَّجُلِ إِذَا أَسْلَمَ أَنْ يَغْتَسِلَ وَيَغْسِلَ ثِيَابَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء جاتے وقت بسم اللہ پڑھے
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی پاخانہ جائے تو وہ بسم اللہ کہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس سلسلہ کی بہت سی چیزیں انس (رض) کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ١٣١ (٣٥٥) ، سنن النسائی/الطہارة ١٢٦ (١٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩ (٢٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ١١١٠٠) ، مسند احمد (٥/٦١) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے تین راوی : ابواسحاق، حکم بن عبداللہ، اور محمد بن حمید رازی میں کلام ہے، دیکھیے الإروائ : ٥٠) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (297) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 606
حدیث نمبر: 606 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءُ فِي هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن اس امت کی نشانی وضو اور سجدوں کی وجہ سے ہو گی
عبداللہ بن بسر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : عبداللہ بن بسر (رض) کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٠٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الضعيفة تحت الحديث (1030) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 607
حدیث نمبر: 607 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی وضو میں اور جب کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب جوتا پہنتے تو جوتا پہنے میں داہنے (سے شروع کرنے) کو پسند فرماتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٨) ، والصلاة ٤٧ (٤٢٦) ، والأطعمة ٥ (٥٣٨٠) ، واللباس ٣٨ (٥٨٥٤) ، و ٧٧ (٥٩٢٦) ، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨) ، واللباس ٤٤ (٢٠٩٧) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٤٠) ، سنن النسائی/الطہارة ٨٩ (١١٢) ، والغسل ١٧ (٤١٩) ، والزینة ٦٢ (٥٠٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٢ (٤٠١) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٥٧) ، مسند احمد (٦/٩٤، ١٣٠، ١٤٧، ١٨٨، ٢٠٢، ٢١٠) ، والمؤلف فی الشمائل ١٠ (٨٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (401) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 608
حدیث نمبر: 608 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ، وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ أَسْوَدَ الْمُحَارِبِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وضو میں دو رطل پانی کافی ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ غریب ہے، ہم یہ حدیث صرف شریک ہی کی سند سے جانتے ہیں، ٢- شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے اور انہوں نے انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک مکوک ٣ ؎ سے وضو، اور پانچ مکوک سے غسل کرتے تھے ٤ ؎، ٣- سفیان ثوری نے بسند «عبداللہ بن عیسیٰ عن عبداللہ بن جبر عن انس» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک مد ٥ ؎ سے وضو اور ایک صاع ٦ ؎ سے غسل کرتے تھے، ٤- یہ شریک کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہذا اللفظ ( تحفة الأشراف : ٩٦٣) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کی یہ روایت ثقات کی روایت کے خلاف بھی ہے شیخین کی سند میں ” شریک “ نہیں ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، جس کی تخریج حسب ذیل ہے : ابن جبر کے طریق سے مروی ہے : ” کان رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسة مکا کی “ ، أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤٧ (٢٠١) ، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٥) ، سنن ابی داود/ الطہارة ٤٤ (٩٥) ، سنن النسائی/الطہارة ٥٩ (٧٣) ، و ١٤٤ (٢٣٠) ، والمیاہ ١٤ (٣٤٦) ، مسند احمد (٣/٢٥٩، ٢٨٢، ٢٩٠) ، سنن الدارمی/الطہارة ٢٢ (٦٩٥) ۔ وضاحت : ١ ؎ : رطل بارہ اوقیہ کا ہوتا ہے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا۔ ٢ ؎ : کافی ہوگا سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو رطل سے کم پانی وضو کے لیے کافی نہیں ہوگا ، ام عمارہ بنت کعب کی حدیث اس کے معارض ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کا ارادہ کیا تو ایک برتن میں پانی لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا۔ ٣ ؎ : تنّور کے وزن پر ہے ، اس سے مراد مُد ہے اور ایک قول ہے کہ صاع مراد ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ٤ ؎ : غسل کے پانی اور وضو کے پانی کے بارے میں وارد احادیث مختلف ہیں ان سب کو اختلاف احوال پر محمول کرنا چاہیئے۔ ٥ ؎ : ایک پیمانہ ہے جس میں ایک رطل اور ثلث رطل پانی آتا ہے۔ ٦ ؎ : صاع بھی ایک پیمانہ ہے جس میں چار مد پانی آتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (270) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 609
حدیث نمبر: 609 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ ابْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رِطْلَانِ مِنْ مَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ وَرُوِي عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১০
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی بہانا کافی ہے
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا : بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے گا ۔ قتادہ کہتے ہیں : یہ اس وقت تک ہے جب تک دونوں کھانا نہ کھائیں، جب وہ کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہشام دستوائی نے یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے اسے قتادہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٧ (٣٧٧) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٧ (٥٢٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٠١٣١) ، مسند احمد ١/٩٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (525) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 610
حدیث نمبر: 610 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي بَوْلِ الْغُلَامِ الرَّضِيعِ: يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ . قَالَ قَتَادَةُ: وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَفَعَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، وَأَوْقَفَهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১১
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں نے جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ چنانچہ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سورۃ المائدہ کے نزدول سے پہلے کی بات ہے یا مائدہ کے بعد کی؟ تو انہوں نے کہا: میں نے مائدہ کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . فَقُلْتُ لَهُ: أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، قَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ الْمَائِدَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اس طرح مقاتل بن حیان کی سند سے جانتے ہیں انہوں نے اسے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زِيَادٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی اگر وضو کرلے تو اس کے لئے کھانے کی اجازت ہے
عمار (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جنبی کو جب وہ کھانا، پینا اور سونا چاہے اس بات کی رخصت دی کہ وہ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرلے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطہارة ٨٩ (٢٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣٧١) (ضعیف) (اس میں دو علتیں ہیں : سند میں یحییٰ اور عمار کے درمیان انقطاع ہے اور ” عطاء خراسانی “ ضعیف ہیں لیکن سونے کے لیے وضوء رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی متابعات و شواہد کی بنا پر۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (28) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 613
حدیث نمبر: 613 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৪
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کی فضلیت
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے کعب بن عجرہ ! میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ایسے امراء و حکام سے جو میرے بعد ہوں گے، جو ان کے دروازے پر گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم پر ان کا تعاون کیا، تو وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اور جو کوئی ان کے دروازے پر گیا یا نہیں گیا لیکن نہ جھوٹ میں ان کی تصدیق کی، اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ وہ عنقریب حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ ! صلاۃ دلیل ہے، صوم مضبوط ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اے کعب بن عجرہ ! جو گوشت بھی حرام سے پروان چڑھے گا، آگ ہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- ایوب بن عائذ طائی ضعیف گردانے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ مرجئہ جیسے خیالات رکھتے تھے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی سند سے جانتے تھے اور انہوں نے اسے بہت غریب حدیث جانا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١١٠٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دیگر ائمہ کے نزدیک مذکورہ دونوں رواۃ قابل احتجاج ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (3 / 15 و 150) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 614 محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ہم سے اسے ابن نمیر نے بیان کیا انہوں نے اسے عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت کی ہے اور عبیداللہ نے غالب سے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 615
حدیث نمبر: 614 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا غَالِبٌ أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعِيذُكَ بِاللَّهِ يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ فَصَدَّقَهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ أَوْ لَمْ يَغْشَ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَرْبُو لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ إِلَّا كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، وَأَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ يُضَعَّفُ، وَيُقَالُ: كَانَ يَرَى رَأْيَ الْإِرْجَاءِ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى وَاسْتَغْرَبَهُ جِدًّا. وقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ غَالِبٍ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৫
سفرکا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ (رض) کو کہتے سنا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے سنا، آپ نے فرمایا : تم اپنے رب اللہ سے ڈرو، پانچ وقت کی نماز پڑھو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکاۃ ادا کرو، اور امیر کی اطاعت کرو، اس سے تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ میں نے ابوامامہ (رض) سے پوچھا : آپ نے کتنے برس کی عمر میں یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے آپ سے یہ حدیث اس وقت سنی جب میں تیس برس کا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٨٦٨) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (867) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 616
حدیث نمبر: 616 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيمُ بْنُ عَامِرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ . قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ مُنْذُ كَمْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: